Al Tahawi
20. مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
الطحاوي
5775
Al Tahawi۵۷۷۴: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ وَفَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَا : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ یَقُوْلُ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَارَعَۃِ .
٥٧٧٤: عمرو بن دینار (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو فرماتے سنا کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزارعت سے منع فرمایا۔
تخریج : مسلم فی البیوع ١١٨؍١١٩‘ مسند احمد ٤؍٣٣‘ عن ثابت بن ضحاک۔
تخریج : مسلم فی البیوع ١١٨؍١١٩‘ مسند احمد ٤؍٣٣‘ عن ثابت بن ضحاک۔
5776
Al Tahawi۵۷۷۵: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَالَ ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ قَالَ : سَمِعْت ابْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ : کُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَی بِذٰلِکَ بَأْسًا حَتّٰی زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنِ الْمُخَابَرَۃِ فَتَرَکْنَاہَا ..
٥٧٧٥: عمرو بن دینار (رح) کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو فرماتے سنا ہم مخابرہ کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے یہاں تک کہ رافع بن خدیج (رض) نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے۔ تو ہم نے مخابرہ چھوڑ دیا۔
تخریج : بخاری فی المساقات باب ١٧‘ مسلم فی البیوع ٨١؍٨٥‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣٣‘ ترمذی فی البیوع باب ٥٥؍٧٠‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ والبیوع باب ٢٨؍٣٩‘ دارمی فی البیوع باب ٧٢‘ مسند احمد ٥‘ ١٨٧؍١٨٨۔
تخریج : بخاری فی المساقات باب ١٧‘ مسلم فی البیوع ٨١؍٨٥‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣٣‘ ترمذی فی البیوع باب ٥٥؍٧٠‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ والبیوع باب ٢٨؍٣٩‘ دارمی فی البیوع باب ٧٢‘ مسند احمد ٥‘ ١٨٧؍١٨٨۔
5777
Al Tahawi۵۷۷۶: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ وَابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاہُ یَعْنِیْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُکْرِی أَرْضَہُ حَتّٰی ْ بَلَغَہٗ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ الْأَنْصَارِیَّ کَانَ یُنْہِیْ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ .فَلَقِیَہُ فَقَالَ : یَا ابْنَ خَدِیجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ کِرَائِ الْأَرْضِ ؟ .فَقَالَ : سَمِعْتُ عَمَّیَّ وَکَانَا قَدْ شَہِدَا بَدْرًا یُحَدِّثَانِ أَہْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ .قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : لَقَدْ کُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّ الْأَرْضَ کَانَتْ تُکْرٰی عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَشِیَ عَبْدُ اللّٰہِ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَحْدَثَ فِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا لَمْ یَکُنْ عَلِمَہٗ فَتَرَکَ کِرَائَ الْأَرْضِ .
٥٧٧٦: سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد عبداللہ بن عمر (رض) اپنی زمین کو کرایہ پر دیتے تھے یہاں تک کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری (رض) زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے ہیں۔
میرے والد رافع کو ملے اور کہا اے ابن خدیج تم زمین کے کرایہ کے سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا بات بیان کرتے ہو۔ تو وہ کہنے لگے میں نے اپنے دو چچاؤں جو بدری صحابی ہیں ان سے سنا وہ دونوں گھر والوں سے بیان کرتے تھے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔
عبداللہ کہنے لگے میں جانتا تھا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دی جاتی تھی پھر عبداللہ (رض) کو یہ خدشہ ہوا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ممکن ہے اس سلسلے میں کوئی نیا حکم فرمایا ہو۔ جو ان کے علم میں نہ ہو اس لیے زمین کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔
تخریج : بخاری فی الحرث باب ١٨‘ مسلم فی البیوع ١٠٨؍١١٢‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣١‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥؍٤٦‘ مسند احمد ٢‘ ٦‘ ٦٤۔
میرے والد رافع کو ملے اور کہا اے ابن خدیج تم زمین کے کرایہ کے سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا بات بیان کرتے ہو۔ تو وہ کہنے لگے میں نے اپنے دو چچاؤں جو بدری صحابی ہیں ان سے سنا وہ دونوں گھر والوں سے بیان کرتے تھے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔
عبداللہ کہنے لگے میں جانتا تھا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دی جاتی تھی پھر عبداللہ (رض) کو یہ خدشہ ہوا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ممکن ہے اس سلسلے میں کوئی نیا حکم فرمایا ہو۔ جو ان کے علم میں نہ ہو اس لیے زمین کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔
تخریج : بخاری فی الحرث باب ١٨‘ مسلم فی البیوع ١٠٨؍١١٢‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣١‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥؍٤٦‘ مسند احمد ٢‘ ٦‘ ٦٤۔
5778
Al Tahawi۵۷۷۷: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنِ الْحَقْلِ .قَالَ شُعْبَۃُ : فَقُلْت لِلْحَکَمِ : مَا الْحَقْلُ ؟ قَالَ : أَنْ تُکْرَی الْأَرْضُ . قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ أَرَاہُ أَنَا قَالَ : بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
٥٧٧٧: مجاہد نے رافع بن خدیج (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم سے نقل کیا کہ آپ نے حقل سے منع فرمایا ہے۔ شعبہ کہنے لگے میں نے حکم سے دریافت کیا حقل کیا ہے۔ انھوں نے کہا زمین کو کرایہ پر دینا۔ ابو جعفر کہتے ہیں میرے خیال میں انھوں نے ساتھ ثلث ‘ ربع کا بھی نام لیا۔ یعنی زمین کو ثلث و ربع پر کرایہ پر دینا۔
تخریج : مسلم فی البیوع ١٢٢٣٨٣‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣٢‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٩‘ والایمان باب ٤٥‘ مسند حمد ١؍٣١٣‘ ٣‘ ٤٦٤؍٤٦٦۔
تخریج : مسلم فی البیوع ١٢٢٣٨٣‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣٢‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٩‘ والایمان باب ٤٥‘ مسند حمد ١؍٣١٣‘ ٣‘ ٤٦٤؍٤٦٦۔
5779
Al Tahawi۵۷۷۸: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا وَأَمْرُ نَبِیِّ اللّٰہِ أَنْفَعُ لَنَا قَالَ مَنْ کَانَتْ لَہٗ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا أَوْ لِیُزْرِعْہَا .
٥٧٧٨: مجاہد نے رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمارے لیے (بظاہر) فائدہ مند تھی اور اللہ تعالیٰ کے نبی نے ہمیں اس سے زیادہ فائدہ مند کا حکم فرمایا جس کی اپنی زمین ہو وہ اس میں خود کاشت کرے یا دوسرے سے کاشت کروائے۔
تخریج : بخاری فی الحرث باب ١٨‘ والہبہ باب ٣٥‘ مسلم فی البیوع ٨٧؍٨٨‘ ٨٩؍٩١‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣١‘ ترمذی فی الاحکام باب ٤٢‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٧؍٨‘ مسند احمد ١؍٢٨٦‘ ٣‘ ٣٠٢؍٣٠٤‘ ٤‘ ١٤١؍١٤٣۔
تخریج : بخاری فی الحرث باب ١٨‘ والہبہ باب ٣٥‘ مسلم فی البیوع ٨٧؍٨٨‘ ٨٩؍٩١‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣١‘ ترمذی فی الاحکام باب ٤٢‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٧؍٨‘ مسند احمد ١؍٢٨٦‘ ٣‘ ٣٠٢؍٣٠٤‘ ٤‘ ١٤١؍١٤٣۔
5780
Al Tahawi۵۷۷۹: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الزُّبَیْدِیُّ قَالَ سَمِعْت مُجَاہِدًا یَقُوْلُ : حَدَّثَنِیْ أَسَدُ بْنُ أَخِیْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ فَلْیَزْرَعْہَا فَاِنْ عَجَزَ عَنْہَا فَلْیُزْرِعْہَا أَخَاہُ .
٥٧٧٩: مجاہد کہتے ہیں مجھے رافع بن خدیج کے بھتیجے اسد نے بیان کیا کہ رافع بن خدیج (رض) نے فرمایا پھر اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ ” فلیزرعہا “ کے بعد ” فان عجز فلیزرعہا اخاہ “
تخریج : بخاری فی الاہبہ باب ٣٥‘ مسند احمد ٣‘ ٣٥٤؍٣٦٢‘ ٣٦٩؍٣٧٣‘ ٤‘ ١٦٩‘ ٣٤١۔
تخریج : بخاری فی الاہبہ باب ٣٥‘ مسند احمد ٣‘ ٣٥٤؍٣٦٢‘ ٣٦٩؍٣٧٣‘ ٤‘ ١٦٩‘ ٣٤١۔
5781
Al Tahawi۵۷۸۰: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیْمِ الْجَزَرِیِّ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : أَخَذْتُ بِیَدِ طَاوُسٍ حَتّٰی أَدْخَلْتُہٗ عَلٰی ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ فَحَدَّثَہٗ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ نَہٰی عَنْ کَرْیِ الْأَرْضِ .فَأَبَی طَاوُسٌ وَقَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّہٗ لَا یَرَی بِذٰلِکَ بَأْسًا .
٥٧٨٠: مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے طاوس کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ میں ان کو رافع بن خدیج کے بیٹے کے پاس لے گیا تو انھوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ نے زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت فرمائی مگر طاوس نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابن عباس (رض) سے میں نے سنا کہ اس میں کچھ حرج نہیں۔
5782
Al Tahawi۵۷۸۱: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَۃِ وَالْمُحَاقَلَۃِ .وَقَالَ : اِنَّمَا یَزْرَعُ ثَلَاثَۃٌ رَجُلٌ لَہٗ أَرْضٌ فَہُوَ یَزْرَعُہَا وَرَجُلٌ مَنَحَ أَخَاہُ أَرْضًا فَہُوَ یَزْرَعُ مَا مُنِحَ مِنْہَا وَرَجُلٌ اکْتَرَی بِذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ
٥٧٨١: سعید بن مسیب نے حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا اور فرمایا تین آدمی کاشت کرسکتے ہیں۔ ! زمین والا جو خود کاشت کرے۔ " وہ آدمی جس نے اپنے بھائی (مسلمان) کو زمین عنایت کی وہ اس کو کاشت کرے۔ # وہ آدمی جس نے زمین سونے یا چاندی کے بدلے کرایہ پر لی۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٨٢؍٩٣‘ المساقات باب ١٧‘ مسلم فی البیوع ٥٩؍٨١‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣١؍٣٣‘ ترمذی فی البیوع باب ١٤‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ دارمی فی المقدمہ باب ٢٨‘ والبیوع باب ٢٣‘ مالک فی البیوع ٢٤؍٢٥‘ مسند احمد ١؍٢٢٤‘ ٢؍٣٩٢‘ ٣‘ ٦؍٦٠‘ ٥‘ ١٨٥؍١٩٠۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٨٢؍٩٣‘ المساقات باب ١٧‘ مسلم فی البیوع ٥٩؍٨١‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣١؍٣٣‘ ترمذی فی البیوع باب ١٤‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ دارمی فی المقدمہ باب ٢٨‘ والبیوع باب ٢٣‘ مالک فی البیوع ٢٤؍٢٥‘ مسند احمد ١؍٢٢٤‘ ٢؍٣٩٢‘ ٣‘ ٦؍٦٠‘ ٥‘ ١٨٥؍١٩٠۔
5783
Al Tahawi۵۷۸۲: حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ وَالْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَا : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ثُمَّ ذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔
٥٧٨٢: ابو نعیم اور معلیٰ بن منصور دونوں نے ابوالاحوص سے پھر اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی۔
5784
Al Tahawi۵۷۸۳: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَتْ لَہٗ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا أَوْ یُزْرِعْہَا أَخَاہُ وَلَا یُکْرِیہَا بِالثُّلُثِ وَلَا بِالرُّبُعِ وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّی .
٥٧٨٣: سلیمان بن یسار نے رافع بن خدیج (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کی زمین ہو وہ اس میں خود کاشت کرے یا اپنے بھائی سے کاشت کر والے اور ثلث یا ربع کے بدلے کرائے پر نہ دے اور نہ ہی مقررہ غلہ کے بدلے (کرایہ پر دے) ۔
تخریج : مسلم فی البیوع ٩٢‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ مسند احمد ٣؍٣٦٣۔
تخریج : مسلم فی البیوع ٩٢‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ مسند احمد ٣؍٣٦٣۔