Al Tahawi
22. اجارہ کا بیان
الطحاوي
5884
Al Tahawi۵۸۸۳: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی السَّفَرِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّہِ أَنَّہٗ قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَیْنَا عَلٰی حَی مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ فَقَالُوْا لَنَا : اِنَّکُمْ قَدْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ ہٰذَا الْحَبْرِ بِخَیْرٍ فَہَلْ عِنْدَکُمْ دَوَائٌ أَوْ رُقْیَۃٌ أَوْ شَیْئٌ ؟ فَاِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوْہًا فِی الْقُیُوْدِ .قَالَ : فَقُلْنَا نَعَمْ .فَجَائُوْا بِہٖ فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ عَلَیْہِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ غَدْوَۃً وَعَشِیَّۃً أَجْمَعُ بُزَاقِی ثُمَّ أَتْفُلُ فَکَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْنِیْ جُعْلًا فَقُلْتُ :لَا حَتّٰی أَسْأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُہٗ فَقَالَ کُلْ فَلَعَمْرِی لَمَنْ أَکَلَ بِرُقْیَۃِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَکَلْتُ بِرُقْیَۃِ حَق .
٥٨٨٣: شعبی نے خارجہ بن صلت سے انھوں نے اپنے چچا سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے لوٹے تو ہمارا گزر ایک عرب قبیلہ کے پاس سے ہوا۔ تو انھوں نے ہم سے کہا تم اس بڑے عالم کی طرف سے بہتری لائے ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی دوائی یا جھاڑ یا اور کوئی چیز ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ بیڑیوں میں جکڑا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا ہاں۔ چنانچہ وہ اس دیوانہ کو ہمارے پاس لائے میں نے اس پر تین روز صبح و شام سورة فاتحہ پڑھی میں اپنے لعاب کو جمع کر کے اس پر تھوکتا رہا۔ گویا وہ رسّی سے کھل گیا۔ انھوں نے مجھے کچھ اجرت دی۔ میں نے کہا جب تک میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت نہ کرلوں اس وقت تک نہ لوں گا۔ میں نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس کو کھاؤ۔ مجھے اپنی عمر کی قسم ہے جو آدمی باطل جھاڑ پھونک سے کھائے تو وہ باطل اور ناجائز ہے تو نے تو سچّے دم سے کھایا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطب باب ١٩‘ مسند احمد ٥؍٢١١۔
اجارہ : تملیک منافع مع العوض کو کہا جاتا ہے تعلیم قرآن مجید پر اجرت کے سلسلہ میں ایک رائے یہ ہے تعلیم قرآن پر اجرت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نمبر 2: تعلیم قرآن پر اجرت جائز نہیں ہے اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطب باب ١٩‘ مسند احمد ٥؍٢١١۔
اجارہ : تملیک منافع مع العوض کو کہا جاتا ہے تعلیم قرآن مجید پر اجرت کے سلسلہ میں ایک رائے یہ ہے تعلیم قرآن پر اجرت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نمبر 2: تعلیم قرآن پر اجرت جائز نہیں ہے اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے۔
5885
Al Tahawi۵۸۸۴: وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَامّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْمُرَادِیُّ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِیْ بِشْرٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیْ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانُوْا فِیْ غُزَاۃٍ فَمَرُّوْا بِحَی مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ فَقَالُوْا : ہَلْ فِیْکُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ فَاِنَّ سَیِّدَ الْحَیِّ قَدْ لُدِغَ أَوْ قَدْ عَرَضَ لَہٗ شَیْئٌ .قَالَ : فَرَقَاہُ رَجُلٌ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَبَرَأَ فَأُعْطِیَ قَطِیْعًا مِنَ الْغَنَمِ فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہٗ۔فَسَأَلَ عَنْ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہٗ بِمَ رَقِیَتْہٗ؟ فَقَالَ : بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ .قَالَ : وَمَا یُدْرِیْکَ أَنَّہَا رُقْیَۃٌ ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُذُوْہَا وَاضْرِبُوْا لِیْ مَعَکُمْ فِیْہَا بِسَہْمٍ .فَاحْتَجَّ قَوْمٌ بِہٰذِہِ الْآثَارِ فَقَالُوْا لَا بَأْسَ بِالْجُعْلِ عَلَی تَعْلِیْمِ الْقُرْآنِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَکَرِہُوْا الْجُعْلَ عَلَی تَعْلِیْمِ الْقُرْآنِ کَمَا قَدْ یُکْرَہُ الْجُعْلُ عَلَی تَعْلِیْمِ الصَّلَاۃِ .وَقَدْ کَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ الْآثَارَ الْأُوَلَ فِیْ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنِ الْجُعْلُ الْمَذْکُوْرُ فِیْہَا عَلَی تَعْلِیْمِ الْقُرْآنِ وَاِنَّمَا کَانَ عَلَی الرُّقَی الَّتِیْ لَمْ یَقْصِدْ بِالْاِسْتِئْجَارِ عَلَیْہَا اِلَی الْقُرْآنِ .وَکَذٰلِکَ نَقُوْلُ نَحْنُ أَیْضًا : لَا بَأْسَ بِالْاِسْتِئْجَارِ عَلَی الرُّقَی وَالْعِلَاجَاتِ کُلِّہَا وَاِنْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّ الْمُسْتَأْجَرَ عَلٰی ذٰلِکَ قَدْ یَدْخُلُ فِیْمَا یَرْقِی بِہٖ بَعْضُ الْقُرْآنِ لِأَنَّہٗ لَیْسَ عَلَی النَّاسِ أَنْ یَرْقِیَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا فَاِذَا اُسْتُؤْجِرُوْا فِیْہِ عَلٰی أَنْ یَعْمَلُوْا مَا لَیْسَ عَلَیْہِمْ أَنْ یَعْمَلُوْھُ جَازَ ذٰلِکَ .وَتَعْلِیْمُ الْقُرْآنِ عَلَی النَّاسِ وَاجِبٌ أَنْ یُعَلِّمَہُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا لِأَنَّ فِیْ ذٰلِکَ التَّبْلِیغَ عَنِ اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّا أَنَّ مَنْ عَلِمَہٗ مِنْہُمْ أَجْزَیْ ذٰلِکَ مِنْ بَقِیَّتِہِمْ کَالصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَائِزِ اِنَّمَا ہِیَ فَرْضٌ عَلَی النَّاسِ جَمِیْعًا اِلَّا أَنَّ مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ مِنْہُمْ أَجْزَیْ عَنْ بَقِیَّتِہِمْ .وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَسْتَأْجَرَ رَجُلًا لِیُصَلِّیَ عَلَی وَلِیْ لَہٗ قَدْ مَاتَ لَمْ یَجُزْ ذٰلِکَ لِأَنَّہٗ اِنَّمَا اسْتَأْجَرَہُ عَلٰی أَنْ یَفْعَلَ مَا عَلَیْہِ أَنْ یَفْعَلَ ذٰلِکَ .فَکَذٰلِکَ تَعْلِیْمُ النَّاسِ الْقُرْآنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ہُوَ عَلَیْہِمْ فَرْضٌ اِلَّا أَنَّ مَنْ فَعَلَہٗ مِنْہُمْ فَقَدْ أَجْزَی فِعْلُہُ ذٰلِکَ عَنْ بَقِیَّتِہِمْ .فَاِذَا اسْتَأْجَرَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا عَلَی تَعْلِیْمِ ذٰلِکَ کَانَتْ اِجَارَتُہُ تِلْکَ وَاسْتِئْجَارُہُ اِیَّاہُ بَاطِلًا لِأَنَّہٗ اِنَّمَا اسْتَأْجَرَہُ عَلٰی أَنْ یُؤَدِّیَ فَرْضًا ہُوَ عَلَیْہِ لِلّٰہِ تَعَالٰی وَفِیْمَا یَفْعَلُہُ لِنَفْسِہٖ لِأَنَّہٗ اِنَّمَا یَسْقُطُ عَنْہُ الْفَرْضُ بِفِعْلِہِ اِیَّاہُ وَالْاِجَارَاتُ اِنَّمَا تَجُوْزُ وَتُمْلَکُ بِہَا الْأَبْدَالُ فِیْمَا یَفْعَلُہُ الْمُسْتَأْجِرُوْنَ لِلْمُسْتَأْجَرَیْنِ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَہَلْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئٌ یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَکَرْتُ فِی الْمَنْعِ مِنْ الْاِسْتِئْجَارِ عَلَی تَعْلِیْمِ الْقُرْآنِ ؟ قِیْلَ لَہٗ : نَعَمْ قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّہٗ قَالَ لَا تَأْکُلُوْا بِالْقُرْآنِ .وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ قَالَ : کُنْتُ أُقْرِئُ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الصُّفَّۃِ الْقُرْآنَ فَأَہْدَیْ اِلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا عَلٰی أَنْ أَقْبَلَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی .فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِیْ اِنْ أَرَدْتُ أَنْ یُطَوِّقَک اللّٰہُ بِہَا قَوْسًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا .وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ کُلَّہٗ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَسَانِیدِہَا فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنَّا مِنْ کِتَابِنَا ہٰذَا فِی بَابِ التَّزْوِیْجِ عَلَی سُوْرَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ مِنْ کِتَابِ النِّکَاحِ .ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٨٨٤: ابوالمتوکل ناجی نے ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے کہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ میں شریک تھے۔ ان کا گزر ایک عرب قبیلہ کے پاس سے ہوا تو انھوں نے پوچھا کیا تم میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرلیتا ہے ہمارے قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا یا اس کو کوئی عارضہ پیش آگیا ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے فاتحہ الکتاب پڑھ کر دم کردیا تو اس نے بکریوں کا ایک گلہ دیا اس آدمی نے لینے سے انکار کردیا پھر اس آدمی نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا تو نے کس چیز سے دم کیا اس آدمی نے کہا فاتحۃ الکتاب سے۔ آپ نے فرمایا : تمہیں کیا معلوم کہ وہ جھاڑ کا کام دیتی ہے ابو سعید کہتے ہیں پھر آپ نے اس کو لینے کا حکم دیا اور فرمایا اس میں میرا بھی ایک حصہ رکھ لو۔ ان آثار کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تعلیم قرآن پر اجرت میں حرج نہیں۔ تعلیم قرآن پر اجرت جائز نہیں جس طرح کہ نماز کی تعلیم پر اجرت جائز نہیں۔ اس سلسلہ میں جو روایات پیش کی گئی ہیں ان میں جس اجرت کا ذکر ہے وہ قرآن مجید کی تعلیم پر نہیں وہ دم پر اجرت ہے اور اس میں قرآن مجید پر اجرت کا قصد نہیں کیا گیا اور اس میں تو ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ دم کرنے اور ہر قسم کے علاج معالجہ پر اجرت درست ہیں اگرچہ ہم یہ جانتے ہیں اس پر اجرت لینے والا بعض اوقات قرآن مجید کے کسی حصہ کے ساتھ بھی دم کرتا ہے۔ ایک دوسرے کو دم کرنا واجب نہیں فلہذا اگر وہ ایسے عمل پر اجارہ کریں جو ان پر لازم نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر لوگوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو قرآن مجید سکھائیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ہے مگر جو ان میں سے تعلیم دے گا تو وہ باقی لوگوں کی طرف سے کفایت کرنے والا ہوگا جیسا کہ نماز جنازہ تمام لوگوں پر فرض ہے مگر بعض کے ادا کرلینے سے باقی کی طرف سے کفایت ہوجائے گی اور اگر کوئی شخص کسی سے اپنے رشتہ دار کے نماز جنازہ پڑھنے کی اجرت مانگے تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اس عمل کی اجرت مانگ رہا ہے جو اس پر لازم ہے۔ اسی طرح قرآن مجید بھی ایک دوسرے کو سکھانا فرض ہے البتہ بعض کے سکھا دینے سے باقی کی طرف سے کفایت ہوجائے گی۔ فلہذا اگر کوئی کسی کو تعلیم قرآن کے لیے اجرت پر رکھے تو یہ اجارہ اور اجرت دونوں ناجائز ہیں کیونکہ اس فرض عمل پر اجارہ کیا ہے اور اس عمل کو سقوط فرض کے لیے اسے خود کرنا لازم تھا مگر اجاروں میں مزدور اپنے مستاجر کے لیے عمل کرتا ہے تبھی تو اجارہ درست ہوتا ہے اور وہ بدل کا مالک بنتا ہے۔ آپ نے تعلیم قرآن مجید کے سلسلے میں جو بات کہی ہے کیا اس پر کوئی چیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی منقول ہے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت سی روایات وارد ہیں مثلا ” لاتاکلوا بالقرآن “ نمبر ٢ حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں بعض اصحاب صفہ کو قرآن مجید پڑھاتا تھا۔ ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیہ میں دی اور اصرار کیا کہ اس کو راہ خدا کے لیے قبول فرمائیں۔ میں نے یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ذکر کی تو آپ نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کی کمان کا طوق ڈالیں تو اسے قبول کرلو۔
تخریج : بخاری فی الطب باب ٣٣‘ مسلم فی السلام ٦٥؍٦٦‘ مسند احمد ٣‘ ٢؍٤٤۔
فریق اول کا مؤقف : ان آثار کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تعلیم قرآن پر اجرت میں حرج نہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف : تعلیم قرآن پر اجرت جائز نہیں جس طرح کہ نماز کی تعلیم پر اجرت جائز نہیں۔
مؤقف اول کا جواب : اس سلسلہ میں جو روایات پیش کی گئی ہیں ان میں جس اجرت کا ذکر ہے وہ قرآن مجید کی تعلیم پر نہیں وہ دم پر اجرت ہے اور اس میں قرآن مجید پر اجرت کا قصد نہیں کیا گیا اور اس میں ت وہم بھی یہی کہتے ہیں کہ دم کرنے اور ہر قسم کے علاج معالجہ پر اجرت درست ہیں اگرچہ ہم یہ جانتے ہیں اس پر اجرت لینے والا بعض اوقات قرآن مجید کے کسی حصہ کے ساتھ بھی دم کرتا ہے۔
وجہ جواز : ایک دوسرے کو دم کرنا واجب نہیں فلہذا اگر وہ ایسے عمل پر اجارہ کریں جو ان پر لازم نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر لوگوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو قرآن مجید سکھائیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ہے مگر جو ان میں سے تعلیم دے گا تو وہ باقی لوگوں کی طرف سے کفایت کرنے والا ہوگا جیسا کہ نماز جنازہ تمام لوگوں پر فرض ہے مگر بعض کے ادا کرلینے سے باقی کی طرف سے کفایت ہوجائے گی اور اگر کوئی شخص کسی سے اپنے رشتہ دار کے نماز جنازہ پڑھنے کی اجرت مانگے تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اس عمل کی اجرت مانگ رہا ہے جو اس پر لازم ہے۔ اسی طرح قرآن مجید بھی ایک دوسرے کو سکھانا فرض ہے البتہ بعض کے سکھا دینے سے باقی کی طرف سے کفایت ہوجائے گی۔
فلہذا اگر کوئی کسی کو تعلیم قرآن کے لیے اجرت پر رکھے تو یہ اجارہ اور اجرت دونوں ناجائز ہیں کیونکہ اس فرض عمل پر اجارہ کیا ہے اور اس عمل کو سقوط فرض کے لیے اسے خود کرنا لازم تھا مگر اجاروں میں مزدور اپنے مستاجر کے لیے عمل کرتا ہے تبھی تو اجارہ درست ہوتا ہے اور وہ بدل کا مالک بنتا ہے۔
سوال : آپ نے تعلیم قرآن مجید کے سلسلے میں جو بات کہی ہے کیا اس پر کوئی چیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی منقول ہے۔
جواب : اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت سی روایات وارد ہیں مثلا ” لاتاکلوا بالقرآن “ نمبر ٢ حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں بعض اصحاب صفہ کو قرآن مجید پڑھاتا تھا۔ ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیہ میں دی اور اصرار کیا کہ میں اس کو راہ خدا کے لیے قبول فرمائیں۔ میں نے یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ذکر کی تو آپ نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کی کمان کا طوق ڈالیں تو اسے قبول کرلو۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ٣٦‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٨‘ مسند احمد ٥؍٣١٥۔
ہم نے ان روایات کو باب التزویج علی سورة من القرآن کتاب النکاح میں ذکر کیا ہے۔ اس سلسلہ کی مزید روایات ملاحظہ ہوں۔
تخریج : بخاری فی الطب باب ٣٣‘ مسلم فی السلام ٦٥؍٦٦‘ مسند احمد ٣‘ ٢؍٤٤۔
فریق اول کا مؤقف : ان آثار کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تعلیم قرآن پر اجرت میں حرج نہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف : تعلیم قرآن پر اجرت جائز نہیں جس طرح کہ نماز کی تعلیم پر اجرت جائز نہیں۔
مؤقف اول کا جواب : اس سلسلہ میں جو روایات پیش کی گئی ہیں ان میں جس اجرت کا ذکر ہے وہ قرآن مجید کی تعلیم پر نہیں وہ دم پر اجرت ہے اور اس میں قرآن مجید پر اجرت کا قصد نہیں کیا گیا اور اس میں ت وہم بھی یہی کہتے ہیں کہ دم کرنے اور ہر قسم کے علاج معالجہ پر اجرت درست ہیں اگرچہ ہم یہ جانتے ہیں اس پر اجرت لینے والا بعض اوقات قرآن مجید کے کسی حصہ کے ساتھ بھی دم کرتا ہے۔
وجہ جواز : ایک دوسرے کو دم کرنا واجب نہیں فلہذا اگر وہ ایسے عمل پر اجارہ کریں جو ان پر لازم نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر لوگوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو قرآن مجید سکھائیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ہے مگر جو ان میں سے تعلیم دے گا تو وہ باقی لوگوں کی طرف سے کفایت کرنے والا ہوگا جیسا کہ نماز جنازہ تمام لوگوں پر فرض ہے مگر بعض کے ادا کرلینے سے باقی کی طرف سے کفایت ہوجائے گی اور اگر کوئی شخص کسی سے اپنے رشتہ دار کے نماز جنازہ پڑھنے کی اجرت مانگے تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اس عمل کی اجرت مانگ رہا ہے جو اس پر لازم ہے۔ اسی طرح قرآن مجید بھی ایک دوسرے کو سکھانا فرض ہے البتہ بعض کے سکھا دینے سے باقی کی طرف سے کفایت ہوجائے گی۔
فلہذا اگر کوئی کسی کو تعلیم قرآن کے لیے اجرت پر رکھے تو یہ اجارہ اور اجرت دونوں ناجائز ہیں کیونکہ اس فرض عمل پر اجارہ کیا ہے اور اس عمل کو سقوط فرض کے لیے اسے خود کرنا لازم تھا مگر اجاروں میں مزدور اپنے مستاجر کے لیے عمل کرتا ہے تبھی تو اجارہ درست ہوتا ہے اور وہ بدل کا مالک بنتا ہے۔
سوال : آپ نے تعلیم قرآن مجید کے سلسلے میں جو بات کہی ہے کیا اس پر کوئی چیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی منقول ہے۔
جواب : اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت سی روایات وارد ہیں مثلا ” لاتاکلوا بالقرآن “ نمبر ٢ حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں بعض اصحاب صفہ کو قرآن مجید پڑھاتا تھا۔ ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیہ میں دی اور اصرار کیا کہ میں اس کو راہ خدا کے لیے قبول فرمائیں۔ میں نے یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ذکر کی تو آپ نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کی کمان کا طوق ڈالیں تو اسے قبول کرلو۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ٣٦‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٨‘ مسند احمد ٥؍٣١٥۔
ہم نے ان روایات کو باب التزویج علی سورة من القرآن کتاب النکاح میں ذکر کیا ہے۔ اس سلسلہ کی مزید روایات ملاحظہ ہوں۔
5886
Al Tahawi۵۸۸۵: مَا قَدْ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانٍ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ سَعِیْدِ بْنِ اِیَاسٍ الْجَرِیْرِیِّ عَنْ أَبِی الْعَلَائِ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشَّخِیرِ عَنْ أَخِیْہِ مُطَرِّفِ بْنِ الشَّخِیرِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ أَنَّہٗ قَالَ : قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ مُؤَذِّنًا لَا یَأْخُذُ عَلٰی أَذَانِہِ أَجْرًا فَکَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ بِالْأَجْرِ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا
٥٨٨٥: مطرف بن شخیر نے عثمان بن ابی العاص (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسا موذن مقرر کرو جو اذان پر اجرت نہ لے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجرت پر اذان کو ناپسند فرمایا۔
تخریج : ترمذی فی الصلاۃ باب ٤١‘ نسائی فی الاذان باب ٣٢‘ ابن ماجہ فی الاذان باب ٣‘ مسند احمد ٤؍٢١٧۔
روایت ابن عمر (رض) :
تخریج : ترمذی فی الصلاۃ باب ٤١‘ نسائی فی الاذان باب ٣٢‘ ابن ماجہ فی الاذان باب ٣‘ مسند احمد ٤؍٢١٧۔
روایت ابن عمر (رض) :
5887
Al Tahawi۵۸۸۶: مَا قَدْ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ التَّیْمِیُّ قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ یَحْیَی الْبَکَّائِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عُمَرَ اِنِّیْ أُحِبُّک فِی اللّٰہِ .فَقَالَ لَہٗ ابْنُ عُمَرَ لَکِنِّیْ أَبْغَضُک فِی اللّٰہِ لِأَنَّک تَبْغِی فِیْ أَذَانِک أَجْرًا وَتَأْخُذُ عَلَی الْأَذَانِ أَجْرًا .فَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا کَرَاہِیَۃَ الْاِسْتِئْجَارِ عَلَی الْأَذَانِ فَالْاِسْتِجْعَالُ عَلَی تَعْلِیْمِ الْقُرْآنِ کَذٰلِکَ أَیْضًا لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أُمِرَ بِالتَّبْلِیغِ عَنِ اللّٰہِ وَلَوْ آیَۃً مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ وَأَوْجَبَ اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّہِ التَّبْلِیغَ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْت رِسَالَتَہُ وَاللّٰہُ یَعْصِمُک مِنَ النَّاسِ .وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مِثْلِ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٨٨٦: یحییٰ البکاء سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر (رض) کو کہا مجھے اللہ تعالیٰ کی خاطر تم سے محبت ہے۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا مگر میں تم سے اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھتا ہوں کیونکہ تم اپنی اذان پر اجرت لیتے ہو ۔ ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ اذان پر کسی کو اجرت دے کر رکھنا مکروہ ہے اور قرآن مجید کی تعلیم پر اجارہ یہی حکم رکھتا ہے کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید کی ایک بھی آیت کو پہنچا دینے کا حکم فرمایا ہے اور اپنے پیغمبر پر تبلیغ کو فرض فرمایا اور فرمایا اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتارا گیا اس کو پہنچا دیں اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو آپ نے اپنی رسالت کی تبلیغ نہ کی اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ ” یا ایہا الرسول بلغ ماانزل الیک۔۔۔“ ۔
تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں مزید فرمایا :
تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں مزید فرمایا :
5888
Al Tahawi۵۸۸۷: فِیْمَا حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ وَاِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ جَمِیْعًا قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنْ أَبِیْ کَبْشَۃَ السَّلُوْلِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہٗ قَالَ : قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ آیَۃً مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ فِیْ ذٰلِکَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ .فَأَوْجَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عَلٰی أُمَّتِہِ التَّبْلِیغَ عَنْہُ .ثُمَّ قَدْ فَرَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ التَّبْلِیغِ عَنْہُ وَالْحَدِیْثِ عَنْ غَیْرِہِ فَقَالَ وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ أَیْ : وَلَا حَرَجَ عَلَیْکُمْ فِیْ أَنْ لَا تُحَدِّثُوْا عَنْہُمْ فِیْ ذٰلِکَ .فَالْاِسْتِجْعَالُ عَلٰی ذٰلِکَ اسْتِجْعَالٌ عَلَی الْفَرْضِ وَمَنِ اسْتَجْعَلَ جُعْلًا عَلَی عَمَلٍ یَعْمَلُہُ فِیْمَا افْتَرَضَ اللّٰہُ عَمَلَہٗ عَلَیْہِ فَذٰلِکَ عَلَیْہِ حَرَامٌ لِأَنَّہٗ اِنَّمَا یَعْمَلُہُ لِنَفْسِہٖ لِیُؤَدِّیَ بِہٖ فَرْضًا عَلَیْہِ .وَمَنِ اسْتَجْعَلَ جُعْلًا عَلَی عَمَلٍ یَعْمَلُہُ لِغَیْرِہِ مِنْ رُقْیَۃٍ أَوْ غَیْرِہَا وَاِنْ کَانَتْ بِقُرْآنٍ أَوْ عِلَاجٍ أَوْ مَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ فَذٰلِکَ جَائِزٌ وَالْاِسْتِجْعَالُ عَلَیْہِ حَلَالٌ .فَیَصِحُّ بِمَا ذَکَرْنَا مَعَانِیْ مَا قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ مِنَ النَّہْیِ وَمِنَ الْاِبَاحَۃِ وَلَا یَتَضَادَّ ذٰلِکَ فَیَتَنَافَی .وَہٰذَا کُلُّہٗ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .
٥٨٨٧: ابو کبشہ سلولی نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔” بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ آیَۃً ۔۔۔ “ کہ ایک آیت قرآن بھی ہو تو وہ بھی میری طرف سے پہنچاؤ اور بنی اسرائیل کی باتیں نقل کرنے میں حرج نہیں اور جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا : (فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ ) تو اسے اپنا ٹھکانا جہنم بنا لینا چاہیے۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت پر تبلیغ کو لازم فرمایا۔ پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کی طرف سے بات کے پہنچانے اور دوسروں سے بات نقل کرنے میں فرق کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ بنی اسرائیل سے بات بیان کرنے میں حرج نہیں یعنی تم پر ان سے بیان نہ کرنے میں کچھ گناہ نہیں۔ پس اس پر انعام و اجرت کو طلب کرنا جو کہ اس پر فرض ہے تو یہ فرض پر اجرت کو چاہنا ہے جو کہ اس پر حرام ہے کیونکہ وہ اپنی ذات کے لیے عمل کرنا ہے تاکہ فریضہ کی ادائیگی ہو اور جو عمل دوسرے کے لیے کیا جائے مثلاً جھاڑ پھونک وغیرہ اگرچہ قرآن مجید کی آیات سے ہو یا علاج وغیرہ اس پر اجرت جائز ہے اور حلال ہے۔ اس بات کو سامنے رکھنے سے آثار مذکورہ کے معانی درست ہوجاتے ہیں اور ان میں منافات اور تضاد نہیں رہتا۔ یہ تمام امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
تخریج : بخاری فی احادیث الانبیاء باب ٥٠‘ ترمذی فی العلم باب ١٣‘ دارمی فی المقدمہ باب ٤٦‘ مسند احمد ٢‘ ١٥٩؍٢٠٢۔
تخریج : بخاری فی احادیث الانبیاء باب ٥٠‘ ترمذی فی العلم باب ١٣‘ دارمی فی المقدمہ باب ٤٦‘ مسند احمد ٢‘ ١٥٩؍٢٠٢۔
5889
Al Tahawi۵۸۸۸: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْخَرَّازُ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَارِظٍ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ یَزِیْدَ قَدْ حَدَّثَہُمْ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ قَدْ حَدَّثَہُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ اِنَّ کَسْبَ الْحَجَّامِ خَبِیْثٌ .
٥٨٨٨: سائب بن یزید نے بیان کیا کہ حضرت رافع بن خدیج (رض) نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سینگی لگانے والے کی کمائی ناپاک ہے۔
تخریج : مسلم فی المساقاۃ ٤٠؍٤١‘ ترمذی فی البیوع باب ٤٦‘ نسائی فی الصید باب ١٥‘ مسند احمد ٣؍٤٦٤‘ ٤؍١٤١۔
اس سلسلہ میں ایک فریق کا قول یہ ہے کہ اجرت حجام حرام ہے اس قول کو امام احمد (رح) نے اختیار کیا ہے۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ یہ اجرت جائز ہے اور عدم جواز کی روایات تمام تر منسوخ ہیں۔ (العینی ص ٥٥٦)
تخریج : مسلم فی المساقاۃ ٤٠؍٤١‘ ترمذی فی البیوع باب ٤٦‘ نسائی فی الصید باب ١٥‘ مسند احمد ٣؍٤٦٤‘ ٤؍١٤١۔
اس سلسلہ میں ایک فریق کا قول یہ ہے کہ اجرت حجام حرام ہے اس قول کو امام احمد (رح) نے اختیار کیا ہے۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ یہ اجرت جائز ہے اور عدم جواز کی روایات تمام تر منسوخ ہیں۔ (العینی ص ٥٥٦)
5890
Al Tahawi۵۸۸۹: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ قَالَ : حَدَّثَنِی الْأَوْزَاعِیُّ قَالَ : حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَارِظٍ قَالَ : حَدَّثَنِی السَّائِبُ بْنُ یَزِیْدَ قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔
٥٨٨٩: سائب بن یزید نے بیان کیا کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) کو بیان کرتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح فرمایا۔
5891
Al Tahawi۵۸۹۰: وَحَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ وَاِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ جَمِیْعًا قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ قَالَ : ثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِیْ مَعْرُوْفٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ مِنْ السُّحْتِ کَسْبَ الْحَجَّامِ .
٥٨٩٠: عطاء نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سینگی لگانے والے کی کمائی حرام ہے۔
5892
Al Tahawi۵۸۹۱: حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ : ثَنَا شِہَابٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِیْ لَیْلَی عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔
٥٨٩١: عطاء نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
5893
Al Tahawi۵۸۹۲: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْجَارُوْدِ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ بَیَانٍ الْوَاسِطِیُّ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ الْقَطَّانُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہٗ قَالَ : قَدْ حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَسْبَ الْحَجَّامِ .
٥٨٩٢: عبدالعزیز بن زیاد نے حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجام کی کمائی کو حرام قرار دیا۔