hadith book logo

Al Tahawi

21. شفعہ کا بیان۔

الطحاوي

5850
Al Tahawi
۵۸۴۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہٗ، أَنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَۃُ فِیْ کُلِّ شِرْکٍ بِأَرْضٍ أَوْ رَبْعٍ أَوْ حَائِطٍ لَا یَصْلُحُ أَنْ یَبِیْعَ حَتّٰی یَعْرِضَ عَلَی شَرِیْکِہِ فَیَأْخُذَ أَوْ یَدَعَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الشُّفْعَۃَ لَا تَکُوْنُ اِلَّا بِالشَّرِکَۃِ فِی الْأَرْضِ أَوْ الْحَائِطِ أَوْ الرَّبْعِ وَلَا یَجِبُ بِالْجِوَارِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : الشُّفْعَۃُ فِیْمَا وَصَفْتُمْ وَاجِبَۃٌ لِلشَّرِیْکِ الَّذِی لَمْ یُقَاسِمْ ثُمَّ ہِیَ مِنْ بَعْدِہِ وَاجِبَۃٌ لِلشَّرِیْکِ الَّذِی قَاسَمَ بِالطَّرِیْقِ الَّذِی قَدْ بَقِیَ لَہٗ فِیْہِ الشِّرْکُ ثُمَّ ہِیَ مِنْ بَعْدِہِ وَاجِبَۃٌ لِلْجَارِ الْمُلَازِقِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ ہٰذَا الْأَثَرَ اِنَّمَا فِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّفْعَۃُ فِیْ کُلِّ شِرْکٍ بِأَرْضٍ أَوْ رَبْعٍ أَوْ حَائِطٍ .وَلَمْ یَقُلْ : اِنَّ الشُّفْعَۃَ لَا تَکُوْنُ اِلَّا فِیْ کُلِّ شِرْکٍ فَلَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ نَفْیًا أَنْ یَکُوْنَ الشُّفْعَۃُ وَاجِبَۃً بِغَیْرِ الشِّرْکِ .وَلٰـکِنَّہٗ اِنَّمَا أَخْبَرَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہَا وَاجِبَۃٌ فِیْ کُلِّ شِرْکٍ وَلَمْ یَنْفِ أَنْ تَکُوْنَ وَاجِبَۃً فِیْ غَیْرِہِ وَقَدْ جَائَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ زَادَ عَلَی مَعْنٰی ہٰذَا الْحَدِیْثِ .
٥٨٤٩: ابوالزبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جابر (رض) کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شفعہ کا حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جو زمین یا مکان یا باغ میں شریک ہو۔ اس کو فروخت کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے شریک پر پیش کرے پھر وہ اسے لے لے یا چھوڑ دے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ شفعہ صرف زمین ‘ باغ یا مکان میں شراکت کی صورت میں جائز ہے پڑوس سے لازم نہیں ہوتا۔ انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا تمہارے کہنے کے مطابق شفعہ صرف اس شراکت میں ثابت ہوگا جو تقسیم نہ ہوئی ہو۔ پھر دوسرے اس شریک کو حق ہوگا جس نے اس راستہ کی تقسیم کی ہو جس میں شراکت باقی ہے پھر اس کے بعد متصل پڑوسی کو حاصل ہوگا۔ تمہارے بیان کردہ اثر میں صرف اس قدر ہے کہ شفعہ مشترک زمین ‘ مکان یا باغ میں ہے یہ تو نہیں کہا گیا کہ انہی میں ہے اور دوسروں میں نہ ہوگا ہر شراکت میں اس کا وجوب ثابت ہوا ‘ اس کے علاوہ میں وجوب کی نفی نہیں اور حضرت جابر (رض) کی روایت دوسرے طریق سے وارد ہے اس میں اضافہ موجود ہے۔
تخریج : مسلم فی المساقات ١٣٥‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٧٣‘ نسائی فی البیوع باب ٨٠؍١٠٩‘ مسند احمد ٣؍٣١٦۔
امام طحاوی (رح) کا قول : بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ شفعہ صرف زمین ‘ باغ یا مکان میں شراکت کی صورت میں جائز ہے پڑوس سے لازم نہیں ہوتا۔ انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : تمہارے کہنے کے مطابق شفعہ صرف اس شراکت میں ثابت ہوگا جو تقسیم نہ ہوئی ہو۔ پھر دوسرے اس شریک کو حق ہوگا جس نے اس راستہ کی تقسیم کی ہو جس میں شراکت باقی ہے پھر اس کے بعد متصل پڑوسی کو حاصل ہوگا۔
فریق اول کا جواب : تمہارے بیان کردہ اثر میں صرف اس قدر ہے کہ شفعہ مشترک زمین ‘ مکان یا باغ میں ہے یہ تو نہیں کہا گیا کہ انہی میں ہے اور دوسروں میں نہ ہوگا ہر شراکت میں اس کا وجوب ثابت ہوا اس کے علاوہ میں وجوب کی نفی نہیں اور حضرت جابر (رض) کی روایت دوسرے طریق سے وارد ہے اس میں اضافہ موجود ہے۔
دوسری سند سے روایت جابر (رض) :
شفعہ کا معنی کسی شئی کو مثل سے ملانا اور فقہ میں شراکت یا پڑوس کی وجہ سے بتکلف کسی چیز کے ملانے کا دعویٰ کرنا۔ اس مسئلہ میں دو قول ہیں۔ ! جو پڑوسی خرید کی گئی زمین میں شریک نہیں اس کے لیے شفع کا کوئی حق نہیں اس قول کو امام مالک (رح) و شافعی (رح) اور احمد (رح) نے اختیار کیا ہے۔ " شرکت جو ار کی وجہ سے بھی شفعہ ہے یہ ائمہ احناف کا قول ہے۔
تخریج : کذا فی البذل ج ٤‘ ٢٩١‘ والاشعۃ ج ٢‘ ٦٢۔
5851
Al Tahawi
۵۸۵۰: حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ الرَّقِّیُّ قَالَ : ثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیْدِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِیْ سُلَیْمَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَۃِ جَارِہِ فَاِنْ کَانَ غَائِبًا انْتَظَرَ اِذَا کَانَ طَرِیْقُہُمَا وَاحِدًا .
٥٨٥٠: عطاء بن ابی رباح نے جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پڑوسی اپنے پڑوسی پر شفعہ کا زیادہ حق رکھتا ہے اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا بشرطیکہ ان کا راستہ ایک ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ٧٣‘ ابن ماجہ فی الشفعہ باب ٢‘ مسند احمد ٣؍٣٥٣۔
5852
Al Tahawi
۵۸۵۱: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ قَالَ : ثَنَا عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔
٥٨٥١: عطاء نے جابر (رض) سے روایت کی انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
5853
Al Tahawi
۵۸۵۲: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ سَالِمٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِیجَابُ الشُّفْعَۃِ فِی الْبَیْعِ الَّذِی لَا شِرْکَ فِیْہِ بِالشِّرْکِ فِی الطَّرِیْقِ فَلَا یُجْعَلُ وَاحِدٌ مِنْ ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ مُضَادًّا لِلْحَدِیْثِ الْآخَرِ وَلٰـکِنْ یَثْبُتَانِ جَمِیْعًا وَیُعْمَلُ بِہِمَا .فَیَکُوْنُ حَدِیْثُ أَبِی الزُّبَیْرِ فِیْہِ اِخْبَارٌ عَنْ حُکْمِ الشُّفْعَۃِ لِلشَّرِیْکِ فِی الَّذِی بِیْعَ مِنْہُ مَا بِیْعَ .وَحَدِیْثُ عَطَائٍ فِیْ ذٰلِکَ اِخْبَارٌ عَنْ حُکْمِ الشُّفْعَۃِ فِی الْمَبِیْعِ الَّذِی لَا شَرِکَۃَ لِأَحَدٍ فِیْہِ بِالطَّرِیْقِ .وَقَالَ أَصْحَابُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی : فَاِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَنْفِیْ مَا ادَّعَیْتُمْ .
٥٨٥٢: عطاء نے جابر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اس روایت میں مبیع میں حق شفعہ کو لازم کیا گیا ہے۔ جس کو صرف راستہ کی شرکت کے علاوہ شرکت حاصل نہ ہو پس ان دونوں روایات کا باہمی تضاد نہیں بلکہ دونوں ثابت ہو کر واجب العمل ہیں۔ ابوالزبیر والی روایت میں شریک کے لیے شفعہ کے حق کا ثبوت ہے جس میں سے جو فروخت ہوا سو فروخت ہوا۔ روایت عطاء میں اس مبیع کا ذکر ہے جس میں راستہ کی شرکت ہو۔ فریق اول نے اپنے مؤقف کے لیے ان روایات سے استدلال کیا ہے جو فریق ثانی کے مؤقف کی نفی کرتی ہیں۔
فریق اوّل کا ایک استدلال :
فریق اول نے اپنے مؤقف کے لیے ان روایات سے استدلال کیا ہے جو فریق ثانی کے مؤقف کی نفی کرتی ہیں۔
5854
Al Tahawi
۵۸۵۳: فَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ مَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ عَنْ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیْدٍ وَأَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَۃِ فِیْمَا لَمْ یُقْسَمْ فَاِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ فَلَا شُفْعَۃَ .
٥٨٥٣: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شفعہ کا فیصلہ اس زمین میں فرمایا جو تقسیم نہیں کی گئی جب حدود متعین ہوجائیں تو کوئی شفعہ کا حق نہیں۔
تخریج : بخاری فی الشفعہ باب ١‘ مسلم فی المساقاۃ ١٣٤‘ نسائی فی البیوع باب ١٠٩‘ ابن ماجہ فی الشفعہ باب ٣٠‘ مالک فی الشفعہ ١‘ مسند احمد ٣؍٣٩٩۔
5855
Al Tahawi
۵۸۵۴: وَحَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ عَنْ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مِثْلَہٗ۔
٥٨٥٤: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح روایت کی ہے۔
5856
Al Tahawi
۵۸۵۵: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِی قَتِیْلَۃَ الْمَدَنِیُّ قَالَ : ثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیْدٍ وَأَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مِثْلَہٗ۔
٥٨٥٥: سعید اور ابو سلمہ دونوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح روایت کی ہے۔
5857
Al Tahawi
۵۸۵۶: حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ الْمَاجِشُوْنِ قَالَ : ثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالُوْا : فَنَفَیْ ہٰذَا الْحَدِیْثُ أَنْ تَکُوْنَ الشُّفْعَۃُ تَجِبُ اِذَا حُدَّتِ الْحُدُوْدُ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ أَنَّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ - عَلٰی أَصْلِ الْمُحْتَجِّ بِہٖ عَلَیْنَا - لَا یَجِبُ بِہٖ حُجَّۃٌ لِأَنَّ الْأَثْبَاتَ مِنْ أَصْحَابِ مَالِکٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اِنَّمَا رَوَوْہُ عَنْ مَالِکٍ مُنْقَطِعًا لَمْ یَرْفَعُوْھُ اِلٰی أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٥٨٥٦: عبدالملک بن عبدالعزیز ماجشون نے مالک سے انھوں نے پھر اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ حد بندی کیے جانے تک شفعہ ہے جب حد بندی کردی گئی تو شفعہ کا موقع ختم ہوگیا۔ اس روایت سے استدلال تب درست ہوتا جب کہ یہ روایت ثابت ہوتی امام مالک (رح) نے اس کو منقطع نقل کیا ہے حضرت ابوہریرہ (رض) تک اتصال ثابت نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو۔
طریق استدلال : حد بندی کردینے جانے تک شفعہ ہے جب حد بندی کردی گئی تو شفعہ کا موقعہ ختم۔
جواب : اس روایت سے استدلال تب درست ہوتا جب کہ یہ روایت ثابت ہوتی امام مالک (رح) نے اس کو منقطع نقل کیا ہے حضرت ابوہریرہ (رض) تک اتصال ثابت نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو۔
5858
Al Tahawi
۵۸۵۷: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ وَالْقَعْنَبِیُّ قَالَا : ثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیِّبِ قَالَ : قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَۃِ فِیْمَا لَمْ یُقْسَمْ فَاِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ فَلَا شُفْعَۃَ .
٥٨٥٧: ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی انھوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا جس کو تقسیم نہ کیا گیا تھا جب حدود لگا دی جائیں تو شفعہ نہیں ہے۔
تخریج : روایت ٥٨٥٤ کی تخریج ملاحظہ ہو۔
5859
Al Tahawi
۵۸۵۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیِّبِ وَأَبِیْ سَلَمَۃَ مِثْلَہٗ۔فَکَانَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ مَقْطُوْعًا وَالْمَقْطُوْعُ - عِنْدَہُمْ - لَا تَقُوْمُ بِہٖ حُجَّۃٌ .ثُمَّ لَوْ ثَبَتَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ وَاتَّصَلَ اِسْنَادُہُ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ - عِنْدَنَا - مَا یُخَالِفُ الْحَدِیْثَ الَّذِیْ ذٰکَرْنَاہُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .لِأَنَّ الَّذِیْ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِنَّمَا ہُوَ قَوْلُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَۃِ فِیْمَا لَمْ یُقْسَمْ .فَکَانَ بِذٰلِکَ مُخْبِرًا عَمَّا قَضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ فَلَا شُفْعَۃَ وَکَانَ ذٰلِکَ قَوْلًا مِنْ رَأْیِہِ لَمْ یَحْکِہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَاِنَّمَا یَکُوْنُ ہٰذَا الْحَدِیْثُ حُجَّۃً عَلَی مَنْ ذَہَبَ اِلَی وُجُوْبِ الشُّفْعَۃِ بِالْجِوَارِ لَوْ کَانَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّفْعَۃُ فِیْمَا لَمْ یُقْسَمْ فَاِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ فَلَا شُفْعَۃَ .فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ نَفْیًا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَا قَدْ قُسِمَ أَنْ تَکُوْنَ فِیْہِ الشُّفْعَۃُ .وَلٰـکِنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِنَّمَا أَخْبَرَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلِمَہٗ مِنْ قَضَائِہِ ثُمَّ نَفَی الشُّفْعَۃَ بِرَأْیِہِ بِمَا لَمْ یَعْلَمْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِ حُکْمًا وَعَلِمَہُ غَیْرُہٗ۔ ثُمَّ قَدْ رَوَی مَعْمَرٌ ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَخَالَفَ مَالِکًا فِیْ مَتْنِہِ وَفِیْ اِسْنَادِہٖ۔
٥٨٥٨: مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے ابن مسیب اور ابی سلمہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ جب اس روایت کا مقطوع ہونا ثابت ہوگیا تو فریق اول کے ہاں مقطوع قابل حجت نہیں۔ بالفرض اگر یہ روایت متصل سند سے ثابت ہوجائے تو پھر بھی اس میں ہماری روایت کے خلاف کوئی دلیل نہیں جو کہ ہم عطاء عن جابر (رض) نقل کر آئے ہیں کیونکہ اس روایت میں ابوہریرہ (رض) کا قول ہے۔ کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غیر تقسیم شدہ میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔ تو اس سے انھوں نے اس بات کی اطلاع دی ہے جو کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا پھر اس میں فرمایا اذا وقعت الحدود فلا شفعۃ “ اور ان کا اجتہادی قول ہے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ نقل کیا نہ نسبت کی۔ اس روایت کو اس وقت ان لوگوں کے خلاف دلیل میں پیش کیا جاسکتا ہے جو پڑوس کی وجہ سے حق شفعہ کو واجب قرار دیتے ہیں جبکہ اس طرح فرمایا ہوتا کہ شفعہ اس میں ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو۔ جب حدود قائم کردی گئیں اس وقت شفعہ نہیں ہے۔ تو اس صورت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے منقسم چیز میں شفعہ نہ ہونے کی نفی ہوتی۔ لیکن ابوہریرہ (رض) نے یہاں اس فیصلے کی اطلاع دی جو انھوں نے معلوم کیا۔ پھر انھوں نے اپنی رائے و اجتہاد سے شفعہ کی نفی کی جس کا انھیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے علم حاصل نہ ہوا اور دوسرے حضرات کو معلوم ہوا۔ اس روایت کو معمر نے زہری سے روایت کیا مگر وہ روایت متن و سند دونوں کے لحاظ سے امام مالک سے مختلف ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔