hadith book logo

Al Tahawi

3. جنازوں کا بیان

الطحاوي

2668
Al Tahawi
۲۶۶۸ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ (عَنْ عُیَیْنَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : کُنَّا فِیْ جَنَازَۃِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ‘ أَوْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ‘ فَکَانُوْا یَمْشُوْنَ بِہَا مَشْیًا لَیِّنًا .قَالَ : فَکَانَ أَبُوْ بَکْرَۃَ انْتَہَرَہُمْ وَرَفَعَ عَلَیْہِمْ صَوْتَہٗ وَقَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنَا نَرْمُلُ بِہَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) .
٢٦٦٨: عیینہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ہم ایک جنازہ میں تھے جو کہ عبدالرحمن بن سمرہ یا عثمان بن ابی العاص کا تھا اور وہ لوگ جنازہ لے کر نرم رفتار سے جا رہے تھے تو ابو بکرہ نے ان کو بلند آواز سے ڈانٹا اور کہا کہ ہم نے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنازے میں چلتے ہوئے رمل کی کیفیت سے چلتے تھے (کندھوں کو ہلاتے ہوئے دوڑتے تھے)
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ٤٦‘ نمبر ٣١٨٢‘ نسائی فی الجنائز باب ٤٦۔
جنازہ قبرستان کی طرف کس رفتار سے لے جایا جائے ؟
نمبر 1: امام ابوحنیفہ (رح) اور ابو یوسف (رح) و محمد (رح) کے ہاں تیز چلا جائے مگر دوڑ سے احتراز کیا جائے۔
نمبر 2: ائمہ ثلاثہ اور جمہور کے ہاں جنازہ میانہ رفتار اور نرم گام سے لے جایا جائے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل : قبرستان کی طرف میت کو لے جاتے ہوئے حتی الامکان تیزی اختیار کی جائے مگر دوڑ سے بچا جائے تاکہ زیادہ حرکت سے پیٹ سے نجاست نہ خارج ہوجائے۔
دلیل یہ روایات ہیں۔
(کتاب الجنائز میں ١٢ باب اور ٢١٤ روایات و آثار ھیں)
2669
Al Tahawi
۲۶۶۹ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ‘ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہٗ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ بِالْبَقِیْعِ‘ فَطُلِعَ عَلَیْنَا بِجَنَازَۃٍ فَأَقْبَلَ عَلَیْنَا ابْنُ جَعْفَرٍ یَتَعَجَّبُ مِنْ مَشْیِہِمْ بِہَا‘ فَقَالَ : عَجَبًا لِمَا تَغَیَّرَ مِنْ حَالِ النَّاسِ‘ وَاللّٰہِ إِنْ کَانَ إِلَّا الْجَمْزَ وَإِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیُلَاحِیَ الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ : یَا عَبْدَ اللّٰہِ اتَّقِ اللّٰہَ‘ فَوَاللّٰہِ لَکَأَنَّکَ قَدْ جُمِزَ بِک .
٢٦٦٩: ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں عبداللہ بن جعفر کے ساتھ بقیع میں بیٹھا تھا کہ ایک جنازہ سامنے آیا عبداللہ ہماری طرف متوجہ ہوئے وہ ان لوگوں کے چلنے پر متعجب تھے کہنے لگے لوگوں کی حالت کے بدلنے پر تعجب ہے یہ تو تیز دوڑ تھی اور آدمی دوسرے کو دور کرتے ہوئے کہتا اے عبداللہ اللہ سے ڈر۔ اللہ کی قسم ! تو تو اس طرح ہے گویا کسی سے دوڑ لگا رکھی ہے۔
تخریج : المستدرک ١؍٥٠٧۔
2670
Al Tahawi
۲۶۷۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أُمَامَۃَ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ (أَسْرِعُوْا بِالْجَنَازَۃِ‘ فَإِنْ کَانَتْ صَالِحَۃً‘ قَرَّبْتُمُوْہَا إِلَی الْخَیْرِ‘ وَإِنْ کَانَتْ غَیْرَ ذٰلِکَ‘ کَانَ شَرًّا تَضَعُوْنَہٗ عَنْ رِقَابِکُمْ) .
٢٦٧٠: ابو امامہ سہل بن حنیف نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جنازے کو تیز لے چلو پس اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کے قریب کرنے والے بنو گے اور اگر وہ برا ہے تو تم شر کو اپنے کندھوں سے اتارنے والے ہو گے۔
تخریج : بخاری فی الجنائز باب ٥١‘ مسلم فی الجنائز ٥٠‘ ٥١‘ ابو داؤد فی الجنائز باب ٤٦‘ نسائی فی الاجنائز باب ٤٤‘ ابن ماجہ فی الجنائز باب ١٥‘ موطا مالک فی الجنائز ٥٨‘ مسند احمد ٢؍٢٤٠‘ ٤٨٨۔
2671
Al Tahawi
۲۶۷۱ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ زَمْعَۃُ بْنُ صَالِحٍ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .
٢٦٧١‘ سعید بن المسیّب نے ابوہریرہ (رض) انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
2672
Al Tahawi
۲۶۷۲ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .
٢٦٧٢: سعید بن المسیّب نے ابوہریرہ (رض) انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
2673
Al Tahawi
۲۶۷۳ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ‘ عَنْ سَعِیْدِ الْمَقْبُرِیِّ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مِہْرَانَ‘ (أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ - حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ - قَالَ : أَسْرِعُوْا بِیْ‘ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلٰی سَرِیْرِہٖ‘ قَالَ : قَدِّمُوْنِیْ قَدِّمُوْنِیْ‘ وَاذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السُّوْئُ عَلٰی سَرِیْرِہِ‘ قَالَ : یَا وَیْلَتِیْ‘ أَیْنَ تَذْہَبُوْنَ بِیْ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ السُّرْعَۃَ فِی السَّیْرِ بِالْجَنَازَۃِ أَفْضَلُ مِنْ غَیْرِ ذٰلِکَ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ وَقَالُوْا : بَلْ یُمْشٰی بِہَا مَشْیَا لَیِّنًا‘ فَہُوَ أَفْضَلُ مِنْ غَیْرِ ذٰلِکَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا۔
٢٦٧٣: عبدالرحمن بن مہران نے ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کی ہے جبکہ ان کی وفات کا وقت آیا تو فرمانے لگے مجھے جلد دفن کے لیے لے جانا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب نیک آدمی کو چار پائی پر رکھ دیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے آگے بھیجو ‘ آگے بھیجو۔ اور جب برے آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے ہائے میری ہلاکت ! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے کہا کہ جنازہ کے ساتھ جلدی چلنا آہستہ چلنے سے افضل ہے۔ انھوں مندرجہ بالا آثار سے دلیل لی ہے۔ دیگر علماء نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوتے کہا کہ مناسب رفتار سے چلنا زیادہ افضل ہے۔
تخریج : بخاری فی الاجنائز باب ٥١‘ ٥٣‘ نسائی فی الجنائز باب ٤٤‘ مسند احمد ٢؍٢٩٢۔
حاصل روایات : ان روایات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جنازے کو جلد لے جانے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ نیک کو اس کے ٹھکانے تک پہنچایا جائے اور برے کو اپنے کندھوں سے اتارا جائے۔
لغات : انتھز۔ ڈانٹنا۔ جمز۔ تیز دوڑنا۔ رمل ۔ کندھے ہلا کر دوڑنا۔
فریق ثانی کا مؤقف مع دلائل : جنازے کو آرام سے نرمی کے ساتھ لے کر چلنا چاہیے دلیل یہ روایات ہیں۔
2674
Al Tahawi
۲۶۷۴ : حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ الْحَسَنِ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ لَیْثِ بْنِ أَبِیْ سُلَیْمٍ‘ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْہِ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَیْہِ بِجَنَازَۃٍ وَہُمْ یُسْرِعُوْنَ بِہَا‘ فَقَالَ لِیَکُنْ عَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃُ) .فَلَمْ یَکُنْ - عِنْدَنَا - فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ حُجَّۃٌ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی‘ لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ فِیْ مَشْیِہِمْ ذٰلِکَ عُنْفٌ‘ یُجَاوِزُ مَا أُمِرُوْا بِہٖ فِی الْأَحَادِیْثِ الْأُوَلِ مِنَ السُّرْعَۃِ‘ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ : ہَلْ نَجِدُ فِیْہِ دَلِیْلًا یَدُلُّنَا عَلٰی شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ ؟ .فَإِذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُشَیْشِ الْبَصْرِیُّ۔
٢٦٧٤: لبث بن ابو سلیم کہتے ہیں کہ میں نے ابو بردہ (رض) کو بیان کرتے سنا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک جنازہ گزرا وہ اسے تیز تیز لے جا رہے تھے آپ نے فرمایا تمہیں سکون اختیار کرنا چاہیے۔ ہمارے نزدیک اس روایات میں پہلے قول والوں کے خلاف کوئی دلیل نہیں کیونکہ عین ممکن ہے۔ ان کی چال میں ایسی تیزی ہو جو احادیث سابقہ میں مامور ہے تیزی سے تجاوز کرنے والی ۔ پس اس پر ہم غور کرتے ہیں کہ آیا کوئی دلالت اس کے متعلق مل جاتی ہے جو ان میں سے کوئی بات کی طرف راہمنائی کرے چنانچہ عبداللہ بن محمد بصری کی روایت مل گئی۔
تخریج : ابن ماجہ فی الجنائز ١٥‘ نمبر ١٤٧٩‘ مسند احمد ٤؍٤٠٦۔
فریق اوّل کی طرف سے روایت کا جواب :
یہ روایت فریق ثانی کے حق میں فریق اوّل کے خلاف دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ اس میں زیادہ تیز رفتاری جس میں وہ مبتلا تھے اس سے روکا گیا ہے اس سے میت مشک کی طرح اچھل رہی تھی جس سے اس کے پیٹ کے اندر سے کسی نجاست کے نکلنے کا خدشہ تھا جس کی وجہ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی تیزی سے روک دیا البتہ پہلی روایات میں مناسب انداز والی تیزی کا تذکرہ ہے اور دوڑ کی ممانعت ہے۔ گویا روایت میں تیز چلنے کی مطلقاً نفی نہیں ہے پس ان کا یہ مستدل نہ بنے گی ابو بردہ (رض) کی روایت سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے علیکم بالقصد کہ تیز چلنے میں اعتدال برتنا چاہیے۔
2675
Al Tahawi
۲۶۷۵ : قَدْ حَدَّثَنَا‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ الْوَلِیْدِ‘ قَالَ : ثَنَا زَائِدَۃُ‘ عَنْ لَیْثِ بْنِ أَبِیْ بُرْدَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ قَالَ : (مُرَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَۃٍ یُسْرِعُوْنَ بِہَا الْمَشْیَ وَہُوَ یَمْخُضُ تَمَخُّضَ الزِّقِّ فَقَالَ: عَلَیْکُمْ بِالْقَصْدِ بِجَنَائِزِکُمْ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ الْمَیِّتَ کَانَ یَتَمَخَّضُ لِتِلْکَ السُّرْعَۃِ‘ تَمَخَّضَ الزِّقِّ .فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَّکُوْنَ أَمَرَہُمْ بِالْقَصْدِ‘ لِأَنَّ السُّرْعَۃَ‘ سُرْعَۃٌ یُخَافُ مِنْہَا أَنْ یَّکُوْنَ مِنَ الْمَیِّتِ شَیْء ٌ‘ فَنَہَاہُمْ عَنْ ذٰلِکَ‘ فَکَانَ مَا أَمَرَہُمْ بِہٖ مِنَ السُّرْعَۃِ‘ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ‘ ہِیَ أُقْصَدُ مِنْ ھٰذِہِ السُّرْعَۃِ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا‘ ہَلْ رُوِیَ فِیْہِ شَیْء ٌ یَدُلُّنَا عَلٰی شَیْئٍ مِنْ ھٰذَا الْمَعْنٰی؟
٢٦٧٥ : اس روایت میں یہ بات موجود ہے کہ اس تیزی کی وجہ سے میت چارپائی پر اس طرح حرکت کرتی تھی جس طرح مشکیزہ حرکت کرتا ہے۔ تو اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ان کو میانہ روی کی تعلیم دی گئی ہو ۔ کہ اس طرح کی تیزی سے میت کو کوئی معاملہ پیش آسکتا ہے۔ پس آپ نے ان کو اس بات سے روک دیا ۔ پس سابقہ روایات میں جس تیزی کا حکم ہے وہ اس کے بالمقابل اعتدال والی ہے۔ اب ہم یہ غور کرتے ہیں کہ آیا اس مفہوم پر دلالت کرنے والی روایت بھی موجود ہے۔ چنانچہ روایت مل گئی۔
اب ہم ایسی روایت تلاش کرتے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرے چنانچہ ملاحظہ ہو۔
2676
Al Tahawi
۲۶۷۶ : فَإِذَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ : أَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ‘ عَنْ یَحْیَی الْجَابِرِ‘ عَنْ أَبِیْ مَاجِدٍ‘ عَنِ (ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْنَا نَبِیَّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّیْرِ بِالْجَنَازَۃِ‘ فَقَالَ مَا دُوْنَ الْخَبَبِ‘ فَإِنْ یَّکُ مُؤْمِنًا فَمَا عُجِّلَ فَخَیْرٌ‘ وَإِنْ یَکُ کَافِرًا فَبُعْدًا لِأَہْلِ النَّارِ) .فَأَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ السَّیْرَ بِالْجَنَازَۃِ ہُوَ مَا دُوْنَ الْخَبَبِ .فَذٰلِکَ - عِنْدَنَا - دُوْنَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ مُوْسٰی، حَتّٰی أَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا أَمَرَہُمْ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ وَمِثْلُ مَا أَمَرَہُمْ بِہٖ مِنَ السُّرْعَۃِ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَبِھٰذَا نَأْخُذُ‘ وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٢٦٧٦: ابو ماجد نے ابن مسعود (رض) نے نقل کیا کہ ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنازہ کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہلکی دوڑ سے کم ہو اگر وہ مؤمن صالح ہے تو جس کی طرف اسے لے جاتے ہیں وہ خیر ہے اور اگر وہ کافر ہے تو اہل نار کے لیے ہلاکت ہے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس روایت میں بتلایا کہ جناے اس قدر تیزی سے لے جائیں کہ دوڑنے سے تو کم رفتار ہے۔ پس ہمارے نزدیک یہ رفتار اس سے کم درجہ ہے جس کا مذکورہ حضرت ابو موسیٰ (رض) کی روایت میں گزرا۔ یہاں تک جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو وہ حکم فرمایا جس کا اس روایت میں مذکور ہے۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ومحمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔
تخریج : ترمذی ١؍١٩٦‘ ابن ماجہ ١؍١٠٦۔
حاصل روایات : اس روایت میں آپ نے خبر دے دی کہ جنازے کو تیز لے کر تو چلنا چاہیے مگر وہ خبب یعنی ہلکی دوڑ سے کم ہو۔
ہمارے ہاں بھی یہی ہے اس طرح نہیں جیسا ابو موسیٰ (رض) کی روایت میں موجود ہے یہاں تک کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایسی تیزی سے روک دیا تو وہ تیزی جو روایت ابوہریرہ (رض) میں ہے وہی مطلوب ہے۔
اور ہمارے ائمہ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔
لغات : المخض۔ زور سے حرکت دینا۔ الزق۔ مشک۔ اقصد۔ میانہ روی۔ بعد۔ ہلاکت و دوری۔
یہ باب بھی نظر طحاوی (رح) سے خالی ہے اور اس میں اپنے انداز کے خلاف فریق راجح کو پہلے ذکر کیا اور پھر دوسرے فریق مرجوح کو ذکر کر کے فریق اوّل کی طرف سے جواب دیا اور آخر میں راجح قول کی تائید ایک قولی روایت سے کی ہے۔
2677
Al Tahawi
۲۶۷۷ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ سَالِمٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : (رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَمْشُوْنَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ) .
٢٦٧٧: سالم نے عبداللہ (رض) سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمر ] ا کو جنازے سے آگے آگے چلتے دیکھا۔
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ٤٥‘ نمبر ٣١٧٩‘ ترمذی فی الجنائز باب ٢٦‘ نمبر ١٠٠٧‘ ابن ماجہ فی الاجنائز باب ١٦‘ نمبر ١٤٨٢‘ مسند احمد ٢؍٨‘ ١٢٢۔
جنازے سے آگے چلنا چاہیے یا پیچھے جائز تو ہر دو طرح ہے۔ افضلیت میں اختلاف ہے۔
نمبر 1: امام مالک ‘ شافعی ‘ احمد اور جمہور آگے چلنے کو افضل قرار دیتے ہیں۔
نمبر 2: ائمہ احناف جنازے کے پیچھے چلنے کو افضل گردانتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور مستدل روایات : جنازے سے آگے چلنا افضل ہے دلائل یہ ہیں۔