Al Tahawi
11. حدود کا بیان
الطحاوي
4729
Al Tahawi۴۷۲۹: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الرَّقَاشِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُذُوْا عَنِّیْ فَقَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا الْبِکْرُ بِالْبِکْرِ وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ الْبِکْرُ تُجْلَدُ وَتُنْفٰی ، وَالثَّیِّبُ تُجْلَدُ وَتُرْجَمُ
٤٧٢٩: حطان بن عبداللہ الرقاشی نے عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ سے یہ اچھی طرح حاصل کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستہ مقرر کردیا ہے۔ کنوارہ کنواری سے زنا کرے اور شادی شدہ شادی شدہ سے زنا کرے تو کنوارے لڑکے اور لڑکی کو کوڑے لگائے جائیں گے اور جلا وطن کیا جائے گا اور شادی شدہ جوڑے کو کوڑے لگائے جائیں گے اور سنگسار کیا جائے گا۔
4730
Al Tahawi۴۷۳۰: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی الْحِمَّانِیُّ قَالَ : ثَنَا وَکِیْعٌ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْہَمٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ حُرَیْثٍ عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُذُوْا عَنِّیْ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا الْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ ، وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَالرَّجْمُ .
٤٧٣٠: قبیصہ بن حریث نے سلمہ بن محبق (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا مجھ سے حاصل کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستہ نکال دیا۔ کنوارے جوڑے کو سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ جوڑے کو سو کوڑے اور سنگ ساری کی سزا دی جائے گی۔
تخریج : مسلم فی الحدود ١٢؍١٣‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٢٣‘ ترمذی فی الحدود باب ٨‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٧‘ دارمی فی الحدود باب ١٩‘ مسند احمد ٥؍٣١٣‘ ٣١٧؍٣١٨‘ ٣٢١؍٣٢٧۔
تخریج : مسلم فی الحدود ١٢؍١٣‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٢٣‘ ترمذی فی الحدود باب ٨‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٧‘ دارمی فی الحدود باب ١٩‘ مسند احمد ٥؍٣١٣‘ ٣١٧؍٣١٨‘ ٣٢١؍٣٢٧۔
4731
Al Tahawi۴۷۳۱: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ وَعِیْسَی بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْغَافِقِیُّ قَالَا : ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَزَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ وَشِبْلٍ قَالُوْا : کُنَّا قُعُوْدًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُک اللّٰہَ اِلَّا قَضَیْتُ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ .فَقَالَ خَصْمُہٗ وَکَانَ أَفْقَہَ مِنْہُ فَقَالَ : صَدَقَ اقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللّٰہِ وَاِیذَنْ لِی .قَالَ قُلْ قَالَ : اِنَّ ابْنِیْ کَانَ عَسِیْفًا عَلٰی ہَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِہٖ، فَافْتَدَیْتُ مِنْہُ بِمِائَۃِ شَاۃٍ وَخَادِمٍ ثُمَّ سَأَلْت رِجَالًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُوْنِیْ أَنَّ عَلٰی ابْنِیْ جَلْدَ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبَ عَامٍ ، وَعَلَی امْرَأَۃِ ہَذَا الرَّجْمَ .فَقَالَ وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٖ، لَأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللّٰہِ الْمِائَۃُ الشَّاۃُ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَیْکَ، وَعَلٰی ابْنِک جَلْدُ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبُ عَامٍ ، وَاغْدُ یَا أُنَیْسُ اِلَی امْرَأَۃِ ہٰذَا، فَاِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْہَا فَغَدَا عَلَیْہَا فَاعْتَرَفَتْ ، فَرَجَمَہَا .
٤٧٣١: عبیداللہ بن عبداللہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) اور زید بن خالد جہنی (رض) اور شبل (رض) سے نقل کیا کہ ہم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں آپ کو قسم دیتا ہوں ! کہ آپ ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرما دیں۔ اس کے مخالف نے کہا وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا۔ اس نے سچ کہا ہے ہمارے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے کہنے کی اجازت دیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کہو ! اس نے کہا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا ہے۔ میں نے ایک سو بکریاں اور غلام اس کے فدیہ میں دیا ہے۔ پھر میں نے اہل علم سے دریافت کیا تو انھوں نے بتلایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس کی بیوی پر سنگساری ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ میں تمہارے درمیان ضرور کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا سو بکریاں اور خادم تجھ پر واپس لوٹائے جائیں گے اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ہوگی اور اے انیس تم صبح عورت کے ہاں جاؤ۔ پھر اگر وہ اعتراف کرے تو اس کو سنگ سار کر دو ۔ انیس (رض) صبح اس کے ہاں گئے تو اس نے اعتراف کرلیا پھر انھوں نے اس کو سنگسار کردیا۔
تخریج : والایمان باب ٣‘ الحدود ٣٠؍٣٤‘ ٣٨؍٤٦‘ مسلم فی الحدود ٢٥‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٢٥‘ ترمذی فی الحدود باب ٨‘ نسائی فی القضاء باب ٢٢‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٧‘ دارمی فی الحدود باب ١٢‘ مالک فی الحدود ٦‘ مسند احمد ٣؍١١٥‘ ١١٦۔
لغات : العسیف۔ مزدور۔ جلد۔ کوڑے لگانا۔
تخریج : والایمان باب ٣‘ الحدود ٣٠؍٣٤‘ ٣٨؍٤٦‘ مسلم فی الحدود ٢٥‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٢٥‘ ترمذی فی الحدود باب ٨‘ نسائی فی القضاء باب ٢٢‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٧‘ دارمی فی الحدود باب ١٢‘ مالک فی الحدود ٦‘ مسند احمد ٣؍١١٥‘ ١١٦۔
لغات : العسیف۔ مزدور۔ جلد۔ کوڑے لگانا۔
4732
Al Tahawi۴۷۳۲: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ وَمَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَزَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ قَالَا : کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَہٗ۔قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْبِکْرَ اِذَا زَنَی ، فَعَلَیْہِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبُ عَامٍ جَمِیْعًا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ، بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : حَدُّ الْبِکْرِ اِذَا زَنَیْ جَلْدُ مِائَۃٍ وَلَا نَفْیَ عَلَیْہِ مَعَ الْجَلْدِ اِلَّا أَنْ یَرَی الْاِمَامُ أَنْ یَنْفِیَہُ لِلدِّعَارَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ مِنْہُ فَیَنْفِیْہِ اِلَیْ حَیْثُ أَحَبَّ کَمَا یُنْفَی الدُّعَّارُ وَغَیْرُ الزُّنَاۃِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
٤٧٣٢: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ابوہریرہ (رض) اور زید بن خالد جہنی (رض) دونوں سے روایت کی ہے کہ ہم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھے تھے پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کنوارہ اگر زنا کرے تو اس پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے دونوں سزائیں ہوں گی اور انھوں نے مذکورہ بالا روایات کو مستدل بنایا ہے۔ دوسروں نے کہا کہ کنوارہ اگر زنا کرے تو سو کوڑے فقط حد ہے اور جلا وطنی اس کے ساتھ سزا نہیں اگر حاکم مناسب خیال کرے تو فسق کی وجہ سے جو اس سے صادر ہو اس کو جہاں مناسب ہو جلا وطن کر دے جیسا کہ فساق اور زانیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو جلا وطن کیا جاتا ہے۔ ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کنوارہ اگر زنا کرے تو اس پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے دونوں سزائیں ہوں گی اور انھوں نے مذکورہ بالا روایات کو مستدل بنایا ہے۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کنوارہ اگر زنا کرے تو اس پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے دونوں سزائیں ہوں گی اور انھوں نے مذکورہ بالا روایات کو مستدل بنایا ہے۔
4733
Al Tahawi۴۷۳۳: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَزَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْأَمَۃِ اِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ .فَقَالَ اِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوْہَا ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْہَا ، ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْہَا ثُمَّ بِیْعُوْہَا وَلَوْ بِضَفِیْرٍ .قَالَ مَالِکٌ : قَالَ ابْنُ شِہَابٍ لَا أَدْرِیْ أَبَعْدَ الثَّالِثَۃِ أَوْ الرَّابِعَۃِ .
٤٧٣٣: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) اور زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لونڈی کے متعلق دریافت کیا گیا کہ جب وہ زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو تو آپ نے فرمایا جب وہ زنا کرے اسے کوڑے مارو۔ پھر اگر زنا کرے پھر اس کو کوڑے مارو پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اس کو فروخت کر دو اگرچہ بالوں کی رسی کے بدلے ہو۔
مالک کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ آیا تیسری بار یا چوتھی بار کے بعد آپ نے یہ بات فرمائی۔
تخریج : بخاری فی الحدود باب ٣٥‘ والبیوع باب ٦٦‘ مسلم فی الحدود ٣٢‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٣٢‘ ترمذی فی الحدود باب ٨‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ١٤‘ دارمی فی الحدود باب ١٨‘ مالک فی الحدود ١٤‘ مسند احمد ٢؍٢٤٩‘ ٤‘ ١١٦؍١١٧‘ ٦؍٦٥۔
مالک کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ آیا تیسری بار یا چوتھی بار کے بعد آپ نے یہ بات فرمائی۔
تخریج : بخاری فی الحدود باب ٣٥‘ والبیوع باب ٦٦‘ مسلم فی الحدود ٣٢‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٣٢‘ ترمذی فی الحدود باب ٨‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ١٤‘ دارمی فی الحدود باب ١٨‘ مالک فی الحدود ١٤‘ مسند احمد ٢؍٢٤٩‘ ٤‘ ١١٦؍١١٧‘ ٦؍٦٥۔
4734
Al Tahawi۴۷۳۴: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، أَنَّ شِبْلَ بْنَ خَالِدٍ أَخْبَرَہٗ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَالِکٍ الْأَوْسِیَّ أَخْبَرَہٗ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلِیْدَۃُ اِذَا زَنَتْ مِثْلَہٗ۔اِلَّا أَنَّہٗ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ أَوْ الرَّابِعَۃِ الْبَیْعُ وَأَخْبَرَہُ زَیْدُ بْنُ خَالِدٍ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذٰلِکَ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : ہَذَا خَطَأٌ شِبْلٌ ہَذَا ابْنُ خُلَیْدٍ الْمُزَنِیّ .
٤٧٣٤: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے روایت کی ہے کہ مجھے حضرت شبل بن خالد (رض) نے بتلایا کہ عبداللہ بن مالک اوسی نے اسے بتلایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (لونڈی جب زنا کرے) اسی طرح فرمایا البتہ انھوں نے فی الثالثۃ ا والرابعۃ کے لفظ بولے کہ پھر فروخت کر دے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی زید بن خالد (رض) نے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں یہ غلط ہے کیونکہ یہ شبل ابن خلید مزنی کا بیٹا ہے۔
تخریج : ٤٧٣٣ کی تخریج پیش نظر رہے۔
امام طحاوی (رح) کا قول :
یہ غلط ہے کیونکہ یہ شبل ابن خلید مزنی کا بیٹا ہے۔
تخریج : ٤٧٣٣ کی تخریج پیش نظر رہے۔
امام طحاوی (رح) کا قول :
یہ غلط ہے کیونکہ یہ شبل ابن خلید مزنی کا بیٹا ہے۔
4735
Al Tahawi۴۷۳۵: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ قَالَ : ثَنَا بَقِیَّۃُ ہُوَ ابْنُ الْوَلِیْدِ عَنِ الزُّبَیْدِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ شِبْلَ بْنَ خُلَیْدٍ الْمُزَنِیَّ ، أَخْبَرَہٗ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَالِکٍ الْأَوْسِیَّ أَخْبَرَہٗ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلِیْدَۃُ اِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوْہَا ، ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْہَا ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْہَا ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَبِیْعُوْہَا وَلَوْ بِضَفِیْرٍ وَالضَّفِیْرُ : اَلْحَبْلُ .
٤٧٣٥: شبل بن خلید مزنی نے بتلایا کہ عبداللہ بن مالک اوسی (رض) نے مجھے بتلایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ لونڈی جب زنا کرے تو اس کو کوڑے مارو پھر اگر وہ (دوبارہ) زنا کرے تو اس کو کوڑے مارو۔ پھر (تیسری بار) اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ زنا کرے (چوتھی بار) تو اس کو فروخت کر دو ۔ خواہ بالوں کی بٹی ہوئی رسی کے برابر ہو۔
تخریج : روایت ٤٧٣٣ کی تخریج ملاحظہ کریں۔
تخریج : روایت ٤٧٣٣ کی تخریج ملاحظہ کریں۔
4736
Al Tahawi۴۷۳۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ عَنْ مَکْحُوْلٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِذَا زَنَتْ أَمَۃُ أَحَدِکُمْ فَلْیَجْلِدْہَا الْحَدَّ ، وَلَا یُثَرِّبْ عَلَیْہَا قَالَ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ أَوْ الرَّابِعَۃِ ثُمَّ بِیْعُوْہَا وَلَوْ بِضَفِیْرٍ .
٤٧٣٦: عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کسی کی لونڈی زنا کرے تو وہ اسے کوڑوں کی حد لگائے اور کوڑوں کے بعد ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے۔ یہ بات آپ نے تین بار دہرائی پھر تیسری بار فرمایا یا چوتھی مرتبہ فرمایا۔ پھر تم اس کو فروخت کر دو اگرچہ ایک بالوں کی رسی کے عوض ہو۔
تخریج : بخاری فی الحدود باب ٣٦‘ والبیوع باب ٦٦‘ ١١٠‘ مسلم فی الحدود ٣٠‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٣٢‘ مسند احمد ٢؍٢٤٩‘ ٤٩٤۔
لغات : یثرب۔ ڈانٹ ڈپٹ کرنا۔ (نہایہ)
تخریج : بخاری فی الحدود باب ٣٦‘ والبیوع باب ٦٦‘ ١١٠‘ مسلم فی الحدود ٣٠‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٣٢‘ مسند احمد ٢؍٢٤٩‘ ٤٩٤۔
لغات : یثرب۔ ڈانٹ ڈپٹ کرنا۔ (نہایہ)
4737
Al Tahawi۴۷۳۷: حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہٗ عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّہٗ سَمِعَہٗ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔
٤٧٣٧: سعید مقبری نے اپنے والد سے انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ وہ فرماتے تھے میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا پھر اسی طرح روایت نقل کی۔
4738
Al Tahawi۴۷۳۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أُسَامَۃُ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْوَہٗ۔
٤٧٣٨: سعید مقبری نے اپنے والد سے انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔