Al Tahawi
32. فرائض کا بیان
الطحاوي
7283
Al Tahawi۷۲۸۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَائَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، رَجُلٌ ہَلَکَ ، وَتَرَکَ عَمَّتَہُ وَخَالَتَہٗ۔ فَسَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ وَاقِفٌ عَلٰی حِمَارِہٖ، فَوَقَفَ ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہٖ، وَقَالَ اللّٰہُمَّ رَجُلٌ ہَلَکَ وَتَرَکَ عَمَّتَہُ وَخَالَتَہٗ، فَیَسْأَلُہُ الرَّجُلُ، وَیَفْعَلُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ لَا شَیْئَ لَہُمَا۔
٧٢٨٠: عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک انصاری جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ایک آدمی فوت ہوگیا ہے اور اس نے صرف پھوپھی اور خالہ پیچھے چھوڑی ہے۔ اس شخص نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس وقت سوال کیا جبکہ آپ گدھے پر سوار تھے پس آپ ٹھہر گئے پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور بارگاہ الٰہی میں اس طرح سوال کیا اے اللہ ! ایک آدمی ہلاک ہوگیا اور اس نے اپنی پھوپھی اور خالہ پیچھے چھوڑی ہے۔ وہ آدمی آپ سے سوال کرتا رہا اور آپ نے اسی طرح تین مرتبہ کیا پھر فرمایا ان دونوں کو کچھ نہ ملے گا۔
تخریج : دارمی فی الفرائض باب ٣٨۔
خلاصہ الزام :
جب کوئی مرجائے اور کوئی عصبہ نہ چھوڑے تو اس کی میراث کسی کو بھی نہ ملے گی بیت المال میں جائے گی۔
فریق ثانی : میت کے اگر کوئی عصبہ نہ ہو تو اس کی میراث ذوی الارحام کو جائے گی جس کے اور میت کے درمیان کوئی رشتہ ہو اس لیے پھوپھی کو دو ثلث اور خالہ کو ایک ثلث ملے گا۔
تخریج : دارمی فی الفرائض باب ٣٨۔
خلاصہ الزام :
جب کوئی مرجائے اور کوئی عصبہ نہ چھوڑے تو اس کی میراث کسی کو بھی نہ ملے گی بیت المال میں جائے گی۔
فریق ثانی : میت کے اگر کوئی عصبہ نہ ہو تو اس کی میراث ذوی الارحام کو جائے گی جس کے اور میت کے درمیان کوئی رشتہ ہو اس لیے پھوپھی کو دو ثلث اور خالہ کو ایک ثلث ملے گا۔
7284
Al Tahawi۷۲۸۱ : حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ ، وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زَیْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دُعِیَ اِلَی جِنَازَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، حَتّٰی اِذَا جَائَ ہَا قَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا تَرَکَ ؟ قَالُوْا : تَرَکَ عَمَّتَہُ وَخَالَتَہٗ۔ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَالَ قِفُوْا الْحِمَارَ فَوَقَّفُوْا الْحِمَارَ فَقَالَ : اللّٰہُمَّ رَجُلٌ تَرَکَ عَمَّتَہٗ وَخَالَتَہٗ فَلَمْ یَنْزِلْ عَلَیْہِ شَیْئٌ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا أَجِدُ لَہُمَا شَیْئًا۔
٧٢٨١: عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انصار کے ایک جنازہ کے لیے بلایا گیا جب آپ جنازہ کے پاس تشریف لے آئے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس میت نے کیا چھوڑا ؟ انھوں نے کہا اس نے پیچھے اپنی پھوپھی اور خالہ چھوڑی ہیں پھر آپ آگے بڑھے اور فرمایا۔ گدھے کو روکو ! لوگوں نے اسے ٹھہرایا تو آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے ” اللہم رجل “ ایک آدمی نے اپنی پھوپھی اور خالہ چھوڑی ہے اس وقت آپ پر وحی نازل نہ ہوئی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ میں ان کے لیے کوئی چیز نہیں پاتا۔
7285
Al Tahawi۷۲۸۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرَّفٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْمُحَبَّرِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : أَتَیْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْعَالِیَۃِ ، رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّ رَجُلًا ہَلَکَ ، وَتَرَکَ عَمَّۃً وَخَالَۃً ، فَانْطَلِقْ فَقَسِّمْ مِیْرَاثَہٗ۔فَتَبِعَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی حِمَارٍ فَقَالَ : یَا رَبِّ رَجُلٌ تَرَکَ عَمَّۃً وَخَالَۃً ثُمَّ سَارَ ہُنَیْہَۃً ثُمَّ قَالَ یَا رَبِّ رَجُلٌ تَرَکَ عَمَّۃً وَخَالَۃً ثُمَّ سَارَ ہُنَیْہَۃً ثُمَّ قَالَ : یَا رَبِّ رَجُلٌ تَرَکَ عَمَّۃً وَخَالَۃً ثُمَّ قَالَ لَا أَرٰی یَنْزِلُ عَلِیَّ شَیْئٌ ، لَا شَیْئَ لَہُمَا۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا مَاتَ وَتَرَکَ ذَا رَحِمٍ ، لَیْسَ بِعَصَبَۃٍ ، وَلَمْ یَتْرُکْ عَصَبَۃً غَیْرَہٗ، أَنَّہٗ لَا یَرِثُ مِنْ مَالِہِ شَیْئًا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : یَرِثُ ذُو الرَّحِمِ اِذَا لَمْ یَکُنْ عَصَبَۃً بِالرَّحِمِ الَّذِیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْمَیِّتِ ، کَمَا یُوْرَثُ بِالرَّحِمِ الَّذِیْ یُدْلِی ، فَیَکُوْنُ لِلْعَمَّۃِ الثُّلُثَانِ ، وَلِلْخَالَۃِ الثُّلُثُ ؛ لِأَنَّہَا تُدْلِیْ بِرَحِمِ الْأُمِّ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ الَّذِیْ یَحْتَجُّ بِہٖ عَلَیْہِمْ مُخَالِفُہُمْ ، حَدِیْثٌ مُنْقَطِعٌ ، وَمِنْ مَذْہَبِ ہٰذَا الْمُخَالِفِ لَہُمْ ، أَنْ لَا یَحْتَجَّ بِمُنْقَطِعٍ .فَکَیْفَ یَحْتَجُّ عَلَیْہِمْ بِمَا لَوْ احْتَجُّوْا بِہٖ عَلَیْہِمْ ، لَمْ یُسَوِّغُوْھُمْ اِیَّاہُ .ثُمَّ لَوْ ثَبَتَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ، لَمْ یَکُنْ فِیْہِ أَیْضًا ، عِنْدَنَا حُجَّۃٌ فِیْ دَفْعِ مَوَارِیْثِ ذَوِی الْأَرْحَامِ ، ؛ لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ ، لَا شَیْئَ لَہُمَا ، أَیْ لَا فَرْضَ لَہُمَا مُسَمًّی ، کَمَا لِغَیْرِہِمَا مِنْ النِّسْوَۃِ اللَّاتِیْ یَرِثْنَ ، کَالْبَنَاتِ ، وَالْأَخَوَاتِ وَالْجَدَّاتِ ، فَلَمْ یَنْزِلْ عَلَیْہِ شَیْئٌ ، فَقَالَ لَا شَیْئَ لَہُمَا عَلَی ھٰذَا الْمَعْنَی .وَیُحْتَمَلُ أَیْضًا ، لَا شَیْئَ لَہُمَا ، لَا مِیْرَاثَ لَہُمَا أَصْلًا ؛ لِأَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ نَزَلَ عَلَیْہِ حِیْنَئِذٍ وَأُوْلُوْا الْأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ۔فَلَمَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِ جَعَلَ لَہُمَا الْمِیْرَاثَ .فَاِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ فِیْ مِثْلِ ہٰذَا أَیْضًا۔
٧٢٨٢: زید بن اسلم نے حضرت عطاء بن یسار (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک شخص اہل عالیہ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ایک آدمی مرگیا اور اس نے اپنی پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے آپ چل کر اس کی میراث تقسیم فرما دیں۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پیچھے گدے پر سواری کی حالت میں روانہ ہوئے اور بارگاہ الٰہی میں گزارش کی اے میرے رب ایک آدمی نے اپنے پیچھے پھوپھی اور خالہ چھوڑی۔ پھر تھوڑی دیر چلے پھر کہا اے میرے رب ایک آدمی ہے جس نے ایک پھوپھی اور خالہ چھوڑی ہے پھر تھوڑی دیر چلے پھر کہا اے میرے رب ایک آدمی اس نے اپنے پیچھے پھوپھی اور خالہ چھوڑی ہے۔ پھر کہا میرے خیال میں اس کے متعلق کچھ بھی نازل نہ ہوگا ان دونوں کو وراثت میں میرے خیال میں کوئی چیز نہ ملے گی۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آدمی جب مرجائے اور وہ ذی رحم کو چھوڑ جائے جو کہ عصبہ نہ ہو اور اس کے علاوہ اس نے کوئی عصبہ نہ چھوڑا ہو تو وہ اس کے مال میں سے کسی چیز کا مالک نہ ہوگا اور انھوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ فریق ثانی کا مؤقف : یہ ہے کہ جب عصبہ نہ ہو تو یہ قرابتدار اس قرابت کی وجہ سے جو اس کے اور میت کے درمیان پائی جاتی ہے یہ وارث بن جائے گا جیسا کہ اس قرابت کی وجہ سے وارث بنتا ہے جو اس کو رشتہ دار بناتی ہے پس پھوپھی کو دو ثلث اور خالہ کو ایک تہائی ملے گی۔ کیونکہ وہ مال کی قرابت کی وجہ سے رشتہ دار بنتی ہے۔ فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : جس روایت سے استدلال کیا گیا ہے وہ روایت منقطع ہے اور منقطع ان کے ہاں قابل حجت نہیں۔ اگر یہی منقطع ان کے خلاف دلیل میں پیش کریں ان کو نہ بھائے گی تو اپنے حق کے لیے کیسے پیش کرتے ہیں۔ اگر بالفرض یہ روایت ثابت بھی ہوجائے تو تب بھی ہمارے نزدیک اس میں قرابت داروں کی وراثت کو دور ہٹانے پر کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ لاشئی ک امطلب یہ ہو کہ ان کے لیے کوئی متعین و مقرر وراثت کا حصہ نہیں جیسا کہ ان کے علاوہ ان عورتوں کے لیے ہوتا ہے جو وارث بنتی ہیں مثلاً بیٹیاں ‘ بہنیں اور دادیاں۔ پس جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پھوپھی اور خالہ کے سلسلہ میں کچھ بھی نازل نہ ہوا تو آپ نے اس بنیاد پر فرمایا کہ ان دونوں کے لیے کچھ نہیں۔ لاشئی میں ایک دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ ان دونوں کے لیے وراثت میں بالکل حصہ نہیں کیونکہ اس وقت تک آپ پر وحی الٰہی سے کچھ بھی نازل نہ ہوا تھا اور نہ یہ آیت اتری تھی : ” واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض “ (الانفال : ٧٥) جب آپ پر حکم اتر آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے میراث مقرر کردی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کے معاملے میں یہ روایت وارد ہے۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آدمی جب مرجائے اور وہ ذی رحم کو چھوڑ جائے جو کہ عصبہ نہ ہو اور اس کے علاوہ اس نے کوئی عصبہ نہ چھوڑا ہو تو وہ اس کے مال میں سے کسی چیز کا مالک نہ ہوگا اور انھوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : یہ ہے کہ جب عصبہ نہ ہو تو یہ قرابتدار اس قرابت کی وجہ سے جو اس کے اور میت کے درمیان پائی جاتی ہے یہ وارث بن جائے گا جیسا کہ اس قرابت کی وجہ سے وارث بنتا ہے جو اس کو رشتہ دار بناتی ہے پس پھوپھی کو دو ثلث اور خالہ کو ایک تہائی ملے گی۔ کیونکہ وہ مال کی قرابت کی وجہ سے رشتہ دار بنتی ہے۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : جس روایت سے استدلال کیا گیا ہے وہ روایت منقطع ہے اور منقطع ان کے ہاں قابل حجت نہیں۔ اگر یہی منقطع ان کے خلاف دلیل میں پیش کریں ان کو نہ بھائے گی تو اپنے حق کے لیے کیسے پیش کرتے ہیں۔
اگر بالفرض یہ روایت ثابت بھی ہوجائے تو تب بھی ہمارے نزدیک اس میں قرابت داروں کی وراثت کو دور ہٹانے پر کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ لاشئی ک امطلب یہ ہو کہ ان کے لیے کوئی متعین و مقرر وراثت کا حصہ نہیں جیسا کہ ان کے علاوہ ان عورتوں کے لیے ہوتا ہے جو وارث بنتی ہیں مثلاً بیٹیاں ‘ بہنیں اور دادیاں۔ پس جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پھوپھی اور خالہ کے سلسلہ میں کچھ بھی نازل نہ ہوا تو آپ نے اس بنیاد پر فرمایا کہ ان دونوں کے لیے کچھ نہیں۔
!: لاشئی میں ایک دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ ان دونوں کے لیے وراثت میں بالکل حصہ نہیں کیونکہ اس وقت تک آپ پر وحی الٰہی سے کچھ بھی نازل نہ ہوا تھا اور نہ یہ آیت اتری تھی : ” واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض “ (الانفال : ٧٥) جب آپ پر حکم اتر آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے میراث مقرر کردی۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کے معاملے میں یہ روایت وارد ہے۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آدمی جب مرجائے اور وہ ذی رحم کو چھوڑ جائے جو کہ عصبہ نہ ہو اور اس کے علاوہ اس نے کوئی عصبہ نہ چھوڑا ہو تو وہ اس کے مال میں سے کسی چیز کا مالک نہ ہوگا اور انھوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : یہ ہے کہ جب عصبہ نہ ہو تو یہ قرابتدار اس قرابت کی وجہ سے جو اس کے اور میت کے درمیان پائی جاتی ہے یہ وارث بن جائے گا جیسا کہ اس قرابت کی وجہ سے وارث بنتا ہے جو اس کو رشتہ دار بناتی ہے پس پھوپھی کو دو ثلث اور خالہ کو ایک تہائی ملے گی۔ کیونکہ وہ مال کی قرابت کی وجہ سے رشتہ دار بنتی ہے۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : جس روایت سے استدلال کیا گیا ہے وہ روایت منقطع ہے اور منقطع ان کے ہاں قابل حجت نہیں۔ اگر یہی منقطع ان کے خلاف دلیل میں پیش کریں ان کو نہ بھائے گی تو اپنے حق کے لیے کیسے پیش کرتے ہیں۔
اگر بالفرض یہ روایت ثابت بھی ہوجائے تو تب بھی ہمارے نزدیک اس میں قرابت داروں کی وراثت کو دور ہٹانے پر کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ لاشئی ک امطلب یہ ہو کہ ان کے لیے کوئی متعین و مقرر وراثت کا حصہ نہیں جیسا کہ ان کے علاوہ ان عورتوں کے لیے ہوتا ہے جو وارث بنتی ہیں مثلاً بیٹیاں ‘ بہنیں اور دادیاں۔ پس جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پھوپھی اور خالہ کے سلسلہ میں کچھ بھی نازل نہ ہوا تو آپ نے اس بنیاد پر فرمایا کہ ان دونوں کے لیے کچھ نہیں۔
!: لاشئی میں ایک دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ ان دونوں کے لیے وراثت میں بالکل حصہ نہیں کیونکہ اس وقت تک آپ پر وحی الٰہی سے کچھ بھی نازل نہ ہوا تھا اور نہ یہ آیت اتری تھی : ” واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض “ (الانفال : ٧٥) جب آپ پر حکم اتر آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے میراث مقرر کردی۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کے معاملے میں یہ روایت وارد ہے۔
7286
Al Tahawi۷۲۸۳ : مَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ بُہْلُوْلٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ عَمِّہٖ وَاسِعِ بْنِ حَیَّانَ ، قَالَ : تُوُفِّیَ ثَابِتُ بْنُ الدَّحْدَاحِ ، وَکَانَ أَتِیًّا ، وَہُوَ الَّذِیْ لَیْسَ لَہٗ أَصْلٌ یُعْرَفُ فَقَالَ : رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لِعَاصِمِ بْنِ عَدِی : ہَلْ تَعْرِفُوْنَ لَہٗ فِیْکُمْ نَسَبًا ؟ قَالَ : لَا ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَخِیْہٖ، فَأَعْطَاہُ مِیْرَاثَہٗ۔ فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ وَرَّثَ أَبَا لُبَابَۃَ ، مِنْ ثَابِتٍ ، بِرَحِمِہِ الَّذِیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَہٗ.فَثَبَتَ بِذٰلِکَ ، مَوَارِیْثُ ذَوِی الْأَرْحَامِ ، وَدَلَّ سُؤَالُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَبَّہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی فِیْ حَدِیْثِ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنِ الْعَمَّۃِ وَالْخَالَۃِ : ہَلْ لَہُمَا مِیْرَاثٌ أَمْ لَا ؟ أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ نَزَلَ عَلَیْہِ شَیْئٌ فِیْمَا تَقَدَّمَ فِیْ ذٰلِکَ .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا تَأَخُّرُ حَدِیْثِ وَاسِعِ ہٰذَا، عَنْ حَدِیْثِ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، فَکَانَ نَاسِخًا لَہٗ۔ فَاِنْ قُلْتُمْ : اِنَّ حَدِیْثَ وَاسِعٍ ہٰذَا مُنْقَطِعٌ .قِیْلَ لَکُمْ : وَحَدِیْثُ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، مُنْقَطِعٌ أَیْضًا ، فَمَنْ جَعَلَکُمْ أَوْلٰی بِثُبُوْتِ الْمُنْقَطِعِ ، فِیْمَا یُوَافِقُکُمْ ، مِنْ مُخَالِفِکُمْ ، فِیْمَا یُوَافِقُہٗ؟ وَقَدْ رُوِیَ مِثْلُ ہٰذَا، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ آثَارٍ مُتَّصِلَۃِ الْأَسَانِیدِ .مِنْہَا۔
٧٢٨٣: واسع ابن حبان نے کہا کہ ثابت بن دحداح فوت ہوگئے اور یہ باہر سے آنے والے تھے جن کے خاندان کا کچھ پتہ نہ تھا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عاصم بن عدی کو فرمایا کیا تم اپنے خاندان میں اس کا نسب پہچانتے ہو۔ انھوں نے کہا نہیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو آپ نے ان کے بھانجے ابو لبابہ بن عبدالمنذر کو بلایا اور اس کی میراث ان کو عنایت فرمائی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رحم کی رشتہ داری کی وجہ سے ابو لبابہ کو ثابت کی وراثت دی تو اس سے ثابت ہوگیا کہ ذی رحم بھی وارث ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عطاء ابن یسار والی روایت میں پھوپھی اور خالہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وراثت سے متعلق سوال کرنا۔ آیا ان کو وراثت ملے گی یا نہیں یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ابھی اس وقت تک اس سلسلے میں آپ پر کوئی حکم نہیں اترا تھا چنانچہ اس سے یہ بات خود ثابت ہوگی کہ یہ واسع والی روایت عطاء کی روایت سے مؤخر ہے اور اس کی ناسخ ہے۔ ایک ابھرتا ہوا سوال یہ ہے کہ آپ کی مستدل روایت منقطع ہے۔ حدیث عطاء بن یسار بھی تو منقطع ہے پھر تمہیں کس نے حق دیا ہے جو منقطع تمہارے موافق ہو اس کو تو ثابت کرلو اور جو مخالف ہو اس کو منقطع کہہ کر رد کر دو ۔ اسی طرح کی روایات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متصل اسناد کے ساتھ بھی وارد ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
تخریج : دارمی فی الفرائض باب ٣٨۔
حاصل : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رحم کی رشتہ داری کی وجہ سے ابو لبابہ کو ثابت کی وراثت دی تو اس سے ثابت ہوگیا کہ ذی رحم بھی وارث ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عطاء ابن یسار والی روایت میں پھوپھی اور خالہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وراثت سے متعلق سوال کرنا۔ آیا ان کو وراثت ملے گی یا نہیں یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ابھی اس وقت تک اس سلسلے میں آپ پر کوئی حکم نہیں اترا تھا چنانچہ اس سے یہ بات خود ثابت ہوگی کہ یہ واسع والی روایت عطاء کی روایت سے مؤخر ہے اور اس کی ناسخ ہے۔
t: ایک ابھرتا ہوا سوال یہ ہے کہ آپ کی مستدل روایت منقطع ہے۔
u: حدیث عطاء بن یسار بھی تو منقطع ہے پھر تمہیں کس نے حق دیا ہے جو منقطع تمہارے موافق ہو اس کو تو ثابت کرلو اور جو مخالف ہو اس کو منقطع کہہ کر رد کر دو ۔
!: اسی طرح کی روایات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متصل اسناد کے ساتھ بھی وارد ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
تخریج : دارمی فی الفرائض باب ٣٨۔
حاصل : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رحم کی رشتہ داری کی وجہ سے ابو لبابہ کو ثابت کی وراثت دی تو اس سے ثابت ہوگیا کہ ذی رحم بھی وارث ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عطاء ابن یسار والی روایت میں پھوپھی اور خالہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وراثت سے متعلق سوال کرنا۔ آیا ان کو وراثت ملے گی یا نہیں یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ابھی اس وقت تک اس سلسلے میں آپ پر کوئی حکم نہیں اترا تھا چنانچہ اس سے یہ بات خود ثابت ہوگی کہ یہ واسع والی روایت عطاء کی روایت سے مؤخر ہے اور اس کی ناسخ ہے۔
t: ایک ابھرتا ہوا سوال یہ ہے کہ آپ کی مستدل روایت منقطع ہے۔
u: حدیث عطاء بن یسار بھی تو منقطع ہے پھر تمہیں کس نے حق دیا ہے جو منقطع تمہارے موافق ہو اس کو تو ثابت کرلو اور جو مخالف ہو اس کو منقطع کہہ کر رد کر دو ۔
!: اسی طرح کی روایات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متصل اسناد کے ساتھ بھی وارد ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
7287
Al Tahawi۷۲۸۴ : مَا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ ، قَالَ : ثَنَا وَکِیْعٌ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، ح۔
٧٢٨٤: وکیع نے سفیان سے روایت کی ہے۔
7288
Al Tahawi۷۲۸۵ : وَحَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ ، عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حَکِیْمٍ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ حُنَیْفٍ ، عَنْ أَبِیْ أُسَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا رَمٰی رَجُلًا بِسَہْمٍ فَقَتَلَہٗ، وَلَیْسَ لَہٗ وَارِثٌ اِلَّاخَالٌ .فَکَتَبَ فِیْ ذٰلِکَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ اِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ .فَکَتَبَ عُمَرُ : أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ، مَوْلٰی مَنْ لَا وَلِیَّ لَہٗ، وَالْخَالُ وَارِثٌ مَنْ لَا وَارِثَ لَہٗ۔
٧٢٨٥: عبادہ بن حنیف نے ابو اسامہ بن سہل بن حنیف سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو تیر مار کر ہلاک کردیا اور مرنے والے کا سوائے ماموں کے کوئی وارث نہ تھا تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کی طرف خط لکھا تو حضرت عمر (رض) نے ان کی طرف یہ لکھا کہ جس کا کوئی وارث نہ ہو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے وارث ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو ماموں اس کا وارث ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الفرائض باب ٨‘ ترمذی فی الفرائض باب ١٢‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ٧‘ والفرائض باب ٩‘ دارمی فی الفرائض باب ٣٨‘ مسند احمد ٤؍١٣١۔
تخریج : ابو داؤد فی الفرائض باب ٨‘ ترمذی فی الفرائض باب ١٢‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ٧‘ والفرائض باب ٩‘ دارمی فی الفرائض باب ٣٨‘ مسند احمد ٤؍١٣١۔
7289
Al Tahawi۷۲۸۶ : حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہٗ۔
٧٢٨٦: طاو ٗس نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ماموں ان کا وارث ہے جن کا کوئی وارث نہ ہو۔
7290
Al Tahawi۷۲۸۷ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔، وَلَمْ یَرْفَعْہُ .
٧٢٨٧: ابراہیم بن مرزوق نے ابو عاصم سے پھر انھوں نے اسی طرح اپنی سند سے روایت نقل کی ہے مگر اس کو مرفوع بیان نہیں کیا۔
7291
Al Tahawi۷۲۸۸ : حَدَّثَنَا أَبُوْ یَحْیٰی بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِیْ مَیْسَرَۃَ الْمَکِّیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبِیْ قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، فَذَکَر بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ قَالَ أَبُوْ یَحْیَی : وَأَرَاہُ قَدْ رَفَعَہُ .
٧٢٨٨: ہشام بن سلیمان سے ابن جریج سے روایت کی پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ابو یحییٰ کہتے ہیں میرے خیال میں انھوں نے اس کو مرفوعاً نقل کیا ہے۔
7292
Al Tahawi۷۲۸۹ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ : یَزِیْدُ الْعُقَیْلِیُّ : أَخْبَرَنِیْ عُلَیّ بْنُ أَبِیْ طَلْحَۃَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیْ عَامِرٍ الْہَوْزَنِیِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یَکْرِبَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ تَرَکَ کَلًّا ، فَعَلَیَّ۔قَالَ شُعْبَۃُ : رُبَّمَا قَالَ : قَالَ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا ، فَلِوَرَثَتِہٖ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہٗ، أَعْقِلُ عَنْہُ وَأَرِثُہٗ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہٗ، یَعْقِلُ عَنْہُ وَیَرِثُہٗ۔
٧٢٨٩: ابو عامر ہوزنی نے مقدام بن معدی کرب سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے کوئی قرضہ چھوڑا وہ میرے ذمے ہے شعبہ کہتے ہیں بسا اوقات یہ بھی فرمایا کہ جس نے مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کا ہے اور میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو میں اس کی طرف سے چٹی ادا کروں گا اور اس کا وارث ہوں گا اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ وہ اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا اور اس کا وارث ہوگا۔
تخریج : ابن ماجہ فی الفرائض باب ٩‘ مسند احمد ٤؍١٣١۔
تخریج : ابن ماجہ فی الفرائض باب ٩‘ مسند احمد ٤؍١٣١۔