hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

32. جنگ کرنے کا بیان

ابن أبي شيبة

34406
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۰۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَۃَ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ؛ أَنَّ حَبِیبَ بْنَ زَیْدٍ قَتَلَہُ مُسَیْلِمَۃُ ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْیَمَامَۃِ ، خَرَجَ أَخُوہُ عَبْدُ اللہِ بْنُ زَیْدٍ وَأُمُّہُ ، وَکَانَتْ أُمُّہُ نَذَرَتْ أَنْ لاَ یُصِیبَہَا غُسْلٌ حَتَّی یُقْتَلَ مُسَیْلِمَۃُ ، فَخَرَجَا فِی النَّاسِ ، قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ زَیْدٍ : جَعَلْتُہُ مِنْ شَأْنِی ، فَحَمَلْتُ عَلَیْہِ فَطَعَنْتُہُ بِالرُّمْحِ ، فَمَشَی إِلَیَّ فِی الرُّمْحِ ، قَالَ : وَنَادَانِی رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ : أَنْ آجرْہُ الرُّمْحَ ، قَالَ : فَلَمْ یَفْہَمْ ، قَالَ فَنَادَاہُ : أَنْ أَلْقِ الرُّمْحَ مِنْ یَدِکَ ، قَالَ : فَأَلْقَی الرُّمْحَ مِنْ یَدِہِ ، وَغُلِبَ مُسَیْلِمَۃُ۔
(٣٤٤٠٧) حضرت ابوبکر بن محمد فرماتے ہیں کہ حبیب بن زید کو مسیلمہ نے قتل کیا تھا۔ جنگ یمامہ میں ان کے بھائی عبداللہ بن زید اور ان کی والدہ لڑائی کے لیے نکلے۔ ان کی والدہ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اس وقت تک پانی کو ہاتھ نہیں لگائیں گی جب تک مسیلمہ کو قتل نہیں کردیا جاتا۔ چنانچہ وہ ماں بیٹا لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔ عبداللہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے مسیلمہ کو اپنی نظر میں رکھا اور پھر اس پر حملہ کیا اور اسے نیزہ مارا۔ وہ نیزہ لے کر میری طرف بڑھا اور لوگوں میں سے ایک آدمی نے مجھے پکارا کہ اس کے منہ میں نیزہ مارو۔ وہ اس بات کو سمجھ نہ پایا۔ پھر اس نے اسے آواز دی کہ اپنے ہاتھ سے نیزہ پھینک دو ۔ اس نے اپنے ہاتھ سے نیزہ پھینک دیا اور مسیلمہ مغلوب ہوگیا۔
34407
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَلَی ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ ، وَہُوَ یَتَحنَّطُ ، فَقُلْتُ : أَیْ عَمِ ، أَلاَ تَرَی مَا لَقِیَ النَّاسُ ؟ فَقَالَ : الآنَ یَا ابْنَ أَخِی۔
(٣٤٤٠٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ کے دن حضرت ثابت بن قیس سے ملا درآنحالیکہ وہ شدید غصے کے عالم میں تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے چچا جان ! آپ نہیں دیکھتے کہ آج لوگوں میں کیسی لڑائی ہوئی ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں بھتیجے میں نے اب دیکھا ہے۔
34408
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْوَلِیدِ الْمُزَنِیِّ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ مَخْرَمَۃَ صَرِیعًا یَوْمَ الْیَمَامَۃِ ، فَوَقَفْتُ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ ، ہَلْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاجْعَلْ لِی فِی ہَذَا الْمِجَنِّ مَاء ً ، لَعَلِّی أُفْطِرُ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَأَتَیْتُ الْحَوْضَ وَہُوَ مَمْلُوئٌ دَمًا ، فَضَرَبْتُہُ بِحَجَفَۃٍ مَعِی ، ثُمَّ اغْتَرَفْتُ مِنْہِ فَأَتَیْتُہُ ، فَوَجَدْتُہُ قَدْ قَضَی۔
(٣٤٤٠٩) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت عبداللہ بن مخرمہ کے پاس آیا، وہ شدید زخمی حالت میں میدانِ جنگ میں پڑے تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہوگیا۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ اے عبداللہ بن عمر ! کیا روزہ دار نے روزہ افطار کرلیا (یعنی کیا روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا) میں نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا کہ میرے لیے اس پیالے میں پانی لے آؤ تاکہ میں بھی روزہ افطار کرلوں۔ میں حوض کی طرف آیا تو وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے خون کو ہٹا کر پیالے کو پانی سے بھرا اور ان کے پاس لایا تو وہ وفات پاچکے تھے۔
34409
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۱۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کُنْتُ بَیْنَ یَدَیْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَبَیْنِ الْبَرَائِ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ ، قَالَ : فَبَعَثَ خَالِدٌ الْخَیْلَ ، فَجَاؤُوا مُنْہَزِمِینَ ، قَالَ : وَجَعَلَ الْبَرَائُ یُرْعَدُ ، فَجَعَلْتُ أَطِدُہُ إِلَی الأَرْضِ وَہُوَ یَقُولُ ، إِنِّی أَجِدُنِی أَفْطُرُ ، قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ خَالِدٌ الْخَیْلَ فَجَاؤُوا مُنْہَزِمِینَ ، قَالَ : فَنَظَرَ خَالِدٌ إِلَی السَّمَائِ ، ثُمَّ بَلَدَ إِلَی الأَرْضِ ، وَکَانَ یَصْنَعُ ذَلِکَ إِذَا أَرَادَ الأَمْرَ ، ثُمَّ قَالَ : یَا بَرَائُ ، أَوحدْ فِی نَفْسِہِ ، قَالَ : فَقَالَ : الآنَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : نَعَمَ الآنَ ، قَالَ : فَرَکِبَ الْبَرَائُ فَرَسَہُ ، فَجَعَلَ یَضْرِبُہَا بِالسَّوْطِ ، وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَیْہَا وَہِیَ تَمْصعُ بِذَنَبِہَا ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، وَقَالَ : یَا أَہْلَ الْمَدِینَۃِ ، إِنَّہُ لاَ مَدِینَۃَ لَکُمْ ، وَإِنَّمَا ہُوَ اللَّہُ وَحْدَہُ وَالْجَنَّۃُ ، ثُمَّ حَمَلَ وَحَمَلَ النَّاسُ مَعَہُ ، فَانْہَزَمَ أَہْلُ الْیَمَامَۃِ ، حَتَّی أَتَی حِصْنَہُمْ ، فَلَقِیَہُ مُحَکِّمُ الْیَمَامَۃِ ، فقال : یَا بَرَائُ ، فَضَرَبَہُ بِالسَّیْفِ ، فَاتَّقَاہُ الْبَرَائُ بِالْحَجَفَۃِ ، فَأَصَابَ الْحَجَفَۃَ ، ثُمَّ ضَرَبَہُ الْبَرَائُ فَصَرَعَہُ ، فَأَخَذَ سَیْفَ مُحَکِّمِ الْیَمَامَۃِ فَضَرَبَہُ بِہِ حَتَّی انْقَطَعَ، فَقَالَ : قَبَّحَ اللَّہُ مَا بَقِیَ مِنْک ، وَرَمَی بِہِ وَعَادَ إِلَی سَیْفِہِ۔
(٣٤٤١٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید اور حضرت براء کے درمیان تھا۔ حضرت خالد نے ایک لشکر کو لڑائی کے لیے روانہ فرمایا تو وہ شکست کھاکر واپس آگیا۔ اس کے بعد حضرت براء پر لرزہ طاری ہوگیا اور میں نے انھیں سکون دینے کے لیے زمین کے ساتھ ملا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا۔ پھر حضرت خالد نے ایک اور جماعت کو لڑائی کے لیے بھیجا وہ بھی شکست کھاکر واپس آگئی، حضرت خالد نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور پھر زمین کی طرف دیر تک دیکھتے رہے۔ حضرت خالد جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یونہی کیا کرتے تھے۔ پھر انھوں نے فرمایا کہ اے برائ ! تم حملہ کرو۔ حضرت براء نے پوچھا ابھی ؟ انھوں نے فرمایا جی ہاں ابھی۔ چنانچہ حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے کوڑے مارنے لگے۔ وہ منظر گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ گھوڑا اپنی دم کو ہلا رہا تھا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا کہ اے شہر والو ! تمہارا کوئی شہر نہیں ہے۔ وہ اللہ یکتا ہے اور اس کے پاس تمہارے لیے جنت ہے۔ پھر حضرت براء نے حملہ کیا اور ان کے ساتھ لوگوں نے بھی حملہ کیا اور اہل یمامہ کو شکست ہوگئی۔ پھر حضرت براء یمامہ والوں کے قلعے میں گئے اور یمامہ کے محکم سے سامنا ہوا۔ اس نے حضرت براء پر حملہ کیا۔ حضرت براء نے اس کے حملے کو ناکام بنا کر اس پر حملہ کیا اور اسے مار گرایا۔ پھر آپ نے یمامہ کے محکم کی تلوار پکڑی اور اس کا سر قلم کردیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تجھ میں سے جو باقی رہا اللہ اسے نامراد کرے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار کو پھینک دیا اور اپنی تلوار کو اٹھا لیا۔
34410
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۱۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانَ الزُّبَیْرُ یَتْبَعُ الْقَتْلَی یَوْمَ الْیَمَامَۃِ ، فَإِذَا رَأَی رَجُلاً بِہِ رَمَقٌ أَجْہَزَ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَانْتَہَی إِلَی رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ مَعَ الْقَتْلَی، فَأَہْوَی إِلَیْہِ بِالسَّیْفِ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ السَّیْفِ وَثَبَ یَسْعَی ، وَسَعَی الزُّبَیْرُ خَلْفَہُ وَہُوَ یَقُولُ : أَنَا ابْنُ صَفِیَّۃَ الْمُہَاجِرِ ، قَالَ : فَالْتَفَتَ إِلَیْہِ الرجل ، فَقَالَ : کَیْفَ تَرَی شَدَّ أَخِیک الْکَافِرَ ؟ قَالَ : فَحَاصَرَہُ حَتَّی نَجَا۔
(٣٤٤١١) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر (رض) جنگ یمامہ کے دن مقتولین کو تلاش کررہے تھے۔ جب وہ کسی آدمی کے پاس سے گزرتے ، اس کا معائنہ کرتے، اگر اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہوتی تو اسے بھجوا دیتے۔ آپ ایک آدمی کے پاس پہنچے، جو مقتولین میں لیٹا ہوا تھا۔ آپ نے اسے تلوار لگائی تو وہ اٹھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت زبیر (رض) اس کے پیچھے بھاگے اور کہتے جاتے تھے کہ میں صفیہ کا مہاجر بیٹا ہوں۔ آدمی ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ آپ اپنے کافر بھائی کے پکڑنے کو کیسا سمجھتے ہیں۔ پھر انھوں نے اس کو گھیرا لیکن وہ آدمی بھاگ گیا۔
34411
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۱۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ بْنِ الْہَادِّ ، قَالَ: أُصِیبَ سَالِمٌ مَوْلَی أَبِی حُذَیْفَۃَ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ۔
(٣٤٤١٢) حضرت عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں کہ حضرت سالم مولی ابی حذیفہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
34412
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کَانَ شِعَارُ الْمُسْلِمِینَ یَوْمَ مُسَیْلِمَۃَ، یَا أَصْحَابَ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ۔
(٣٤٤١٣) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کا شعار یہ جملہ تھا ” اے سورة البقرۃ والو ! “
34413
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَتْ فِی بَنِی سُلَیْمٍ رِدَّۃٌ ، فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ أَبُو بَکْرٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ ، فَجَمَعَ مِنْہُمْ أُنَاسًا فِی حَظِیرَۃٍ ، حَرَّقَہَا عَلَیْہِمْ بِالنَّارِ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرُ ، فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ ، فَقَالَ : اِنْزِعْ رَجُلاً یُعَذَّبُ بِعَذَابِ اللہِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : وَاللہِ لاَ أَشِیمُ سَیْفًا سَلَّہُ اللَّہُ عَلَی عَدُوِّہِ ، حَتَّی یَکُونَ اللَّہُ ہُوَ یَشِیمُہُ ، وَأَمَرَہُ فَمَضَی مِنْ وَجْہِہِ ذَلِکَ إِلَی مُسَیْلِمَۃَ۔
(٣٤٤١٤) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب بنو سلیم کے لوگ مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت خالد بن ولید (رض) کو ایک لشکر دے کر ان کی طرف روانہ فرمایا۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے انھیں آگ لگا دی۔ جب حضرت عمر (رض) کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ آپ کو چاہیے کہ ایسے شخص کو قیادت سے معزول کردیں جو وہ عذاب دیتا ہے جو عذاب اللہ کا حق ہے ! حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں ایسے اللہ کی تلوار کو نیام میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی تلوار کو نیام میں نہ رکھ دے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت خالد بن ولید (رض) کو مسیلمہ کی طرف جانے کا حکم دے دیا۔
34414
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۱۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثُمَامَۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ وَجَّہَ النَّاسَ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ ، فَأَتَوا عَلَی نَہَرٍ ، فَجَعَلُوا أَسَافِلَ أَقْبِیَتِہِمْ فِی حُجَزِہِمْ ، ثُمَّ قَطَعُوا إِلَیْہِمْ ، فَتَرَامَوْا ، فَوَلَّی الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِینَ ، فَنَکَّسَ خَالِدٌ سَاعَۃً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ، وَأَنَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَرَائِ ، وَکَانَ خَالِدٌ إِذَا حَزَبَہُ أَمْرٌ نَظَرَ إِلَی السَّمَائِ سَاعَۃً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ ، ثُمَّ یُفَرَی لَہُ رَأْیُہُ ، فَأَخَذَ الْبَرَائَ أَفکَلٌ ، فَجَعَلْتُ أطِدُہُ إِلَی الأَرْضِ ، فَقَالَ : یَا ابْنَ أَخِی ، إِنِّی لأَفْطُرُ ، ثُمَّ قَالَ : یَا بَرَائُ ، قُمْ ، فَقَالَ الْبَرَائُ : الآنَ ؟ قَالَ : نَعَمَ ، الآنَ۔ فَرَکِبَ الْبَرَائُ فَرَسًا لَہُ أُنْثَی ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنَّہُ مَا إِلَی الْمَدِینَۃِ سَبِیلٌ ، إِنَّمَا ہِیَ الْجَنَّۃُ ، فَحَضَّہُمْ سَاعَۃً ، ثُمَّ مَصَعَ فَرَسَہُ مَصَعَاتٍ ، فَکَأَنِّی أَرَاہَا تَمْصَعُ بِذَنَبِہَا ، ثُمَّ کَبَسَ وَکَبَسَ النَّاسُ۔ قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ : فَأَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کَانَ فِی مَدِینَتِہِمْ ثُلْمَۃٌ ، فَوَضَعَ مُحَکِّمُ الْیَمَامَۃِ رِجْلَیْہِ عَلَیْہَا ، وَکَانَ عَظِیمًا جَسِیمًا فَجَعَلَ یَرْتَجِزُ ، أَنَا مُحَکِّمُ الْیَمَامَۃِ ، أَنَا مدارُ الْحلَّۃِ ، وَأَنَا وَأَنَا۔ قَالَ : وَکَانَ رَجُلاً ہَمِرًا ، فَلَمَّا أَمْکَنَہُ مِنَ الضَّرْبِ ضَرَبَہُ ، وَاتَّقَاہُ الْبَرَائُ بِحَجَفَتِہِ ، ثُمَّ ضَرَبَ الْبَرَائُ سَاقَہُ فَقَتَلَہُ ، وَمَعَ مُحَکِّمِ الْیَمَامَۃِ صَفِیحَۃٌ عَرِیضَۃٌ ، فَأَلْقَی سَیْفَہُ ، وَأَخَذَ صَفِیحَۃَ مُحَکِّمٍ ، فَحَمَلَ فَضَرَبَ بِہَا حَتَّی انْکَسَرَتْ ، فَقَالَ : قَبَحَ اللَّہُ مَا بَیْنِی وَبَیْنَکَ ، وَأَخَذَ سَیْفَہُ۔
(٣٤٤١٥) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید (رض) نے لوگوں کو دشمنوں کی طرف روانہ فرمایا۔ وہ دریا کے کنارے پر پہنچے، دشمن نے ایک چال کے ذریعے مسلمانوں پر حملہ کیا تو مسلمان تتر بتر ہوگئے اور الٹے پاؤں واپس لوٹ آئے۔ پھر حضرت خالد بن ولید (رض) نے کچھ دیر سر جھکایا اور پھر سر اٹھایا۔ میں اس وقت ان کے اور حضرت براء کے درمیان کھڑا تھا۔ حضرت خالد کا معمول تھا کہ جب انھیں کوئی اہم کام پیش آتا تھا تو وہ کچھ دیر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تھے اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے۔ پھر وہ اپنی رائے کا اظہار فرماتے تھے۔ اتنے میں حضرت براء بن عازب (رض) پر کپکپی طاری ہوئی تو میں نے انھیں زمین کے ساتھ ملا دیا وہ کہنے لگے اے میرے بھائی ! میں روزہ توڑنا چاہتا ہوں۔ پھر حضرت خالد نے فرمایا کہ اے برائ ! اٹھو۔ انھوں نے کہا اس وقت ؟ حضرت خالد نے فرمایا کہ ہاں اسی وقت۔
(٢) پھر حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر فرمایا اے لوگو ! مدینہ جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، راستہ ہے تو جنت کا ہے۔ پھر آپ نے کچھ دیر انھیں ترغیب دی۔ پھر اپنے گھوڑے کو تھپکیاں دیں اور چل پڑے اور لوگ بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔
(٣) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ یمامہ والوں کے شہر میں ایک ٹیلہ تھا۔ یمامہ کے سربراہ نے اس پر اپنے پاؤں رکھے اور وہ ایک موٹا اور لمبا آدمی تھا۔ وہ رجز پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ میں یمامہ کا سربراہ ہوں، میں یہاں کے لوگوں کا ٹھکانا ہوں اور میں، میں ہوں۔
(٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ وہ ایک پہلوان آدمی تھا۔ اس نے حضرت برائ (رض) پر حملہ کیا تو حضرت براء نے زرہ کے ذریعے اپنا بچاؤ کیا پھر حضرت براء نے اس کی پنڈلی پر وار کیا اور اسے مار ڈالا۔ یمامہ کے حاکم کے پاس ایک چوڑی ذرہ تھی، حضرت براء نے اپنی تلوار رکھی اور اس کی ذرہ لے کر اس سے مارا اور وہ ٹوٹ گیا پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ اس چیز کو رسوا کرے جو تیرے اور میرے درمیان ہے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار لے لی۔
34415
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعرٌ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ یُسَمِّہِ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ لَمَّا أَتَاہُ فَتْحُ الْیَمَامَۃِ سَجَدَ۔
(٣٤٤١٦) حضرت ابو عون ثقفی روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کو یمامہ کی فتح کی خبر ملی تو آپ نے سجدہ کیا۔