hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

9. قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ

ابن أبي شيبة

12271
Ibn Abi Shaybah
حدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ : (۱۲۲۷۲) حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إبْرَاہِیمَ بْنِ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَیْنِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃِ اللہِ ، وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ الْعَبْدُ۔ (ابوداؤد ۳۰۰۔ احمد ۴/۴۳۳)
(١٢٢٧٢) حضرت عمران بن حصین سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نذر معصیت کی نہیں ہے، اور اس چیز میں جس کا انسان مالک نہ ہو۔
12272
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۷۳) عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیعَ اللَّہَ فَلْیُطِعْہُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَعْصِیَ اللَّہَ ، فَلاَ یَعْصِہِ۔ (بخاری ۶۶۹۶۔ ابوداؤد ۳۲۸۲)
(١٢٢٧٣) حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانے اس کو چاہیے کہ اللہ کی اطاعت کرے اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے اس کو چاہیے کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے۔
12273
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۷۴) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إنَّ النَّذْرَ لاَ یُقَدِّمُ شَیْئًا ، وَلاَ یُؤَخِّرُہُ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ یَسْتَخْرِجُ بِہِ مِنَ الْبَخِیلِ ، فَلاَ وَفَائَ بِالنَّذْرِ فِی مَعْصِیَۃٍ۔
(١٢٢٧٤) حضرت ابو عبیدہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا : نذر کسی چیز کو آگے پیچھے نہیں کرتی، لیکن اللہ پاک اس کے ذریعہ سے بخیل سے نکالتا ہے، پس گناہ اور نافرمانی کی نذر کو پورا نہیں کیا جائے گا۔
12274
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۷۵) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ الدَّالاَنِیِّ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃٍ۔ (عبدالرزاق ۱۵۸۲۳۔ احمد ۲۹۷)
(١٢٢٧٥) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ معصیت اور نافرمانی کی نذر کو پورا کرنا نہیں ہے۔
12275
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۷۶) حدَّثَنَا مُحَمَّد بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ خَالَتِہِ مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عَبِیدَۃَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُہُ عَنِ النَّذْرِ ، فَقَالَ : مَا کَانَ مِنْ نَذْرٍ ہُوَ فِی شَیْئٍ مِنْ طَاعَۃِ اللہِ فَأَمْضُوہُ ، وَمَا کَانَ مِنْ نَذْرٍ فِی شَیْئٍ مِنْ طَاعَۃِ الشَّیْطَانِ فَلاَ تُجِیزُوہُ۔
(١٢٢٧٦) حضرت نعمان بن قیس اپنی خالہ حضرت ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عبیدہ سے نذر کے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا اگر کوئی نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو اس کو پورا کردو، اور جو نذر شیطان کی اطاعت کی ہو اس کو نہیں پورا کیا جائے گا۔
12276
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۷۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : النَّذْرُ نَذْرَانِ ، فَنَذْرُ اللہِ وَنَذْرُ الشَّیْطَانِ ، فَمَا کَانَ لِلَّہِ فَفِیہِ الْوَفَائُ وَالْکَفَّارَۃُ ، وَمَا کَانَ لِلشَّیْطَانِ فَلاَ وَفَائَ فِیہِ ، وَلاَ کَفَّارَۃَ۔
(١٢٢٧٧) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ نذر دو طرح کی ہے، ایک نذر اللہ کے لیے ہے اور دوسری نذر شیطان کے لیے ہے، پس جو نذر اللہ کے لیے ہو اس کو پورا کرنا بھی ہے اور اس میں کفارہ بھی ہے، اور جو نذر شیطان کے لیے ہے اس کو پورا کرنا نہیں ہے اور اس میں کفارہ بھی نہیں ہے۔
12277
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۷۸) حدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ وَحَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : النَّذْرُ نَذْرَانِ فَمَا کَانَ لِلَّہِ فَفِ بِہِ ، وَمَا کَانَ فِی مَعْصِیَۃٍ ، فَلاَ تَفِ بہ ، وَعَلَیْکَ الْکَفَّارَۃُ۔
(١٢٢٧٨) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ نذر دو طرح کی ہیں، پس جو نذر اللہ کے لیے ہو اس کو پورا کرو، اور جو نذر شیطان کے لیے ہو اس کو پورا مت کرو، اور تیرے ذمہ اس کا کفارہ ہے۔
12278
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۷۹) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ، عَن عِمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: لاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃٍ ، کَفِّرْ یَمِینَک۔
(١٢٢٧٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ معصیت کی نذر نہیں ہے، اپنی قسم کا کفارہ ادا کر،
12279
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۸۰) حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إنِّی نَذَرْت أَنْ أَقُومَ عَلَی قُعَیْقِعَانَ عُرْیَانًا إلَی اللَّیْلِ ، فَقَالَ : أَرَادَ الشَّیْطَانُ أَنْ یُبْدِیَ عَوْرَتَکَ ، وَأَنْ یَضْحَکَ النَّاسَ بِکَ ، الْبَسْ ثِیَابَک وَصَلِّ عِنْدَ الْحِجْرِ رَکْعَتَیْنِ۔
(١٢٢٨٠) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس آیا اور پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ میں قعیقعان میں رات تک برہنہ کھڑا رہوں گا، آپ نے فرمایا شیطان چاہتا ہے تیرا ستر ظاہر کر دے اور لوگ تجھ پر ہنسیں، اپنے کپڑے پہن اور حجر اسود کے پاس جا کردو رکعت نماز ادا کر۔
12280
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۸۱) حدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ الأَنْصَارِیِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَی رَجُلٍ نَذْرٌ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ۔ (بخاری ۶۰۴۷۔ مسلم ۱۷۴)
(١٢٢٨١) حضرت ثابت بن الضحاک انصاری سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں ہے جس کا وہ مالک نہیں ہے۔