Al Tahawi
24. قربانى کا بیان
الطحاوي
6052
Al Tahawi۶۰۵۰: حَدَّثَنَا أَبُوْ مُوْسَیْ یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَابْنُ لَہِیْعَۃَ ، وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ حَدَّثَہُمْ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ فَیْرُوْزَ مَوْلٰی بَنِی شَیْبَانَ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ سَأَلَہٗ عَمَّا کَرِہَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِیّ ، أَوْ مَا نَہٰی عَنْہُ .فَقَالَ : قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَدِی أَقْصَرُ مِنْ یَدِہٖ، فَقَالَ أَرْبَعٌ لَا یُجْزِئُ فِی الضَّحَایَا ، الْعَوْرَائُ الْبَیِّنُ عَوَرُہَا ، وَالْعَرْجَائُ الْبَیِّنُ عَرَجُہَا ، وَالْمَرِیْضَۃُ الْبَیِّنُ مَرَضُہَا ، وَالْعَجْفَائُ الَّتِیْ لَا تُنْقِی .قَالَ الْبَرَائُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : فَلَقَدْ رَأَیْتُنِیْ وَاِنِّیْ لَأَرَی الشَّاۃَ وَقَدْ تُرِکَتْ ، فَأَسِیْرُ اِلَیْہَا ، فَاِذَا طَرَفَتْ ، أَخَذْتُہَا فَضَحَّیْتُ بِہَا .فَقُلْتُ لَہٗ : فَاِنِّیْ أَکْرَہُ أَنْ یَکُوْنَ فِی السِّنِّ نَقْصٌ ، أَوْ فِی الْأُذُنِ نَقْصٌ ، أَوْ فِی الْقَرْنِ نَقْصٌ .فَقَالَ : مَا کَرِہْتَ فَدَعْہٗ، وَلَا تُحَرِّمْہُ عَلٰی أَحَدٍ .
٦٠٥٠: عبید بن فیروز مولیٰ بنی شیبان نے حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت کیا ہے کہ کون سی قربانیاں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناپسند تھیں یا کن جانوروں کی قربانیوں سے آپ نے منع فرمایا تو وہ کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے میرے ہاتھ آپ کے ہاتھوں سے بہت چھوٹے ہیں آپ نے فرمایا قربانی میں چار قسم کے جانور جائز نہیں۔ کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ ! لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو۔ " ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو۔# ایسا دبلا جس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو۔
حضرت برائ (رض) فرماتے ہیں کہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں ایک بکری کو دیکھتا ہوں حالانکہ میں اسے چھوڑ چکا ہوں پھر میں اس کی طرف جاتا ہوں جب میں اسے چھی طرح دیکھتا ہوں تو اس کی قربانی کرتا ہوں میں نے ان سے کہا میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ دانت میں نقصان ہو یا کان میں کوئی عیب ہو یا سینگ میں نقص ہو تو انھوں نے فرمایا جسے تم ناپسند کرتے ہو اسے چھوڑ دو ۔ لیکن اسے کسی دوسرے پر حرام نہ کرو۔
تخریج : ترمذی فی الاضاحی باب ٥‘ نسائی فی الضحایا باب ٧‘ دارمی فی الاضاحی باب ٣‘ مالک فی الضحایا ١‘ مسند احمد ٤؍٣٠١۔
قربانی اور ہدی کے طور پر عیب دار جانور درست نہیں خصوصاً وہ عیوب جو ان روایات میں مذکور ہیں ان چار عیوب میں حصر نہیں ان کے علاوہ بھی کچھ عیوب ایسے ہیں جن کے ہوتے ہوئے ہدی و قربانی درست نہیں۔
فریق اول : یہی چار عیوب ہوں گے تو قربانی و ہدی درست نہ ہوگی ورنہ درست ہے۔
فریق ثانی : ان کے علاوہ بھی کئی ایسے عیوب ہیں جو جانور کی قیمت میں کمی کردیتے ہیں وہ بھی پائے جائیں تو قربانی نہ ہوگی اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے۔
حضرت برائ (رض) فرماتے ہیں کہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں ایک بکری کو دیکھتا ہوں حالانکہ میں اسے چھوڑ چکا ہوں پھر میں اس کی طرف جاتا ہوں جب میں اسے چھی طرح دیکھتا ہوں تو اس کی قربانی کرتا ہوں میں نے ان سے کہا میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ دانت میں نقصان ہو یا کان میں کوئی عیب ہو یا سینگ میں نقص ہو تو انھوں نے فرمایا جسے تم ناپسند کرتے ہو اسے چھوڑ دو ۔ لیکن اسے کسی دوسرے پر حرام نہ کرو۔
تخریج : ترمذی فی الاضاحی باب ٥‘ نسائی فی الضحایا باب ٧‘ دارمی فی الاضاحی باب ٣‘ مالک فی الضحایا ١‘ مسند احمد ٤؍٣٠١۔
قربانی اور ہدی کے طور پر عیب دار جانور درست نہیں خصوصاً وہ عیوب جو ان روایات میں مذکور ہیں ان چار عیوب میں حصر نہیں ان کے علاوہ بھی کچھ عیوب ایسے ہیں جن کے ہوتے ہوئے ہدی و قربانی درست نہیں۔
فریق اول : یہی چار عیوب ہوں گے تو قربانی و ہدی درست نہ ہوگی ورنہ درست ہے۔
فریق ثانی : ان کے علاوہ بھی کئی ایسے عیوب ہیں جو جانور کی قیمت میں کمی کردیتے ہیں وہ بھی پائے جائیں تو قربانی نہ ہوگی اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے۔
6053
Al Tahawi۶۰۵۱: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ فَیْرُوْزَ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ : مَاذَا یُتَّقَی مِنْ الضَّحَایَا ؟ فَأَشَارَ بِیَدِہٖ وَقَالَ أَرْبَعًا .وَکَانَ الْبَرَائُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُشِیْرُ بِیَدِہٖ وَیَقُوْلُ : یَدِی أَقْصَرُ مِنْ یَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، الْعَرْجَائُ الْبَیِّنُ ضِلْعُہَا وَالْعَوْرَائُ الْبَیِّنُ عَوَرُہَا ، وَالْمَرِیْضَۃُ الْبَیِّنُ مَرَضُہَا ، وَالْعَجْفَائُ الَّتِیْ لَا تُنْقِی .
٦٠٥١: عبید بن فیروز نے حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت کی ہے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ سے پوچھا گیا قربانی کے کن جانوروں سے پرہیز کرنا چاہیے ؟ تو آپ نے اپنے دست اقدس سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا چار۔ حضرت برائ (رض) اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے اور کہتے میرا ہاتھ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ سے بہت چھوٹا ہے لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔ کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ ایسا بیمار جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو اور ایسا لاغر جس میں مغز نہ رہا ہو۔
6054
Al Tahawi۶۰۵۲: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ ، وَحَبَّانُ بْنُ ہِلَالٍ ، ح .وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : سَمِعْت عُبَیْدَ بْنَ فَیْرُوْزَ قَالَ : سَأَلْت الْبَرَائَ ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔
٦٠٥٢: ابراہیم بن مرزوق اور علی بن شیبہ دونوں نے اپنی سند کے ساتھ عبید بن فیروز سے نقل کیا کہ میں نے حضرت برائ (رض) سے پوچھا پھر انھوں نے اسی طرح روایت بیان کی۔
6055
Al Tahawi۶۰۵۳: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا أَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ وَالْعَجْفَائُ الَّتِیْ لَا تُنْقِی وَلَمْ یَقُلْ وَالْکَسِیْرَۃُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، فَقَالُوْا : لَا تُجْزِئُ شَاۃٌ ، وَلَا بَدَنَۃٌ ، وَلَا بَقَرَۃٌ ، اِذَا کَانَ بِہَا وَاحِدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْعُیُوْبِ الْأَرْبَعِ فِیْ ہَدْیٍ وَلَا أُضْحِیَّۃٍ .قَالُوْا : وَمَا کَانَ سِوَیْ ہٰذِہِ الْأَرْبَعِ ، مِثْلُ قَطْعِ الْأَلْیَۃِ وَالْأُذُنِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ ، فَاِنَّ ذٰلِکَ لَا یَمْنَعُ الشَّاۃَ ، وَلَا الْبَقَرَۃَ وَلَا الْبَدَنَۃَ أَنْ تُہْدَی وَلَا أَنْ یُضَحَّی بِہَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ،
٦٠٥٣: ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت کی ہے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ البتہ انھوں نے ” العجفاء التی لاتنقی “ تو کہا مگر الکبیرۃ کا لفظ ساتھ نہیں کہا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : بعض لوگوں نے اس روایت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا کہ بکری ‘ اونٹ اور گائے جس میں ان چاروں عیوب میں سے کوئی عیب ہو وہ بطور ہدی اور قربانی کے جائز نہیں ان کے علاوہ جس کی چکی یا کان کٹا ہوا ہو اس کو ہدی کے طور پر دینا منع نہیں انھوں نے مزید دلیل دیتے ہوئے یہ روایت بھی پیش کی جس کو ابو سعید خدری (رض) نے نقل کیا ہے۔
6056
Al Tahawi۶۰۵۴: بِمَا حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، وَشَرِیْکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : اشْتَرَیْتُ کَبْشًا لِأُضَحِّیَ بِہٖ ، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَیْہٖ، فَقَطَعَ أَلْیَتَہٗ، فَسَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِہٖ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ أَنْ یُضَحِّیَ بِالشَّاۃِ ، وَلَا بِالْبَقَرَۃِ ، وَلَا بِالْبَدَنَۃِ ، وَبِہَا عَیْبٌ مِنْ ہٰذِہِ الْعُیُوْبِ الْأَرْبَعِ ، وَلَا یَجُوْزُ مَعَ ذٰلِکَ أَیْضًا أَنْ یُضَحِّیَ بِمَقْطُوْعَۃِ الْأُذُنِ ، وَلَا أَنْ یُہْدِیَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ، بِمَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .
٦٠٥٤: محمد بن قرظہ نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے نقل کیا کہ میں نے قربانی کے لیے ایک دنبہ خریدا۔ بھیڑیا اس پر حملہ آور ہوا اور اس نے چکی کو کاٹ لیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا تم اس کی قربانی کر دو ۔ دوسرے حضرات کا قول یہ ہے کہ گائے اونٹ اور بکری کی قربانی جائز نہیں جبکہ اس میں ان چاروں عیبوں میں سے کوئی عیب پایا جاتا ہو یا اس کا کان کٹا ہوا ہو اور نہ ہی ایسے جانور کو بطو ہدی بھیجا جاسکتا ہے دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : مسند احمد جلد ٣ صفحہ ٣٢۔
تخریج : مسند احمد جلد ٣ صفحہ ٣٢۔
6057
Al Tahawi۶۰۵۵: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرِ بْنِ مَطَرٍ الْبَغْدَادِیُّ ، قَالَ : ثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ خَیْثَمَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُو اِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَیْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یُضَحَّی بِمُقَابَلَۃٍ وَلَا مُدَابَرَۃٍ ، وَلَا خَرْقَائَ ، وَلَا شَرْقَائَ ، وَلَا عَوْرَائَ .
٦٠٥٥: شریح بن نعمان نے حضرت علی (رض) سے نقل کیا ہے اور انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے فرمایا کہ اس جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا کان اگلی جانب سے یا پچھلی جانب سے کٹا ہوا ہو اور نہ ایسے جانور کی جس کا کان پھٹا ہوا یا چرا ہوا ہو اور نہ ہی اس جانور کی جو کانا ہو۔
تخریج : نسائی فی الضحایا باب ١١۔
تخریج : نسائی فی الضحایا باب ١١۔
6058
Al Tahawi۶۰۵۶: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو اِسْحَاقَ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ : أَبُو اِسْحَاقَ ، وَکَانَ رَجُلَ صِدْقٍ ، عَنْ عَلِی ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔
٦٠٥٦: ابو اسحاق روایت کرتے ہیں کہ شریح بن نعمان نے کہا اور وہ سچے آدمی تھے انھوں نے علی المرتضیٰ (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے۔
6059
Al Tahawi۶۰۵۷: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ : سَمِعْت جُرَیَّ بْنَ کُلَیْبٍ ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ عَضْبَائِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ .قَالَ قَتَادَۃُ : فَقُلْت لِسَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ : مَا عَضْبَائُ الْأُذُنِ ؟ قَالَ : اِذَا کَانَ النِّصْفُ فَأَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ - مَقْطُوْعًا .
٦٠٥٧: جریح بن کلیب کہتے ہیں کہ میں نے علی المرتضیٰ (رض) کو فرماتے سنا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عضباء القرن والاذن سے منع فرمایا قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ اس کا کیا معنی ہے تو وہ فرمانے لگے جس کا آدھا سینگ اور کان یا اس سے زیادہ کٹا ہوا ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی الاضاحی باب ٦‘ ترمذی فی الاضاحی باب ٩‘ نسائی فی الضحایا باب ١٢‘ ابن ماجہ فی الاضاحی باب ٨‘ مسند احمد جلد ١‘ صفحہ ٨٣‘ ١٠٩‘ ١٢٧۔
تخریج : ابو داؤد فی الاضاحی باب ٦‘ ترمذی فی الاضاحی باب ٩‘ نسائی فی الضحایا باب ١٢‘ ابن ماجہ فی الاضاحی باب ٨‘ مسند احمد جلد ١‘ صفحہ ٨٣‘ ١٠٩‘ ١٢٧۔
6060
Al Tahawi۶۰۵۸: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَیْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الْہَمْدَانِیِّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُضَحَّی بِمُقَابَلَۃٍ ، أَوْ مُدَابَرَۃٍ ، أَوْ شَرْقَائَ ، أَوْ خَرْقَائَ ، أَوْ جَدْعَائَ .
٦٠٥٨: شریح بن نعمان ہمدانی نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کے کان کا اگلا حصہ یا پچھلا حصہ کٹا ہوا یا پھٹا ہوا یا چرا ہوا ہو یا وہ جانور جس کی ناک کٹی ہو۔
تخریج : نسائی فی الضحایا باب ١٠‘ ابن ماجہ فی الاضاحی باب ٨‘ مسند احمد جلد ١؍٨٠۔
تخریج : نسائی فی الضحایا باب ١٠‘ ابن ماجہ فی الاضاحی باب ٨‘ مسند احمد جلد ١؍٨٠۔
6061
Al Tahawi۶۰۵۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ أَخْبَرَنِی ابْنُ وَہْبٍ قَالَ .أَخْبَرَنِیْ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ حُجَیَّۃَ بْنِ عَدِیْ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَیْنَ وَالْأُذُنَ .
٦٠٥٩: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قربانی سے پہلے جانور کے آنکھ ‘ کان اچھی طرح جانچ لیں۔