hadith book logo

Al Tahawi

5. روزوں کا بیان

الطحاوي

3089
Al Tahawi
۳۰۸۹ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ‘ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ‘ عَنْ (زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ‘ قَالَ : تَسَحَّرْتُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَی الْمَسْجِدِ‘ فَمَرَرْتُ بِمَنْزِلِ حُذَیْفَۃَ‘ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ‘ فَأَمَرَ بِلِقْحَۃٍ فَحُلِبَتْ‘ وَبِقِدْرٍ فَسُخِّنَتْ‘ ثُمَّ قَالَ کُلْ فَقُلْتُ إِنِّیْ أُرِیْدُ الصَّوْمَ قَالَ : وَأَنَا أُرِیْدُ الصَّوْمَ .قَالَ : فَأَکَلْنَا‘ ثُمَّ شَرِبْنَا‘ ثُمَّ أَتَیْنَا الْمَسْجِدَ‘ فَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ‘ قَالَ : ہٰکَذَا فَعَلَ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ أَوْ صَنَعْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قُلْتُ : بَعْدَ الصُّبْحِ ؟ قَالَ : بَعْدَ الصُّبْحِ‘ غَیْرَ أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّہٗ أَکَلَ بَعْدَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ‘ وَہُوَ یُرِیْدُ الصَّوْمَ وَیَحْکِیْ مِثْلَ ذٰلِکَ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ جَائَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافُ ذٰلِکَ‘ فَہُوَ مَا قَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ مِمَّا تَقَدَّمَ ذِکْرُنَا لَہٗ فِیْ کِتَابِنَا ھٰذَا أَنَّہٗ قَالَ (إِنَّ بِلَالًا یُنَادِیْ بِلَیْلٍ‘ فَکُلُوْا وَأَشْرَبُوْا‘ حَتّٰی یُنَادِیَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ) .وَأَنَّہٗ قَالَ (لَا یَمْنَعَنَّ أَحَدَکُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُوْرِہٖ‘ فَإِنَّہٗ إِنَّمَا یُؤَذِّنُ لِیَنْتَبِہَ نَائِمُکُمْ‘ وَلِیَرْجِعَ قَائِمُکُمْ) ثُمَّ وَصَفَ الْفَجْرَ بِمَا قَدْ وَصَفَہٗ بِہٖ۔ فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّہٗ ہُوَ الْمَانِعُ لِلطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَمَا سِوٰی ذٰلِکَ‘ مِمَّا یُمْنَعُ مِنْہُ الصَّائِمُ .فَھٰذِہِ الْآثَارُ الَّتِیْ ذَکَرْنَا مُخَالِفَۃٌ لِحَدِیْثِ حُذَیْفَۃَ .وَقَدْ یَحْتَمِلُ حَدِیْثُ حُذَیْفَۃَ عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - أَنْ یَّکُوْنَ کَانَ قَبْلَ نُزُوْلِ قَوْلِہٖ تَعَالٰی (وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوْا الصِّیَامَ إِلَی اللَّیْلِ) .
٣٠٨٩: زر بن حبیش سے روایت ہے کہ میں نے سحری کا کھانا کھایا پھر میں مسجد کی طرف روانہ ہوگیا میں حضرت حذیفہ (رض) کے مکان کے پاس سے گزرا تو ان کے ہاں مکان میں داخل ہوا انھوں نے ایک اونٹنی کا دودھ دھونے کا حکم دیا وہ دوھا گیا اور ہانڈی گرم کی گئی پھر مجھے فرمانے لگے کھاؤ میں نے کہا میں نے کہا میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں انھوں نے کہا میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں پھر ہم نے کھایا اور مسجد میں آئے تو جماعت کھڑی ہوگئی حذیفہ کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ ایسا ہی کیا یا یہ کہا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں ایسا کیا میں نے تعجب سے پوچھا کیا صبح کے بعد بھی کھانے کی اجازت ہے بس سورج نکلنے کی کسر باقی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں۔ حضرت حذیفہ (رض) کی اس روایت میں مذکور ہے کہ میں نے طلوع فجر کے بعد کھایا اور میرا روزے کا ارادہ تھا اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس طرح کی روایت کی ہے۔ حالانکہ جناب رسول اللہ سے اس کے خلاف روایات بھی آتی ہیں اور وہ وہی روایات ہیں جن کو ہم پہلے ذکر کر آئے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ۔ بلال (رض) تو رات ہی کو اذان دے دیتا ہے۔ تم اس وقت تک کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام کلثوم اذان دے ‘ ‘ اور یہ بھی فرمایا : لا یمنعن احد کھر۔۔۔ ہرگز تمہیں بلال کی اذان سحری سے نہ روکے اس لیے کہ وہ تو اذان دیتے ہیں تاکہ سونے والا جاگ جائے اور قیام والا واپس لوٹ آئے ۔ پھر فجر کی تعریف فرمائی جس طرح فرمائی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ صبح کا وجود کھانے اور پینے اور دیگر اشیاء جو روزہ دار کے لیے ممنوع ہیں ان کے لیے رکاوٹ ہے۔ یہ روایات مذکورہ حضرت حذیفہ (رض) والی روایت کے خلاف ہیں اور حضرت حذیفہ (رض) والی روایت کی یہ تاویل بھی ہوسکتی ہے (واللہ اعلم) یہ حکم آیت کلوا واشربوا حتی یتیبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسورمن الفجر ثم اتموا الصیام الی اللیل۔۔۔ کے نزول سے پہلے کی بات ہے۔ جیسا ذیل کی روایات مشیر ہیں۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٣٩٦۔
اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ حذیفہ (رض) روزے کا ارادہ ہونے کے باوجود صبح صادق کے بعد کھایا پیا اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اسی طرح کی بات نقل کی ہے۔
ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء و محدثین کے ہاں صبح صادق کے بعد کھانا پینا جماع جائز نہیں ہے۔
صبح صادق کے بعد کھانا ‘ پینا اور جماع سب ناجائز ہیں اس سے روزہ باقی نہ رہے گا اس کے کچھ دلائل کی روایات جو اوقات اذان کے سلسلہ میں بیان کی گئیں جیسے آپ نے فرمایا بلال رات کو اذان دے دیتے ہیں تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔ بخاری فی الصوم باب ١٧‘ اسی طرح فرمایا تمہیں اذان بلال سحری سے منع نہ کر دے وہ اس لیے اذان دیتے ہیں تاکہ سونے والا بیدار ہوجائے اور قیام کرنے والا لوٹ آئے۔ مسلم فی الصیام نمبر ٣٩‘ پھر آپ نے صبح صادق کی بھی وضاحت فرمائی ان روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ صبح صادق کا طلوع کھانے پینے وغیرہ سے مانع ہے۔
روایات حذیفہ (رض) کے متعلق جواب یہ ہے۔
نمبر 1: یہ اس آیت کے نزول سے پہلے کی بات ہے کلوا واشربوا حتی یتبیین لکم الخیط الابیض۔۔۔ (البقرہ۔ ١٨٧) اُتری جیسا کہ اگلی روایات سے بھی ایسے اشارات ملتے ہیں۔
3090
Al Tahawi
۳۰۹۰ : فَإِنَّہٗ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ بْنِ مُوْسٰی، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ سَالِمٍ‘ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ‘ قَالَ : أَنَا حُصَیْنٌ وَمُجَالِدٌ‘ عَنِ الشَّعْبِیِّ‘ قَالَ : أَخْبَرَنَا (عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ‘ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ (وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَـکُمَ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ) عَمَدْتُ إِلٰی عِقَالَیْنِ‘ أَحَدُہُمَا أَسْوَدُ‘ وَالْآخَرُ أَبْیَضُ‘ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَیْہِمَا‘ فَلاَ یَتَبَیَّنُ لِی الْأَبْیَضُ مِنَ الْأَسْوَدِ .فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَأَخْبَرْتُہٗ بِالَّذِیْ صَنَعْتُ‘ فَقَالَ إِنَّ وِسَادَکَ لَعَرِیْضٌ‘ إِنَّمَا ذٰلِکَ بَیَاضُ النَّہَارِ وَسَوَادُ اللَّیْلِ .)
٣٠٩٠: شعبی نے عدی بن حاتم (رض) سے نقل کیا کہ جب وکلوا واشربوا حتٰی یتبین لکم الخیط الابیض (البقرہ۔ ١٨٧) آیت اتری تو میرے پاس سیاہ وسفید دو عقال تھے میں نے ان پر نگاہ ڈالنا شروع کی مجھے سفید سے سیاہ ممتاز نہ ہو رہا تھا صبح کے وقت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بات کی اطلاع دی آپ نے فرمایا تیرا تکیہ تو بڑا عریض ہے اس سے مراد دن کا سپید اور رات کا اندھیرا ہے۔
تخریج : بخاری فی تفسیر سورة ٢‘ باب ٢٨‘ مسلم فی الصیام ٣٣‘ ابو داؤد فی الصوم باب ١٧‘ دارمی فی الصوم باب ٧۔
3091
Al Tahawi
۳۰۹۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ‘ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ‘ قَالَ : ثَنَا حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنِ الشَّعْبِیِّ‘ عَنْ عَدِیِّ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔
٣٠٩١: شعبی نے عدی سے ‘ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔
3092
Al Tahawi
۳۰۹۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ‘ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِیٍّ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ إِدْرِیْسَ الْأَوْدِیُّ‘ عَنْ حُصَیْنٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .
٣٠٩٢: عبداللہ بن ادریس اودی نے حصین سے پھر انھوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے۔
3093
Al Tahawi
۳۰۹۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ‘ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ‘ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ (وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمَ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ) جَعَلَ الرَّجُلُ یَأْخُذُ خَیْطًا أَبْیَضَ وَخَیْطًا أَسْوَدَ‘ فَیَضَعُہُمَا تَحْتَ وِسَادَۃٍ‘ فَیَنْظُرُ مَتٰی یَسْتَبِیْنُہُمَا فَیَتْرُکُ الطَّعَامَ .قَالَ : فَبَیَّنَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ذٰلِکَ‘ وَنَزَلَتْ (مِنَ الْفَجْرِ) .فَلَمَّا کَانَ حُکْمُ ھٰذِہِ الْآیَۃِ قَدْ کَانَ أَشْکَلَ عَلٰی أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی بَیَّنَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ مِنْ ذٰلِکَ مَا بَیَّنَ‘ وَحَتّٰی أَنْزَلَ (مِنَ الْفَجْرِ) بَعْدَمَا قَدْ کَانَ أَنْزَلَ (حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ) فَکَانَ الْحُکْمُ أَنْ یَأْکُلُوْا وَیَشْرَبُوْا‘ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ ذٰلِکَ لَہُمْ‘ حَتّٰی نَسَخَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْلِہٖ (مِنَ الْفَجْرِ) عَلٰی مَا ذَکَرْنَا‘ مَا قَدْ بَیَّنَہٗ سَہْلٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ .وَاحْتُمِلَ أَنْ یَّکُوْنَ مَا رَوٰی حُذَیْفَۃُ مِنْ ذٰلِکَ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ قَبْلَ نُزُوْلِ تِلْکَ الْآیَۃِ‘ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ تِلْکَ الْآیَۃَ‘ أَحْکَمَ ذٰلِکَ‘ وَرَدَّ الْحُکْمَ إِلٰی مَا بَیَّنَ فِیْہَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ۔
: ابو حازم نے سہل بن سعد ساعدی (رض) سے نقل کیا ہے کہ جب آیت : وکلوا واشربوا حتٰی یتبین لکم۔۔۔ (البقرہ : ١٨٧) نازل ہوئی تو لوگ سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر تکئے کے نیچے رکھتے اور ان کو دیکھتے رہتے جب ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے تو اس وقت کھانا چھوڑتے۔ سہل کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی اور ” من الفجر “ کے الفاظ اتار دیئے۔ جب اس آیت کا حکم صحابہ پر قابل اشکال ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مِنَ الْفَجرِ سے اس کی وضاحت کردی کہ صبح کے اچھی طرح سپید ہونے تک کھاپی سکتے ہو اور پہلے حکم کو منسوخ کردیا جیسا کہ ہم حضرت سہل (رض) کی روایت کے ضمن میں ذکر کر آئے ہیں اور دوسرا احتمال وہ بھی ہے جو پیچھے ہم نے ذکر کیا کہ حضرت حذیفہ (رض) والی روایت کا حکم نزول آیت سے پہلے کا ہے جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت اتار دی تو اس حکم کو اصل کی طرف لوٹا کر محکم کردیا جیسا کہ ذیل کی روایت واضح کر رہی ہے۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ١٦‘ مسلم دی الصیام نمبر ٣٤۔
جب اس آیت نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اشکال پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کردی اور ” من الفجر “ کے الفاظ اتارے اس کے بعد کہ حتٰی یتبین لکم الخیط الابیض (البقرہ۔ ١٨٧) پہلے کھانے پینے کا حکم تھا یہاں تک کہ ” من الفجر “ سے اس کو منسوخ کردیا اور روایت نمبر ٣٠٩٣ میں یہ مذکورہوا۔
٣٠٩٣: ابو حازم نے سہل بن سعد ساعدی (رض) سے نقل کیا ہے کہ جب آیت : وکلوا واشربوا حتٰی یتبین لکم۔۔۔ (البقرہ : ١٨٧) نازل ہوئی تو لوگ سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر تکئے کے نیچے رکھتے اور ان کو دیکھتے رہتے جب ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے تو اس وقت کھانا چھوڑتے۔ سہل کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی اور ” من الفجر “ کے الفاظ اتار دیئے۔ جب اس آیت کا حکم صحابہ پر قابل اشکال ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مِنَ الْفَجرِ سے اس کی وضاحت کردی کہ صبح کے اچھی طرح سپید ہونے تک کھاپی سکتے ہو اور پہلے حکم کو منسوخ کردیا جیسا کہ ہم حضرت سہل (رض) کی روایت کے ضمن میں ذکر کر آئے ہیں اور دوسرا احتمال وہ بھی ہے جو پیچھے ہم نے ذکر کیا کہ حضرت حذیفہ (رض) والی روایت کا حکم نزول آیت سے پہلے کا ہے جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت اتار دی تو اس حکم کو اصل کی طرف لوٹا کر محکم کردیا جیسا کہ ذیل کی روایت واضح کر رہی ہے۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ١٦‘ مسلم دی الصیام نمبر ٣٤۔
جب اس آیت نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اشکال پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کردی اور ” من الفجر “ کے الفاظ اتارے اس کے بعد کہ حتٰی یتبین لکم الخیط الابیض (البقرہ۔ ١٨٧) پہلے کھانے پینے کا حکم تھا یہاں تک کہ ” من الفجر “ سے اس کو منسوخ کردیا اور روایت نمبر ٣٠٩٣ میں یہ مذکورہوا۔
نمبر 2: دوسرا احتمال یہ ہے کہ حذیفہ (رض) نے جو بات نقل کی وہ نزول آیت سے پہلے کی ہو جب آیت اتار کر وضاحت کردی اور اس حکم کو محکم کردیا۔
اور اس سلسلہ میں اگلی روایت مؤید ہے۔
3094
Al Tahawi
۳۰۹۴ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ وَالْخَضِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُجَاعٍ‘ قَالَا : ثَنَا مُلَازِمُ ابْنُ عَمْرٍو‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَدْرٍ السُّحَیْمِیُّ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ جَدِّیْ قَیْسُ بْنُ طَلْقٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبِیْ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا یَہِیْدَنَّکُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ‘ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَعْتَرِضَ لَکُمُ الْأَحْمَرُ وَأَشَارَ بِیَدِہٖ وَأَعْرَضَہَا) .فَلاَ یَجِبُ تَرْکُ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی نَصًّا‘ وَأَحَادِیْثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَاتِرَۃً قَدْ قَبِلَتْہَا الْأُمَّۃُ‘ وَعَمِلَتْ بِہَا مِنْ لَدُنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْیَوْمِ ۔ إِلٰی حَدِیْثٍ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ مَنْسُوْخًا بِمَا ذَکَرْنَاہُ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٣٠٩٤: قیس بن طلق کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ جناب نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم کھاتے پیتے رہو تمہیں اوپر کو چڑھنے والی روشنی نہ روکے۔ اس وقت تک کھاؤ یہاں تک کہ سامنے چوڑائی میں سرخی ظاہر ہو اور دست مبارک سے اس کی چوڑائی کی طرف اشارہ کیا۔ تو اس سے قرآن مجید کی کسی نص یا حدیث متواتر میں سے کسی کا ترک بھی لازم نہیں آتا جن احادیث کو امت نے آج تک قبول کر کے اس پر عمل قائم کیا ہوا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ روایت اس آیت سے منسوخ ہو جیسا کہ ہم اسی باب میں ذکر کر آئے۔ یہ امام ابوحنیفہ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
اس روایت اور دیگر روایات اور آیت سے صبح صادق کے بعد کھانے کی اجازت کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے روایات حذیفہ (رض) کے بالمقابل نہ تو کسی آیت کا نسخ لازم آتا ہے بلکہ امت کا متواتر اجماعی عمل روایت حذیفہ کے نسخ کا منہ بولتا ثبوت ہے اس لیے اس روایت پر عمل ہرگز درست نہ ہوگا بلکہ نصوص متواترہ امت کے اجماعی عمل اور اشارۃ النص پر ہی عمل کیا جائے گا۔
یہ امام ابوحنیفہ (رح) و ابو یوسف (رح) محمد (رح) کا قول ہے۔
اس باب میں پہلی مرتبہ تذکرہ مذاہب کے بغیر روایت کا ذکر کر کے اس کا نسخ روایات و اجماع امت سے ثابت کیا ہے باقی سنداً بھی یہ روایت درجہ رابع کی کتب سے متعلق ہے۔ واللہ اعلم۔
3095
Al Tahawi
۳۰۹۵ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیْعَۃَ‘ وَیَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ سَالِمٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (مَنْ لَمْ یُبَیِّتِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ‘ فَلاَ صِیَامَ لَہٗ) .
٣٠٩٥: سالم نے اپنے والد سے انھوں نے حفصہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے کہ جس نے فجر سے پہلے رات کو نیت نہ کی اس کا کوئی روزہ نہیں۔
تخریج : نسائی فی الصیام باب ٦٨‘ دارمی فی الصوم باب ١٠۔
قضاء رمضان ‘ نذر غیر معین اور کفارہ کے روزوں کی نیت سب کے ہاں بالاتفاق رات سے کرنا شرط ہے ورنہ روزہ ادا نہ ہوگا البتہ نفلی روزے کے متعلق ! امام مالک رات سے نیت کو ضروری قرار دیتے ہیں اور " باقی تمام ائمہ کے نزدیک رات کو نیت ضروری نہیں ماقبل الزوال تک نیت کی جاسکتی ہے اور ! رمضان المبارک اور نذر معین کے روزے میں ائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ رات سے نیت ضروری قرار دیتے ہیں ورنہ روزہ درست نہ ہوگا " مگر احناف ان میں بھی نوافل کی طرح زوال سے پہلے تک نیت کو درست مانتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل :
رمضان المبارک کے وقتی روزے ‘ نذر معین میں رات سے نیت لازم ہے نفل کی طرح زوال آفتاب تک نیت کی رخصت ہرگز نہیں ان کا حکم نوافل سے مختلف ہے دلیل یہ روایت ہے۔
3096
Al Tahawi
۳۰۹۶ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .
٣٠٩٦: عبداللہ بن یوسف نے ابن لہیعہ سے نقل کیا پھر اس نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔
3097
Al Tahawi
۳۰۹۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ ہِشَامٍ الرُّعَیْنِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوْبَ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا لَمْ یَنْوِ الدُّخُوْلَ فِی الصِّیَامِ قَبْلَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ‘ لَمْ یُجْزِہٖ أَنْ یَصُوْمَ یَوْمَہُ ذٰلِکَ‘ بِنِیَّۃٍ تَحْدُثُ لَہٗ بَعْدَ ذٰلِکَ‘ وَاحْتَجُّوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : ھٰذَا الْحَدِیْثُ لَا یَرْفَعُہُ الْحُفَّاظُ الَّذِیْنَ یَرْوُونَہٗ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ وَیَخْتَلِفُوْنَ عَنْہُ فِیْہِ اخْتِلَافًا یُوْجِبُ اضْطِرَابَ الْحَدِیْثِ بِمَا ہُوَ دُوْنَہٗ.وَلٰـکِنْ- مَعَ ذٰلِکَ ۔ نُثْبِتُہٗ ، وَنَجْعَلُہٗ عَلٰی خَاصٍّ مِنَ الصَّوْمِ‘ وَہُوَ الصَّوْمُ الْفَرْضُ‘ الَّذِیْ لَیْسَ فِیْ أَیَّامٍ بِعَیْنِہَا‘ مِثْلَ الصَّوْمِ فِی الْکَفَّارَاتِ‘ وَقَضَائِ رَمَضَانَ‘ وَمَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ .
٣٠٩٧: لیث بن سعد نے یحییٰ بن ایوب سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت اس طرف رائے رکھتی ہے کہ اگر کوئی آدمی طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کرے تو اس دن اس کے بعد نیت کر کے روزہ رکھنا اس کو جائز نہیں۔ مذکورہ بالا روایات سے انھوں نے استدلال کیا ہے۔ جبکہ علماء کی دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ ابن شہاب سے جن حفاظ محدثین نے روایت نقل کی ہے وہ اس کو مرفوع نقل نہیں کرتے اور اس کے بارے میں ایسا اختلاف ذکر کرتے ہیں جو نیچے والے حضرات میں حدیث کے اضطراب کا باعث ہے۔ مگر اس کمزوری کے باوجود ہم اسے تسلیم کرتے ہوئے خاص روزے سے متعلق کرتے ہیں یعنی وہ فرض روزہ جو اپنے معینہ دنوں کی بجائے دیگر دنوں میں رکھا جائے جیسا کہ کفارات اور قضائے رمضان کے روزے ۔ رہا حدیث کا حفاظ کے ہاں اختلاف تو وہ مندرجہ روایات سے ظاہر ہے۔
حاصل روایات ان روایات سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ رات سے روزے کی نیت ضروری ہے ورنہ روزہ درست نہ ہوگا۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل :
رمضان المبارک اور نذر معین کے روزے کی نیت رات سے کرنا ضروری ہے نفل کی طرح اس کی نیت میں زوال آفتاب تک تاخیر نیت جائز نہیں ہے دلائل آئندہ سطور میں مذکور ہیں۔ اولاً سابقہ روایت کا جواب ملاحظہ ہو۔
سابقہ روایت سے استدلال کا جواب :
نمبر 1: اس روایت کا دارومدار ابن شہاب پر ہے اور ان کے چار شاگرد اس روایت کو نقل کرتے ہیں امام مالک ‘ ابن عیینہ ‘ معمر ‘ عبداللہ بن ابی بکر رحمہم اللہ ہیں۔ عبداللہ بن ابی بکر کے علاوہ بقیہ سب نے اس کو موقوف نقل کیا صرف انھوں نے مرفوع نقل کیا یہ روایت حفاظ حدیث کی نقل کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہ ہوگی۔
3098
Al Tahawi
۳۰۹۸ : فَأَمَّا مَا ذَکَرْنَا مِنْ رِوَایَۃِ الْحُفَّاظِ لِھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ وَمِنَ اخْتِلَافِہِمْ عَنْہُ فِیْہِ۔
٣٠٩٨: مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت شروع باب میں مذکور ہوئی ہے۔