hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

17. پینے کا بیان

ابن أبي شيبة

24205
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۰۶) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَعَثَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْیَمَنِ ، فَسَأَلَہُ عَنْ أَشْرِبَۃٍ تُصْنَعُ بِہَا : الْبِتْعُ ، وَالْمِزْرُ ، وَالذُّرَۃُ ، فَقَالَ : کُلَّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔ (بخاری ۴۲۴۴۔ مسلم ۷۵)
(٢٤٢٠٦) حضرت ابو بردہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یمن کی طرف بھیجا تو انھوں نے وہاں بنائے جانے والے مشروبات ، شہد کی نبیذ، گندم کی نبیذ، جو کی نبیذ، کے بارے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “
24206
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۰۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ تَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کُلُّ شَرَابٍ أَسْکَرَ ، فَہُوَ حَرَامٌ۔ (بخاری ۵۵۸۶۔ مسلم ۶۹)
(٢٤٢٠٧) حضرت عائشہ سے روایت ہے، وہ اس روایت کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچاتی ہیں۔ ” ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ “
24207
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۰۸) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ۔ (مسلم ۷۳۔ ابوداؤد ۳۶۷۱)
(٢٤٢٠٨) حضرت ابن عمر ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا : ہر نشہ آور چیز خمر ہے۔
24208
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۰۹) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔ (ابوداؤد ۳۶۸۰۔ احمد ۶/۷۲)
(٢٤٢٠٩) حضرت عائشہ ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “
24209
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۱۰) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ بَذِیمَۃَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عن النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔ (ابوداؤد ۳۶۷۲)
(٢٤٢١٠) حضرت ابن عباس ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “
24210
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۱۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْیَزَنِیِّ ، عَنْ دَیْلَمٍ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَۃٍ نُعَالِجُ بِہَا عَمَلاً شَدِیدًا ، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ ہَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّی بِہِ عَلَی أَعْمَالِنَا ، وَعَلَی بَرْدِ بِلاَدِنَا ؟ قَالَ : ہَلْ یُسْکِرُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاجْتَنِبُوہُ ، قَالَ : ثُمَّ جِئْتُہُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ ، فَقُلْتُ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ ، فَقَالَ: ہَلْ یُسْکِرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْتَنِبُوہُ، قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَیْرُ تَارِکِیہِ ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ یَتْرُکُوہُ فَاقْتُلُوہُمْ۔ (ابوداؤد ۳۶۷۶۔ احمد ۴/۲۳۱)
(٢٤٢١١) حضرت دیلم حِمْیَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم ایک ٹھنڈے علاقہ میں رہتے ہیں اور وہاں ہم سخت کام کرتے ہیں اور ہم گیہوں سے ایک قسم کا مشروب تیار کرتے ہیں جس کو پی کر ہم اپنے اعمال اور اپنے علاقوں کی ٹھنڈک پر تقویت حاصل کرتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” پس تم اس سے بچو۔ “ راوی کہتے ہیں کہ میں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس (واپس) آیا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی ہی بات (دوبارہ) کہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” کیا یہ مشروب نشہ آور ہوتا ہے۔ “ ؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” پھر تم اس سے اجتناب کرو۔ “ میں نے عرض کیا۔ لوگ تو اس مشروب کو چھوڑنے والے نہیں ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ” اگر لوگ اس مشروب کو نہ چھوڑیں تو تم ان سے قتال کرو۔ “
24211
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۱۲) حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سِرَاجِ بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ عَمَّتِہِ خَالِدَۃَ بِنْتِ طَلْقٍ ، قَالَتْ : حدَّثَنِی أَبِی ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَائَ صُحَارُ عَبْدِ الْقَیْسِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا تَرَی فِی شَرَابٍ نَصْنَعُہُ مِنْ ثِمَارِنَا ؟ قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی سَأَلَہُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَامَ بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ ، قَالَ : مَنِ السَّائِلُ عَنِ الْمُسْکِرِ ؟ یَا سَائِلاً عَنِ الْمُسْکِرِ ، لاَ تَشْرَبْہُ ، وَلاَ تَسْقِہِ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، مَا شَرِبَہُ قَطُّ رَجُلٌ ابْتِغَائَ لَذَّۃِ سُکْرِہِ ، فَیَسْقِیَہُ اللَّہُ خَمْرًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (طبرانی ۸۲۵۹)
(٢٤٢١٢) حضرت خالدہ بنت طلق سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہم لوگ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو صحار عبد القیس آئے اور انھوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس مشروب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جسے ہم اپنے پھلوں سے تیار کرتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی یہ بات سن کر رُخ مبارک ان سے پھیرلیا۔ یہاں تک کہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین مرتبہ یہی سوال کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ہمیں لے کر اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : ” نشہ آور مشروب کے بارے میں پوچھنے والا کون ہے ؟ اے نشہ آور چیز کے بارے میں سوال کرنے والے ! تم اس مشروب کو نہ خود پیو اور نہ ہی کسی مسلمان کو پلاؤ۔ پس قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے کہ اس نے کبھی نشے کی لذت طلبی کے لیے شراب کو پیا ہو اور پھر بروز قیامت حق تعالیٰ اس کو شراب پلائیں۔ “
24212
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۱۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔
(٢٤٢١٣) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور (مشروب) حرام ہے۔ “
24213
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۱۴) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْبَجَلِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔ (ابوداؤد ۳۶۷۸۔ احمد ۲/۱۷۱)
(٢٤٢١٤) حضرت عمرو بن شعیب ، اپنے والد سے ، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “
24214
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۱۵) حَدَّثَنَا عَبْد اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کُلٍّ مُسْکِرٍ وَمُفَتِّرٍ۔ (احمد ۶/۳۰۹۔ ابوداؤد ۳۶۷۹)
(٢٤٢١٥) حضرت ام سلمہ سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر نشہ آور اور خرابی پیدا کرنے والی چیز سے منع کیا۔