hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

8. جنائز کے متعلق احادیث

ابن أبي شيبة

10904
Ibn Abi Shaybah
حدثنا أبو بکر بن أبی شیبۃ قال: (۱۰۹۰۵) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْد ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : دَخَلْت عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُوعَکُ ، قَالَ فَمَسِسْتُہُ فَقُلْت : یَا رَسُولَ اللہِ إنَّک لَتُوعَکُ وَعْکًا شَدِیدًا ، فَقَالَ : أَجَلْ إنِّی أُوعَکُ کَمَا یُوعَکُ رَجُلاَنِ مِنْکُمْ قَال : قُلْتُ : لأَنَّ لَکَ أَجْرَیْن ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا عَلَی الأَرْضِ مُسْلِمٌ یُصِیبُہُ أَذًی فَمَا سِوَاہُ إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ بِہِ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا۔ (بخاری ۵۶۴۷۔ مسلم ۱۹۹۱)
(١٠٩٠٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کو بخار تھا، میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوا اور پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جی ہاں مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار دیا جاتا ہے۔ میں نے عرض کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کے لیے دو اجر ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے زمین پر کوئی مسلمان نہیں جس کو کوئی تکلیف پہنچے مگر (اس کے بدلے) اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ایسے گراتے ہیں جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتے ہیں۔
10905
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَد ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ شَوْکَۃٌ فَمَا فَوْقَہَا إِلاَّ رَفَعَہُ اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً أَوْ حَطَّ بِہَا عَنْہُ سَیِّئَۃً۔ (مسلم ۱۹۹۱۔ ترمذی ۹۶۵)
(١٠٩٠٦) حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کسی مسلمان کو کوئی کانٹا یا اس سے بڑی تکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتے ہیں یا اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کردیتے ہیں۔
10906
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ الأَشْعَرِیِّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ عَادَ مَرِیضًا وَمَعَہُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ مِنْ وَعَکٍ کَانَ بِہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرْ إنَّ اللَّہَ یَقُولُ : ہِیَ نَارِی أُسَلِّطُہَا عَلَی عَبْدِی الْمُؤْمِنِ فِی الدُّنْیَا لِیَکُونَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ فِی الآخِرَۃِ۔ (ترمذی ۲۰۸۸۔ احمد ۲/۴۴۰)
(١٠٩٠٧) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مریض کی عیادت فرمائی۔ حضرت ابوہریرہ بھی ساتھ تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خوشخبری ہو بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ (نار) میری آگ ہے جو میں بندہ مؤمن پر دنیا میں اس لیے مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت کی آگ کے بدلے میں اس کا حصہ ہوجائے۔
10907
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ مُحَیْصِنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {مَنْ یَعْمَلْ سُوئًا یُجْزَ بِہِ} شَقَّ عَلَی الْمُسْلِمِینَ وَبَلَغَ مِنْہُمْ وَشَکَوْا ذَلِکَ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَارِّبُوا وَسَدِّدُوا وَکُلُّ مَا أُصِیبَ بِہِ الْمُسْلِمُ کَفَّارَۃٌ حَتَّی النَّکْبَۃُ یُنْکَبُہَا وَالشَّوْکَۃُ یُشَاکُہَا۔ (مسلم ۱۹۹۳۔ ترمذی ۳۰۳۸)
(١٠٩٠٨) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ جب قرآن پاک کی آیت { مَنْ یَعْمَلْ سُوئًا یُجْزَ بِہِ } نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت شاق گذرا اور ان میں سے بعض کو (مصیبت) پہنچی بھی۔ انھوں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلو اور کمی کے درمیان درمیان رہو اور درست (راستے پر) رہو۔ ہر مصیبت مسلمان کے لیے کفارہ ہے یہاں تک کہ کوئی کانٹا جو اس کو چبھتا ہے اس میں بھی کفارہ ہے۔
10908
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یُبْتَلَی بِبَلاَئٍ فِی جَسَدِہِ إِلاَّ أَمَرَ اللَّہُ الْحَفَظَۃَ، فَقَالَ : اکْتُبُوا لِعَبْدِی مَا کَانَ یَعْمَلُ وَہُوَ صَحِیحٌ مَا دَامَ مَشْدُودًا فِی وَثَاقِی۔ (احمد ۲/۱۵۹۔ دارمی ۲۷۷۰)
(١٠٩٠٩) حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کے لیے لکھ دو جو عمل وہ صحیح ہونے کی حالت میں کرتا رہا (اور اب بیماری کی وجہ سے نہیں کر پاتا) جب تک کہ میری بیڑی میں جکڑا ہوا ہے۔
10909
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۱۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ السَّکْسَکِیِّ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَرِضَ ، أَوْ سَافَرَ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ مَا کَانَ یَعْمَلُ صَحِیحًا مُقِیمًا۔ (بخاری ۲۹۹۶۔ ابوداؤد ۳۰۸۴)
(١٠٩١٠) حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو بیمار ہوا یا سفر میں گیا اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہ عمل لکھ دیتا ہے جو وہ تندرست یا مقیم ہونے کی حالت میں کرتا تھا (جو اب وہ مرض یا سفر کی وجہ سے نہیں کر پاتا) ۔
10910
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بن عَطَائٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ ، وَلاَ نَصَبٍ ، وَلاَ سَقَمٍ ، وَلاَ حَزَنٍ حَتَّی الْہَمِّ یَہُمُّہُ إِلاَّ کَفَّرَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ خَطَایَاہُ۔ (بخاری ۵۶۴۲۔ مسلم ۱۹۹۲)
(١٠٩١١) حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : مسلمان کو جو بیماری، مشقت، لمبی بیماری، پریشانی اور غم پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔
10911
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِی سَیْفٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ نَعُودُہُ فَإِذَا وَجْہُہُ مِمَّا یَلِی الْجِدَارَ وَامْرَأَتُہُ قَاعِدَۃٌ عِنْدَ رَأْسِہِ قُلْتُ : کَیْفَ بَاتَ أَبُو عُبَیْدَۃَ قَالَتْ بَاتَ بِأَجْرٍ فَأَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ ، فَقَالَ : إنِّی لَمْ أَبِتْ بِأَجْرٍ , وَمَنِ ابْتَلاَہُ اللَّہُ بِبَلاَئٍ فِی جَسَدِہِ فَہُوَ لَہُ حِطَّۃٌ۔
(١٠٩١٢) حضرت عیاض بن غطیف فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی عیادت کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کا چہرہ دیوار کی جانب تھا اور آپ کی اہلیہ آپ کے سر کے پاس بیٹھی تھی۔ میں نے عرض کیا حضرت ابو عبیدہ نے رات کیسے گذاری ؟ اہلیہ نے فرمایا انھوں نے رات اجر کی حالت میں گذاری۔ حضرت ابو عبیدہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں نے رات اجر کماتے ہوئے نہیں گذاری جس شخص کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف دے کر آزماتا ہے تو وہ تکلیف اس کے گناہوں کے گرنے کا سبب بنتی ہے۔
10912
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۱۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ سَمِعَہُ ، مِنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِی سَیْفٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفُ رَفَعَہُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُہُ۔ (احمد ۱۹۵۔ بخاری ۹۳)
(١٠٩١٣) حضرت عیاض بن عطیف سے اسی کے مثل مرفوعا بھی منقول ہے۔
10913
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۱۴) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَا مِنْ شَیْئٍ یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ فِی جَسَدِہِ یُؤْذِیہِ إِلاَّ کُفِّرَ بِہِ عَنْہُ مِنْ سَیِّئَاتِہِ۔ (طبرانی ۸۴۲)
(١٠٩١٤) حضرت معاویہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ : مسلمان کو جو کوئی چیز پہنچتی ہے اور اس کے جسم کو تکلیف پہنچاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔