Al Tahawi
30. کتاب الجمل
الطحاوي
7122
Al Tahawi۷۱۱۹: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أَحْمَدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الثَّقَفِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہَ عَنْ جَدِّہٖ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَبَّرَ فِی الْعِیْدَیْنِ ، اِثْنَتَیْ عَشْرَۃَ تَکْبِیْرَۃً ، سَبْعًا فِی الْأُوْلٰی، وَخَمْسًا فِی الْآخِرَۃِ ، سِوٰی تَکْبِیْرَتِی الصَّلَاۃِ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ التَّکْبِیْرَ فِیْ صَلَاۃِ الْعِیْدَیْنِ کَذٰلِکَ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ، بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .
٧١١٩: عمرو بن شعیب نے اپنے والد انھوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عیدین میں بارہ تکبیرات کہیں سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں نماز کی دو تکبیروں کے علاوہ۔ امام طحاوی (رح) سے مروی ہے کہ ایک جماعت کہتی ہے کہ عیدین کی نماز میں اتنی ہی تکبیرات ہیں اور انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٥٦۔
خلاصہ الزام :
نماز عید کی تکبیرات میں اختلاف ہے۔
: ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیرات نماز کی تکبیرات سے الگ ہیں۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ نماز عید کی پہلی رکعت میں پانچ تکبیرات اور دوسری میں چار تکبیرات ہیں۔
تخریج : ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٥٦۔
خلاصہ الزام :
نماز عید کی تکبیرات میں اختلاف ہے۔
: ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیرات نماز کی تکبیرات سے الگ ہیں۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ نماز عید کی پہلی رکعت میں پانچ تکبیرات اور دوسری میں چار تکبیرات ہیں۔
7123
Al Tahawi۷۱۲۰: وَبِمَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْجَارُوْدِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ کَثِیْرِ بْنِ عُفَیْرٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْ وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ ، وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَلّٰی بِالنَّاسِ ، یَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَی ، فَکَبَّرَ فِی الْأُوْلٰی سَبْعًا ، وَقَرَأَ قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ وَفِی الثَّانِیَۃِ ، خَمْسًا ، وَقَرَأَ اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ .
٧١٢٠: عروہ نے حضرت ابو واقد لیثی اور حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عیدالفطر و اضحی کے روز نماز پڑھائی اور پہلی رکعت میں سات تکبیرات کہیں اور سورة قٓ والقرآن کی تلاوت فرائی اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات کہیں اور ” سورة اقتربت الساعۃ “ تلاوت فرمائی۔
7124
Al Tahawi۷۱۲۱: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیْعَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَانَ یُکَبِّرُ فِی الْعِیْدَیْنِ سَبْعًا وَخَمْسًا ، سِوٰی تَکْبِیْرَتَیِ الرُّکُوْعِ۔
٧١٢١: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین میں سات اور پانچ تکبیرات کہتے جو رکوع کی دونوں تکبیرات سے الگ ہوتیں۔ تخریج : ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٥٦‘ دارمی فی الصلاۃ باب ٢٢٠‘ مسند احمد ٦‘ ٦٥؍٧٠۔
7125
Al Tahawi۷۱۲۲: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسَیْ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔
٧١٢٢: اسد بن موسیٰ نے ابن لہیعہ سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے۔
7126
Al Tahawi۷۱۲۳: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ - قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔
٧١٢٣: عقیل نے ابن شہاب سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے۔
7127
Al Tahawi۷۱۲۴: حَدَّثَنَا یَحْیٰی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ قَالَ : ثَنَا حَرْمَلَۃُ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنِ ابْنِ لَہِیْعَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ عُقَیْلِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔
٧١٢٤: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔
7128
Al Tahawi۷۱۲۵: حَدَّثَنَا یَحْیٰی بْنُ عُثْمَانَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُوْسٌ الْعَطَّارُ عَنِ الْفَرَجِ بْنِ فَضَالَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِیِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہٗ قَالَ فِیْ تَکْبِیْرِ الْعِیْدَیْنِ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی سَبْعًا ، وَفِی الثَّانِیَۃِ خَمْسَ تَکْبِیْرَاتٍ۔
٧١٢٥: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ عیدین کی تکبیرات پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیرات ہیں۔
7129
Al Tahawi۷۱۲۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّہٗ قَالَ : شَہِدْت الْأَضْحٰی وَالْفِطْرَ ، مَعَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَکَبَّرَ فِی الْأُوْلٰی سَبْعَ تَکْبِیْرَاتٍ ، قَبْلَ الْقِرَائَ ۃِ ، وَفِی الْآخِرَۃِ خَمْسَ تَکْبِیْرَاتٍ ، قَبْلَ الْقِرَائَ ۃِ .
٧١٢٦: حضرت نافع کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کے ساتھ عیدالفطر واضحی میں حاضر ہوا تو انھوں نے پہلی رکعت میں سات تکبیریں قراءت سے قبل اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات قراءت سے پہلے ادا فرمائیں۔
7130
Al Tahawi۷۱۲۷: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ : ثَنَا مَالِکٌ وَصَخْرُ بْنُ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَہٗ۔قَالُوْا : فَبِہٰذِہِ الْآثَارِ نَقُوْلُ ، وَاِلَیْہَا نَذْہَبُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلِ التَّکْبِیْرُ فِی الْعِیْدَیْنِ ، تِسْعُ تَکْبِیْرَاتٍ ، خَمْسًا فِی الْأُوْلٰی، وَأَرْبَعًا فِی الْآخِرَۃِ وَیُوَالِیْ بَیْنَ الْقِرَائَ تَیْنِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْمَا احْتَجُّوْا بِہٖ عَلَیْہِمْ مِنَ الْآثَارِ ، الَّتِیْ ذٰکَرْنَا ، أَنَّ حَدِیْثَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ وَاِنَّمَا یَدُوْرُ عَلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَلَیْسَ عِنْدَہُمْ ، بِاَلَّذِیْ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہٖ۔ ثُمَّ ہُوَ أَیْضًا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہَ عَنْ جَدِّہٖ، وَذٰلِکَ عِنْدَہُمْ ، أَیْضًا لَیْسَ بِسَمَاعٍ .فَکَیْفَ یَحْتَجُّوْنَ عَلَی خَصْمِہِمْ بِمَا لَوْ احْتَجَّ بِہٖ عَلَیْہِمْ لَمْ یُسَوِّغُوْھُ ذٰلِکَ ؟ وَأَمَّا حَدِیْثُ ابْنِ لَہِیْعَۃَ فَبَیِّنُ الْاِضْطِرَابِ ، مَرَّۃً یُحَدِّثُ عَنْ عُقَیْلٍ وَمَرَّۃً عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ وَمَرَّۃً عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ وَمَرَّۃً عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، وَأَبِیْ وَاقِدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَذَکَرْنَا ذٰلِکَ کُلَّہٗ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .وَبَعْدُ فَمَذْہَبُہُمْ فِی ابْنِ لَہِیْعَۃَ مَا قَدْ شَرَحْنَاہُ فِیْ غَیْرِ مَوْضِعٍ مِنْ ہٰذَا الْکِتَابِ .وَأَمَّا حَدِیْثُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، فَاِنَّمَا یَدُوْرُ عَلٰی مَا رَوَاہٗ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ وَہُوَ ، عِنْدَہُمْ ضَعِیْفٌ .وَاِنَّمَا أَصْلُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ نَفْسِہٖ۔
٧١٢٧: نافع نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ فریق اوّل کہتا ہے کہ ان آثار میں بارہ تکبیرات کا تذکرہ ہے ہم یہی کہتے ہیں اور یہی ہمارا قول ہے۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ عیدین میں نو تکبیرات ہیں۔ پانچ پہلی رکعت میں اور چار دوسری رکعت میں اور دونوں قراءتوں کو اکٹھا کرے۔ فریق اوّل کی دلیل کا جواب یہ ہے کہ آپ نے جو روایت ذکر کی ہے اس کا مدار عبداللہ بن عبدالرحمن پر ہے اور وہ خود فریق اوّل کے ہاں بھی ایسا راوی نہیں کہ جس کی روایت سے استدلال کیا جاسکے۔ دوسرا عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ میں دادا سے اس کا سماع ثابت نہیں۔ پھر وہ اس سے اپنے مخالف کے خلاف کس طرح بطور دلیل لاتے جبکہ اگر اسی سند کی روایت ان کے خلاف حجت میں پیش ہو تو قطعاً قبول نہ کریں۔ دوسری دلیل روایت ابن لہیعہ کا جواب یہ ہے کہ اس روایت میں واضح طور پر اضطراب ہے کیونکہ وہ کبھی تو عقیل عن خالد ابن یزید عن ابن شہاب روایت کرتا ہے۔ ! اور کبھی خالد بن یزید عن عقیل عن ابن شہاب روایت کرتا ہے۔ " اور کبھی عن ابن الاسود عن عروہ عن عائشہ (رض) و ابو واقد روایت کرتا ہے اوپر ہم روایات کے سارے طرق ذکر کر آئے ہیں۔ خود ابن لہیعہ جس درجہ کا راوی ہے وہ ہم اسی کتاب میں بیان کرچکے (اس سے یہ ثابت ہوا کہ اضطراب کی وجہ سے روایت قابل استدلال نہیں) روایت ابن عمر (رض) کا جواب یہ ہے کہ اس روایت کا سارا دارومدار عبداللہ بن عامر پر ہے اور وہ خود فریق اوّل کے نزدیک نہایت ضعیف راوی ہے باقی اس روایت کی اصل یہ ہے کہ یہ عبداللہ ابن عمر (رض) پر موقوف ہے چنانچہ ملاحظہ ہو۔
تشریح : فریق اوّل کہتا ہے کہ ان آثار میں بارہ تکبیرات کا تذکرہ ہے ہم یہی کہتے ہیں اور یہی ہمارا قول ہے۔
تشریح : فریق اوّل کہتا ہے کہ ان آثار میں بارہ تکبیرات کا تذکرہ ہے ہم یہی کہتے ہیں اور یہی ہمارا قول ہے۔
7131
Al Tahawi۷۱۲۸: حَدَّثَنَا یَحْیٰی بْنُ عُثْمَانَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِیْ نُعَیْمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، مِثْلَہٗ وَلَمْ یَرْفَعْہٗ، فَہٰذَا ہُوَ أَصْلُ الْحَدِیْثِ .وَأَمَّا حَدِیْثُ کَثِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ فَاِنَّمَا ہُوَ عَنْ کِتَابِہٖ اِلَی ابْنِ وَہْبٍ وَہُمْ لَا یَجْعَلُوْنَ مَا سَمِعَ مِنْہُ حُجَّۃً ، فَکَیْفَ مَا لَمْ یَسْمَعْ مِنْہُ .فَلَمَّا انْتَفٰی أَنْ یَکُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، شَیْئٌ یَدُلُّ عَلٰی کَیْفِیَّۃِ التَّکْبِیْرِ فِی الْعِیْدَیْنِ ، لِمَا بَیَّنَّا ، مِنْ وَہَائِہَا ، وَسُقُوْطِہَا نَظَرْنَا فِیْ غَیْرِہَا ، ہَلْ فِیْہِ مَا یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ ؟ .
٧١٢٨: نافع ابن ابی نعیم نے نافع سے انھوں نے ابن عمر (رض) سے اسی طرح روایت کی ہے اور اس کو مرفوع قرار نہیں دیا۔ روایت کثیر بن عبداللہ : وہ درحقیقت ابن وہب کی طرف لکھا ہوا ان کا خط ہے اور فریق اوّل ابن وہب کی اس طرح سنی ہوئی روایت کو حجت قرار نہیں دیتے جو روایت سرے سے سنی ہی نہیں وہ کیسے حجت ہو۔ جب ان آثار کی حیثیت معلوم ہوگئی تو اس سے ثابت ہوا کہ ان میں سے کوئی چیز بھی عیدین کی تکبیرات کی کیفیت پر دلالت کے قابل نہیں اب ان کے علاوہ روایات کو ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ان میں کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہے جو اس کیفیت پر دلالت کرے چنانچہ یہ قاسم ابو عبدالرحمن کی روایت ہے۔