Ibn Abi Shaybah
5. روزے کا بیان۔
ابن أبي شيبة
8959
Ibn Abi Shaybah(۸۹۵۹) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَیُّوبَ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُبَشِّرُ أَصْحَابَہُ : قَدْ جَائَکُمْ رَمَضَانُ شَہْرٌ مُبَارَکٌ ، اُفْتُرِضَ عَلَیْکُمْ صِیَامُہُ ، تُفْتَحُ فِیہِ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ ، وَتُغْلَقُ فِیہِ أَبْوَابُ الْجَحِیمِ ، وَتُغَلُّ فِیہِ الشَّیَاطِینُ ، فِیہِ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَہَا فَقَدْ حُرِمَ۔ (مسلم ۷۵۸۔ احمد ۲/۲۳۰)
(٨٩٥٩) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو رمضان کی خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے اوپر رمضان کا مہینہ آگیا ہے، جو کہ ایک برکت والا مہینہ ہے۔ اس کے روزے کو تم پر فرض کیا گیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اس میں شیطانوں کو ہتھکڑیاں لگادی جاتی ہیں، اس مہینے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جو اس کی خیر سے محروم رہا وہ حقیقی محروم ہے۔
8960
Ibn Abi Shaybah(۸۹۶۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَرْفَجَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ وَہُوَ یُحَدِّثُنَا عَنْ فَضْلِ رَمَضَانَ ، فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَسَکَتَ عُتْبَۃُ وَکَأَنَّہُ ہَابَہُ ، فَلَمَّا جَلَسَ ، قَالَ لَہُ عُتْبَۃُ : یَا أَبَا فُلاَنٍ ، حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْت مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی رَمَضَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : تُفْتَحُ فِیہِ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ ، وَتُغْلَقُ فِیہِ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَتُصَفَّدُ فِیہِ الشَّیَاطِینُ ، وَیُنَادِی مُنَادٍ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ : یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ ہَلُمَّ ، وَیَا بَاغِیَ الشَّرِّ أَقْصِرْ۔ (احمد ۵/۴۱۱)
(٨٩٦٠) حضرت عرفجہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عتبہ بن فرقد کے پاس تھا، وہ رمضان کی فضیلت بیان کررہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لائے تو وہ خاموش ہوگئے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ان کے رعب کی وجہ سے خاموش ہوئے ہیں۔ جب وہ بیٹھ گئے تو حضرت عتبہ نے ان سے کہا کہ اے ابو فلاں ! آپ ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اس میں شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے اور رمضان کی ہر رات ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اے خیر کو تلاش کرنے والے آگے بڑھ، اے شر کو تلاش کرنے والے بس کردے۔
8961
Ibn Abi Shaybah(۸۹۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُرَغِّبُ فِی قِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ عَزِیمَۃٍ ، وَقَالَ : إذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ الْجَحِیمِ ، وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِینُ۔ (بخاری ۱۸۹۸۔ مسلم ۵۲۳)
(٨٩٦١) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان میں قیام کی خصوصی ترغیب دیا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔
8962
Ibn Abi Shaybah(۸۹۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ نَضْرِ بْنِ عَلِیٍّ ، عَنْ نَضْرِ بْنِ شَیْبَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَذَکَر عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَہُ إیمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔
(٨٩٦٢) حضرت سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
8963
Ibn Abi Shaybah(۸۹۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْفَضْلِ الرَّقَاشِیِّ ، عَنْ عَمِّہِ ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ہَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَائَ تُفْتَحُ فِیہِ أَبْوَابُ الْجِنَانِ، وَتُغْلَقُ فِیہِ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَتُغَلُّ فِیہِ الشَّیَاطِینُ ، بُعْدًا لِمَنْ أَدْرَکَ رَمَضَانَ لَمْ یُغْفَرْ لَہُ فِیہِ ، إذَا لَمْ یُغْفَرْ لَہُ فِیہِ فَمَتَی ؟ (طبرانی ۷۶۲۳)
(٨٩٦٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اس میں شیطانوں کو قید کردیا جاتا ہے، اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی، اگر رمضان میں بھی وہ اپنی مغفرت نہ کرواسکا تو کب کرائے گا ؟
8964
Ibn Abi Shaybah(۸۹۶۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ إذَا حَضَرَ رَمَضَانُ یَقُولُ: ہَذَا الشَّہْرُ الْمُبَارَکُ الَّذِی افْتَرَضَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ ، وَلَمْ یَفْتَرِضْ عَلَیْکُمْ قِیَامَہُ۔
(٨٩٦٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو حضرت علی خطبہ دیتے اور اس میں ارشاد فرماتے : یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے روزے کو فرض فرمایا ہے، اس کے قیام کو فرض نہیں فرمایا۔
8965
Ibn Abi Shaybah(۸۹۶۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ مِثْلَ ذَلِکَ۔
(٨٩٦٥) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بھی یونہی فرمایا کرتے تھے۔
8966
Ibn Abi Shaybah(۸۹۶۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْعَلاِء ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ: أَوَّلُ مَا یُصِیبُ صَاحِبُ رَمَضَانَ الَّذِی یُحْسِنُ قِیَامَہُ وَصِیَامَہُ ، أَنْ یَفْرُغَ مِنْہُ وَہُوَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ مِنَ الذُّنُوبِ۔
(٨٩٦٦) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان کے قیام اور صیام کی پابندی کرے اسے سب سے پہلے جو انعام ملتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے گناہ اس طرح معاف ہوجاتے ہیں جیسے وہ آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔
8967
Ibn Abi Shaybah(۸۹۶۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إیمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔ (بخاری ۲۰۱۴۔ مسلم ۱۷۵)
(٨٩٦٧) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
8968
Ibn Abi Shaybah(۸۹۶۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِیمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَظَلَّکُمْ شَہْرُکُمْ ہَذَا بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا دَخَلَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ شَہْرٌ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْہُ ، وَلاَ دَخَلَ عَلَی الْمُنَافِقِینَ شَہْرٌ شَرٌّ لَہُمْ مِنْہُ ۔ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، إنَّ اللَّہَ یَکْتُبُ أَجْرَہُ وَنَوَافِلَہُ مِنْ قَبْلِ أَنْ یُوجِبَہُ ، وَیَکْتُبُ وِزْرَہُ وَشَقَائَ ہُ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُ ، وَذَلِکَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ یُعِدُّ لَہُ مِنَ النَّفَقَۃِ فِی الْقُوَّۃِ وَالْعِبَادَۃِ ، وَیُعِدُّ لَہُ الْمُنَافِقُ اتِّبَاعَ غَفَلاَتِ الْمُسْلِمِین ، وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِہِمْ ، فَہُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ ، وَنِقْمَۃٌ لِلْفَاجِرِ ، أَوَ قَالَ : یَغْتَنِمُہُ الْفَاجِرُ۔ (احمد ۵۲۴۔ ابن خزیمۃ ۱۸۸۴)
(٨٩٦٨) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم پر یہ مہینہ آیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم کے ساتھ سن لو کہ مسلمانوں پر اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں آیا اور منافقین پر اس سے بدتر مہینہ کوئی نہیں آیا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس مہینے کے اجر اور نوافل کو اس کے آنے سے پہلے لکھ دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اور عذاب کو اس کے آنے سے پہلے لکھ لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے مومن کے لیے عبادات اور نیکیوں کی توفیق اور قوت بڑھا دی جاتی ہے اور منافقین کے لیے مسلمانوں کے عیبوں کو تلاش کرنا اور انھیں پھیلانا آسان کردیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ مومن کے لیے غنیمت اور فاجر کے لیے مصیبت ہے۔