Al Tahawi
19. رہن کا بیان
الطحاوي
5754
Al Tahawi۵۷۵۳: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ : أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِیْ زَائِدَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الظَّہْرُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہِ اِذَا کَانَ مَرْہُوْنًا وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ بِنَفَقَتِہِ اِذَا کَانَ مَرْہُوْنًا .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ لِلرَّاہِنِ أَنْ یَرْکَبَ الرَّہْنَ بِحَقِّ نَفَقَتِہِ عَلَیْہِ وَیَشْرَبَ لَبَنَہُ أَیْضًا بِحَقِّ نَفَقَتِہِ عَلَیْہِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَیْسَ لِلرَّاہِنِ أَنْ یَرْکَبَ الرَّہْنَ وَلَا یَشْرَبَ لَبَنَہُ وَہُوَ رَہْنٌ مَعَہٗ وَلَیْسَ لَہٗ أَنْ یَنْتَفِعَ مِنْہُ بِشَیْئٍ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی أَنَّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ الَّذِی احْتَجُّوْا بِہٖ حَدِیْثٌ مُجْمَلٌ لَمْ یُبَیِّنْ فِیْہِ مَنِ الَّذِیْ یَرْکَبُ وَیَشْرَبُ اللَّبَنَ ؟ فَمِنْ أَیْنَ جَازَ لَہُمْ أَنْ یَجْعَلُوْھُ الرَّاہِنَ دُوْنَ أَنْ یَجْعَلُوْھُ الْمُرْتَہِنَ ؟ ہٰذَا لَا یَکُوْنُ لِأَحَدٍ اِلَّا بِدَلِیْلٍ یَدُلُّہُ عَلٰی ذٰلِکَ اِمَّا مِنْ کِتَابٍ .أَوْ سُنَّۃٍ أَوْ اِجْمَاعٍ .وَمَعَ ذٰلِکَ فَقَدْ رَوَیْ ہٰذَا الْحَدِیْثَ ہُشَیْمٌ وَبَیَّنَ فِیْہِ مَا لَمْ یُبَیِّنْ یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ .
٥٧٥٣: شعبی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ مرہونہ جانور پر اس کے خرچہ کے بدلے سواری کرنا اور دودھ والے جانور کے خرچہ کے عوض اس کا دودھ دوہنا ‘ پینا جائز ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ رہن رکھنے والے کو مرہونہ چیز پر خرچے کے عوض سواری کرنا اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا رہن رکھنے والے کو مرہونہ جانور پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اس شئی سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔ جس حدیث سے استدلال کیا گیا وہ مجمل ہے اس میں وضاحت نہیں ہے کہ سواری کس کو جائز ہے اور دودھ کون پی سکتا ہے فریق اول کو یہ حق نہیں کہ اس نفع اٹھانے والے سے راہن مراد لیں اور مرتہن قرار نہ دیں۔ کوئی شخص بھی کسی ایسی دلیل کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا جو اس بات پر صاف دلالت کرے خواہ وہ دلیل قرآن مجید سے ہو یا حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یا اجماع امت سے۔ اس روایت کو ہشیم نے اپنی سند سے بیان کیا اور اس میں وہ وضاحت ذکر کی جو کہ یزید بن ہارون نے ذکر نہیں کی۔ روایت ہشیم یہ ہے۔
تخریج : بخاری فی الرہن باب ٤‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٧٦‘ ترمذی فی البیوع باب ٣١‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٢‘ مسند احمد ٢‘ ٢٢٨؍٤٧٢۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ رہن رکھنے والے کو مرہونہ چیز پر خرچے کے عوض سواری کرنا اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : رہن رکھنے والے کو مرہونہ جانور پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اس شئی سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔
فریق اول کی دلیل کا جواب نمبر 1: جس حدیث سے استدلال کیا گیا وہ مجمل ہے اس میں وضاحت نہیں ہے کہ سواری کس کو جائز ہے اور دودھ کون پی سکتا ہے فریق اول کو یہ حق نہیں کہ اس نفع اٹھانے والے سے راہن مراد لیں اور مرتہن قرار نہ دیں۔ کوئی شخص بھی کسی ایسی دلیل کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا جو اس بات پر صاف دلالت کرے خواہ وہ دلیل قرآن مجید سے یا حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یا اجماع امت سے۔
نمبر 2: اس روایت کو ہشیم نے اپنی سند سے بیان کیا اور اس میں وہ وضاحت ذکر کی جو کہ یزید بن ہارون نے ذکر نہیں کی۔ روایت ہشیم ملاحظہ ہو۔
نمبر 1: مرہونہ جانور کا خرچہ دے کر اس پر سواری وغیرہ کی جاسکتی ہے اس قول کو امام اسحاق ‘ احمد رحمہما اللہ نے اختیار کیا ہے۔ نمبر 2: امام ابوحنیفہ ‘ مالک ‘ شافعی ‘ جمہور علماء رحمہم اللہ کے ہاں مرتہن مرہونہ شئی سے نفع حاصل نہیں کرسکتا۔
تخریج : البذل ج ٤ ٢٩٤‘ استعلیق ج ٣‘ ٣٣٦۔
فریق اول کا قول : راہن کو مرہونہ شئی اگر جانور ہو تو اس پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا اس خرچہ کے عوض جو اس پر کیا جائے جائز ہے۔ یہ روایت اس کی دلیل ہے۔
تخریج : بخاری فی الرہن باب ٤‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٧٦‘ ترمذی فی البیوع باب ٣١‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٢‘ مسند احمد ٢‘ ٢٢٨؍٤٧٢۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ رہن رکھنے والے کو مرہونہ چیز پر خرچے کے عوض سواری کرنا اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : رہن رکھنے والے کو مرہونہ جانور پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اس شئی سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔
فریق اول کی دلیل کا جواب نمبر 1: جس حدیث سے استدلال کیا گیا وہ مجمل ہے اس میں وضاحت نہیں ہے کہ سواری کس کو جائز ہے اور دودھ کون پی سکتا ہے فریق اول کو یہ حق نہیں کہ اس نفع اٹھانے والے سے راہن مراد لیں اور مرتہن قرار نہ دیں۔ کوئی شخص بھی کسی ایسی دلیل کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا جو اس بات پر صاف دلالت کرے خواہ وہ دلیل قرآن مجید سے یا حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یا اجماع امت سے۔
نمبر 2: اس روایت کو ہشیم نے اپنی سند سے بیان کیا اور اس میں وہ وضاحت ذکر کی جو کہ یزید بن ہارون نے ذکر نہیں کی۔ روایت ہشیم ملاحظہ ہو۔
نمبر 1: مرہونہ جانور کا خرچہ دے کر اس پر سواری وغیرہ کی جاسکتی ہے اس قول کو امام اسحاق ‘ احمد رحمہما اللہ نے اختیار کیا ہے۔ نمبر 2: امام ابوحنیفہ ‘ مالک ‘ شافعی ‘ جمہور علماء رحمہم اللہ کے ہاں مرتہن مرہونہ شئی سے نفع حاصل نہیں کرسکتا۔
تخریج : البذل ج ٤ ٢٩٤‘ استعلیق ج ٣‘ ٣٣٦۔
فریق اول کا قول : راہن کو مرہونہ شئی اگر جانور ہو تو اس پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا اس خرچہ کے عوض جو اس پر کیا جائے جائز ہے۔ یہ روایت اس کی دلیل ہے۔
5755
Al Tahawi۵۷۵۴: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ سَالِمٍ السَّائِغُ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ زَکَرِیَّا عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِذَا کَانَتْ الدَّابَّۃُ مَرْہُوْنَۃً فَعَلَی الْمُرْتَہِنِ عَلَفُہَا وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ وَعَلَی الَّذِیْ یَشْرَبُ نَفَقَتُہَا وَیَرْکَبُ .فَدَلَّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ أَنَّ الْمَعْنِیَّ بِالرُّکُوْبِ وَشُرْبِ اللَّبَنِ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ ہُوَ الْمُرْتَہِنُ لَا الرَّاہِنُ فَجَعَلَ ذٰلِکَ لَہٗ وَجُعِلَتْ النَّفَقَۃُ عَلَیْہِ بَدَلًا مِمَّا یَتَعَوَّضُ مِنْہُ مِمَّا ذَکَرْنَا .وَکَانَ ہٰذَا عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - فِیْ وَقْتِ مَا کَانَ الرِّبَا مُبَاحًا وَلَمْ یُنْہَ حِیْنَئِذٍ عَنِ الْقَرْضِ الَّذِیْ یَجُرُّ مَنْفَعَۃً وَلَا عَنْ أَخْذِ الشَّیْئِ بِالشَّیْئِ وَاِنْ کَانَا غَیْرَ مُتَسَاوِیَیْنِ ثُمَّ حُرِّمَ الرِّبَا بَعْدَ ذٰلِکَ وَحُرِّمَ کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا وَأَجْمَعَ أَہْلُ الْعِلْمِ أَنَّ نَفَقَۃَ الرَّہْنِ عَلَی الرَّاہِنِ لَا عَلَی الْمُرْتَہِنِ وَأَنَّہٗ لَیْسَ لِلْمُرْتَہِنِ اسْتِعْمَالُ الرَّہْنِ .فَمَا رُوِیَ فِیْ نَسْخِ الرِّبَا
٥٧٥٤: ہشیم عن زیادہ عن شعبی انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب جانور مرہونہ نہ ہو تو مرتہن کے ذمہ اس کا چارہ ہے اور وہ اس کے دودھ کو استعمال کرسکتا ہے اور خرچہ اس کے ذمہ ہے جو دودھ استعمال کرے وہ سواری کرسکتا ہے اور اس پر اس جانور کا خرچہ ہے۔ اس حدیث سے یہ دلالت مل گئی کہ پہلی روایت میں سوار ہونے دودھ پینے اور نفع اٹھانے کا حکم مرتہن کے لیے ہے۔ راہن کے لیے نہیں اس بات کی اجازت بھی اسی کو دی گئی اور خرچہ بھی اسی پر لازم کیا گیا جو کہ اس کے نفع اٹھانے کا عوض ہے۔ ہمارے ہاں یہ حرمت ربا سے پہلے کی بات ہے اس وقت تک نفع والا قرض ممنوع نہ تھا اور کسی چیز کو دوسری چیز کے بدلے لینے کی ممانعت نہیں تھی اگرچہ وہ مساوی نہ ہوں پھر جب سود کو حرام کیا گیا تو ہر وہ قرض جو نفع لائے اس کو حرام قرار دے دیا گیا اور تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہوگیا کہ مال مرہونہ کا نفقہ راہن پر ہے مرتہن کے ذمہ نہیں مرتہن کو رہن کے استعمال کا حق نہیں ہے۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٢٢٨۔
نسخ ربا کی روایت :
تخریج : مسند احمد ٢؍٢٢٨۔
نسخ ربا کی روایت :
5756
Al Tahawi۵۷۵۵: مَا حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُوْرٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ أَبِی الضُّحَیْ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتِ الْآیَاتُ الَّتِیْ فِیْ آخِرِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَہُنَّ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَۃَ فِیْ بَیْعِ الْخَمْرِ .
٥٧٥٥: مسروق نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جب سورة بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ان آیات کو لوگوں کے سامنے پڑھا پھر شراب فروخت کرنے کی تجارت کو حرام قرار دیا گیا۔
تخریج : بخاری فی تفسیر سورة ٢‘ باب ٤٩‘ مسلم فی المساقات ٧٠‘ ابن ماجہ فی الاشربہ باب ٧‘ دارمی فی البیوع باب ٣٥‘ مسند احمد ٦؍٤٦‘ ١٠٠‘ ١٩٠۔
تخریج : بخاری فی تفسیر سورة ٢‘ باب ٤٩‘ مسلم فی المساقات ٧٠‘ ابن ماجہ فی الاشربہ باب ٧‘ دارمی فی البیوع باب ٣٥‘ مسند احمد ٦؍٤٦‘ ١٠٠‘ ١٩٠۔
5757
Al Tahawi۵۷۵۶: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ ثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیَیْ عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مَنْصُوْرٌ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ مِثْلَہٗ۔فَلَمَّا حُرِّمَ الرِّبَا حُرِّمَتْ أَشْکَالُہُ کُلُّہَا وَرُدَّتِ الْأَشْیَائُ الْمَأْخُوْذَۃُ اِلٰی أَبْدَالِہَا الْمُسَاوِیَۃِ لَہَا وَحُرِّمَ بَیْعُ اللَّبَنِ فِی الضُّرُوْعِ فَدَخَلَ فِیْ ذٰلِکَ النَّہْیُ عَنِ النَّفَقَۃِ الَّتِیْ یَمْلِکُ بِہَا الْمُنْفِقُ لَبَنًا فِی الضُّرُوْعِ وَتِلْکَ النَّفَقَۃُ فَغَیْرُ مَوْقُوْفٍ عَلَی مِقْدَارِہَا وَاللَّبَنُ کَذٰلِکَ أَیْضًا .فَارْتَفَعَ بِنَسْخِ الرِّبَا أَنْ تَجِبَ النَّفَقَۃُ عَلَی الْمُرْتَہِنِ بِالْمَنَافِعِ الَّتِیْ یَجِبُ لَہٗ عِوَضُہَا مِنْہَا وَبِاللَّبَنِ الَّذِیْ یَحْتَلِبُہٗ فَیَشْرَبُہُ وَیُقَالُ لِمَنْ صَرَفَ ذٰلِکَ اِلَی الرَّاہِنِ فَجَعَلَ لَہٗ اسْتِعْمَالَ الرَّہْنِ : أَیَجُوْزُ لِلرَّاہِنِ أَنْ یَرْہَنَ رَجُلًا دَابَّۃً ہُوَ رَاکِبُہَا ؟ فَلَا یَجِدُ بُدًّا مِنْ أَنْ یَقُوْلَ : لَا .فَیُقَالُ لَہٗ : فَاِذَا کَانَ الرَّاہِنُ لَا یَجُوْزُ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ مُخَلًّیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْمُرْتَہِنِ فَیَقْبِضُہُ وَیَصِیرُ فِیْ یَدِہِ دُوْنَ یَدِ الرَّاہِنِ کَمَا وَصَفَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الرَّہْنَ بِقَوْلِہٖ فَرِہَانٌ مَقْبُوْضَۃٌ فَیَقُوْلُ : نَعَمْ .فَیُقَالُ لَہٗ : فَلَمَّا لَمْ یَجُزْ أَنْ یَسْتَقْبِلَ الرَّہْنَ عَلٰی مَا الرَّاہِنُ رَاکِبُہٗ لَمْ یَجُزْ ثُبُوْتُہُ فِیْ یَدِہِ بَعْدَ ذٰلِکَ رَہْنًا بِحَقِّہِ اِلَّا لِذٰلِکَ أَیْضًا لِأَنَّ دَوَامَ الْقَبْضِ لَا بُدَّ مِنْہُ فِی الرَّہْنِ اِذَا کَانَ الرَّاہِنُ اِنَّمَا ہُوَ احْتِبَاسُ الْمُرْتَہِنِ لِلشَّیْئِ الْمَرْہُوْنِ بِالدَّیْنِ وَفِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا مَا یَمْنَعُ الْمُرْتَہِنَ مِنِ اسْتِخْدَامِ الْأَمَۃِ الرَّہْنِ لِأَنَّہَا تَرْجِعُ بِذٰلِکَ اِلٰی حَالٍ لَا یَجُوْزُ عَلَیْہَا اسْتِقْبَالُ الرَّہْنِ .وَحُجَّۃٌ أُخْرَی : أَنَّہُمْ قَدْ أَجْمَعُوْا أَنَّ الْأَمَۃَ الرَّہْنَ لَیْسَ لِلرَّاہِنِ أَنْ یَطَأَہَا وَلِلْمُرْتَہِنِ مَنْعُہُ مِنْ ذٰلِکَ .فَکَمَا کَانَ الْمُرْتَہِنُ یَمْنَعُ الرَّاہِنَ بِحَقِّ الرَّہْنِ مِنْ وَطْئِہَا کَانَ لَہٗ أَیْضًا أَنْ یَمْنَعَہُ بِحَقِّ الرَّہْنِ مِنِ اسْتِخْدَامِہَا .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .
٥٧٥٦: مسلم نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ پس جب سود حرام کردیا گیا اور اس کی تمام صورتیں حرام ہوگئیں اور وہ سب اشیاء جو لی جاتی تھیں اپنے ہم شکل برابر بدل کی طرف لوٹ گئیں اور تھنوں میں دودھ کی فروخت کو حرام کردیا گیا تو اس میں اس نفقہ کی ممانعت بھی شامل ہوگئی جس سے خرچ کرنے والا تھنوں کے اندر دودھ کا مالک بن جاتا تھا نہ تو وہ خرچہ کسی مقدار پر موقوف تھا اور نہ ہی دودھ کی کوئی مقدار متعین تھی تو سود کی حرمت سے اس نفقہ کا وجوب اٹھ گیا جو ان منافع کے عوض ہوتا ہے جو اسے اس خرچہ کے سبب حاصل ہوتا ہے اور اس دودھ کے سبب (نفقہ لازم ہوتا تھا) جس کو وہ دوہتا اور پیتا ہے۔ جنہوں نے اس کو راہن کی طرف پھیرا اور اس کے لیے رہن کا استعمال جائز قرار دیا ان سے یہ سوال ہے کہ کیا راہن کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی شخص کے پاس ایک ایسا جانور رہن رکھے جس پر وہ خود سوار ہوتا ہو تو اس کو لازماً یہی جواب دینا پڑے گا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتا یعنی اپنی سواری کو رہن نہیں رکھ سکتا پس جب رہن اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ مرہونہ شئی اور مرتہن کے درمیان تنہائی کردی جائے اور وہ اس پر قبضہ بھی کرے اس طرح وہ چیز مرتہن کے قبضہ میں آجائے گی راہن کے پاس نہ رہے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” فرہان مقبوضۃ “ پس وہ رہن ہو جس پر قبضہ کرلیا گیا ہو تو وہ اس کے جواب میں۔ ہاں ! کہے گا۔ اب ہم اس سے کہیں گے کہ جب شروع میں ایسی چیز کا رہن بننا صحیح نہیں جس پر راہن سوار ہو تو مرتہن کے قبضہ میں داخل ہونے کے بعد مرہونہ شئی میں یہ بات کس طرح صحیح ہوگی (تصرف راہن درست نہ ہوگا) کیونکہ مرہونہ چیز پر قبضہ کا ہمیشہ پایا جانا ضروری ہے کیونکہ رہن کا مطلب ہی یہ ہے کہ مرتہن قرض کے بدلے میں مرہونہ شئی کو اپنے ہاں روک کر رکھے اور اس صورت میں وہ بات پائی جاتی ہے جو راہن کو مرہونہ لونڈی سے ہمبستری سے مانع ہے۔ کیونکہ اس فعل سے وہ اس حالت کی طرف لوٹ جائے گی جو چیز رہن کی ابتداء میں بھی جائز نہ تھی (قبضہ کا کسی وقت نہ پایا جانا) دوسری دلیل یہ ہے کہ اس بات پر سب کا اجماع ہے کہ مرہونہ لونڈی سے راہن جماع نہیں کرسکتا بلکہ مرتہن کو یہ حق حاصل یہ ہے کہ وہ اسے روکے تو جس طرح مرتہن رہن کی وجہ سے راہن کو وطی امہ مرہونہ سے منع کرسکتا ہے اسی طرح وہ حق رہن کی وجہ سے خدمت لینے سے بھی روک سکتا ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
امام شعبی (رح) کا قول :
امام شعبی (رح) کا قول :
5758
Al Tahawi۵۷۵۷: وَقَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ أَبِیْ خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ لَا یُنْتَفَعُ مِنَ الرَّہْنِ بِشَیْئٍ .فَہٰذَا الشَّعْبِیُّ یَقُوْلُ ہٰذَا وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ذَکَرْنَا .فَیَجُوْزُ عَلَیْہِ أَنْ یَکُوْنَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ یُحَدِّثُہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ ثُمَّ یَقُوْلُ ہُوَ بِخِلَافِہِ وَلَمْ یَثْبُتْ النَّسْخُ عِنْدَہٗ؟ فَلَئِنْ کَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ فَلَقَدْ صَارَ مُتَّہَمًا فِیْ رَأْیِہِ وَاِذَا کَانَ مُتَّہَمًا فِیْ رَأْیِہِ کَانَ مُتَّہَمًا فِیْ رِوَایَتِہٖ وَاِذَا ثَبَتَتْ لَہُ الْعَدَالَۃُ فِیْ رِوَایَتِہِ ثَبَتَ لَہُ الْعَدَالَۃُ فِیْ تَرْکِ خِلَافِہَا وَاِنْ وَہَبَ سُقُوْطَ أَحَدِ الْأَمْرَیْنِ وَہَبَ سُقُوْطَ الْآخَرِ .وَالْمُحْتَجُّ عَلَیْنَا بِحَدِیْثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ ہٰذَا یَقُوْلُ مَنْ رَوَیْ حَدِیْثًا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَہُوَ أَعْلَمُ بِتَأْوِیْلِہٖ .فَکَانَ یَجِیْئُ عَلٰی أَصْلِہِ وَیَلْزَمُہٗ فِی قَوْلِہٖ أَنْ یَقُوْلَ لِمَ قَالَ الشَّعْبِیُّ مَا ذَکَرْنَا مِمَّا یُخَالِفُ مَا رُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ ذٰلِکَ دَلِیْلًا عَلٰی نَسْخِہٖ۔
٥٧٥٧: اسماعیل بن ابی خالد نے شعبی (رح) سے نقل کیا مرہونہ شئی سے ذرہ بھر نفع نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یہ امام شعبی (رح) ہیں جنہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے وہ روایت نقل کی ہے۔ اگر نسخ نہ مانا جائے تو تسلیم کرنا ہوگا کہ ابوہریرہ (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت کی پھر وہ شعبی خود اس کے خلاف فتویٰ دے رہے ہیں (حالانکہ پہلی روایت کے راوی خود شعبی ہیں) اگر یہ بات اسی طرح ہوتی تو رائے کے سلسلہ میں وہ متہم ہوئے اور جو رائے میں متہم ہے تو روایت میں بدرجہ اولیٰ متہم ہوا۔ حالانکہ روایت میں ان کی عدالت ثابت شدہ ہے تو روایت کی مخالفت کے چھوڑنے میں بھی عدالت ثابت ہے۔ اگر ان دونوں میں سے ایک کو ساقط کرنا لازم ہے تو دوسری کا ساقط کرنا بھی لازم ہے۔ حالانکہ ہمارے خلاف اس روایت سے استدلال کرنے والا یہ تسلیم کرتا ہے کہ جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کرتا ہے وہ اس روایت کی تاویل کو خوب جانتا ہے۔ پس اسے اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہوگا اور اس پر لازم ہوجائے گا کہ وہ وہی بات کہے جو امام شعبی (رح) نے کہی جس کو ہم نے ذکر کیا جو کہ روایت ابوہریرہ (رض) کے خلاف ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ روایت منسوخ ہے۔ (ورنہ شعبی (رح) جو اس کے مرکزی راوی ہیں یہ اس کے خلاف نہ کہتے)
5759
Al Tahawi۵۷۵۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّہٗ سَمِعَ مَالِکًا وَیُوْنُسَ وَابْنَ أَبِیْ ذِئْبٍ یُحَدِّثُوْنَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیِّبِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یُغْلَقُ الرَّہْنُ .قَالَ یُوْنُسُ بْنُ یَزِیْدَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَکَانَ ابْنُ الْمُسَیِّبِ یَقُوْلُ الرَّہْنُ لِصَاحِبِہٖ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ .
٥٧٥٨: ابن شہاب نے ابن مسیب سے روایت کی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے۔
ابن شہاب کہتے ہیں کہ ابن مسیب فرماتے تھے کہ رہن مالک کے لیے غنیمت کی چیز ہے اور اس کا تاوان بھی اسی پر ہے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الرہوں باب ٣‘ مالک فی الاقضیہ ١٣۔
مرہونہ شئی اگر ضائع ہوجائے تو اس کی قیمت سے زائد ضمان نہ ہوگا ائمہ احناف رحمہم اللہ کا یہی قول ہے اور انھوں نے یہ حضرت عمر (رض) اور ابراہیم نخعی (رح) سے اخذ کیا ہے اور غصب پر قیاس کیا ہے۔ فریق ثانی کا قول مرتہن تاوان کا ذمہ دار ہوگا اس کو حضرت سعید بن مسیب (رح) نے اختیار کیا ہے۔
ابن شہاب کہتے ہیں کہ ابن مسیب فرماتے تھے کہ رہن مالک کے لیے غنیمت کی چیز ہے اور اس کا تاوان بھی اسی پر ہے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الرہوں باب ٣‘ مالک فی الاقضیہ ١٣۔
مرہونہ شئی اگر ضائع ہوجائے تو اس کی قیمت سے زائد ضمان نہ ہوگا ائمہ احناف رحمہم اللہ کا یہی قول ہے اور انھوں نے یہ حضرت عمر (رض) اور ابراہیم نخعی (رح) سے اخذ کیا ہے اور غصب پر قیاس کیا ہے۔ فریق ثانی کا قول مرتہن تاوان کا ذمہ دار ہوگا اس کو حضرت سعید بن مسیب (رح) نے اختیار کیا ہے۔
5760
Al Tahawi۵۷۵۹: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ وَسُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسَی قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُغْلَقُ الرَّہْنُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَقَالَ قَائِلٌ : فَلَمَّا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُغْلَقُ الرَّہْنُ لِصَاحِبِہٖ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الرَّہْنَ لَا یَضِیعُ بِالدَّیْنِ وَأَنَّ لِصَاحِبِہٖ غُنْمَہُ وَہُوَ سَلَامَتُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ وَہُوَ غُرْمُ الدَّیْنِ بَعْدَ ضَیَاعِ الرَّہْنِ .وَہٰذَا تَأْوِیْلٌ قَدْ أَنْکَرَہُ أَہْلُ الْعِلْمِ جَمِیْعًا بِاللُّغَۃِ وَزَعَمُوْا أَنْ لَا وَجْہَ لَہٗ عِنْدَہُمْ .وَالَّذِیْ حَمَلَنَا عَلٰی أَنْ نَأْتِیَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَاِنْ کَانَ مُنْقَطِعًا احْتِجَاجُ الَّذِیْ یَقُوْلُ بِالْمُسْنَدِ بِہٖ عَلَیْنَا وَدَعْوَاہُ أَنَّا خَالَفْنَاہُ .وَقَدْ کَانَ یَلْزَمُہُ عَلٰی أَصْلِہِ لَوْ أَنْصَفَ خَصْمَہُ أَنْ لَا یَحْتَجَّ بِمِثْلِ ہٰذَا اِذَا کَانَ مُنْقَطِعًا وَہُوَ لَا یَقُوْمُ الْحُجَّۃُ عِنْدَہُ بِالْمُنْقَطِعِ .فَاِنْ قَالَ : اِنَّمَا قَبِلْتُہٗ وَاِنْ کَانَ مُنْقَطِعًا لِأَنَّہٗ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ وَمُنْقَطِعُ سَعِیْدٍ یَقُوْمُ مَقَامَ الْمُتَّصِلِ .قِیْلَ لَہٗ : وَمَنْ جَعَلَ لَک أَنْ تَخُصَّ سَعِیْدًا ہٰذَا وَتَمْنَعَ مِنْہُ مِثْلَہٗ۔مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِثْلَ أَبِیْ سَلَمَۃَ وَالْقَاسِمِ وَسَالِمٍ وَعُرْوَۃَ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ وَأَمْثَالِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَالشَّعْبِیِّ وَاِبْرَاھِیْمَ النَّخَعِیِّ وَأَمْثَالِہِمَا رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ مِنْ أَہْلِ الْکُوْفَۃِ وَالْحَسَنِ وَابْنِ سِیْرِیْنَ وَأَمْثَالِہِمَا رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ وَکَذٰلِکَ مَنْ کَانَ فِیْ عَصْرِ مَنْ ذَکَرْنَا مِنْ سَائِرِ فُقَہَائِ الْأَمْصَارِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ وَمَنْ کَانَ فَوْقَہُمْ مِنِ الطَّبَقَۃِ الْأُوْلٰی مِنْ التَّابِعِیْنَ مِثْلَ عَلْقَمَۃَ وَالْأَسْوَدِ وَعَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیْلَ وَعُبَیْدَۃَ وَشُرَیْحٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ ؟ .لَئِنْ کَانَ ہٰذَا لَک مُطْلَقًا فِیْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ فَاِنَّہٗ مُطْلَقٌ لِغَیْرِک فِیْمَنْ ذَکَرْنَا .وَاِنْ کَانَ غَیْرُک مَمْنُوْعًا مِنْ ذٰلِکَ فَاِنَّک مَمْنُوْعٌ مِنْ مِثْلِہِ لِأَنَّ ہٰذَا تَحَکُّمٌ وَلَیْسَ لِأَحَدٍ أَنْ یَحْکُمَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ بِالتَّحَکُّمِ .وَقَدْ قَالَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِیْ تَأْوِیْلِ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْرَ مَا ذَکَرْت .
٥٧٥٩: عطاء اور سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ارشاد میں فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے اور اس کے مالک کو اس کا فائدہ ہے اور اس کا تاوان اسی پر ہے تو اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ رہن قرض کے بدلے ضائع نہ ہوگا اور اس کے مالک کے لیے اس کا نفع ہے اور وہ اس مرہونہ چیز کا سلامت رہنا ہے اور اسی کے ذمہ اس کا تاوان ہے اس کا معنی یہ ہے کہ مرہونہ شئی کے ضائع ہونے کے بعد ا سپر قرض کا تاوان ہوگا۔ ان کو جواب میں کہیں گے کہ تمام اہل لغت نے اس تاویل کا انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس معنی کی کوئی صورت نہیں ہے اگرچہ یہ روایت منقطع ہے لیکن اس کے باوجود اس کے لانے پر اس وجہ سے مجبور ہوئے ہیں کہ مخالف نے اسی سے ہمارے خلاف استدلال کر کے ہمیں اس حدیث کے مخالف گردانا ہے۔ حالانکہ اگر ہمارے ساتھ انصاف سے پیش آتا تو خود اپنے قاعدے کے مطابق اس سے استدلال ہی نہ کرتا۔ کیونکہ یہ منقطع ہے اور حدیث منقطع ان کے ہاں حجت نہیں۔ بالفرض اگر وہ کہیں کہ منقطع ہونے کے باوجود اس کو اس لیے قبول کیا کہ سعید بن مسیب کی منقطع بھی متصل کے قائم مقام ہے۔ تو اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ یہ بات سعید بن مسیب کے ساتھ خاص کرنے کا حق آپ کو کہاں سے مل گیا حالانکہ ان کے برابر اہل مدینہ کے علماء مثلاً ابو سلمہ ‘ قاسم ‘ سالم ‘ عروہ ‘ سلیمان بن یسار رحمہم اللہ سے ایسی منقطع روایت کا آپ انکار کرتے ہیں اسی طرح ان جیسے اہل کوفہ کے علماء شعبی ابراہیم نخعی رحمہم اللہ اور اہل بصرہ کے حسن اور ابن سیرین رحمہم اللہ اور ان جیسی دیگر شخصیات سے بھی تسلیم نہیں کرتے اسی دور کے تمام فقہاء کرام اور جو ان سے بھی اوپر کے درجہ کے لوگ اور طبقہ اولیٰ تابعین سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً علقمہ ‘ اسود ‘ عمر بن شرحبیل ‘ عبیدہ ‘ شریح رحمہم اللہ سے بھی تسلیم نہیں کرتے اگر منقطع روایت کا قبول کرلینا آپ کے لیے مطلقاً سعد بن مسیب (رح) کے متعلق درست ہے تو دوسروں کے لیے ان حضرات کی ایسی روایت مطلقاً درست ہوگئی اور اگر دوسروں کے لیے یہ بات جائز نہیں مانتے تو آپ کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں ورنہ تو یہ محض ضد ہے اور کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے دین میں ایسی ضد بازی کی قطعاً اجازت نہیں۔
اس روایت کی ایک اور تاویل :
اس روایت کی ایک اور تاویل :
5761
Al Tahawi۵۷۶۰: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ فِیْمَا أَعْلَمُ فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فَقَدْ دَخَلَ فِیْمَا کَانَ أَجَازَہُ لِی .قَالَ : ثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ : ثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مُغِیْرَۃَ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ فِیْ رَجُلٍ دَفَعَ اِلٰی رَجُلٍ رَہْنًا وَأَخَذَ مِنْہُ دَرَاہِمَ وَقَالَ : اِنْ جِئْتُک بِحَقِّک اِلٰی کَذَا وَکَذَا وَاِلَّا وَفَّی الرَّہْنُ لَک بِحَقِّک .فَقَالَ اِبْرَاھِیْمُ لَا یُغْلَقُ الرَّہْنُ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : أَنَجْعَلُہُ جَوَابًا لِمَسْأَلَتِہٖ؟ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ طَاوُسٍ نَحْوٌ مِنْ ہٰذَا بَلَغَنِیْ ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍوْ عَنْ طَاوُسٍ .قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : وَأَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیْ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ وَسُفْیَانَ بْنِ سَعِیْدٍ أَنَّہُمَا کَانَ یُفَسِّرَانِہِ عَلَی ہٰذَا التَّفْسِیْرِ .
٥٧٦٠: مغیرہ نے ابراہیم سے اس آدمی کے متعلق بیان کیا جس نے ایک آدمی کو رہن حوالے کیا اور اس سے کچھ دراہم لیے اور اسے کہا اگر میں نے تمہارا حق فلاں وقت تک ادا کردیا تو مناسب ورنہ رہن تمہارے لیے تمہارے حق کے بدلے ہوجائے گا۔ تو ابراہیم کہنے لگے۔ رہن بند نہ ہوگا۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے اس سوال کا جواب قرار دیا اور ابن عیینہ نے عمرو بن طاوس سے نقل کیا کہ وہ بھی یہی تاویل کرتے تھے۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ مالک بن انس اور سفیان بن سعید دونوں بھی یہ تفسیر کرتے تھے۔
5762
Al Tahawi۵۷۶۱: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ بِذٰلِکَ أَیْضًا .
٥٧٦١: ابن وہب نے مالک بن انس سے بھی یہی نقل کی ہے۔
5763
Al Tahawi۵۷۶۲: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْیَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : قَالَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُغْلَقُ الرَّہْنُ .فَبِذٰلِکَ یُمْنَعُ صَاحِبُ الرَّہْنِ أَنْ یَبْتَاعَہُ مِنْ الَّذِیْ رَہَنَہُ عِنْدَہُ حَتّٰی یُبَاعَ مِنْ غَیْرِہٖ۔ فَذَہَبَ الزُّہْرِیُّ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ الْغَلْقِ اِلٰی أَنَّہٗ فِی الْبَیْعِ لَا فِی الضَّیَاعِ فَہٰؤُلَائِ الْمُتَقَدِّمُوْنَ یَقُوْلُوْنَ بِمَا ذَکَرْنَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا أَیْضًا
٥٧٦٢: زہری نے کہا کہ سعید بن مسیب (رح) نے کہا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رہن بند نہ کیا جائے گا۔
اسی وجہ سے مرتہن کو منع کیا گیا کہ راہن سے وہ چیز خریدے جو اس نے اس کے ہاں رہن رکھی ہوئی ہے یہاں تک کہ وہ دوسرے آدمی پر فروخت کی جائے پس زہری بھی غلق میں بیع کی طرف گئے ہیں ہلاک ہوجانے کے متعلق نہیں۔ متقدمین نے بھی وہی بات کہی جو ہم نے ذکر کی ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد نبوت ملاحظہ ہو۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔
اسی وجہ سے مرتہن کو منع کیا گیا کہ راہن سے وہ چیز خریدے جو اس نے اس کے ہاں رہن رکھی ہوئی ہے یہاں تک کہ وہ دوسرے آدمی پر فروخت کی جائے پس زہری بھی غلق میں بیع کی طرف گئے ہیں ہلاک ہوجانے کے متعلق نہیں۔ متقدمین نے بھی وہی بات کہی جو ہم نے ذکر کی ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد نبوت ملاحظہ ہو۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔