hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

36. زہد و تقوی کا بیان

ابن أبي شيبة

35366
Ibn Abi Shaybah
حَدَّثَنا أبو بَکْر بن أبی شَیْبۃ : عبد اللہ بن مُحَمَّد بن إبراہیم العَبْسی الْکُوفِی رحمہ اللہ۔ (۳۵۳۶۷) حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یَرْفَعُ غَدَائً لِعَشَائٍ ، وَلاَ عَشَائً لِغَدَائٍ ، وَکَانَ یَقُولُ : إنَّ مَعَ کُلِّ یَوْمٍ رِزْقَہُ ، وَکَانَ یَلْبَسُ الشَّعْرَ وَیَأْکُلُ الشَّجَرَ وَیَنَامُ حَیْثُ أَمْسَی۔
(٣٥٣٦٧) حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں : حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) صبح کے کھانے سے رات کے لیے اور رات کے کھانے سے صبح کے لیے نہیں بچایا کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے : ہر دن کا رزق اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ آپ بالوں سے بنایا ہوا لباس پہنتے، درختوں پر لگے ہوئے پھل وغیرہ کھالیتے اور جہاں رات ہوجاتی وہیں سو لیتے۔
35367
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۶۸) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِیَّۃَ ، قَالَ : قَالَ : عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : کُلُوا مِنَ بَقْلِ الْبَرِّیَّۃِ ، وَاشْرَبُوا مِنَ الْمَائِ الْقَرَاحِ ، وَانْجُوَا مِنَ الدُّنْیَا سَالِمِینَ۔
(٣٥٣٦٨) حضرت شمر بن عطیہ کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا : جنگلی سبزی کھاؤ، سادہ پانی پیو، اور سلامتی کے ساتھ دنیا سے رہائی پا جاؤ۔
35368
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۶۹) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ یَرْفَعُہُ إِلَی عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ : قَالَ لأَصْحَابِہِ : اتَّخَذُوا الْمَسَاجِدَ مَسَاکِنَ ، وَاِتَّخَذُوا الْبُیُوتَ مَنَازِلَ ، وَانْجُوا مِنَ الدُّنْیَا بِسَلاَمٍ ، وَکُلُوا مِنْ بَقْلِ الْبَرِّیَّۃِ ، قَالَ : زَادَ فِیہِ الأَعْمَشُ : وَاشْرَبُوا مِنَ الْمَائِ الْقَرَاحِ۔
(٣٥٣٦٩) حضرت ابو صالح کہتے ہیں : عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے اپنے اصحاب سے فرمایا : مسجدوں کو اپنا گھر بنا لو اور گھروں کو آرام گاہ، اور سلامتی کے ساتھ دنیا سے نجات پا جاؤاور جنگلی ترکاری کھاؤ۔ ابو صالح کہتے ہیں : اعمش نے یہ روایت ” سادہ پانی پیو “ کے اضافے کے ساتھ ذکر کی ہے۔
35369
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۷۰) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَہُ ، قَالَ : قَالَ الْحَوَارِیُّونَ لِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ: مَا تَأْکُلُ؟ قَالَ: خُبْزَ الشَّعِیرِ، قَالُوا: وَمَا تَلْبَسُ؟ قَالَ: الصُّوفَ ، قَالُوا: وَمَا تَفْتَرِشُ؟ قَالَ: الأَرْضَ، قَالُوا: کُلُّ ہَذَا شَدِیدٌ ، قَالَ : لَنْ تَنَالُوا مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ حَتَّی تُصِیبُوا ہَذَا عَلَی لَذَّۃٍ ، أَوَ قَالَ : عَلَی شَہْوَۃٍ۔
(٣٥٣٧٠) حضرت علاء بن مسیب کو کسی آدمی نے یہ روایت سنائی۔ اس نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے انصار نے ان سے عرض کیا : آپ کیا کھاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جو کی روٹی۔ انھوں نے عرض کیا : آپ پہنتے کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اون۔ انھوں نے عرض کیا آپ بچھاتے کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : زمین۔ انھوں نے کہا : ان سب کو اختیار کرنا تو بہت مشکل ہے۔ آپ نے فرمایا : تم اس وقت تک آسمانوں میں عزت نہیں پاسکتے جب تک تم ان چیزوں کو لذت پر ترجیح نہ دو ۔ یا پھر فرمایا : شہوتوں پر (ترجیح نہ دو ) ۔
35370
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَعْقُوبَ ، قَالَ : قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ: لاَ تُکْثِرُوا الْکَلاَمَ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللہِ فَتَقْسُوْا قُلُوبُکُمْ ، فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِی بَعِیدٌ مِنَ اللہِ ، وَلَکِنْ لاَ تَعْلَمُونَ ، لاَ تَنْظُرُوا فِی ذُنُوبِ الْعِبَادِ کَأَنَّکُمْ أَرْبَابٌ ، وَانْظُرُوا فِی ذُنُوبِکُمْ کَأَنَّکُمْ عَبِیدٌ ، فَإِنَّمَا النَّاسُ رَجُلاَنِ : مُبْتَلًی وَمُعَافًی ، فَارْحَمُوا أَہْلَ الْبَلاَئِ ، وَاحْمَدُوا اللَّہَ عَلَی الْعَافِیَۃِ۔
(٣٥٣٧١) حضرت محمد بن یعقوب کہتے ہیں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا : خدا کے ذکر کے سوا اور کوئی کلام کثرت سے مت کیا کرو ، ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔ اور سخت دل اللہ تعالیٰ سے دور ہوتے ہیں لیکن تمہیں معلوم نہیں ہوتا۔ لوگوں کے گناہوں کو یوں مت دیکھا کرو جیسے کہ تم ہی رب ہو۔ بلکہ اپنے گناہوں کو یوں دیکھا کرو جیسے تم کوئی غلام ہو۔ کیونکہ لوگوں کی دو ہی حالتیں ہیں۔ ایک وہ جو کسی آزمائش میں مبتلا ہیں اور دوسرے وہ جو عافیت میں ہیں۔ چنانچہ مبتلا لوگوں پر رحم کیا کرو اور عافیت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیا کرو۔
35371
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : مَرَّتْ بِعِیسَی امْرَأَۃٌ ، فَقَالَتْ : طُوبَی لِبَطْنٍ حَمَلَک ، وَلِثَدْیٍ أَرْضَعَک ، فَقَالَ : عِیسَی : بَلْ طُوبَی لِمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاتَّبَعَ مَا فِیہِ۔
(٣٥٣٧٢) حضرت خیثمہ کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے ایک عورت گزری تو اس نے کہا : خوش بختی ہو اس بطن کے لیے جس نے تجھے اپنے اندر رکھا، اور ان چھاتیوں کے لیے جنہوں نے تجھے دودھ پلایا۔ تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا : بلکہ خوش بختی ہو اس شخص کے لیے جس نے قرآن پڑھا اور اس میں موجود احکامات کی پیروی کی۔
35372
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : اتَّقُوا اللَّہَ وَاعْمَلُوا لِلَّہِ ، وَلاَ تَعْمَلُوا لِبُطُونِکُمْ ، وَانْظُرُوا إِلَی ہَذِہِ الطَّیْرِ لاَ تَحْصُدُ ، وَلاَ تَزْرَعُ یَرْزُقُہَا اللَّہُ ، فَإِنْ زَعَمْتُمْ ، أَنَّ بُطُونَکُمْ أَعْظَمُ مِنْ بُطُونِ الطَّیْرِ فَہَذِہِ الْبَقَرُ وَالْحَمِیرُ لاَ تَحْرُثُ ، وَلاَ تَزْرَعُ یَرْزُقُہَا اللَّہُ ، وَإِیَّاکُمْ وَفَضْلُ الدُّنْیَا فَإِنَّہَا عِنْدَ اللہِ رِجْسٌ۔
(٣٥٣٧٣) حضرت سالم کہتے ہیں : عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرو، اور اپنے پیٹوں کے لیے عمل مت کرو۔ ان پرندوں کو دیکھو، یہ کھیتی باڑی نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ انھیں رزق دیتا ہے۔ اگر تمہیں یہ شبہ ہو کہ تمہارے پیٹ تو ان پرندوں سے بڑے ہیں (اس لیے تمہیں تو کھیتی باڑی کرنی پڑے گی) ، تو ان گائے بھینسوں اور گدھوں کو دیکھو یہ بھی زراعت نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ انھیں رزق دیتا ہے۔ دنیا کو بڑی چیز مت سمجھو، بیشک یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک گندگی ہے۔
35373
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۷۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : طُوبَی لِوَلَدِ الْمُؤْمِنِ ، طُوبَی لَہُ یُحْفَظُونَ مِنْ بَعْدِہِ ، وَقَرَأَ خَیْثَمَۃُ : {وَکَانَ أَبُوہُمَا صَالِحًا}۔
(٣٥٣٧٤) حضرت خیثمہ کہتے ہیں : عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا : خوش بختی ہے مومن کی اولاد کے لیے ، خوش بختی ہے ان کے لئے، کہ اس (مومن کے انتقال کر جانے) کے بعد بھی (اس کی وجہ سے) ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر خیثمہ نے یہ آیت پڑھی : { وَکَانَ أَبُوہُمَا صَالِحًا } اور ان دونوں کا باپ نیک آدمی تھا (اس لیے ان کے خزانے کی حفاظت کی گئی) ۔
35374
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۷۵) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی ثُمَامَۃَ ، قَالَ : قَالَ الْحَوَارِیُّونَ : یَا عِیسَی ، مَا الإِخْلاَصُ لِلَّہِ ؟ قَالَ : أَنْ یَعْمَلَ الرَّجُلُ الْعَمَلَ لاَ یُحِبُّ أَنْ یَحْمَدَہُ عَلَیْہِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَالْمُنَاصِحُ لِلَّہِ الَّذِی یَبْدَأُ بِحَقِّ اللہِ قَبْلَ حَقِّ النَّاسِ ، یُؤْثِرُ حَقَّ اللہِ عَلَی حَقِّ النَّاسِ ، وَإِذَا عُرِضَ أَمْرَانِ : أَحَدُہُمَا لِلدُّنْیَا ، وَالآخَرُ لِلآخِرَۃِ ، بَدَأَ بِأَمْرِ الآخِرَۃِ قَبْلَ أَمْرِ الدُّنْیَا۔
(٣٥٣٧٥) حضرت ابو ثمامہ کہتے ہیں : (عیسیٰ (علیہ السلام) کے) انصار نے عرض کیا : اے عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے لیے کسی چیز کو خالص کردینے کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدمی کا اس حالت میں عمل کرنا کہ وہ یہ بات پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے اس عمل پر لوگوں میں سے کوئی اس کی تعریف کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہوجانے والا شخص وہ ہے جو لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لگنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے، اور اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر ترجیح دے۔ اور جب اس کے پیش نظر دو کام آجائیں ، ان میں سے ایک دنیا (کے فائدے) کے لیے ہو اور دوسرا آخرت (کے فائدے) کے لیے ہو تو وہ آخرت (کے فائدے) کے کام کو دنیا (کے فائدے) کے کام سے پہلے سر انجام دے۔
35375
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : لَوِ اتَّخَذْت حِمَارًا تَرْکَبُہُ لِحَاجَتِکَ ، قَالَ : أَنَا أَکْرَمُ عَلَی اللہِ مِنْ أَنْ یَجْعَلَ لِی شَیْئًا یَشْغَلُنِی بِہِ۔
(٣٥٣٧٦) حضرت ثابت بنانی کہتے ہیں : ایک آدمی نے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) سے عرض کیا : کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ ایک گدھا لے لیں اور اپنی حاجات پوری کرنے کے لیے اس پر سفر کیا کریں۔ آپ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آتا ہوں اس بات سے کہ وہ مجھے کوئی ایسی چیز عطا فرماے جو مجھے اس سے غافل کر دے۔