Al Tahawi
10. قسموں اور نذروں کا بیان
الطحاوي
4634
Al Tahawi۴۶۳۴: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنِّیْ وَقَعْتُ بِأَہْلِیْ فِیْ رَمَضَانَ قَالَ لَہٗ أَعْتِقْ رَقَبَۃً قَالَ : مَا أَجِدُہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ قَالَ : مَا أَسْتَطِیْعُ ، قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا قَالَ : مَا أَجِدُہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ : فَأَتَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِکْتَلٍ فِیْہِ قَدْرُ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا تَمْرًا ، فَقَالَ خُذْہَا فَتَصَدَّقْ بِہٖ قَالَ : أَعَلٰی أَحْوَجَ مِنِّیْ وَأَہْلِ بَیْتِیْ؟ قَالَ فَکُلْہُ أَنْتَ وَأَہْلُ بَیْتِکَ، وَصُمْ یَوْمًا مَکَانَہٗ، وَاسْتَغْفِرْ اللّٰہَ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْاِطْعَامَ فِیْ کَفَّارَاتِ الْأَیْمَانِ اِنَّمَا ہُوَ مُدٌّ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ ، لِأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الرَّجُلَ فِی الْحَدِیْثِ الَّذِیْ ذٰکَرْنَا ، أَنْ یُطْعِمَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ، خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا ، فَاَلَّذِیْ یُصِیْبُ کُلَّ مِسْکِیْنٍ مِنْہُمْ ، مُدٌّ مُدٌّ قَالُوْا : وَقَدْ ذَہَبَ جَمَاعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ کَفَّارَاتِ الْأَیْمَانِ اِلَی مَا قُلْنَا .فَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ
٤٦٣٤: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی عرض کرنے لگایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے رمضان (کے دن) میں اپنی بیوی سے جماع کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک گردن آزاد کر دو ۔ اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس نہیں ہے آپ نے فرمایا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دو ۔ اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ راوی کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کے برابر کھجوریں تھیں پس آپ نے فرمایا اس کو لے کر صدقہ کر دو ۔ اس نے کہا کیا اپنے اور اپنے گھر والوں سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا پھر تم اور تمہارے گھر والے ان کو کھالیں اور اس کی بجائے ایک دن کا روزہ رکھو اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو۔ علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کفارہ قسم میں ہر مسکین کے لیے ایک مد کھانا ہے کیونکہ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو حکم فرمایا کہ ساٹھ مساکین کو پندرہ صاع کھانا دے تو اس حساب سے ہر مسکین کو ایک ایک مد ملے گا اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کفارہ قسم میں اسی بات کو اختیار کرنے والی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
تخریج : بخاری فی الصیام باب ٣٠‘ والہبۃ باب ١١‘ والنفقات باب ١٣‘ والکفارات باب ٢‘ ٤‘ مسلم فی الصوم ٨١‘ ابو داؤد فی الصوم باب ٣٧‘ ترمذی فی الصوم باب ٢٨‘ ابن ماجہ فی الصیام باب ١٤‘ مسند احمد ٢؍٢٤١۔
امام طحاوی (رح) کا قول : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کفارہ قسم میں ہر مسکین کے لیے ایک مد کھانا ہے کیونکہ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو حکم فرمایا کہ ساٹھ مساکین کو پندرہ صاع کھانا دے تو اس حساب سے ہر مسکین کو ایک ایک مد ملے گا اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کفارہ قسم میں اسی بات کو اختیار کرنے والی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
لغات : کفارات جمع کفارہ۔ یہ گناہ گار کے گناہ کو ڈھانپ لیتا ہے اس لیے اس کو کفارہ کہتے ہیں اس کے متعلق علماء کے مندرجہ ذیل مؤقف ہیں۔
فریق اوّل : ہر مسکین کو ایک مد غلہ وغیرہ دیا جائے گا اس کی دلیل یہ روایت ہے جو آئندہ سطور میں مذکور ہے۔
تخریج : بخاری فی الصیام باب ٣٠‘ والہبۃ باب ١١‘ والنفقات باب ١٣‘ والکفارات باب ٢‘ ٤‘ مسلم فی الصوم ٨١‘ ابو داؤد فی الصوم باب ٣٧‘ ترمذی فی الصوم باب ٢٨‘ ابن ماجہ فی الصیام باب ١٤‘ مسند احمد ٢؍٢٤١۔
امام طحاوی (رح) کا قول : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کفارہ قسم میں ہر مسکین کے لیے ایک مد کھانا ہے کیونکہ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو حکم فرمایا کہ ساٹھ مساکین کو پندرہ صاع کھانا دے تو اس حساب سے ہر مسکین کو ایک ایک مد ملے گا اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کفارہ قسم میں اسی بات کو اختیار کرنے والی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
لغات : کفارات جمع کفارہ۔ یہ گناہ گار کے گناہ کو ڈھانپ لیتا ہے اس لیے اس کو کفارہ کہتے ہیں اس کے متعلق علماء کے مندرجہ ذیل مؤقف ہیں۔
فریق اوّل : ہر مسکین کو ایک مد غلہ وغیرہ دیا جائے گا اس کی دلیل یہ روایت ہے جو آئندہ سطور میں مذکور ہے۔
4635
Al Tahawi۴۶۳۵: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَہٗ ، عَنْ أَبِیْ جَعْفَرٍ ، مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ : فِیْ کَفَّارَاتِ الْأَیْمَانِ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ ، کُلُّ مِسْکِیْنٍ مُدٌّ بَیْضَائُ
٤٦٣٥: ابو جعفر مولیٰ ابن عباس (رض) نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کفارات قسم میں دس مساکین کو کھانا کھلانا ہے۔ ہر مسکین کو ایک مد بیضاء دیا جائے گا۔
لغات : مد بیضاء۔ بڑے مد کا نام ہے۔
لغات : مد بیضاء۔ بڑے مد کا نام ہے۔
4636
Al Tahawi۴۶۳۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ أَبِیْ ہِنْدٍ ، عَنْ عِکْرَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَہٗ۔
٤٦٣٦: عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
4637
Al Tahawi۴۶۳۷: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہٗ کَانَ اِذَا کَفَّرَ یَمِیْنَہٗ فَأَطْعَمَ عَشْرَۃَ مَسَاکِیْنَ بِالْمُدِّ الْأَصْغَرِ .رَأَی أَنَّ ذٰلِکَ یُجْزِیْ عِنْدَہُ
٤٦٣٧: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جب وہ اپنی قسم کا کفارہ دیتے تو دس مساکین کو مد اصغر سے کھانا کھلاتے اور ان کا خیال یہ تھا کہ یہ ان کے ہاں کفایت کرنے والا ہے۔
لغات : مد اصغر۔ چھوٹا مد۔
لغات : مد اصغر۔ چھوٹا مد۔
4638
Al Tahawi۴۶۳۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ مَنْ حَلَفَ بِیَمِیْنٍ فَوَکَّدَہَا ثُمَّ حَنِثَ فَعَلَیْہِ عِتْقُ رَقَبَۃٍ ، أَوْ کِسْوَۃُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِیْنٍ فَلَمْ یُوَکِّدْہَا ، ثُمَّ حَنِثَ ، فَعَلَیْہِ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ ، لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَۃٍ
٤٦٣٨: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی کہ وہ کہا کرتے تھے جس نے قسم اٹھائی پھر اس کو موکد کیا پھر قسم توڑ دی تو اس پر ایک گردن کا آزاد کرنا لازم ہے یا دس مساکین کے کپڑے۔ جس نے قسم اٹھائی مگر اس کو موکد نہ کیا پھر اس کو توڑا تو اس کے ذمہ دس مساکین کو کھانا کھلانا ہے۔ ہر مسکین کو ایک مد گندم کا ادا کرے۔
تخریج : مالک فی النذور ١٢‘ ١٣۔
تخریج : مالک فی النذور ١٢‘ ١٣۔
4639
Al Tahawi۴۶۳۹: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ یَحْیَیْ عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّہٗ قَالَ یُجْزِی فِیْ کَفَّارَۃِ الْیَمِیْنِ مُدٌّ مِنْ حِنْطَۃٍ ، لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ .
٤٦٣٩: ابو سلمہ نے زید بن ثابت (رض) سے روایت کی ہے کہ کفارہ قسم میں ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک مد کفایت کرنے والا ہے۔
4640
Al Tahawi۴۶۴۰: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الْخَلِیْلُ بْنُ مُرَّۃَ ، أَنَّ یَحْیَی بْنَ أَبِیْ کَثِیْرٍ حَدَّثَہٗ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یُجْزِی فِی الْاِطْعَامِ فِیْ کَفَّارَۃِ الْأَیْمَانِ اِلَّا مُدَّیْنِ مُدَّیْنِ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ ، وَیُجْزِی مِنَ التَّمْرِ صَاعٌ کَامِلٌ ، وَکَذَا مِنِ الشَّعِیْرِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا عَلِمَ حَاجَۃَ الرَّجُلِ ، أَعْطَاہُ مَا أَعْطَاہُ مِنَ التَّمْرِ ، لِیَسْتَعِیْنَ بِہٖ فِیْمَا وَجَبَ عَلَیْہِ، لَا عَلٰی أَنَّہٗ جَمِیْعُ مَا وَجَبَ عَلَیْہِ، کَالرَّجُلِ یَشْکُو اِلَی الرَّجُلِ ضَعْفَ حَالِہٖ ، وَمَا عَلَیْہِ مِنْ الدَّیْنِ ، فَیَقُوْلُ لَہٗ : خُذْ ہٰذِہِ الْعَشَرَۃَ الدَّرَاہِمَ فَاقْضِ بِہَا دَیْنَکَ، لَیْسَ عَلٰی أَنَّہَا تَکُوْنُ قَضَائً عَنْ جَمِیْعِ دَیْنِہٖ، وَلٰـکِنْ عَلٰی أَنْ یَکُوْنَ قَضَائً بِمِقْدَارِہَا مِنْ دَیْنِہٖ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِقْدَارُ مَا یَجِبُ مِنِ الطَّعَامِ فِیْ کَفَّارَۃٍ مِنَ الْکَفَّارَاتِ ، وَہِیَ مَا یَجِبُ فِیْ حَلْقِ الرَّأْسِ فِی الْاِحْرَامِ مِنْ أَذًی ، فَجَعَلَ ذٰلِکَ مُدَّیْنِ مِنْ حِنْطَۃٍ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ
٤٦٤٠: خلیل بن مرہ نے یحییٰ بن کثیر سے روایت کی پھر اپنی اسناد سے اسی طرح بیان کی ہے۔ دیگر حضرات نے اس میں ان کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کفارہ قسم میں ہر مسکین کو دو مد (گندم) دے اور کھجور اور جو سے مکمل صاع دیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آدمی کی محتاجی کا علم ہوا تو آپ نے جتنی کھجوریں تھیں اس کو دے دیں تاکہ ان سے اپنے ذمہ جو چیز لازم ہوئی اس کو ادا کرے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ذمہ یہی واجب تھا جیسا کوئی آدمی کسی کو اپنی تنگدستی بتلائے اور قرض بیان کرے تو وہ یہی کہتا ہے یہ دس درہم تو لو اور اس سے اپنا قرض ادا کرو۔ یہ اس طور پر نہیں کہ اس کے سارے قرضہ کی ادائیگی کے لیے یہی کافی ہے بلکہ اس کے قرض میں سے ایک مقدار کی ادائیگی ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفارات میں جس قدر طعام لازم ہوتا ہے اس کی مقدار سے متعلق روایات وارد ہیں وہ حالت احرام میں تکلیف کی وجہ سے جو آدمی اپنے بال منڈوائے تو اس میں ہر مسکین کے لیے گندم کے دو مد مقرر کئے گئے ہیں۔ روایات ملاحظہ ہوں۔
فریق ثانی کا مؤقف : کفارہ قسم میں ہر مسکین کو دو مد (گندم) کھلائے اور کھجور اور جو سے مکمل صاع دیا جائے۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : عین ممکن ہے کہ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آدمی کی محتاجی کا علم ہوا تو آپ نے جتنی کھجوریں تھیں اس کو دے دیں تاکہ ان سے اپنے ذمہ جو چیا لازم ہوئی اس کو ادا کرے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ذمہ یہی واجب تھا جیسا کوئی آدمی کسی کو اپنی تنگدستی بتلائے اور قرض بیان کرے تو وہ یہی کہتا ہے یہ دس درہم تو لو اور اس سے اپنا قرض ادا کرو۔ یہ اس طور پر نہیں کہ اس کے سارے قرضہ کی ادائیگی کے لیے یہی کافی ہے بلکہ اس کے قرض میں سے ایک مقدار کی ادائیگی ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفارات میں جس قدر طعام لازم ہوتا ہے اس کی مقدار سے متعلق روایات وارد ہیں وہ حالت احرام میں تکلیف کی وجہ سے جو آدمی اپنے بال منڈوائے تو اس میں ہر مسکین کے لیے گندم کے دو مد مقرر کئے گئے ہیں۔
روایات ملاحظہ ہوں۔
فریق ثانی کا مؤقف : کفارہ قسم میں ہر مسکین کو دو مد (گندم) کھلائے اور کھجور اور جو سے مکمل صاع دیا جائے۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : عین ممکن ہے کہ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آدمی کی محتاجی کا علم ہوا تو آپ نے جتنی کھجوریں تھیں اس کو دے دیں تاکہ ان سے اپنے ذمہ جو چیا لازم ہوئی اس کو ادا کرے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ذمہ یہی واجب تھا جیسا کوئی آدمی کسی کو اپنی تنگدستی بتلائے اور قرض بیان کرے تو وہ یہی کہتا ہے یہ دس درہم تو لو اور اس سے اپنا قرض ادا کرو۔ یہ اس طور پر نہیں کہ اس کے سارے قرضہ کی ادائیگی کے لیے یہی کافی ہے بلکہ اس کے قرض میں سے ایک مقدار کی ادائیگی ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفارات میں جس قدر طعام لازم ہوتا ہے اس کی مقدار سے متعلق روایات وارد ہیں وہ حالت احرام میں تکلیف کی وجہ سے جو آدمی اپنے بال منڈوائے تو اس میں ہر مسکین کے لیے گندم کے دو مد مقرر کئے گئے ہیں۔
روایات ملاحظہ ہوں۔
4641
Al Tahawi۴۶۴۱: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّہْرَانِیُّ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْأَصْبَہَانِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَعَدْتُ اِلَیْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ فِی الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُہٗ عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ فَقَالَ : فِیْ أُنْزِلَتْ ، حُمِلْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَالْقَمْلُ یَتَنَاثَرُ عَلَی وَجْہِی ، فَقَالَ مَا کُنْتُ أَرَی أَنَّ الْجَہْدَ بَلَغَ بِک ہَذَا وَبَلَغَ بِکَ مَا أَرَی فَنَزَلَتْ فِیْ خَاصَّۃً وَلَکُمْ عَامَّۃً ، فَأَمَرَنِیْ أَنْ أَحْلِقَ رَأْسِی ، وَأَنْسُکُ نُسُکَہٗ، وَأَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ ، أَوْ أُطْعِمُ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ ، لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ حِنْطَۃٍ
٤٦٤١: عبدالرحمن بن الاصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مغفل (رض) سے سنا کہ وہ فرماتے تھے میں کعب بن عجرہ (رض) کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا تو میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا ففدیۃ من صیام او صدقۃ او نسک “ (البقرہ ١٩٦) وہ کہنے لگے میرے بارے میں اتری۔ مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سوار کر کے لے جایا گیا میرا حال یہ تھا کہ جوئیں میرے چہرے پر بکھری جا رہی تھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ میرا گمان نہ تھا کہ تکلیف تمہیں اس حالت تک پہنچائے گی اور اس حالت تک پہنچائے گی جو میں دیکھ رہا ہوں۔ یہ آیت خاص میرے بارے میں اتری اور اس کا حکم تمہارے لیے عام ہے پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم فرمایا کہ میں سر منڈوا دوں اور ایک دم بطور قربانی دوں اور تین دن کے روزے رکھوں یا چھ مساکین کو کھانا کھلا دوں ہر مسکین کو نصف صاع گندم دوں۔
تخریج : بخاری فی المحہر باب ٧‘ والمغازی باب ٣٥‘ تفسیر سورة ٢‘ باب ٢٢‘ والطب باب ١٦‘ مسلم فی الحج ٨٠؍٨٥‘ ترمذی فی تفسیر سورة ٢‘ باب ٢١‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٨٦‘ مسند احمد ٤؍٢٤٢۔
تخریج : بخاری فی المحہر باب ٧‘ والمغازی باب ٣٥‘ تفسیر سورة ٢‘ باب ٢٢‘ والطب باب ١٦‘ مسلم فی الحج ٨٠؍٨٥‘ ترمذی فی تفسیر سورة ٢‘ باب ٢١‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٨٦‘ مسند احمد ٤؍٢٤٢۔
4642
Al Tahawi۴۶۴۲: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ ، قَالَ ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَہَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا ، فِیْ سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ
٤٦٤٢: عبداللہ بن مغفل نے کعب بن عجرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ مختلف ہیں۔ اطعم فرقا فی ستۃ مساکین
4643
Al Tahawi۴۶۴۳: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ ، قَالَ : ثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ أَبِیْ ہِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ کَعْبُ بْنُ عُجْرَۃَ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ کُلَّ مِسْکِیْنٍ ، نِصْفَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ
٤٦٤٣: عامر شعبی نے کعب بن عجرہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے صرف یہ الفاظ مختلف ہیں۔ کل مسکین ‘ نصف صاع من تمر “