Ibn Abi Shaybah
10. مناسک حج سے متعلقہ احادیث
ابن أبي شيبة
12779
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۰) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ سُلَیْمَانُ بْنُ حَیَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَابِعُوا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ ، فَإِنَّہُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، کَمَا یَنْفِی الْکِیرُ خَبَثَ الْحَدِیدِ وَالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، وَلَیْسَ لِحَجَّۃٍ مَبْرُورَۃٍ جزائٌ إلاَّ الْجَنَّۃُ۔
(ترمذی ۸۱۰۔ احمد ۱/۳۸۷)
(١٢٧٨٠) حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حج اور عمرہ کرتے رہو، بیشک یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم اور دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونے، چاندی اور لوہے کے زنگ کو کرتی ہے، اور حج مبرور کی جزاء جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔
12780
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۱) حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ ، عَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَابِعُوا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ ، فَإِنَّہُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیرُ خَبَثَ الْحَدِیدِ۔ (ابن ماجہ ۲۸۸۷۔ احمد ۱/۲۵)
(١٢٧٨١) حضرت عمر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حج اور عمرہ کرتے رہو بیشک یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم اور دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونے، چاندی اور لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے۔
12781
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۲) حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ سُمَیٍّ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْعُمْرَۃُ إلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَہُمَا ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلاَّ الْجَنَّۃُ۔
(بخاری ۱۷۷۳۔ مسلم ۹۸۳)
(١٢٧٨٢) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا درمیانی گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزاء سوائے جنت کے اور کچھ نہیں۔
12782
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۳) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَجَّ فَلَمْ یَرْفُثْ ، وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَمَا وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔
(بخاری ۱۸۲۰۔ ترمذی ۸۱۱)
(١٢٧٨٣) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص حج اس طرح ادا کرے کہ نہ اس میں بیوی سے شرعی ملاقات کرے اور نہ ہی کوئی گناہ کرے وہ حج سے اس طرح لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اس کو (آج ہی) جنم دیا ہو۔
12783
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۴) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ؛ أَخْبَرَہُ شَیْخٌ فِی ہَذَا الْمَسْجِدِ ؛ أَنَّ عُمَرَ خَطَبَہُمْ عِنْدَ بَابِ الْکَعْبَۃِ ، وَقَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ یَجِیئُ إلَی ہَذَا الْبَیْتِ ، لاَ یَنْہَزُہُ غَیْرُ صَلاَۃٍ فِیہِ حَتَّی یَسْتَلِمَ الْحَجَرَ ، إِلاَّ کُفِّرَ عَنْہُ مَا کَانَ قَبْلَ ذَلِکَ۔
(١٢٧٨٤) حضرت ابو الضحیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک بوڑھے نے اس مسجد میں خبر دی کہ حضرت عمر نے کعبہ شریف کے پاس خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا : نہیں ہے کوئی شخص جو اس گھر (بیت اللہ) کی طرف آتا ہے، اس کو گھر سے کوئی اور چیز نہیں نکالتی سوائے نماز پڑھنے کے یہاں تک کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دیدے مگر یہ عمل اس کے سابقہ تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
12784
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۵) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَنْ شَیْخٍ ، قَالَ ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : مَنْ حَجَّ ہَذَا الْبَیْتَ لاَ یُرِیدُ غَیْرَہُ ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔
(١٢٧٨٥) حضرت ابو الضحیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک بوڑھے نے بتایا کہ حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں : جو شخص حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرے اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد یہاں آنے کا نہ ہو وہ گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے اس کی والدہ نے اس کو آج ہی جنا ہو۔
12785
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۶) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، قَالَ : کَانَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ تَحُجُّ ، فَإِذَا رَجَعَتْ مَرَّتْ عَلَی عُمَرَ ، فَیَقُولُ لَہَا : أَنْقبْتِ ؟ فَتَقُولُ : نَعَمْ ، فَیَقُولُ لَہَا : اسْتَأْنِفِی الْعَمَلَ۔
(١٢٧٨٦) حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ مہاجرہ عورتوں میں سے ایک عورت نے حج کیا جب وہ واپس آئی تو حضرت عمر کے پاس سے گذری، حضرت عمر نے اس سے پوچھا : کیا تیرے اونٹ کے کھر گھس چکے تھے ؟ اس نے کہا جی ہاں، آپ نے اس سے فرمایا : تو اس عمل کو دوبارہ کرو۔
12786
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۷) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : بَیْنَمَا عُمَرُ جَالِسًا عِنْدَ الْبَیْتِ إذْ قَدِمَ رِجَالٌ مِنَ الْعِرَاقِ حُجَّاجًا ، فَطَافُوا بِالْبَیْتِ ، وَسَعَوْا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَدَعَاہُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ : أَنْہَزَکُمْ إلَیْہِ غَیْرُہُ ؟ فَقَالُوا : لاَ ، فَقَالَ : أَنْقبْتُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَدْبَرْتُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : إِمَّا لاَ ، فَاسْتَأْنِفُوا الْعَمَلَ۔
(١٢٧٨٧) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بیت اللہ کے پاس تشریف فرما تھے کہ عراق سے کچھ لوگ حج کے لیے آئے اور وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرنے لگے، حضرت عمر نے ان کو بلایا اور ان سے پوچھا : کیا تمہیں حج کے علاوہ کسی اور عمل نے بیت اللہ کی طرف نکالا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں، آپ نے دریافت فرمایا : کیا تمہارے اونٹوں کے کھر لمبے سفر کی مشقت کی وجہ سے گھس گئے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا، ہاں، آپ نے دریافت فرمایا : کیا تمہارے اونٹوں کی پیٹھیں زخمی ہوگئی ہیں ؟ انھوں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا : اگر تمہارا جواب ہاں میں ہے تو تم عمل لے کر لوٹے (اور اگر تمہارا نہیں میں ہوتا تو تم لوگ خسارے میں تھے) ۔
12787
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۸) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِیبٍ ؛ أَنَّ قَوْمًا مَرُّوا بِأَبِی ذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ ، فَقَالَ لَہُم : مَا أَنْصَبکُمْ إِلاَّ الْحَجُّ ؟ اسْتَأْنِفُوا الْعَمَلَ۔
(١٢٧٨٨) حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت ابو ذر غفاری کے پاس سے ربذہ مقام پر گذرے، آپ نے ان کو کہا کہ کیا تم لوگوں کو سوائے حج کے کسی اور چیز نے نہیں تھکایا ؟ عمل کو دوبارہ کرو۔
12788
Ibn Abi Shaybah(۱۲۷۸۹) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ ذَلِکَ لِقَوْمٍ۔
(١٢٧٨٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے یہی بات ایک قوم کو کہی۔