Al Tahawi
6. حج کا بیان۔
الطحاوي
3439
Al Tahawi۳۴۳۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُذَیْفَۃَ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : (وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ وَلِأَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ وَلِأَہْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَلِأَہْلِ الْیَمَنِ یَلَمْلَمَ) وَلَمْ أَسْمَعْہُ مِنْہُ قِیْلَ لَہٗ : فَالْعِرَاقُ؟ قَالَ : لَمْ یَکُنْ یَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ۔
٣٤٣٩: عبداللہ بن دینار نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ اور اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن ‘ اور اہل یمن کے لیے یلملم اور یہ میں نے ان سے نہیں سنا۔ ان سے پوچھا گیا کہ اہل عراق کے لیے تو انھوں نے فرمایا ان دنوں عراق (کا علاقہ اسلام میں) نہ تھا۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٧‘ ٩‘ والصید باب ١٨‘ مسلم فی الحج ١١؍١٢‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٨‘ نسائی فی المناسک باب ١٩؍٢٠‘ ٢١؍٢٢‘ دارمی فی المناسک باب ٥‘ مسند احمد باب ١؍٢٣٨‘ ٢؍٤٦‘ ٥٨‘ ١٨١‘ ٨١‘ ١٠٧۔
حاصل روایات : مواقیت یہ میقات کی جمع ہے۔ احرام باندھنے کا وقت یا جگہ کو کہا جاتا ہے حج میں ارکان امام شافعی (رح) کے ہاں احرام وقوف عرفات سعی صفا مروہ طواف و حلق۔ مگر امام مالک (رح) نے حلق کے بغیر چار ارکان بتلائے امام ابوحنیفہ (رح) کے ہاں احرام شرط اور سعی واجب ہے اور ارکان حج وقوف عرفات اور طواف زیارت ہیں۔ میقات احادیث کی رو سے چھ ہیں۔
نمبر 1: اہل مدینہ اور اس طرف سے آنے والے تبوک اردن ینبوع وغیرہ کے لوگوں کا میقات ذوالحلیفہ ہے۔
نمبر 2: جبل قرن یہ عرفات سے طائف کی طرف پڑتا ہے ریاض اور خلیجی ممالک سے آنے والوں کا میقات ہے۔
نمبر 3: جحفہ اس کو رابع بھی کہا جاتا ہے یہ شام ‘ مصر ‘ الجزائر ‘ سوڈان ‘ افریقی ممالک کا میقات ہے۔ براعظم یورپ کا میقات بھی یہی ہے۔
نمبر$: یلملم بحری راستہ سے جدہ جہاز جو پاکستان ‘ ہند ‘ برما ‘ بنگلہ دیش ‘ ملائشیا ‘ انڈونیشیاء ‘ آسٹریلیائی علاقوں اور اہل یمن کا میقات ہے۔
نمبر%: اہل مدین کا میقات وادی عقیق ہے۔
نمبر &: ذات عرق اس کے متعلق اختلاف ہے۔ ! امام شافعی ‘ سفیان ‘ ابن سیرین کے ہاں اہل عراق وادی عقیق سے احرام باندھیں افضل یہی ہے ان کا میقات مقرر نہیں ہے مگر " امام ابوحنیفہ ‘ مالک ‘ احمد اور جمہور فقہاء رحمہم اللہ ذات عرق کو متعین میقات مانتے ہیں۔ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے اس باب میں اسی سے متعلق بحث کی گئی ہے یہی چائنا ‘ خراسان ‘ ازبکستان ‘ روس وغیرہ ممالک کا میقات ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : اہل عراق وغیرہ کا میقات مقرر نہیں ان کو وادی عقیق سے احرام باندھنا افضل ہے البتہ وہ جس میقات سے گزریں ان کے لیے وہی میقات ہے دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٧‘ ٩‘ والصید باب ١٨‘ مسلم فی الحج ١١؍١٢‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٨‘ نسائی فی المناسک باب ١٩؍٢٠‘ ٢١؍٢٢‘ دارمی فی المناسک باب ٥‘ مسند احمد باب ١؍٢٣٨‘ ٢؍٤٦‘ ٥٨‘ ١٨١‘ ٨١‘ ١٠٧۔
حاصل روایات : مواقیت یہ میقات کی جمع ہے۔ احرام باندھنے کا وقت یا جگہ کو کہا جاتا ہے حج میں ارکان امام شافعی (رح) کے ہاں احرام وقوف عرفات سعی صفا مروہ طواف و حلق۔ مگر امام مالک (رح) نے حلق کے بغیر چار ارکان بتلائے امام ابوحنیفہ (رح) کے ہاں احرام شرط اور سعی واجب ہے اور ارکان حج وقوف عرفات اور طواف زیارت ہیں۔ میقات احادیث کی رو سے چھ ہیں۔
نمبر 1: اہل مدینہ اور اس طرف سے آنے والے تبوک اردن ینبوع وغیرہ کے لوگوں کا میقات ذوالحلیفہ ہے۔
نمبر 2: جبل قرن یہ عرفات سے طائف کی طرف پڑتا ہے ریاض اور خلیجی ممالک سے آنے والوں کا میقات ہے۔
نمبر 3: جحفہ اس کو رابع بھی کہا جاتا ہے یہ شام ‘ مصر ‘ الجزائر ‘ سوڈان ‘ افریقی ممالک کا میقات ہے۔ براعظم یورپ کا میقات بھی یہی ہے۔
نمبر$: یلملم بحری راستہ سے جدہ جہاز جو پاکستان ‘ ہند ‘ برما ‘ بنگلہ دیش ‘ ملائشیا ‘ انڈونیشیاء ‘ آسٹریلیائی علاقوں اور اہل یمن کا میقات ہے۔
نمبر%: اہل مدین کا میقات وادی عقیق ہے۔
نمبر &: ذات عرق اس کے متعلق اختلاف ہے۔ ! امام شافعی ‘ سفیان ‘ ابن سیرین کے ہاں اہل عراق وادی عقیق سے احرام باندھیں افضل یہی ہے ان کا میقات مقرر نہیں ہے مگر " امام ابوحنیفہ ‘ مالک ‘ احمد اور جمہور فقہاء رحمہم اللہ ذات عرق کو متعین میقات مانتے ہیں۔ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے اس باب میں اسی سے متعلق بحث کی گئی ہے یہی چائنا ‘ خراسان ‘ ازبکستان ‘ روس وغیرہ ممالک کا میقات ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : اہل عراق وغیرہ کا میقات مقرر نہیں ان کو وادی عقیق سے احرام باندھنا افضل ہے البتہ وہ جس میقات سے گزریں ان کے لیے وہی میقات ہے دلیل یہ روایات ہیں۔
3440
Al Tahawi۳۴۴۰ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ عَلٰی أَنَّ أَہْلَ الْعِرَاقِ لَا وَقْتَ لَہُمْ فِی الْاِحْرَامِ کَوَقْتِ سَائِرِ الْبُلْدَانِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ وَقَالُوْا : کَذٰلِکَ سَائِرُ الْأَحَادِیْثِ الْأُخَرُ الْمَرْوِیَّۃُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذِکْرِ مَوَاقِیْتِ الْاِحْرَامِ لَیْسَ فِیْ شَیْئٍ مِنْہَا لِلْعِرَاقِ ذِکْرٌ ثُمَّ ذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ مَا
٣٤٤٠: جریر بن عبدالحمید نے صدقہ بن یسار سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سنا وہ اسی طرح بیان کرتے تھے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا کہنا ہے کہ اہل عراق کا کوئی میقات نہیں جیسا دیگر شہروں کے میقات مقرر ہیں اور انھوں نے دلیل میں اس روایت کو پیش کیا ۔ اسی طرح دیگر احادیث جن میں مواقیت کا تذکرہ ان میں عراق کا کہیں تذکرہ نہیں پایا جاتا ۔ پھر ذیل کی روایات ذکر کیں۔
3441
Al Tahawi۳۴۴۱ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ وَرَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَا : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ قَالَ : ثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ طَاوٗسٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ وَلِأَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ وَلِأَہْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَلِأَہْلِ الْیَمَنِ یَلَمْلَمَ ثُمَّ قَالَ : فَہِیَ لَہُنَّ وَلِکُلِّ مَنْ أَتَیْ عَلَیْہِنَّ مِنْ غَیْرِہِنَّ فَمَنْ کَانَ أَہْلُہٗ دُوْنَ الْمِیْقَاتِ فَمِنْ حَیْثُ یَشَائُ حَتّٰی یَأْتِیَ ذٰلِکَ عَلٰی أَہْلِ مَکَّۃَ) .
٣٤٤١: عبداللہ بن طاؤس نے اپنے والد سے انھوں نے ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ اور اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن اور اہل یمن کے لیے یلملم مقرر فرمایا پھر فرمایا کہ یہ ہر اس شخص کے لیے میقات ہیں جس کا ان پر گزر ہو جو آدمی میقات کے اندر کا رہنے والا ہو وہ جہاں سے چاہے احرام باندھے یہاں تک کہ اہل مکہ پر آئے یعنی حرم سے باہر تک۔
3442
Al Tahawi۳۴۴۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا کَثِیْرُ بْنُ ہِشَامٍ قَالَ : ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ : سَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ دِیْنَارٍ عَنْ امْرَأَۃٍ حَاجَّۃٍ مَرَّتْ بِالْمَدِیْنَۃِ فَأَتَتْ (ذَا الْحُلَیْفَۃِ) وَہِیَ حَائِضٌ فَقَالَ لَہَا یُجْزِئُہَا لَوْ تَقَدَّمَتْ إِلَی الْجُحْفَۃِ فَأَحْرَمَتْ مِنْہَا فَقَالَ عَمْرٌو : نَعَمْ حَدَّثَنَا طَاوُسٌ وَلَا تَحْسَبَنَّ فِیْنَا أَحَدًا أَصْدَقَ لَہْجَۃً مِنْ طَاوٗسٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہُ إِلَّا أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ مِنْ قَوْلِہٖ (فَمَنْ کَانَ أَہْلُہٗ) إِلَی آخِرِ الْحَدِیْثِ قَالُوْا فَکَذٰلِکَ أَہْلُ الْعِرَاقِ مَا أَتَوْا عَلَیْہِ مِنْ ھٰذِہِ الْمَوَاقِیْتِ فَہُوَ وَقْتٌ لَہُمْ وَمَا سِوَاہَا فَلَیْسَ بِوَقْتٍ لَہُمْ وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا مَا
٣٤٤٢: جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کہ اس عورت کا کیا حکم ہے جو ذوالحلیفہ سے گزرے تو وہ حج کا احرام باندھے یا نہیں تو انھوں نے کہا اس کو گزر جانا چاہیے اگر وہ جحفہ سے گزرے تو وہاں سے احرام باندھ لے عمرو کہنے لگے ہمیں طاؤس نے بیان کیا اور طاؤس سے زیادہ سچی بات والا کوئی نہیں وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میقات مقرر فرمائے پھر اسی طرح روایت نقل کی البتہ انھوں نے فمن کان اھلہ سے لیکر آخر تک جملہ نقل نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اہل عراق کا گزر ان مذکورہ مواقیت میں سے جس سے ہو تو وہی ان کی میقات ہوگی دوسری نہ ہوگی۔ اس سلسلہ میں یہ روایت بھی ذکر کی ہے۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٩۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٩۔
3443
Al Tahawi۳۴۴۳ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (یُہِلُّ أَہْلُ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ وَأَہْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَۃِ وَأَہْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : وَبَلَغَنِیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : " (یُہِلُّ أَہْلُ الْیَمَنِ مِنْ یَلَمْلَمَ)
٣٤٤٣: نافع نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں عبداللہ کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٨‘ مسلم فی الحج ١٣‘ ترمذی فی الحج باب ١٧‘ نسائی فی المناسک باب ١٧‘ ١٨؍٢١‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ١٣‘ مالک فی الموطا الحج باب ٢٢‘ مسند احمد ١؍٣٣٢‘ ٢؍٤٨‘ ٥٥‘ ٦٥۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٨‘ مسلم فی الحج ١٣‘ ترمذی فی الحج باب ١٧‘ نسائی فی المناسک باب ١٧‘ ١٨؍٢١‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ١٣‘ مالک فی الموطا الحج باب ٢٢‘ مسند احمد ١؍٣٣٢‘ ٢؍٤٨‘ ٥٥‘ ٦٥۔
3444
Al Tahawi۳۴۴۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ .ح .
٣٤٤٤: ابن مرزوق نے وہب سے انھوں نے شعبہ سے روایت نقل کی ہے۔
3445
Al Tahawi۳۴۴۵ : وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ .ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَقُوْلُ : (وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ وَلِأَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ وَلِأَہْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَلِأَہْلِ الْیَمَنِ یَلَمْلَمَ) .
٣٤٤٥: نافع نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن دینار سے سنا انھوں نے ابن عمر (رض) کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ اور اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن اور اہل یمن کے لیے یلملم میقات مقرر فرمایا۔
تخریج : روایت نمبر ٣٤٤٠ کی تخریج ملاحظہ ہو۔
تخریج : روایت نمبر ٣٤٤٠ کی تخریج ملاحظہ ہو۔
3446
Al Tahawi۳۴۴۶ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْوَہُ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ مِیْقَاتُ أَہْلِ الْعِرَاقِ ذَاتُ عِرْقٍ وَقَّتَ ذٰلِکَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا وَقَّتَ سَائِرَ الْمَوَاقِیْتِ لِأَہْلِہَا وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ مَا
٣٤٤٦: عبداللہ بن دینار نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا اہل عراق کا میقات نے ذات عرق ہے۔ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اس کے لیے دیگر مواقیت کی طرح مقرر فرمایا ‘ روایات ذیل ملاحظہ ہوں۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عراق کے لیے کوئی میقات مقرر نہیں جس میقا ت پر ان کا گزر ہوگا وہی ان کا میقات ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
اہل عراق کے لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میقات مقرر فرمایا ہے جس طرح دیگر میقات مقرر فرمائے ہیں اور وہ ذات عرق ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عراق کے لیے کوئی میقات مقرر نہیں جس میقا ت پر ان کا گزر ہوگا وہی ان کا میقات ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
اہل عراق کے لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میقات مقرر فرمایا ہے جس طرح دیگر میقات مقرر فرمائے ہیں اور وہ ذات عرق ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔
3447
Al Tahawi۳۴۴۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ یَزِیْدَ الْقُطْرُبُلِّیُّ وَہِشَامُ بْنُ بَہْرَامَ الْمَدَائِنِیُّ قَالَا : ثَنَا الْمُعَافَی بْنُ عِمْرَانَ عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (وَقَّتَ لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ وَلِأَہْلِ الشَّامِ وَمِصْرَ الْجُحْفَۃَ وَلِأَہْلِ الْعِرَاقِ ذَاتِ عِرْقٍ وَلِأَہْلِ الْیَمَنِ یَلَمْلَمَ)
٣٤٤٧: قاسم نے عائشہ (رض) سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ ‘ اہل شام و مصر کے لیے جحفہ اور اہل عراق کے لیے ذات عرق اور اہل یمن کے لیے یلملم میقات مقرر فرمائے۔
تخریج : مسلم فی الحج باب ١٦‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٨۔
تخریج : مسلم فی الحج باب ١٦‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٨۔
3448
Al Tahawi۳۴۴۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْہَیْثَمِ قَالَ : أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ : وَأَخْبَرَنِیْ أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ سَمِعَہٗ یَسْأَلُ عَنِ الْمُہَلِّ فَقَالَ : سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَہٰی أَرَاہُ یُرِیْدُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (یُہِلُّ أَہْلُ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ وَالطَّرِیْقُ الْآخَرُ مِنَ الْجُحْفَۃِ وَیُہِلُّ أَہْلُ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَیُہِلُّ أَہْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَیُہِلُّ أَہْلُ الْیَمَنِ مِنْ یَلَمْلَمَ)
٣٤٤٨: ابوالزبیر نے جابر (رض) سے روایت کی کہ انھوں نے سنا کہ احرام باندھنے والے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا میں نے سنا پھر آخر تک روایت بیان کی میرا خیال ہے کہ اس سے مراد جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے کہ اہل مدینہ ذوالحلیفہ اور دوسرے راستے سے جائیں تو جحفہ اور اہل عراق ذات طرق سے احرام باندھیں اور اہل نجد قرن سے اور اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔