Ibn Abi Shaybah
12. طلاق کا بیان۔
ابن أبي شيبة
18020
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، وَوَکِیعٌ ، وَحَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ {فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ} قَالَ : فِی غَیْرِ جِمَاعٍ۔
(١٨٠٢١) حضرت عبداللہ (رض) قرآن مجید کی آیت { فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ انھیں اس حال میں طلاق دو کہ وہ پاک ہوں اور اس طہر میں ان سے جماع نہ کیا ہو۔
18021
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : إذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ یُطَلِّقَ امْرَأَتَہُ ، فَلْیُطَلِّقْہَا طَاہِرًا فِی غَیْرِ جِمَاعٍ۔
(١٨٠٢٢) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو اسے اس حال میں طلاق دے کہ وہ پاک ہو اور اس طہر میں اس سے جماع نہ کیا ہو۔
18022
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۲۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ یَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ ، قَالَ : بَلَغَ أَبَا مُوسَی أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَیْہِمْ ، فَأَتَاہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَقُولُ أَحَدُکُمْ : قَدْ تَزَوَّجْتُ ، قَدْ طَلَّقْتُ وَلَیْسَ کَذَا عِدَّۃُ الْمُسْلِمِینَ ، طَلِّقُوا الْمَرْأَۃَ فِی قُبُلِ عِدَّتِہَا۔ (ابن ماجہ ۲۰۱۷۔ ابن حبان ۴۲۶۵)
(١٨٠٢٣) حضرت حمید بن عبد الرحمن حمیری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ (رض) کو خبر پہنچی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے ناراض ہوئے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں سے ایک کہتا ہے کہ میں نے شادی کی ! میں نے طلاق دے دی ! یہ مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے۔ عورت کی اس کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ (کہ اس کے لیے عدت کو شمار کرنا آسان ہو)
18023
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۲۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاہِدًا یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ فِی ہَذَا الْحَرْفِ : {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ} قَالَ : فِی قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔
(١٨٠٢٤) حضرت ابن عباس (رض) قرآن مجید کی آیت { فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ عورت کو اس کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ (کہ اس کے لیے عدت کو شمار کرنا آسان ہو)
18024
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ ، یَعْنِی عَلِیًّا ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ أَصَابُوا حَدَّ الطَّلاَقِ مَا نَدِمَ رَجُلٌ عَلَی امْرَأَۃٍ ، یُطَلِّقُہَا وَہِیَ حَامِلٌ قَدْ تَبَیَّنَ حَمْلُہَا ، أَوْ طَاہِرٌ لَمْ یُجَامِعْہَا مُنْذُ طَہُرَت ، یَنْتَظِرُ حَتَّی إذَا کَانَ فِی قُبُلِ عِدَّتِہَا طَلَّقَہَا ، فَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یُرَاجِعَہَا رَاجَعَہَا ، وَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یُخَلِّیَ سَبِیلَہَا خَلَّی سَبِیلَہَا۔
(١٨٠٢٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو طلاق پر حد کا سامنا کرنا پڑے تو کوئی آدمی اپنی بیوی کو حالت حمل میں طلاق دینے کے بعد اور اس طہر میں طلاق دینے کے بعد جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو، نادم نہ ہو، وہ انتظار کرے اور اسے عدت کے شروع میں طلاق دے، پھر اگر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرلے اور اگر اسے رخصت ہی کرنا چاہے تو رخصت کردے۔
18025
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۲۶) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّہُمَا قَالاَ : طَلاَقُ السُّنَّۃِ فِی قُبُلِ الْعِدَّۃِ ، یُطَلِّقُہَا طَاہِرًا فِی غَیْرِ جِمَاعٍ ، وَإِنْ کَانَ بِہَا حَمْلٌ طَلَّقَہَا مَتَی شَائَ۔
(١٨٠٢٦) حضرت حسن (رض) اور حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ طلاق سنت یہ ہے کہ عدت کے شروع میں طلاق دی جائے، وہ اسے اس حال میں طلاق دے کہ وہ پاک ہو اور اس سے جماع نہ کیا ہو، اور اگر وہ حاملہ ہو تو اسے جب چاہے طلاق دے دے۔
18026
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : طَلَّقْتُ امْرَأَتِی وَہِیَ حَائِضٌ ، فَذَکَرَ ذَلِکَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا حَتَّی تَطْہُرَ ، ثُمَّ تَحِیضَ ، ثُمَّ تَطْہُرَ ، ثُمَّ إِنْ شَائَ طَلَّقَہَا قَبْلَ أَنْ یُجَامِعَہَا ، وَإِنْ شَائَ أَمْسَکَہَا ، فَإِنَّہَا الْعِدَّۃُ الَّتِی قَالَ اللَّہُ۔
(مسلم ۱۰۹۴۔ مالک ۵۳)
(١٨٠٢٧) حضرت ابن عمر (رض) نے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر (رض) نے اس بات کا تذکرہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ وہ رجوع کرلیں، پھر عورت پاک ہو، پھر اسے حیض آئے، پھر جب پاک ہوتوچا ہے تو جماع سے پہلے اسے طلاق دے دے اور چاہے تو روک لے، کیونکہ عدت وہی ہے جو اللہ نے بیان فرمائی ہے۔
18027
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ ، فَأَتَی عُمَرُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا ، ثُمَّ لِیُطَلِّقْہَا طَاہِرًا فِی غَیْرِ جِمَاعٍ۔
(١٨٠٢٨) حضرت ابن عمر (رض) نے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر (رض) نے اس بات کا تذکرہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ وہ رجوع کرلیں، پھر پاک ہونے کے بعد جماع سے پہلے طلاق دے دیں۔
18028
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَوْلَی آلِ طَلْحَۃَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ ، فَذَکَرَ ذَلِکَ عُمَرُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا ثُمَّ لِیُطَلِّقْہَا طَاہِرًا ، أَوْ حَامِلاً۔ (مسلم ۵۔ ابوداؤد ۲۱۷۴)
(١٨٠٢٩) حضرت ابن عمر (رض) نے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر (رض) نے اس بات کا تذکرہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ وہ رجوع کرلیں، پھر پاک ہونے کی حالت میں یا حاملہ ہونے کی حالت میں طلاق دے دیں۔
18029
Ibn Abi Shaybah(۱۸۰۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ : إذَا طَلَّقَہَا فِی طُہْرٍ قَدْ جَامَعَہَا فِیہِ ، لَمْ تَعْتَدَّ فِیہِ بِتِلْکَ الْحَیْضَۃِ۔
(١٨٠٣٠) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایسے طہر میں طلاق دی جس میں جماع کیا تھا تو وہ حیض شمار نہیں ہوگا۔