Al Tahawi
23. فیصلوں کا بیان
الطحاوي
5961
Al Tahawi۵۹۶۰: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوْ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیْمِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجَمَ یَہُوْدِیًّا وَیَہُوْدِیَّۃً حِیْنَ تَحَاکَمُوْا اِلَیْہِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ أَہْلَ الذِّمَّۃِ اِذَا أَصَابُوْا شَیْئًا مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ تَعَالٰی لَمْ یَحْکُمْ عَلَیْہِمُ الْمُسْلِمُوْنَ حَتّٰی یَتَحَاکَمُوْا اِلَیْہِمْ وَیَرْضَوْا بِحُکْمِہِمْ فَاِذَا تَحَاکَمُوْا اِلَیْہِمْ کَانَ الْاِمَامُ مُخَیَّرًا اِنْ شَائَ أَعْرَضَ عَنْہُمْ فَلَمْ یَنْظُرْ فِیْمَا بَیْنَہُمْ وَاِنْ شَائَ حَکَمَ. وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا بِقَوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَاِنْ جَائُوْک فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْہُمْ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا: عَلَی الْاِمَامِ أَنْ یَحْکُمَ بَیْنَہُمْ بِأَحْکَامِ الْمُسْلِمِیْنَ فَکُلَّمَا وَجَبَ عَلَی الْاِمَامِ أَنْ یُقِیْمَہُ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ فِیْمَا أَصَابُوْا مِنَ الْحُدُوْدِ وَجَبَ عَلَیْہِ أَنْ یُقِیْمَہُ عَلٰی أَہْلِ الذِّمَّۃِ غَیْرَ مَا اسْتَحَلُّوْا بِہٖ فِیْ دِیْنِہِمْ کَشُرْبِہِمُ الْخَمْرَ وَمَا أَشْبَہَہُ وَأَنَّ ذٰلِکَ یَخْتَلِفُ حَالُہُمْ فِیْہِ وَحَالُ الْمُسْلِمِیْنَ یُعَاقَبُوْنَ عَلٰی ذٰلِکَ وَأَہْلُ الذِّمَّۃِ لَا یُعَاقَبُوْنَ عَلَیْہِ مَا خَلَا الرَّجْمَ فِی الزِّنَا فَاِنَّہٗ لَا یُقَامُ عِنْدَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الذِّمَّۃِ لِأَنَّ الْأَسْبَابَ الَّتِیْ یَجِبُ بِہَا الْاِحْصَانُ فِی قَوْلِہِمْ أَحَدُہَا الْاِسْلَامُ .فَأَمَّا مَا سِوٰی ذٰلِکَ مِنَ الْعُقُوْبَاتِ الْوَاجِبَاتِ فِی انْتِہَاکِ الْحُرُمَاتِ فَاِنَّ أَہْلَ الذِّمَّۃِ فِیْہِ کَأَہْلِ الْاِسْلَامِ وَیَجِبُ عَلَی الْاِمَامِ أَنْ یُقِیْمَہُ عَلَیْہِمْ وَاِنْ لَمْ یَتَحَاکَمُوْا اِلَیْہِ کَمَا یَجِبُ عَلَیْہِ أَنْ یُقِیْمَہُ عَلٰی أَہْلِ الْاِسْلَامِ وَاِنْ لَمْ یَتَحَاکَمُوْا اِلَیْہِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ الَّذِیْ ذٰکَرْنَا أَنَّہٗ اِنَّمَا أَخْبَرَ فِیْہِ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجَمَ الْیَہُوْدَ حِیْنَ تَحَاکَمُوْا اِلَیْہِ .وَلَمْ یَقُلْ : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا رَجَمْتہمْ لِأَنَّہُمْ تَحَاکَمُوْا اِلَیَّ .وَلَوْ کَانَ قَالَ ذٰلِکَ لَعُلِمَ أَنَّ الْحَکَمَ مِنْہُ اِنَّمَا یَکُوْنُ اِلَیْہِ بَعْدَ أَنْ یَتَحَاکَمُوْا اِلَیْہِ وَأَنَّہُمْ اِذَا لَمْ یَتَحَاکَمُوْا اِلَیْہِ لَمْ یَنْظُرْ فِیْ أُمُوْرِہِمْ .وَلٰـکِنَّہٗ لَمْ یَجِئْ اِنَّمَا جَائَ عَنْہُ أَنَّہٗ رَجَمَہُمْ حِیْنَ تَحَاکَمُوْا اِلَیْہِ .فَاِنَّمَا أَخْبَرَ عَنْ فِعْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَحُکْمِہِ اِذْ تَحَاکَمُوْا اِلَیْہِ وَلَمْ یُخْبِرْ عَنْ حُکْمِہِمْ عِنْدَہُ قَبْلَ أَنْ یَتَحَاکَمُوْا اِلَیْہِ ہَلْ یَجِبُ عَلَیْہِمْ فِیْہِ اِقَامَۃُ الْحَدِّ أَمْ لَا ؟ .فَبَطَلَ أَنْ یَکُوْنَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ دَلَالَۃٌ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ رَأْیِہٖ۔ ثُمَّ نَظَرْنَا فِیْمَا سِوٰی ذٰلِکَ مِنَ الْآثَارِ ہَلْ نَجِدُ فِیْہِ مَا یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ ؟ .فَاِذَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ
٥٩٦٠: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک یہودی مرد و عورت کو سنگسار کیا جبکہ وہ آپ کے پاس فیصلہ لائے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اہل ذمہ جب کسی ایسے فعل کے مرتکب ہوں جو حدود تک پہنچنے والا ہو تو مسلمان ان کے متعلق اس وقت تک فیصلہ نہیں کرسکتے جب تک وہ ان کو حاکم تسلیم نہ کرلیں اور ان کے فیصلے کو پسند کریں جب وہ فیصل بنائیں گے تو امام کو اختیار ہے۔ خواہ ان سے اعراض کرے اور ان کے مابین معاملات پر توجہ نہ کرے اور اگر وہ چاہے تو فیصلہ کر دے انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے دوسری دلیل یہ آیت ہے۔ ” فان جاء وک فاحکم بینہم اواعرض عنہم “ (المائدہ : ٤٢) دوسروں نے کہا امام پر لازم ہے کہ ان کے مابین اسلام کے احکام کے مطابق فیصلہ کرے تو جب حاکم پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں پر حدود کو قائم کرے تو اس پر یہ بھی لازم ہے کہ ذمیوں پر بھی حدود کو قائم کرے سوائے اس عمل کے جس کو وہ اپنے دین میں حلال سمجھتے ہوں جیسا کہ شراب نوشی کرنا یا اس جیسے دوسرے کام۔ اس سلسلے میں ان کی حالت مسلمانوں سے مختلف ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کو تو اس قسم کے افعال پر سزا دی جائے گی اور انھیں دی جاتی۔ البتہ ذمیوں کو زنا کی صورت میں رجم نہ کیا جائے گا کیونکہ احصان کے اسباب میں سے ایک سبب مسلمان ہونا بھی ہے۔ (اور احصان نہ ہو تو رجم نہیں البتہ تعزیر ہوگی) مگر جو سزائیں حرمت کے توڑنے کے سلسلہ میں دی جاتی ہیں ان میں ذمی لوگ مسلمانوں کی طرح ہیں اور حاکم کے لیے ضروری ہے کہ پھر ان پر حدود کو قائم کرے اگر اپنا مقدمہ حاکم کے پاس نہ لے جائیں جس طرح اس پر لازم ہے کہ مسلمانوں پر حدود کو قائم کرے اگرچہ وہ ان کے پاس مقدمہ نہ لے جائیں۔ حضرت ابن عمر (رض) کی روایت سے انھوں نے دلیل لی ہے۔ انھوں نے اس بات کی خبر دی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں کو رجم کیا جب کہ وہ اپنا مقدمہ آپ کی خدمت میں لائے۔ اس وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا میں تمہارا فیصلہ کرتا ہوں کیونکہ تم اپنا مقدمہ میرے پاس لائے ہو۔ اگر یہ بات ہوتی تو پھر معلوم ہوجاتا کہ آپ کا فیصلہ ان کے مقدمہ کو پیش کرنے کے بعد ہوا اور اگر وہ اپنا مقدمہ نہ لاتے تو آپ ان کے معاملات میں مداخلت نہ کرتے مگر یہ بات مروی نہیں ہے۔ آپ سے تو صرف اس قدر مروی ہے کہ آپ نے اس وقت رجم کیا جب وہ اپنا مقدمہ لائے۔ حضرت ابن عمر (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل اور فیصلے کی خبر دی جبکہ وہ اپنا مقدمہ آپ کی خدمت میں لائے اور آپ کے پاس مقدمہ لانے سے پہلے کے فیصلے کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی کہ کیا اس صورت میں بھی حد کا قائم کرنا واجب ہے یا نہیں۔ تو اس صورت میں اس روایت کو حضرت ابن عمر (رض) اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے دلیل میں لانا منع ہے۔
تخریج : روی بتغیر یسیر من اللفظ۔ مسلم فی الحدود ٢٧‘ ترمذی فی الحدود باب ١٠‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ١٠‘ مسند احمد ٢‘ ٦٢؍٦٣‘ ٤؍٣٥٥‘ ٥‘ ٩١؍٩٦‘ ١٠٤؍١٠٨۔
بقیہ روایات میں تذکرہ :
اب ہم غور کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ آثار میں کوئی چیز ایسی ملتی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے۔
بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ اہل ذمہ اگر فیصلہ کرانے آئیں تو ان سے اعراض کرنا اور فیصلہ کردینا دونوں درست ہیں۔ اس کو امام احمد اور نخعی اور شافعی (رض) نے ایک قول میں اختیار کیا ہے۔ دوسرا فریق کا قول یہ ہے کہ جب اہل ذمہ محرم جو موجب عقوبت ہو اس کا ارتکاب کریں مثلاً زنا سرقہ وغیرہ تو ان پر حد لازم ہے اس قول کو امام شافعی (رض) نے اختیار کیا اور امام احمد (رض) کا بھی ایک قول یہی ہے۔ (المغنی جلد ٨ ص ٢١٤)
تخریج : روی بتغیر یسیر من اللفظ۔ مسلم فی الحدود ٢٧‘ ترمذی فی الحدود باب ١٠‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ١٠‘ مسند احمد ٢‘ ٦٢؍٦٣‘ ٤؍٣٥٥‘ ٥‘ ٩١؍٩٦‘ ١٠٤؍١٠٨۔
بقیہ روایات میں تذکرہ :
اب ہم غور کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ آثار میں کوئی چیز ایسی ملتی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے۔
بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ اہل ذمہ اگر فیصلہ کرانے آئیں تو ان سے اعراض کرنا اور فیصلہ کردینا دونوں درست ہیں۔ اس کو امام احمد اور نخعی اور شافعی (رض) نے ایک قول میں اختیار کیا ہے۔ دوسرا فریق کا قول یہ ہے کہ جب اہل ذمہ محرم جو موجب عقوبت ہو اس کا ارتکاب کریں مثلاً زنا سرقہ وغیرہ تو ان پر حد لازم ہے اس قول کو امام شافعی (رض) نے اختیار کیا اور امام احمد (رض) کا بھی ایک قول یہی ہے۔ (المغنی جلد ٨ ص ٢١٤)
5962
Al Tahawi۵۹۶۱: قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَبُوْخَیْثَمَۃَ زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ : ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ الْیَہُوْدَ جَائُوْا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَۃٍ مِنْہُمَا زَنَیَا .فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ائْتُوْا بِأَرْبَعَۃٍ مِنْکُمْ یَشْہَدُوْنَ .فَثَبَتَ بِہٰذَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ یَنْظُرُ بَیْنَہُمْ قَبْلَ أَنْ یَحْکُمَہُ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَۃُ الْمُدَّعَیْ عَلَیْہِمَا الزِّنَا لِأَنَّہُمَا جَمِیْعًا جَاحِدَانِ وَلَوْ کَانَا مُقِرَّیْنِ لَمَا احْتَاجَ مَعَ اِقْرَارِہِمَا اِلٰی أَرْبَعَۃٍ یَشْہَدُوْنَ .وَرُوِیَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَدُلُّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٩٦١: شعبی نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ یہود اپنے ایک مرد و عورت کو لے کر حاضر ہوئے ان دونوں نے زنا کیا تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے لوگوں سے چار گواہ لاؤ۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ ان کے معاملات پر توجہ فرماتے تھے اس سے پہلے کہ وہ آپ کو فیصل بنائیں کہ جن پر دعویٰ زنا کیا گیا ہے کیونکہ وہ دونوں منکر تھے۔ اگر وہ اقراری ہوتے تو اقرار کے ساتھ چار گواہوں کی ضرورت نہ تھی۔
تخریج : بخاری فی الجنائز باب ٦٠‘ المناقب باب ٢٦‘ والاعتصام باب ٦‘ التوحید باب ٥١‘ مسلم فی الحدود ٢٦؍٢٧‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٢٣‘ والحدود باب ٢٥‘ دارمی فی الحدود باب ١٥‘ مالک فی الحدود ١‘ مسند احمد ٢‘ ٥؍١٧۔
روایت براء بن عازب (رض) :
اسی طرح کی روایت حضرت برائ (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے۔
تخریج : بخاری فی الجنائز باب ٦٠‘ المناقب باب ٢٦‘ والاعتصام باب ٦‘ التوحید باب ٥١‘ مسلم فی الحدود ٢٦؍٢٧‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٢٣‘ والحدود باب ٢٥‘ دارمی فی الحدود باب ١٥‘ مالک فی الحدود ١‘ مسند احمد ٢‘ ٥؍١٧۔
روایت براء بن عازب (رض) :
اسی طرح کی روایت حضرت برائ (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے۔
5963
Al Tahawi۵۹۶۲: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : مُرَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ بِرَجُلٍ قَدْ حُمِّمَ وَجْہُہُ وَقَدْ ضُرِبَ یُطَافُ بِہٖ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ ہٰذَا قَالُوْا : زَنَی قَالَ فَمَا تَجِدُوْنَ فِیْ کِتَابِکُمْ قَالُوْا : یُحَمَّمُ وَجْہُہُ وَیُعَزَّرُ وَیُطَافُ بِہٖ .فَقَالَ أَنْشُدُکُمُ اللّٰہَ مَا تَجِدُوْنَ حَدَّہُ فِیْ کِتَابِکُمْ ؟ فَأَشَارُوْا اِلٰی رَجُلٍ مِنْہُمْ فَسَأَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الرَّجُلُ نَجِدُ فِی التَّوْرَاۃِ الرَّجْمَ وَلٰـکِنَّہٗ کَثُرَ فِیْ أَشْرَافِنَا فَکَرِہْنَا أَنْ نُقِیْمَ الْحَدَّ عَلٰی سَفَلَتِنَا وَنَدَعَ أَشْرَافَنَا فَاصْطَلَحْنَا عَلٰی شَیْئٍ فَوَضَعْنَا ہٰذَا .فَرَجَمَہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَنَا أَوْلَی مَنْ أَحْیَا مَا أَمَاتُوْا مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ .فَفِیْ ہٰذَا مَا یَدُلُّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ لَہٗ أَنْ یَحْکُمَ بَیْنَہُمْ وَاِنْ لَمْ یُحَکِّمُوْھُ لِأَنَّ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہُمْ مَرُّوْا بِہٖ وَہُوَ مُحَمَّمٌ فَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیْثِ ثُمَّ رَجَمَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَلَمَّا دَعَاہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - اِنْکَارًا لِمَا فَعَلُوْھُ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتُوْھُ فَرَدَّ أَمْرَہُمْ اِلَی حُکْمِ اللّٰہِ الَّذِی قَدْ عَطَّلُوْھُ وَغَیَّرُوْھُ - ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ قَدْ کَانَ لَہٗ أَنْ یَحْکُمَ فِیْمَا بَیْنَہُمْ حَکَّمُوْھُ أَوْ لَمْ یُحَکِّمُوْھُ .فَہٰذَا مَا فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ مِنْ الدَّلَائِلِ عَلٰی مَا قَدْ تَکَلَّمْنَا عَلَیْہِ .وَأَمَّا قَوْلُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَاِنْ جَائُ وْک فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْہُمْ فَاِنَّ الَّذِیْ ذَہَبُوْا فِیْہِ اِلَی تَثْبِیتِ الْحُکْمِ یَقُوْلُوْنَ : ہِیَ مَنْسُوْخَۃٌ .
٥٩٦٢: عبداللہ بن مرہ نے حضرت برائ (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزارا گیا جس کا چہرہ سیاہ کیا گیا تھا اور اس کو گھمایا اور پیٹا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا اس کا کیا معاملہ ہے تو انھوں نے کہا اس نے زنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا تمہاری کتاب میں کیا حکم ہے۔ انھوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا تو اس سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تو وہ آدمی کہنے لگا ہم اپنی کتاب میں رجم کا حکم پاتے ہیں مگر ہم سرداروں میں زنا کی کثرت ہوگئی پس ہم نے اپنے کم درجہ لوگوں پر حد کا قیام بھی ناپسند کیا اور سرداروں کو بالکل چھوڑنا بھی ناپسند کیا ہم نے باہمی ایک چیز پر صلح کرلی اور اس سزا کو ختم کردیا آپ نے اس کو رجم کیا اور فرمایا جس حد کو انھوں نے مردہ کردیا میں اسے زندہ کرنے کا زیادہ حقدار ہوں۔ تو اس روایت میں یہ دلالت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق حاصل تھا کہ ان کے مابین فیصلہ کریں خواہ وہ آپ کو فیصل نہ بنائیں۔ یہ روایت بتلاتی ہے کہ ایسا شخص آپ کے پاس سے گزرا جس کا منہ سیاہ کیا گیا تھا پھر باقی روایت اسی طرح ہے۔ پھر آپ نے اس کو سنگ سار کیا۔ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اس عمل کا انکار کرتے ہوئے جو آپ کے پاس آنے سے پہلے وہ کرچکے تھے آپ نے ان کو بلایا تو آپ نے ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پھیرا جس کو انھوں نے معطل کردیا تھا اور بدل ڈالا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ کو ان کے درمیان فیصلہ کا حق حاصل تھا خواہ وہ مقدمہ لائیں یا نہ لائیں۔ مذکورہ بالا روایات میں یہ دلائل موجود ہیں جن پر ہم نے گفتگو کی ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کی آیت ” فان جاؤک فاحکم بینہم او اعرض عنہم “ کا تعلق ہے تو جن کے ہاں یہ حکم ثابت ہے وہ اس آیت کو منسوخ مانتے ہیں۔
تخریج : مسلم فی الحدود ٢٨‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٢٥‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٨‘ مسند احمد ٤؍٢٨٦۔
تخریج : مسلم فی الحدود ٢٨‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٢٥‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٨‘ مسند احمد ٤؍٢٨٦۔
5964
Al Tahawi۵۹۶۳: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُذَیْفَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ السُّدِّیِّ عَنْ عِکْرَمَۃَ فَاِنْ جَائُوْک فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْہُمْ قَالَ : نَسَخَتْہَا ہٰذِہِ الْآیَۃُ وَأَنْ اُحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ أَہْوَائَ ہُمْ .وَقَالَ الْآخَرُوْنَ : تَأْوِیْلُہَا وَأَنْ اُحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ اِنْ حَکَمْت فَلَمَّا اُخْتُلِفَ فِیْ تَأْوِیْلِ ہٰذِہِ الْآیَۃِ وَکَانَتِ الْآثَارُ قَدْ دَلَّتْ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا ثَبَتَ الْحَکَمُ عَلَیْہِمْ عَلَی اِمَامِ الْمُسْلِمِیْنَ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ تَرْکُہُ لِأَنَّ فِیْ حُکْمِہِ النَّجَاۃَ فِی قَوْلِہِمْ جَمِیْعًا لِأَنَّ مَنْ یَقُوْلُ : عَلَیْہِ أَنْ یَحْکُمَ یَقُوْلُ قَدْ تَرَکَ مَا کَانَ عَلَیْہِ أَنْ یَفْعَلَہٗ۔وَمَنْ یَقُوْلُ : لَہٗ أَنْ لَا یَحْکُمَ یَقُوْلُ : قَدْ تَرَکَ مَا کَانَ لَہٗ تَرْکُہُ فَاِذَا حَکَمَ یَشْہَدُ لَہُ الْفَرِیْقَانِ جَمِیْعًا بِالنَّجَاۃِ وَاِذَا لَمْ یَحْکُمْ لَمْ یَشْہَدَا لَہٗ بِذٰلِکَ .فَأَوْلَی الْأَشْیَائِ بِنَا أَنْ نَفْعَلَ مَا فِیْہِ النَّجَاۃُ بِالْاِتِّفَاقِ دُوْنَ مَا فِیْہِ ضِدَّ النَّجَاۃِ بِالْاِخْتِلَافِ .وَہٰذَا الَّذِیْ ذٰکَرْنَا مِنْ وُجُوْبِ الْحُکْمِ عَلَیْہِمْ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَأَنْتُمْ لَا تَرْجُمُوْنَ الْیَہُوْدَ اِذَا زَنَوْا فَقَدْ تَرَکْتُمْ بَعْضَ مَا فِی الْحَدِیْثِ الَّذِی بِہٖ احْتَجَجْتُمْ .قِیْلَ لَہٗ : اِنَّ الْحَکَمَ کَانَ فِی الزُّنَاۃِ فِیْ عَہْدِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ ہُوَ الرَّجْمُ عَلَی الْمُحْصَنِ وَغَیْرِ الْمُحْصَنِ .وَکَذٰلِکَ کَانَ جَوَابُ الْیَہُوْدِیِّ الَّذِیْ سَأَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ حَدِّ الزَّانِیْ فِیْ کِتَابِہِمْ فَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اتِّبَاعُ ذٰلِکَ وَالْعَمَلُ بِہٖ لِأَنَّ عَلَی کُلِّ نَبِی اتِّبَاعُ شَرِیْعَۃِ النَّبِیِّ الَّذِیْ کَانَ قَبْلَہٗ حَتّٰی یُحْدِثَ اللّٰہُ شَرِیْعَۃً تَنْسَخُ شَرِیْعَتَہُ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی أُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدَاہُمْ اقْتَدِہِ فَرَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْیَہُوْدِیَّیْنِ عَلٰی ذٰلِکَ الْحُکْمِ وَلَا فَرْقَ حِیْنَئِذٍ فِیْ ذٰلِکَ بَیْنَ الْمُحْصَنِ وَغَیْرِ الْمُحْصَنِ .ثُمَّ أَحْدَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِیِّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَرِیْعَۃً فَنَسَخَتْ ہٰذِہِ الشَّرِیْعَۃَ فَقَالَ وَاللَّاتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِسَائِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ أَرْبَعَۃً مِنْکُمْ فَاِنْ شَہِدُوْا فَأَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا .وَکَانَ ہٰذَا نَاسِخًا لِمَا کَانَ قَبْلَہٗ وَلَمْ یُفَرِّقْ فِیْ ذٰلِکَ بَیْنَ الْمُحْصَنِ وَغَیْرِ الْمُحْصَنِ .ثُمَّ نَسَخَ اللّٰہُ تَعَالٰی ذٰلِکَ فَجَعَلَ الْحَدَّ ہُوَ الْاِیذَائَ بِالْآیَۃِ الَّتِیْ بَعْدَہَا وَلَمْ یُفَرِّقْ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا بَیْنَ الْمُحْصَنِ وَغَیْرِہٖ۔ ثُمَّ جَعَلَ لَہُنَّ سَبِیْلًا الْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَتَعْذِیْبُ عَامٍ وَالثَّیِّبُ جَلْدُ مِائَۃٍ وَالرَّجْمُ .فَرَّقَ حِیْنَئِذٍ بَیْنَ حَدِّ الْمُحْصَنِ وَحَدِّ غَیْرِ الْمُحْصَنِ الْجَلْدُ ثُمَّ اخْتَلَفَ النَّاسُ مِنْ بَعْدُ فِی الْاِحْصَانِ .فَقَالَ قَوْمٌ : لَا یَکُوْنُ الرَّجُلُ مُحْصَنًا بِامْرَأَتِہٖ وَلَا الْمَرْأَۃُ مُحْصَنَۃً بِزَوْجِہَا حَتّٰی یَکُوْنَا حُرَّیْنِ مُسْلِمَیْنِ بَالِغَیْنِ قَدْ جَامَعَہَا وَہُمَا بَالِغَانِ .وَمِمَّنْ قَالَ بِذٰلِکَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ وَأَبُوْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَالَ آخَرُوْنَ : یُحْصِنُ أَہْلُ الْکِتَابِ بَعْضُہُمْ بَعْضًا وَیُحْصِنُ الْمُسْلِمُ النَّصْرَانِیَّۃَ وَلَا تُحْصِنُ النَّصْرَانِیَّۃُ الْمُسْلِمَ وَقَدْ کَانَ أَبُوْ یُوْسُفَ قَالَ بِہٰذَا الْقَوْلِ فِی الْاِمْلَائِ فِیْمَا حَدَّثَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْھَا.فَاحْتَمَلَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ الرَّجْمُ أَنْ یَکُوْنَ ہٰذَا عَلَی کُلِّ ثَیِّبٍ وَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ عَلَی خَاص مِنْ الثَّیِّبِ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ فَوَجَدْنَاہُمْ مُجْتَمِعِیْنَ أَنَّ الْعَبِیْدَ غَیْرُ دَاخِلِیْنَ فِیْ ذٰلِکَ وَأَنَّ الْعَبْدَ لَا یَکُوْنُ مُحْصَنًا ثَیِّبًا کَانَ أَوْ بِکْرًا وَلَا یُحْصِنُ زَوْجَتَہُ حَرَّۃً کَانَتْ أَوْ أَمَۃً .وَکَذٰلِکَ الْأَمَۃُ لَا تَکُوْنُ مُحْصَنَۃً بِزَوْجِہَا حُرًّا کَانَ أَوْ عَبْدًا .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ الرَّجْمُ اِنَّمَا وَقَعَ عَلَی خَاص مِنْ الثَّیِّبِ لَا عَلَی کُلِّ الثَّیِّبِ .فَلَمْ یَدْخُلْ فِیْمَا أَجْمَعُوْا أَنَّہٗ وَقَعَ عَلَی خَاص اِلَّا مَا قَدْ أَجْمَعُوْا أَنَّہٗ فِیْہِ دَاخِلٌ .وَقَدْ أَجْمَعُوْا أَنَّ الْحُرَّیْنِ الْمُسْلِمَیْنِ الْبَالِغَیْنِ الزَّوْجَیْنِ اللَّذَیْنِ قَدْ کَانَ مِنْہُمَا الْجِمَاعُ مُحْصَنَیْنِ وَاخْتَلَفُوْا فِیْمَنْ سِوَاہُمْ .فَقَدْ أَحَاطَ عِلْمُنَا أَنَّ ذٰلِکَ قَدْ دَخَلَ فِی قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ الرَّجْمُ .فَأَدْخَلْنَا فِیْہِ وَلَمْ یُحِطْ عِلْمُنَا بِمَا سِوٰی ذٰلِکَ فَأَخْرَجْنَاہُ مِنْہُ .وَقَدْ کَانَ یَجِیْئُ فِی الْقِیَاسِ - لَمَّا کَانَتِ الْأَمَۃُ لَا تُحْصِنُ الْحُرَّ وَلَا یُحْصِنُہَا الْحُرُّ وَکَانَتْ ہِیَ فِیْ عَدَمِ اِحْصَانِہَا اِیَّاہُ کَہُوَ فِیْ عَدَمِ اِحْصَانِہِ اِیَّاہَا - أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ النَّصْرَانِیَّۃُ فَکَمَا ہِیَ لَا تُحْصِنُ زَوْجَہَا الْمُسْلِمَ کَانَ ہُوَ أَیْضًا کَذٰلِکَ لَا یُحْصِنُہَا .وَقَدْ رَأَیْنَا الْأَمَۃَ أَیْضًا - لَمَّا بَطَلَ أَنْ تُحْصِنَ الْمُسْلِمَ - بَطَلَ أَنْ یُحْصِنَ الْکَافِرَ قِیَاسًا وَنَظَرًا عَلٰی مَا ذَکَرْنَا وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ .
٥٩٦٣: عکرمہ نے روایت کی ہے کہ ” فان جاؤک فاحکم بینہم او اعرض عنہن الایہ “ یہ اس آیت سے منسوخ ہے ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ہم الایۃ “ آیت { وان احکم ۔۔} کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان کے مابین فیصلہ فرمائیں تو اس چیز کے ساتھ فیصلہ فرمائیں جو اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔ جب اس آیت کی تاویل میں اختلاف ہوا اور روایات کی دلالت مذکورہ گفتگو کی موافقت کرتی ہے۔ تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ مسلمانوں کا حاکم ان کے مابین فیصلہ کرے گا اور وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ تمام کے قول کے مطابق اس فیصلے میں نجات ہے۔ کیونکہ جو لوگ فیصلے کے حق میں ہیں وہ فرماتے ہیں اس نے اس عمل کو چھوڑ دیا جو اس پر لازم تھا۔ جو حضرات کہتے ہیں کہ وہ فیصلہ نہ کرے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس عمل کو چھوڑا ہے جس کے چھوڑنے کا اسے اختیار تھا اور جب وہ فیصلہ کرے گا تو دونوں فریق اس کے لیے نجات کی گواہی دیں گے اور جب وہ فیصلہ نہیں کرے گا تو وہ نجات کی گواہی نہ دیں گے تو جس کام میں بالاتفاق نجات ہو اس کا کرنا اولیٰ ہے بجائے اس کام کے جس میں نجات کے خلاف بات اختلاف کے ساتھ ثابت ہو۔ یہ فیصلہ کرنے کا وجوب جو کہ مذکور ہوا یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ آپ زانی یہودی کے متعلق رجم کے قائل نہیں پس تم نے جس حدیث سے استدلال کیا ہے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا۔ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے اگر زمانہ موسیٰ (علیہ السلام) میں زنا کرنے والوں کی سزا رجم تھی خواہ وہ محصن ہوں یا غیر محصن۔ اسی طرح جس یہودی سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا تھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی سزا کیا ہے تو اس نے بھی یہی جواب دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار نہیں فرمایا۔ آپ پر اس حکم کی اتباع لازم تھی اور ہر پیغمبر (علیہ السلام) کو یہی حکم ہوتا ہے کہ وہ پہلے پیغمبر (علیہ السلام) کی شریعت پر چلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو نئی شریعت دے کر اس حکم کو منسوخ کر دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” اولئک الذین ہدی اللہ فبہدہم اقتدہ “ (الانعام : ٩٠) پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی حکم سے دو یہودیوں کو سنگسار فرمایا۔ اس حکم میں محصن و غیر محصن کا فرق نہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی شریعت اتار کر یہ حکم منسوخ کردیا فرمایا ” والٰتی یأتین الفاحشۃ من نساء کم “ (النسائ۔ ١٥) کہ وہ عورتیں جو تمہاری عورتوں سے بےحیائی کا ارتکاب کریں ان پر چار گواہ بنا لو۔ اگر وہ گواہی دیں تو ان کو گھروں میں موت تک روکے رکھو یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی راہ پیدا کر دے۔ یہ حکم ماقبل کے لیے ناسخ تھا اور اس میں بھی محصن اور غیر محصن کی تفریق نہ تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ فرمایا اور ایذاء کو حد قرار دیا گیا اور اس میں بھی محصن و غیر محصن میں فرق نہ رکھا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے سبیل مقرر فرمایا ” البکر بالبکر جلدمائۃ و تغریب عام والثیب بالثیب جلد مائۃ والرجم “ (ابن ماجہ فی الحدود باب ٧) کہ کنواری اور کنوارے کے زنا پر سو کوڑے اور ایک سال جالوطنی اور شادی شدہ کو شادی کے ساتھ زنا کی وجہ سے سو کوڑے اور سنگسار کرنا ہے۔ چنانچہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی حد میں فرق کردیا گیا۔ پھر علماء کا احصان کے متعلق اختلاف ہوا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اپنی بیوی کی وجہ سے محصن نہ بنے گا اور نہ عورت اپنے خاوند سے محصنہ بن جائے گی جب تک کہ وہ دونوں مسلمان بالغ ہوں اور اس نے اپنی بیوی کے ساتھ بلوغت کی عمر میں جماع کیا ہو۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ دوسری جماع کے ہاں اہل کتاب بھی کتابیہ سے محصن ہوگا اور مسلمان مسلمہ اور نصرانیہ سے محصن ہوجائے گا البتہ نصرانیہ مسلم سے محصنہ نہ بنے گی امالی میں امام ابو یوسف (رح) کا یہی قول ہے جیسا کہ سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے بیان کیا ہے۔ اب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول ثیب ثیبہ سے زنا کرے تو سنگسار کرنا ہے اس میں ہر ثیب کا احتمال ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خاص ثیب مراد ہو۔ ہم نے ان دونوں باتوں کو جمع ہوتے پایا۔ نمبر ١ غلام اس میں داخل نہیں اور غلام محصن نہیں ہوتا خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اور اس کی بیوی بھی محصنہ نہ بنے گی خواہ وہ لونڈی ہو یا آزاد اسی طرح لونڈی اپنے خاوند کی وجہ سے محصنہ نہ کہلائے گی۔ خواہ اس کا خاوند آزاد ہو یا غلام۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد گرامی شادی شدہ شادی شدہ سے زنا کرے تو رجم ہے۔ اس سے خاص قسم کا ثیب مراد ہے ہر ثیب مراد نہیں۔ تو جس پر اجماع ہے کہ خاص ثیب مراد ہے اس میں صرف وہی داخل ہوگا جس کے داخل ہونے پر اجماع ہو اور ان حضرات کا اتفاق ہے کہ دو آزاد مسلمان بالغ میاں بیوی جو (کم از کم ایک بار) جماع کرچکے ہوں وہ محصن ہوں گے اس کے علاوہ میں اختلاف ہے تو ہمارے علم کے مطابق یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول ” الثیب بالثیب الرجم “ اس میں داخل ہے اور ہم نے اس کو داخل قرار دیا اس کے علاوہ کے متعلق ہمارے علم میں بات نہیں آسکی اس لیے ان کو اس حکم سے خارج کیا ہے اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جب لونڈی آزاد آدمی کو محصن نہیں بنا سکتی اور نہ ہی آزاد لونڈی کو محصنہ بنا سکتا ہے اور وہ مرد کو محصن نہ بنانے میں اس طرح ہے جس طرح وہ اس کو محصن نہ بنانے میں نصرانی عورت کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے کہ جب وہ اپنے مسلمان خاوند کو محصن نہیں بنا سکتی تو وہ بھی اس کو محصنہ بنہ بنا سکے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لونڈی کا مسلمان کو محصن بنانا جب باطل ٹھہرا تو کافر کو محصن بنانا بھی باطل ہوگیا جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس پر قیاس کا تقاضا یہی ہے۔ واللہ اعلم۔
فریق ثانی کہتا ہے : آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان کے مابین فیصلہ فرمائیں تو اس چیز کے ساتھ فیصلہ فرمائیں جو اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔ جب اس آیت کی تاویل میں اختلاف ہوا اور روایات کی دلالت مذکورہ گفتگو کی موافقت کرتی ہے۔ تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ مسلمانوں کا حاکم ان کے مابین فیصلہ کرے گا اور وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ تمام کے قول کے مطابق اس فیصلے میں نجات ہے۔
نمبر 1: کیونکہ جو لوگ فیصلے کے حق میں ہیں وہ فرماتے ہیں اس نے اس عمل کو چھوڑ دیا جو اس پر لازم تھا۔ جو حضرات کہتے ہیں کہ وہ فیصلہ نہ کرے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس عمل کو چھوڑا ہے جس کے چھوڑنے کا اسے اختیار تھا اور جب وہ فیصلہ کرے گا تو دونوں فریق اس کے لیے نجات کی گواہی دیں گے اور جب وہ فیصلہ نہیں کرے گا تو وہ نجات کی گواہی نہ دیں گے تو جس کام میں بالاتفاق نجات ہو اس کا کرنا اولیٰ ہے بجائے اس کام کے جس میں نجات کے خلاف بات اختلاف کے ساتھ ثابت ہو۔ یہ فیصلہ کرنے کا وجوب جو کہ مذکور ہوا یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
سوال : آپ زانی یہودی کے متعلق رجم کے قائل نہیں پس تم جس حدیث سے استدلال کیا ہے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا۔
جواب : اگر زمانہ موسیٰ (علیہ السلام) میں زنا کرنے والوں کی سزا رجم تھی خواہ وہ محصن ہوں یا غیر محصن۔ اسی طرح جس یہودی سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا تھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی سزا کیا ہے تو اس نے بھی یہی جواب دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار نہیں فرمایا۔ آپ پر اس حکم کی اتباع لازم تھی اور ہر پیغمبر (علیہ السلام) کو یہی حکم ہوتا ہے کہ وہ پہلے پیغمبر (علیہ السلام) کی شریعت پر چلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو نئی شریعت دے کر اس حکم کو منسوخ کر دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” اولئک الذین ہدی اللہ فبہدہم اقتدہ “ (الانعام۔ ٩٠)
پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی حکم سے دو یہودیوں کو سنگسار فرمایا۔ اس حکم میں محصن و غیر محصن کا فرق نہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی شریعت اتار کر یہ حکم منسوخ کردیا فرمایا ” والٰتی یأتین الفاحشۃ من نساء کم “ (النسائ۔ ١٥) کہ وہ عورتیں جو تمہاری عورتوں سے بےحیائی کا ارتکاب کریں ان پر چار گواہ بنا لو۔ اگر وہ گواہی دیں تو ان کو گھروں میں موت تک روکے رکھو یا پھر اللہ تعالیٰ کا ان کے لیے کوئی راہ پیدا کر دے۔ یہ حکم ماقبل کے لیے ناسخ تھا اور اس میں بھی محصن اور غیر محصن کی تفریق نہ تھی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ فرمایا اور ایذاء کو حد قرار دیا گیا اور اس میں بھی محصن و غیر محصن میں فرق نہ رکھا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے سبیل مقرر فرمایا ” البکر بالبکر جلدمائۃ و تغریب عام والثیب بالثیب جلد مائۃ والرجم “ (ابن ماجہ فی الحدود باب ٧) کہ کنواری اور کنوارے کے زنا پر سو کوڑے اور ایک سال جالوطنی اور شادی شدہ کو شادی کے ساتھ زنا کی وجہ سے سو کوڑے اور سنگسار کرنا ہے۔ چنانچہ شادی اور غری شادی شدہ کی حد میں فرق کردیا گیا۔
احصان : پھر علماء کا احصان کے متعلق اختلاف ہوا۔
ایک جماعت : کچھ لوگوں نے کہا کہ اپنی بیوی کی وجہ سے محصن نہ بنے گا اور نہ عورت اپنے خاوند سے محصنہ بن جائے گی جب تک کہ وہ دونوں مسلمان بالغ ہوں اور اس نے اپنی بیوی کے ساتھ بلوغت کی عمر میں زنا کیا ہو۔
یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
دوسری جماعت : اہل کتاب بھی کتابیہ سے محصن ہوگا اور مسلمان مسلمہ اور نصرانیہ سے محصن ہوجائے گا البتہ نصرانیہ مسلم سے محصنہ نہ بنے گی امالی میں امام ابو یوسف (رح) کا یہی قول ہے جیسا کہ سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے بیان کیا ہے۔
اب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول ثیب ثیبہ سے زنا کرے تو سنگسار کرنا ہے اس میں ہر ثیب کا احتمال ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خاص ثیب مراد ہو۔
نظر طحاویسوال :
ہم نے ان دونوں باتوں کو جمع ہوتے پایا۔ نمبر ١ غلام اس میں داخل نہیں اور غلام محصن نہیں ہوتا خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اور اس کی بیوی بھی محصنہ نہ بنے گی خواہ وہ لونڈی ہو یا آزاد اسی طرح لونڈی اپنے خاوند کی وجہ سے محصنہ نہ کہلائے گی۔ خواہ اس کا خاوند آزاد ہو یا غلام۔
پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد گرامی شادی شدہ شادی شدہ سے زنا کرے تو رجم ہے۔ اس سے خاص قسم کا ثیب مراد ہے ہر ثیب مراد نہیں۔ تو جس پر اجماع ہے کہ خاص ثیب مراد ہے اس میں صرف وہی داخل ہوگا جس کے داخل ہونے پر اجماع ہو اور ان حضرات کا اتفاق ہے کہ دو آزاد مسلمان بالغ میاں بیوی جو (کم از کم ایک بار) جماع کرچکے ہوں وہ محصن ہوں گے اس کے علاوہ میں اختلاف ہے تو ہمارے علم کے مطابق یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول ” الثیب بالثیب الرجم “ اس میں داخل ہے اور ہم نے اس کو داخل قرار دیا اس کے علاوہ کے متعلق ہمارے علم میں بات نہیں آسکی اس لیے ان کو اس حکم سے خارج کیا ہے۔
اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جب لونڈی آزاد آدمی کو محصن نہیں بنا سکتی اور نہ ہی آزاد لونڈی کو محصنہ بنا سکتا ہے اور وہ مرد کو محصن نہ بنانے میں اس طرح ہے جس طرح وہ اس کو محصن نہ بنانے میں نصرانی عورت کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے کہ جب وہ اپنے مسلمان خاوند کو محصن نہیں بنا سکتی تو وہ بھی اس کو محصنہ بنہ بنا سکے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لونڈی کا مسلمان کو محصن بنانا جب باطل ٹھہرا تو کافر کو محصن بنانا بھی باطل ہوگیا جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس پر قیاس کا تقاضا یہی ہے۔ واللہ اعلم۔
` بَابُ الْقَضَائِ بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاہِدِ `
ایک گواہی کے ساتھ قسم سے فیصلہ
اموال میں قضا بالیمین مع شاہد کے متعلق دو قول ہیں۔
نمبر 1: امام مالک ‘ شافعی ‘ احمد رحمہم اللہ کے ہاں اگر ایک گواہ کے علاوہ مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو دوسرے گواہ کی جگہ اس سے قسم لے کر قاضی فیصلہ کر دے گا۔ فریق ثانی کا مؤقف یہ ہے کہ اموال میں بھی حکم دوسرے معاملات کی طرح ہے ان میں دو گواہ ضروری ہیں اور قسم تو مدعیٰ علیہ پر ہے۔
تخریج : المرقات ج ٧‘ ٢٥٣‘ التعلیق ج ٤‘ ص ١٢٨۔
فریق ثانی کہتا ہے : آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان کے مابین فیصلہ فرمائیں تو اس چیز کے ساتھ فیصلہ فرمائیں جو اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔ جب اس آیت کی تاویل میں اختلاف ہوا اور روایات کی دلالت مذکورہ گفتگو کی موافقت کرتی ہے۔ تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ مسلمانوں کا حاکم ان کے مابین فیصلہ کرے گا اور وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ تمام کے قول کے مطابق اس فیصلے میں نجات ہے۔
نمبر 1: کیونکہ جو لوگ فیصلے کے حق میں ہیں وہ فرماتے ہیں اس نے اس عمل کو چھوڑ دیا جو اس پر لازم تھا۔ جو حضرات کہتے ہیں کہ وہ فیصلہ نہ کرے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس عمل کو چھوڑا ہے جس کے چھوڑنے کا اسے اختیار تھا اور جب وہ فیصلہ کرے گا تو دونوں فریق اس کے لیے نجات کی گواہی دیں گے اور جب وہ فیصلہ نہیں کرے گا تو وہ نجات کی گواہی نہ دیں گے تو جس کام میں بالاتفاق نجات ہو اس کا کرنا اولیٰ ہے بجائے اس کام کے جس میں نجات کے خلاف بات اختلاف کے ساتھ ثابت ہو۔ یہ فیصلہ کرنے کا وجوب جو کہ مذکور ہوا یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
سوال : آپ زانی یہودی کے متعلق رجم کے قائل نہیں پس تم جس حدیث سے استدلال کیا ہے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا۔
جواب : اگر زمانہ موسیٰ (علیہ السلام) میں زنا کرنے والوں کی سزا رجم تھی خواہ وہ محصن ہوں یا غیر محصن۔ اسی طرح جس یہودی سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا تھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی سزا کیا ہے تو اس نے بھی یہی جواب دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار نہیں فرمایا۔ آپ پر اس حکم کی اتباع لازم تھی اور ہر پیغمبر (علیہ السلام) کو یہی حکم ہوتا ہے کہ وہ پہلے پیغمبر (علیہ السلام) کی شریعت پر چلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو نئی شریعت دے کر اس حکم کو منسوخ کر دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” اولئک الذین ہدی اللہ فبہدہم اقتدہ “ (الانعام۔ ٩٠)
پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی حکم سے دو یہودیوں کو سنگسار فرمایا۔ اس حکم میں محصن و غیر محصن کا فرق نہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی شریعت اتار کر یہ حکم منسوخ کردیا فرمایا ” والٰتی یأتین الفاحشۃ من نساء کم “ (النسائ۔ ١٥) کہ وہ عورتیں جو تمہاری عورتوں سے بےحیائی کا ارتکاب کریں ان پر چار گواہ بنا لو۔ اگر وہ گواہی دیں تو ان کو گھروں میں موت تک روکے رکھو یا پھر اللہ تعالیٰ کا ان کے لیے کوئی راہ پیدا کر دے۔ یہ حکم ماقبل کے لیے ناسخ تھا اور اس میں بھی محصن اور غیر محصن کی تفریق نہ تھی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ فرمایا اور ایذاء کو حد قرار دیا گیا اور اس میں بھی محصن و غیر محصن میں فرق نہ رکھا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے سبیل مقرر فرمایا ” البکر بالبکر جلدمائۃ و تغریب عام والثیب بالثیب جلد مائۃ والرجم “ (ابن ماجہ فی الحدود باب ٧) کہ کنواری اور کنوارے کے زنا پر سو کوڑے اور ایک سال جالوطنی اور شادی شدہ کو شادی کے ساتھ زنا کی وجہ سے سو کوڑے اور سنگسار کرنا ہے۔ چنانچہ شادی اور غری شادی شدہ کی حد میں فرق کردیا گیا۔
احصان : پھر علماء کا احصان کے متعلق اختلاف ہوا۔
ایک جماعت : کچھ لوگوں نے کہا کہ اپنی بیوی کی وجہ سے محصن نہ بنے گا اور نہ عورت اپنے خاوند سے محصنہ بن جائے گی جب تک کہ وہ دونوں مسلمان بالغ ہوں اور اس نے اپنی بیوی کے ساتھ بلوغت کی عمر میں زنا کیا ہو۔
یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
دوسری جماعت : اہل کتاب بھی کتابیہ سے محصن ہوگا اور مسلمان مسلمہ اور نصرانیہ سے محصن ہوجائے گا البتہ نصرانیہ مسلم سے محصنہ نہ بنے گی امالی میں امام ابو یوسف (رح) کا یہی قول ہے جیسا کہ سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے بیان کیا ہے۔
اب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول ثیب ثیبہ سے زنا کرے تو سنگسار کرنا ہے اس میں ہر ثیب کا احتمال ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خاص ثیب مراد ہو۔
نظر طحاویسوال :
ہم نے ان دونوں باتوں کو جمع ہوتے پایا۔ نمبر ١ غلام اس میں داخل نہیں اور غلام محصن نہیں ہوتا خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اور اس کی بیوی بھی محصنہ نہ بنے گی خواہ وہ لونڈی ہو یا آزاد اسی طرح لونڈی اپنے خاوند کی وجہ سے محصنہ نہ کہلائے گی۔ خواہ اس کا خاوند آزاد ہو یا غلام۔
پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد گرامی شادی شدہ شادی شدہ سے زنا کرے تو رجم ہے۔ اس سے خاص قسم کا ثیب مراد ہے ہر ثیب مراد نہیں۔ تو جس پر اجماع ہے کہ خاص ثیب مراد ہے اس میں صرف وہی داخل ہوگا جس کے داخل ہونے پر اجماع ہو اور ان حضرات کا اتفاق ہے کہ دو آزاد مسلمان بالغ میاں بیوی جو (کم از کم ایک بار) جماع کرچکے ہوں وہ محصن ہوں گے اس کے علاوہ میں اختلاف ہے تو ہمارے علم کے مطابق یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول ” الثیب بالثیب الرجم “ اس میں داخل ہے اور ہم نے اس کو داخل قرار دیا اس کے علاوہ کے متعلق ہمارے علم میں بات نہیں آسکی اس لیے ان کو اس حکم سے خارج کیا ہے۔
اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جب لونڈی آزاد آدمی کو محصن نہیں بنا سکتی اور نہ ہی آزاد لونڈی کو محصنہ بنا سکتا ہے اور وہ مرد کو محصن نہ بنانے میں اس طرح ہے جس طرح وہ اس کو محصن نہ بنانے میں نصرانی عورت کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے کہ جب وہ اپنے مسلمان خاوند کو محصن نہیں بنا سکتی تو وہ بھی اس کو محصنہ بنہ بنا سکے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لونڈی کا مسلمان کو محصن بنانا جب باطل ٹھہرا تو کافر کو محصن بنانا بھی باطل ہوگیا جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس پر قیاس کا تقاضا یہی ہے۔ واللہ اعلم۔
` بَابُ الْقَضَائِ بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاہِدِ `
ایک گواہی کے ساتھ قسم سے فیصلہ
اموال میں قضا بالیمین مع شاہد کے متعلق دو قول ہیں۔
نمبر 1: امام مالک ‘ شافعی ‘ احمد رحمہم اللہ کے ہاں اگر ایک گواہ کے علاوہ مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو دوسرے گواہ کی جگہ اس سے قسم لے کر قاضی فیصلہ کر دے گا۔ فریق ثانی کا مؤقف یہ ہے کہ اموال میں بھی حکم دوسرے معاملات کی طرح ہے ان میں دو گواہ ضروری ہیں اور قسم تو مدعیٰ علیہ پر ہے۔
تخریج : المرقات ج ٧‘ ٢٥٣‘ التعلیق ج ٤‘ ص ١٢٨۔
5965
Al Tahawi۵۹۶۴: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحِمَّانِیُّ قَالَ : ثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سَیْفُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمَکِّیُّ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضٰی بِالْیَمِیْنِ مَعَ الشَّاہِدِ
٥٩٦٤: عمرو بن دینار نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم اور ایک شاہد سے فیصلہ فرمایا۔
تخریج : مسلم فی الاقضیہ ٣‘ ابو داؤد فی الاقضیہ باب ٢١‘ ترمذی فی الاحکام باب ١٣‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ٣١‘ مالک فی الاقضیہ ٥؍٦‘ مسند احمد ١؍٣١٥‘ ٣؍٣٠٥‘ ٥؍٣٨٥۔
تخریج : مسلم فی الاقضیہ ٣‘ ابو داؤد فی الاقضیہ باب ٢١‘ ترمذی فی الاحکام باب ١٣‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ٣١‘ مالک فی الاقضیہ ٥؍٦‘ مسند احمد ١؍٣١٥‘ ٣؍٣٠٥‘ ٥؍٣٨٥۔
5966
Al Tahawi۵۹۶۵: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔
٥٩٦٥: سہیل بن ابو صالح نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
5967
Al Tahawi۵۹۶۶: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَا : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ عَبْدُ الْعَزِیْزِ : وَنَسِیَہُ سَہْلٌ قَالَ حَدَّثَنِیْ رَبِیْعَۃُ عَنِّیْ
٥٩٦٦: عبدالعزیز بن محمد نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔
عبدالعزیز کہتے ہیں سہل نے بھول کر حدثنی ربیعہ عنی کہا۔
عبدالعزیز کہتے ہیں سہل نے بھول کر حدثنی ربیعہ عنی کہا۔
5968
Al Tahawi۵۹۶۷: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ - یَعْنِی الْحِمَّانِیَّ - قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَالدَّرَاوَرْدِیُّ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ عَبْدُ الْعَزِیْزِ : فَلَقِیْتُ سُہَیْلًا فَسَأَلْتُہٗ عَنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ فَلَمْ یَعْرِفْہُ .
٥٩٦٧: سلیمان بن بلال اور دراوردی نے روایت کی پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ عبدالعزیز کہتے ہیں کہ میں اس روایت کے متعلق سہیل سے ملا تو انھوں نے کہا میں اس روایت کو نہیں جانتا۔
5969
Al Tahawi۵۹۶۸: حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ الْحَکَمِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔
٥٩٦٨: سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے یہ روایت نقل کی ہے اور انھوں نے زید بن ثابت (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
5970
Al Tahawi۵۹۶۹: حَدَّثَنَا وَہْبَانُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ ھَمَّامٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیْدِ الثَّقَفِیُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔
٥٩٦٩: جعفر بن محمد نے اپنے والد سے نقل کیا انھوں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔