hadith book logo

Al Tahawi

14. خرید و فروخت کے مسائل و احکام

الطحاوي

5358
Al Tahawi
۵۳۵۷ : حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا الزُّبَیْرِ حَدَّثَہٗ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِیْدٍ حَدَّثَہٗ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہٗ أَرْسَلَ غُلَامًا لَہٗ بِصَاعٍ مِنْ قَمْحٍ ہُوَ الْحِنْطَۃُ فَقَالَ لَہٗ : بِعْہُ ثُمَّ اشْتَرِ بِہٖ شَعِیْرًا ، فَذَہَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِیَادَۃَ بَعْضِ صَاعٍ ، فَلَمَّا جَائَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَہٗ، فَقَالَ لَہٗ مَعْمَرٌ : لِمَ فَعَلْتَ ؟ اِنْطَلِقْ فَرُدَّہٗ، وَلَا تَأْخُذْ اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَاِنِّیْ کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ وَکَانَ طَعَامُنَا یَوْمَئِذٍ ، الشَّعِیْرَ .قِیْلَ لَہٗ : فَاِنَّہٗ لَیْسَ مِثْلَہٗ۔، قَالَ : اِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یُضَارِعَہُ أَنْ یُشْبِہَہُ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا الْحَدِیْثِ فَقَلَّدُوْھُ ، وَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ بَیْعُ الْحِنْطَۃِ بِالشَّعِیْرِ ، اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِبَیْعِ الْحِنْطَۃِ بِالشَّعِیْرِ مُتَفَاضِلًا ، مِثْلَیْنِ بِمِثْلٍ أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِی الْحَدِیْثِ الَّذِی احْتَجُّوْا بِہٖ عَلَیْہِمْ ، أَنَّ مَعْمَرًا أَخْبَرَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ یَسْمَعُہُ یَقُوْلُ الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ثُمَّ قَالَ مَعْمَرٌ : وَکَانَ طَعَامُنَا یَوْمَئِذٍ الشَّعِیْرَ .فَیَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَادَ بِقَوْلِہٖ الَّذِیْ حَکَاہُ عَنْہُ مَعْمَرٌ ، الطَّعَامَ الَّذِیْ کَانَ طَعَامَہُمْ یَوْمَئِذٍ ، فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ عَلَی الشَّعِیْرِ بِالشَّعِیْرِ ، فَلَا یَکُوْنُ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ شَیْء ٌ مِنْ ذِکْرِ بَیْعِ الْحِنْطَۃِ بِالشَّعِیْرِ ، مِمَّا ذَکَرَ فِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاِنَّمَا ہُوَ مَذْکُوْرٌ عَنْ مَعْمَرٍ ، مِنْ رَأْیِہٖ، وَمِنْ تَأْوِیْلِہِ مَا کَانَ سَمِعَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .أَلَا تَرَی أَنَّہٗ قِیْلَ لَہٗ : فَاِنَّہٗ لَیْسَ مِثْلَہٗ۔، أَیْ : لَیْسَ مِنْ نَوْعِہٖ، فَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَی مَنْ قَالَہٗ، وَکَانَ جَوَابُہٗ لَہُ اِنِّیْ أَخْشَی أَنْ یُضَارِعَہُ کَأَنَّہٗ خَافَ أَنْ یَکُوْنَ قَوْلُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِیْ سَمِعَہٗ یَقُوْلُہٗ، وَہُوَ مَا ذَکَرْنَا فِیْ حَدِیْثِہِ عَلَی الْأَطْعِمَۃِ کُلِّہَا فَتَوَقَّیْ ذٰلِکَ وَتَنَزَّہَ عَنْہُ، لِلرَّیْبِ الَّذِی وَقَعَ فِیْ قَلْبِہٖ مِنْہُ. فَلَمَّا انْتَفَی أَنْ یَکُوْنَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ حُجَّۃٌ لِأَحَدِ الْفَرِیْقَیْنِ عَلٰی صَاحِبِہٖ ، نَظَرْنَا ہَلْ فِیْ غَیْرِہِ مَا یَدُلُّنَا عَلٰی حُکْمِ ذٰلِکَ کَیْفَ ہُوَ ؟ فَاعْتَبَرْنَا ذٰلِکَ۔
٥٣٥٧: بسر بن سعید نے معمر بن عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ انھوں نے اپنے ایک غلام کو گندم کا صاع دے کر بھیجا پھر فرمایا کہ اس کے بدلے جو خرید لاؤ غلام گیا اور ایک صاع سے زائد جو لایا جب حضرت معمر (رض) کے پاس لایا تو آپ نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا۔ اسے واپس کرو اور برابر برابر بدلو۔ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا غلہ غلہ کے بدلے برابر ہونا چاہیے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دنوں ہمارا غلہ جو تھا۔ ان سے کہا گیا کہ جو اس کی مثل نہیں تو فرمانے لگے مجھے اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ اس کے کہیں مشابہ نہ ہو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ جیسا یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ گندم اور جو کی خریدو فروخت باہمی برابر سرابر کے علاوہ درست نہیں۔ دوسروں نے کہا جو اور گندم کی بیع کم زیادہ مقدار کے ساتھ جائز ہے خواہ گندم ایک مثل ہو اور جو اس سے دوگنا ہوں۔ فریق اوّل کا جواب : اس روایت میں حضرت معمر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو بات سنی ہے وہ اسی قدر ہے الطعام بالطعام مثلا بمثل پھر معمر کہتے ہیں کہ ہم ان دنوں بطور طعام جو استعمال کرتے تھے پس یہ جائز ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو کے مقابلے میں جو کی بیع ہو پس اس روایت میں گندم کے بدلے جو کی بیع کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں بقیہ آگے حضرت معمر (رض) نے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا اس کی تعبیر میں انھوں نے گندم و جو کے الگ نوع ہونے سے انکار نہیں فرمایا۔ بلکہ اپنے ہاں کمال احتیاط برتتے ہوئے محض اپنے شک کی بناء پر اس کو مثلا بمثل میں داخل مانا۔ اب جب یہ احتمال پیدا ہوا تو یہ روایت فریق اوّل کی دلیل نہ رہی کسی فیصلہ پر پہنچنے کے لیے دیگر روایات کو ملاحظہ کرتے ہیں۔ جس معنی کی تائید مل جائے گی اسے تسلیم کرلیا جائے گا۔ روایت عبادہ بن صامت (رض) ملاحظہ ہو۔
تخریج : مسلم فی المساقات ٩٣‘ مسند احمد ٦؍٤٠٠۔
5359
Al Tahawi
۵۳۵۸ : فَاِذَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَدْ حَدَّثَنَا ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّہٗ قَامَ فَقَالَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، اِنَّکُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ بُیُوْعًا ، لَا أَدْرِی مَا ہِیَ ؟ وَاِنَّ الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ ، تِبْرَہُ وَعَیْنَہٗ، وَالْفِضَّۃَ بِالْفِضَّۃِ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ ، تِبْرَہَا وَعَیْنَہَا ، وَلَا بَأْسَ بِبَیْعِ الذَّہَبِ بِالْفِضَّۃِ ، وَالْفِضَّۃُ أَکْثَرُہُمَا ، یَدًا بِیَدٍ ، وَلَا یَصْلُحُ نَسِیْئًا ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، مُدًّا بِمُد ، یَدًا بِیَدٍ ، وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ ، مُدًّا بِمُد ، یَدًا بِیَدٍ ، وَلَا بَأْسَ بِبَیْعِ الشَّعِیْرِ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِیْرُ أَکْثَرُہُمَا ، یَدًا بِیَدٍ ، وَلَا یَصِحُّ نَسِیْئَۃً ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، حَتَّی عَدَّ الْمِلْحَ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، مَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبٰی .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَہٰذَا عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِ قَدْ خَالَفَ مَعْمَرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ فِیْمَا ذَہَبَ اِلَیْہِ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَا عَنْہُ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ہٰذَا الْکَلَامُ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٥٣٥٨: ابوالاشعث نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو ! تم نے بیع کی کئی اقسام گھڑلی ہیں میں نہیں جانتا کہ ان کی حقیقت کیا ہے۔ سنو ! سونے کی ڈلی سونے کی ڈلی کے بدلے اور اس کا سکہ سکے کے بدلے برابر وزن میں اسی طرح چاندی کی ڈلی اور سکہ چاندی کے بدلے جب وزن میں برابر ہوں (تو فروخت کرو) اور اس میں حرج نہیں کہ سونے کو چاندی کے بدلے کم زیادہ نقدی میں لیا دیا جائے۔ یہ ادھار درست نہیں اور کھجور کے بدلے کھجور برابر دیا جائے اور نمک کو نمک کے بدلے برابر دیا جائے جس نے ان میں (جب جنس ایک ہو) کمی اضافہ کیا اس نے سود لیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس روایت میں حضرت عبادہ (رض) نے معمر (رض) کے مؤقف کے خلاف بات کہی یہ بات صرف عبادہ (رض) کی اپنی رائے نہیں بلکہ انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے۔ روایت عبادہ (رض) ملاحظہ ہو۔
5360
Al Tahawi
۵۳۵۹ : حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی الْمُزَنِیّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوْبَ السِّخْتِیَانِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ، وَرَجُلٍ آخَرَ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِیْعُوْا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ ، وَلَا الشَّعِیْرَ بِالشَّعِیْرِ ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ اِلَّا سَوَائً بِسَوَائٍ ، عَیْنًا بِعَیْنٍ ، وَلٰـکِنْ بِیْعُوْا الذَّہَبَ بِالْوَرِقِ ، وَالْوَرِقَ بِالذَّہَبِ ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِیْرِ ، وَالشَّعِیْرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ ، وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ یَدًا بِیَدٍ ، کَیْفَ شِئْتُمْ .قَالَ : وَنَقَصَ أَحَدُہُمَا ، التَّمْرَ بِالْمِلْحِ ، وَزَادَ الْآخَرُ مَنْ زَادَ أَو ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبٰی .
٥٣٥٩: مسلم بن یسار اور ایک دوسرے شخص نے حضرت عبادہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ سونا سونے کے بدلے ‘ اور چاندی۔ چاندی کے بدلے ‘ گندم گندم کے بدلے۔ جو جو کے بدلے ‘ کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر فروخت کرو۔ مگر سونے کو چاندی اور چاندی کو سونے کے بدلے اسی طرح گندم کو جو کے بدلے اور جو کو گندم کے بدلے اور کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے بدلے نقداً جس طرح چاہو فروخت کرو۔ کھجور و نمک میں سے ایک چیز کم ہو اور دوسری زیادہ ہو تو یہ اضافہ درست ہے (اور جب جنس ایک ہو) تو جس نے زیادہ لیا اس نے سود کا کام کیا۔
تخریج : مسلم فی المساقات ٨٠‘ ناسئی فی البیوع باب ٥٠‘ مسند احمد ٥؍٣٢٠۔
5361
Al Tahawi
۵۳۶۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : ثَنَا وُہَیْبٌ ، عَنْ أَیُّوْبَ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔
٥٣٦٠: وہیب نے ایوب سے پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔
5362
Al Tahawi
۵۳۶۱ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ الْکَیْسَانِیُّ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ طَہْمَانَ عَنْ أَیُّوْبَ بْنِ أَبِیْ تَمِیْمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنِ ابْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ یَقُوْلُ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَبَایَعُوْا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ اِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلَا الْحِنْطَۃَ بِالْحِنْطَۃِ وَلَا الشَّعِیْرَ بِالشَّعِیْرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ اِلَّا سَوَائً بِسَوَائٍ عَیْنًا بِعَیْنٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَی وَلٰـکِنْ بِیْعُوْا الذَّہَبَ بِالْوَرِقِ وَالْحِنْطَۃَ بِالشَّعِیْرِ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ یَدًا بِیَدٍ کَیْفَ شِئْتُمْ .
٥٣٦١: ابوالاشعث نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا یا اس طرح فرمایا تم سونے کو سونے کے بدلے اور نہ چاندی کو چاندی کے بدلے فروخت کرو مگر اس صورت میں جبکہ ان کا وزن برابر ہو۔ اسی طرح کھجور کو کھجور کے بدلے اور نہ گندم کو گندم کے عوض اور نہ جو کو جو کے عوض اور نہ نمک کو نمک کے عوض فروخت کرو مگر اس صورت میں جبکہ یہ برابر ہوں اور ایک ہی جنس ہوں پس جس نے بڑھایا اس نے سودی کاروبار کیا لیکن سونا چاندی کے بدلے اور گندم جو کے بدلے اور کھجور کے بدلے دست بدست جس طرح چاہو کم زیادہ دے سکتے ہو۔
تخریج : مسلم فی المساقاۃ ٨٣‘ ترمذی فی البیوع باب ٢٣‘ نسائی فی البیوع باب ٤٢‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٤٨‘ مسند احمد ٥؍٣٢٠۔
5363
Al Tahawi
۵۳۶۲ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ ، قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْخَلِیْلِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَکِّیِّ عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ أَنْ یُبَاعَ الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ ، تِبْرُہُ وَعَیْنُہٗ، اِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ ، تِبْرُہَا وَعَیْنُہَا ، اِلَّا مَثَلًا بِمِثْلٍ ، وَذَکَرَ الشَّعِیْرَ بِالشَّعِیْرِ ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ کَیْلًا بِکَیْلٍ ، فَمَنْ زَادَ ، أَوْ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَی .وَلَا بَأْسَ بِبَیْعِ الشَّعِیْرِ بِالْبُرِّ ، یَدًا بِیَدٍ ، وَالشَّعِیْرُ أَکْثَرُہُمَا۔
٥٣٦٢: اشعث صنعانی نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کا ٹکڑا اور سکہ سونے کے بدلے فروخت کرنے سے روکا مگر اس صورت میں جبکہ دونوں کا وزن برابر ہو۔ چاندی کا ٹکڑا اور اس کا سکہ بھی چاندی کے ٹکڑے کے بدلے برابر برابر وزن میں ہونا چاہیے۔ آپ نے جو کے بدلے جو اور کھجور کے بدلے کھجور ‘ نمک کے بدلے نمک کا ذکر فرمایا۔ کہ دونوں کا پیمانہ برابر ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کیا فرمایا اس نے سود کمایا۔ البتہ گندم کو جو کے بدلے دست بدست فروخت کرنا کمی و اضافہ کے ساتھ دینے میں حرج نہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ١٢‘ ترمذی فی البیوع باب ٢٣‘ نسائی فی البیوع باب ٤‘ ٤٣؍٤٤‘ دارمی فی البیوع باب ٤١‘ مسند احمد ٥؍٣٢٠۔
5364
Al Tahawi
۵۳۶۳ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ ، قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِہٖ .
٥٣٦٣: ابوالاشعث نے حضرت عبادہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
5365
Al Tahawi
۵۳۶۴ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ عَنْ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ ، قَالَ : ثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ، وَذَکَرَ آخَرَ حَدَّثَاہٗ، أَوحَدَّثَنَا قَالَ : جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَیْنَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَمُعَاوِیَۃَ ، فِیْ کَنِیسَۃٍ أَوْ بِیْعَۃٍ .فَحَدَّثَ عُبَادَۃُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِیْعُوْا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ ، وَلَا الشَّعِیْرَ بِالشَّعِیْرِ ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ ، اِلَّا سَوَائً بِسَوَائٍ ، عَیْنًا بِعَیْنٍ قَالَ أَحَدُہُمَا ، وَلَمْ یَقُلْ الْآخَرُ : قَالَ عُبَادَۃُ : أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِیْعَ الذَّہَبَ بِالْفِضَّۃِ ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِیْرِ ، وَالشَّعِیْرَ بِالْبُرِّ ، یَدًا بِیَدٍ ، کَیْفَ شِئْنَا .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِبَاحَۃُ بَیْعِ الشَّعِیْرِ بِالْحِنْطَۃِ مِثْلَیْنِ بِمِثْلٍ ، فَقَدْ ثَبَتَ الْقَوْلُ بِذٰلِکَ مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ ، ثُمَّ الْتَمَسْنَا حُکْمَ ذٰلِکَ مِنَ الْحِنْطَۃِ کَمْ ہِیَ ؟ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : ہِیَ نِصْفُ صَاعٍ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ : ہِیَ مُدٌّ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ .فَکَانَ الَّذِیْنَ جَعَلُوْہَا مِنَ الْحِنْطَۃِ نِصْفَ صَاعٍ ، یَجْعَلُوْنَہَا مِنِ الشَّعِیْرِ صَاعًا ، وَکَانَ الَّذِیْ جَعَلُوْہَا مِنَ الْحِنْطَۃِ مُدًّا ، یَجْعَلُوْنَہَا مِنِ الشَّعِیْرِ مُدَّیْنِ ، وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ بِأَسَانِیدِہِ عَنْہُمْ فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْمَوْضِعِ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہُمَا نَوْعَانِ مُخْتَلِفَانِ ، لِأَنَّہُمَا لَوْ کَانَا مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ ، اِذًا لَأَجْزَأَ مِنْ أَحَدِہِمَا مَا یُجْزِئُ مِنَ الْآخَرِ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : اِنَّہٗ اِنَّمَا زِیْدَ فِی الشَّعِیْرِ ، عَلٰی مَا جُعِلَ فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الْحِنْطَۃِ ، لِغُلُوِّ الْحِنْطَۃِ ، وَاتِّسَاعِ الشَّعِیْرِ .فَالْجَوَابُ لَہُ فِیْ ذٰلِکَ ، أَنَّا رَأَیْنَا مَا یُعْطَی مِنْ جَیِّدِ الْحِنْطَۃِ وَمِنْ رَدِیئِہَا فِیْ کَفَّارَۃِ الْأَیْمَانِ سَوَائً ، وَکَذٰلِکَ الشَّعِیْرُ .أَلَا تَرَی أَنَّ مَنْ وَجَبَتْ عَلَیْہِ کَفَّارَۃُ یَمِیْنٍ ، فَأَعْطَی کُلَّ مِسْکِیْنٍ نِصْفَ مُد ، یُسَاوِی نِصْفَ صَاعٍ ، أَنَّ ذٰلِکَ لَا یُجْزِئُہُ مِنْ نِصْفِ صَاعٍ، وَلَا مِنْ مُد .فَلَمَّا کَانَ مَا ذَکَرْنَا کَذٰلِکَ ، وَکَانَ الشَّعِیْرُ یُؤَدَّی مِنْہُ کَفَّارَاتُ الْأَیْمَانِ مِثْلَی مَا یُؤَدَّی مِنَ الْحِنْطَۃِ ، فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ نَوْعٌ خِلَافُ الْحِنْطَۃِ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنْ لَا بَأْسَ بِبَیْعِہِ بِالْحِنْطَۃِ ، مِثْلَیْنِ بِمِثْلٍ وَأَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ، وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٥٣٦٤: محمد بن سیرین نے مسلم بن یسار اور دوسرے کا بھی ذکر کیا دونوں نے اس کو بیان یا ہم نے بیان کیا کہ عبادہ بن صامت (رض) اور حضرت معاویہ (رض) ایک جگہ جمع ہوئے جو عیسائیوں یا یہودیوں کا گرجا تھا۔ تو عبادہ نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سونا بدلے سونے کے اور چاندی کے بدلے چاندی اور جو کے بدلے جو مت فروخت کرو اور نہ کھجور کے بدلے کھجور اور نہ نمک کے بدلے نمک مگر برابر سرابر اور عین کے بدلے عین یہ ایک راوی نے آخری الفاظ کہے دوسرے نے نہیں کہے۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کی بیع گندم کے بدلے دو مثل ایک مثل کے بدلے جائز قرار دی ہے جب روایت سے یہ بات ثابت ہوگئی اب گندم کی مقدار کا حکم تلاش کیا۔ کہ گندم و جو میں نسبت کیا ہوگی۔ بعض صحابہ کرام کا قول :
نمبر ١ ہر مسکین کو گندم کا نصف صاع۔
نمبر ٢ ہر مسکین کو ایک مد دیا جائے گا۔ جن حضرات نے گندم کے نصف صاع اور جو کا صاع برابر قرار دیا دوسروں سے گندم کا ایک مد اور جو دو مد۔ یہ صدقہ الفطر میں تفصیل سے ذکر کردیا گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گندم اور جو ایک دوسرے سے الگ انواع ہیں کیونکہ اگر ان کی نوع ایک ہوتی تو پھر ایک میں جو چیز جائز ہے دوسری میں بھی مقدار اتنی ہی رہتی۔ جو میں اضافہ کی وجہ انواع کا مختلف ہونا نہیں بلکہ گندم کی گرانی اور جو کے سستا ہونے کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ ذرا توجہ تو فرمائیں گندم میں عمدہ ہو یا ردی کی مقدار یکساں رہے گی اور جو کا بھی یہی حال ہے مثلاً کسی پر قسم کا کفارہ لازم ہوا اس نے ہر مسکین کو نصف مد گندم دی جو قیمت میں نصف صاع متوسط گندم کے برابر ہے تو یہ کفارہ ادا نہ ہوگا۔ نہ نصف صاع متوسط گندم کے برابر ہے تو یہ کفارہ ادا نہ ہوگا نہ نصف صاع کے اعتبار سے نہ مد کے لحاظ سے۔ جب یہ بات ثابت شدہ ہے تو کفارات کی ادائیگی آج تک تو گندم سے دونے جو سے ادا کی جاتی رہی اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ الگ نوع ہے اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ گندم کو ایک مثل یا دو مثل سے فروخت کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
عبادہ (رض) کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم سونے کو چاندی اور گندم کو جو اور جو کو گندم کے بدلے فروخت کریں جیسے چاہیں بدست بدست فروخت کریں۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کی بیع گندم کے بدلے دو مثل ایک مثل کے بدلے جائز قرار دی ہے جب روایت سے یہ بات ثابت ہوگئی اب گندم کی مقدار کا حکم تلاش کیا۔ کہ گندم و جو میں نسبت کیا ہوگی۔ بعض صحابہ کرام کا قول :
نمبر ١ ہر مسکین کو گندم کا نصف صاع۔
نمبر ٢ ہر مسکین کو ایک مد دیا جائے گا۔
جن حضرات نے گندم کے نصف صاع اور جو کا صاع برابر قرار دیا دوسروں سے گندم کا ایک مد اور جو دو مد۔ یہ صدقہ الفطر میں تفصیل سے ذکر کردیا گیا۔
اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گندم اور جو ایک الگ انواع ہیں کیونکہ اگر ان کی نوع ایک ہوتی تو پھر ایک میں جو چیز جائز ہے دوسری میں بھی مقدار اتنی ہی رہتی۔
اعتراض :
جو میں اضافہ کی وجہ انواع کا مختلف ہونا نہیں بلکہ گندم کی گرانی اور جو کے سستا ہونے کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔
جوابذرا توجہ تو فرمائیں گندم عمدہ ہو یا ردی اس کی مقدار یکساں رہے گی اور جو کا بھی یہی حال ہے مثلاً کسی پر قسم کا کفارہ لازم ہوا اس نے ہر مسکین کو نصف مد گندم دی جو قیمت میں نصف صاع متوسط گندم کے برابر ہے تو یہ کفارہ ادا نہ ہوگا۔ نہ نصف صاع متوسط گندم کے برابر ہے تو یہ کفارہ ادا نہ ہوگا نہ نصف صاع کے اعتبار سے نہ مد کے لحاظ سے۔ جب یہ بات ثابت شدہ ہے تو کفارات کی ادائیگی آج تک تو گندم سے دوگنا جو سے ادا کی جاتی رہی اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ الگ نوع ہے۔
اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ گندم کو ایک مثل یا دو مثل سے فروخت کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
5366
Al Tahawi
۵۳۶۵ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، أَنَّ مَالِکًا وَأُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ حَدَّثَاہٗ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ مَوْلَی الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ : أَنَّ زَیْدًا أَبَا عَیَّاشٍ أَخْبَرَہٗ أَنَّہٗ سَأَلَ سَعْدًا ، عَنِ السُّلْتِ بِالْبَیْضَائِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : شَہِدْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسْأَلُ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ ، فَقَالَ أَیَنْقُصُ الرُّطَبُ اِذَا جَفَّ ؟ فَقَالُوْا : نَعَمْ ، قَالَ فَلَا اِذًا وَکَرِہَہُ .
٥٣٦٥ : زید ابو عیاش نے بتلایا کہ انھوں نے سعد سے پوچھا کہ چھلکے والے جو اور گندم کے متعلق دریافت کیا تو حضرت سعد کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تر کھجور اور خشک کھجور کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کیا تر کھجور خشک ہونے سے کم ہوجاتی ہے ؟ انھوں نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا پھر جائز نہیں اور اس کو آپ نے ناپسند فرمایا۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ١٨‘ ترمذی فی البیوع باب ١٤‘ نسائی فی البیوع باب ٣٦‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٥٣‘ مالک فی البیوع ٢٢‘ (بتغیر یسیر من اللفظ)
5367
Al Tahawi
۵۳۶۶ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا الْقَعْنَبِیُّ ، قَالَ : ثَنَا مَالِکٌ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ ، عَنْ زَیْدٍ أَبِیْ عَیَّاشٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا الْحَدِیْثِ فَقَلَّدُوْھُ وَجَعَلُوْھُ أَصْلًا ، وَمَنَعُوْا بِہٖ بَیْعَ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ .وَمِمَّنْ ذَہَبَ اِلَی ذٰلِکَ : أَبُوْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمَا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَجَعَلُوْا الرُّطَبَ وَالتَّمْرَ ، نَوْعًا وَاحِدًا ، وَأَجَازُوْا بَیْعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا بِصَاحِبِہٖ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَکَرِہُوْھُ نَسِیْئَۃً .فَاعْتَبَرْنَا ہٰذَا الْحَدِیْثَ الَّذِی احْتَجَّ بِہٖ عَلَیْہِمْ مُخَالِفُہُمْ ، ہَلْ دَخَلَہُ شَیْء ٌ ؟
٥٣٦٦: زید ابو عیاش نے سعد (رض) وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح فرماتے سنا پھر اسی طرح روایت ذکر کی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کے پیش نظر بعض علماء نے تر کھجور کی خریدو فروخت خشک کھجور کے عوض ممنوع قرار دی ہے اور یہ امام ابو یوسف (رح) اور محمد (رح) نے اختیار کیا ہے۔ دوسروں نے کہا تر کھجور یا خشک دونوں ایک قسم ہیں ان کی بیع نقد برابر برابر ایک دوسرے کے ساتھ درست ہے اور ادھار جائز نہیں۔ مؤقف اوّل کا جواب یہ ہے کہ جس حدیث سے استدلال کیا گیا دیگر آثار کو دیکھنے سے معلوم ہوا کہ جس چیز کی ممانعت کی گئی وہ ان کی ادھار بیع ہے پس فریق اوّل کی مستدل نہ رہی۔ روایت ملاحظہ فرمائیں۔