Ibn Abi Shaybah
22. دیت کا بیان
ابن أبي شيبة
27260
Ibn Abi Shaybahحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ الْعَبْسِیُّ قَالَ:
(۲۷۲۶۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَن عِکْرِمَۃَ قَالَ : قَضَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَتَلَہُ مَوْلَی بَنِی عَدِیٍّ بِالدِّیَۃِ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَفِیہِمْ نَزَلَتْ : {وَمَا نَقَمُوا إِلاَّ أَنْ أَغْنَاہُمُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ مِنْ فَضْلِہِ}۔ (ابوداؤد ۴۵۳۴۔ ترمذی ۱۳۸۸)
(٢٧٢٦١) حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کے ایک آدمی کے بارے میں کہ جس نے ” بنی عدی “ کے غلام کو قتل کردیا تھا بارہ ہزار دیت کا فیصلہ فرمایا اور انھیں کے بارے میں آیت کریمہ نازل ہوئی ” وما نقموا۔۔۔الخ “ اور انھوں نے کوئی عیب نہیں لگایا مگر اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل اور مہربانی سے ان کو غنی کردیا۔
27261
Ibn Abi Shaybah(۲۷۲۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی ، عَنْ مَکْحُولٍ قَالَ : تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالدِّیَۃُ ثَمَانُ مِئَۃِ دِینَارٍ ، فَخَشِیَ عُمَرُ مِنْ بَعْدِہِ ، فَجَعَلَہَا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْہَمٍ ، أَوْ أَلْفَ دِینَارٍ۔
(٢٧٢٦٢) حضرت مکحول نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوا اور دیت آٹھ سو ” ٨٠٠ “ دینار تھی۔ پھر عمر کو اپنے بعد خدشہ ہوا تو انھوں نے اس کو بارہ ہزار ” ١٢٠٠٠ “ درہم یا ہزار ” ١٠٠٠“ دینار کردیا۔
27262
Ibn Abi Shaybah(۲۷۲۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبِیدَۃَ السَّلْمَانِیِّ قَالَ: وَضَعَ عُمَرُ الدِّیَاتِ، فَوَضَعَ عَلَی أَہْلِ الذَّہَبِ أَلْفَ دِینَارٍ ، وَعَلَی أَہْلِ الْوَرِقِ عَشَرَۃَ آلاَفٍ ، وَعَلَی أَہْلِ الإِبِلِ مِئَۃ مِنَ الإِبِلِ ، وَعَلَی أَہْلِ الْبَقَرِ مِئَتَیْ بَقَرَۃٍ مُسِنَّۃٍ ، وَعَلَی أَہْلِ الشَّاۃِ أَلْفَیْ شَاۃٍ ، وَعَلَی أَہْلِ الْحُلَلِ مِئَتَیْ حُلَّۃٍ۔
(٢٧٢٦٣) حضرت عبیدۃ السلمانی نے فرمایا کہ عمر نے دیات کو مقرر فرمایا۔ تو سونے والوں پر ہزار ” ١٠٠٠ “ دینار، اور چاندی والوں پر دس ہزار ” ١٠٠٠٠ “ اور اونٹ والوں پر سو اونٹ، اور گائے والوں پر دو سو بڑی عمر والی گائے ، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے مقرر کیے۔
27263
Ibn Abi Shaybah(۲۷۲۶۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَضَعَ الدِّیَۃَ عَلَی النَّاسِ فِی أَمْوَالِہِمْ مَا کَانَتْ : عَلَی أَہْلِ الإِبِلِ مِئَۃ بَعِیرٍ ، وَعَلَی أَہْلِ الشَّاۃِ أَلْفَیْ شَاۃٍ ، وَعَلَی أَہْلِ الْبَقَرِ مِئَتَیْ بَقَرَۃٍ ، وَعَلَی أَہْلِ الْبُرُودِ مِئَتَیْ حُلَّۃٍ ، قَالَ : وَقَدْ جَعَلَ عَلَی أَہْلِ الطَّعَامِ شَیْئًا لاَ أَحْفَظُہُ۔ (ابوداؤد ۴۵۳۱)
(٢٧٢٦٤) حضرت عطائ نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں پر ان کے اموال میں دیت مقرر کی جو کہ اونٹ والوں پر سو ” ١٠٠ “ اونٹ، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں اور گائے والوں پر دو سو گائے اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے تھی۔ عطائ فرماتے ہیں کہ آپ نے اناج والوں پر بھی کوئی چیز مقرر کی تھی مجھے وہ یاد نہیں۔
27264
Ibn Abi Shaybah(۲۷۲۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِلَی أُمَرَائِ الأَجْنَادِ : إِنَّ الدِّیَۃَ کَانَتْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِئَۃَ بَعِیرٍ۔
(٢٧٢٦٥) محمد بن عمرو نے فرمایا کہ عمر بن عبدالعزیز نے امرائے اجناد کی طرف خط لکھا کہ :۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں دیت سو اونٹ تھی۔
27265
Ibn Abi Shaybah(۲۷۲۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : دِیَۃُ الْخَطَأِ مِئَۃ بَعِیرٍ ، فَمَنْ زَادَ بَعِیرًا فَہُوَ مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ۔
(٢٧٢٦٦) قتادہ نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” قتل کی دیت سو اونٹ ہے، پس جس شخص نے ایک اونٹ زیادہ کیا تو وہ جاہلیت کے کام میں سے ہے۔
27266
Ibn Abi Shaybah(۲۷۲۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ؛ أَنَّہُ جَعَلَ الدِّیَۃَ مِئَۃَ بَعِیرٍ ، وَقَوَّمَ کُلَّ بَعِیرٍ مِئَۃ ، غَلَتْ ، أَوْ رَخُصَتْ ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِہَا۔
(٢٧٢٦٧) عمر بن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ انھوں نے سو اونٹ دیت مقرر کی اور ہر اونٹ کی قیمت سو ” ١٠٠ “ ٹھہرائی، اونٹ چاہے گراں قیمت ہو یا سستا پھر لوگوں نے اسی کو اپنالیا۔
27267
Ibn Abi Shaybah(۲۷۲۶۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، وَعَبْدِ اللہِ ، وَزَیْدٍ ؛ أَنَّہُمْ قَالُوا : الدِّیَۃُ مِئَۃ بَعِیرٍ۔
(٢٧٢٦٨) علی اور عبداللہ اور زید سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ ” دیت سو اونٹ ہے “
27268
Ibn Abi Shaybah(۲۷۲۶۹) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، عَن خَالِدٍ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : إِنِّی لأُسَبِّحُ کُلَّ یَوْمٍ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ أَلْفِ تَسْبِیحَۃٍ ، قَدْرَ دِیَتِی ، أَوْ قَالَ : قَدْرَ دِیَتِہِ۔
(٢٧٢٦٩) ابوہریرہ نے فرمایا کہ میں اپنی دیت کے بقدر بارہ ہزار مرتبہ تسبیح روزانہ کرتا ہوں یا فرمایا اس کی دیت کے بقدر۔
27269
Ibn Abi Shaybah(۲۷۲۷۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَی بِالدِّیَۃِ عَلَی أَہْلِ الْقُرَی اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَقَالَ : إِنَّ الزَّمَانَ یَخْتَلِفُ ، وَأَخَافُ عَلَیْکُمُ الْحُکَّامَ مِنْ بَعْدِی، فَلَیْسَ عَلَی أَہْلِ الْقُرَی زِیَادَۃٌ فِی تَغْلِیظِ عَقْلٍ، وَلاَ الشَّہْرِ الْحَرَامِ، وَلاَ الْحُرْمَۃِ، وَعَقْلُ أَہْلِ الْقُرَی فِیہِ تَغْلِیظٌ ، لاَ زِیَادَۃَ فِیہِ۔
(٢٧٢٧٠) عکرمہ سے روایت ہے کہ عمر نے دیہاتیوں پر بارہ ہزار دیت کا فیصلہ کیا اور فرمایا کہ زمانہ بدل رہا ہے اور مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں حکام سے خدشہ ہے پس دیہات والوں پر دیت کا مغلظہ کرنے میں کوئی زیادتی نہیں۔ اور نہ اشہر حرام اور نہ حرمت میں اور دیہاتیوں کی دیت میں تغلیظ ہے اس میں زیادتی نہیں ہے۔