hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

13. جہاد کا بیان

ابن أبي شيبة

19648
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إلَی مُؤْتَۃَ فَاسْتَعْمَلَ زَیْدًا ، فَإِنْ قُتِلَ زَیْدٌ فَجَعْفَرٌ ، فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَابْنُ رَوَاحَۃَ ، قَالَ : فَتَخَلَّفَ ابْنُ رَوَاحَۃَ یُجَمِّعُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَآہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا خَلَّفَک ، فَقَالَ : أُجَمِّعُ مَعَکَ ، فَقَالَ : لَغَدْوَۃٌ ، أَوْ رَوْحَۃٌ فِی سَبِیلِ اللہِ ، خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔ (ترمذی ۱۶۳۹۔ احمد ۱/۲۵۶)
(١٩٦٤٩) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید (رض) کو سپہ سالار مقرر کیا، آپ نے حکم دیا کہ اگر زید (رض) شہید ہوجائیں تو جعفر (رض) کو امیر بنا لیا جائے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ کو امیر بنا لیا جائے۔ لشکر کی روانگی کے باوجود حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جمعہ پڑھنے کی غرض سے پیچھے رہ گئے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دیکھا تو پوچھا کہ آپ پیچھے کیوں رہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھنے کی غرض سے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام لگانا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔
19649
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَغَدْوَۃٌ ، أَوْ رَوْحَۃٌ فِی سَبِیلِ اللہِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔ (بخاری ۲۷۹۴۔ مسلم ۱۱۴)
(١٩٦٥٠) حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام کا لگا دینا، دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔
19650
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِیء ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی أَیُّوبَ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُرَحْبِیلَ بن شَرِیکُ الْمَعَافِرِیُّ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أَیُّوبَ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَغَدْوَۃٌ فِی سَبِیلِ اللہِ ، أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ۔(مسلم ۱۱۱۵۔ احمد ۵/۴۲۲)
(١٩٦٥١) حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے رویت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام کا لگا دینا ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہو۔
19651
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : غَدْوَۃٌ ، أَوْ رَوْحَۃٌ فِی سَبِیلِ اللہِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا۔ (بخاری ۲۷۹۳۔ ۱۵۰۰)
(١٩٦٥٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے۔
19652
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إیمَانٌ بِاللَّہِ وَجِہَادٌ فِی سَبِیلِہِ۔ (بخاری ۲۵۱۸۔ مسلم ۱۳۶)
(١٩٦٥٣) حضرت ابو ذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
19653
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۵۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ الْعَیْزَارِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إیَاسٍ أَبِی عَمْرِو الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الصَّلاَۃُ لِوَقْتِہَا ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَیُّ ؟ قَالَ : بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَیُّ ؟ قَالَ : الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللہِ۔
(١٩٦٥٤) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول 5! کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے پوچھا : پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میں نے کہا پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
19654
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ، قَالَ : مَثَلُ الْغَازِی فِی سَبِیلِ اللہِ مَثَلُ الَّذِی یَصُومُ النَّہَارَ وَیَقُومُ اللَّیْلَ حَتَّی یَرْجِعَ الْغَازِی متَی مَا رَجَعَ۔ (احمد ۴/۲۷۲۔ بزار ۳۲۲۲)
(١٩٦٥٥) حضرت نعمان بن بشیر (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا واپس آنے تک اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھے اور رات کو قیام کرے۔
19655
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۵۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : غَدْوَۃٌ ، أَوْ رَوْحَۃٌ فِی سَبِیلِ اللہِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔ (بخاری ۲۷۹۲۔ مسلم ۱۴۹۹)
(١٩٦٥٦) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں ایک صبح ایک شام کا لگا دینا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔
19656
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۵۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ سَبْرَۃَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : إذَا کَانَ الرَّجُلُ فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَأُرْعِدْ قَلْبُہُ مِنَ الْخَوْفِ ، تَحَاتَّتْ خَطَایَاہُ کَمَا یَتَحَاتُّ عِذْقُ النَّخْلَۃِ۔ (طبرانی ۶۰۸۶۔ ابن المبارک ۳۵)
(١٩٦٥٧) حضرت سلمان (رض) فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اللہ کے راستے میں ہو اور خوف کی وجہ سے اس کا دل کانپے تو اس کے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے کھجور کے خوشے سے کھجوریں گرتی ہیں۔
19657
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۵۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ النَّزَّالِ یُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَقُلْت : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَخْبِرْنِی عَنْ ذُرْوَتِہِ ، فَقَالَ : أَمَّا ذُرْوَتُہُ فَالْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللہِ یَعْنِی ذُرْوَۃَ الإِسْلاَمِ۔ (احمد ۵/۲۳۷۔ طبرانی ۳۰۵)
(١٩٦٥٨) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول 5! مجھے اسلام کے کوہان کی چوٹی کے بارے میں بتا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اسلام کے کوہان کی چوٹی اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔