Ibn Abi Shaybah
34. جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
ابن أبي شيبة
35085
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۸۶) عَنِ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : أَرْضُ الْجَنَّۃِ مِنْ وَرِقٍ ، وَتُرَابُہَا مِسْکٌ ، وَأُصُولُ شَجَرِہَا ذَہَبٌ وَفِضَّۃٌ ، وَأَفْنَانُہَا لُؤْلُؤٌ وَزَبَرْجَدٌ وَیَاقُوتٌ ، وَالْوَرَقُ وَالثَّمَرُ تَحْتَ ذَلِکَ ، فَمَنْ أَکَلَ قَائِمًا لَمْ یُؤْذِہِ ، وَمَنْ أَکَلَ جَالِسًا لَمْ یُؤْذِہِ ، وَمَنْ أَکَلَ مُضْطَجِعًا لَمْ یُؤْذِہِ : {وَذُلِّلَتْ قُطُوفُہَا تَذْلِیلاً}۔
(طبری ۲۹)
(٣٥٠٨٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جنت کی زمین چاندی کی، اس کی مٹی مشک کی، اس کے درختوں کی جڑیں سونے اور چاندی کی، اس کی شاخیں موتی، زبر جد اور یا قوت کی ہیں، اس کے پتہ اور پھل اس کے نیچے ہیں، جو کھڑے ہو کر کھائے اس کو بھی نقصان نہیں، جو بیٹھ کر کھائے اس کو بھی نقصان نہیں اور جو لیٹ کر کھائے اس کو بھی نقصان نہ دے گا، پھر { وَذُلِّلَتْ قُطُوفُہَا تَذْلِیلاً } تلاوت فرمائی۔
35086
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۸۷) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عُمَر بْنِ رَبِیعَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنَّۃ : کَیْفَ ہِیَ ؟ قَالَ : مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یَحْیَی لاَ یَمُوتُ ، وَیَنْعَمُ لاَ یَبْأَسُ ، وَلاَ تَبْلَی ثِیَابُہُ ، وَلاَ یُبْلَی شَبَابُہُ ، قِیلَ : یَارَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ بِنَاؤُہَا ؟ قَالَ : لَبِنَۃٌ مِنْ فِضَّۃٍ ، وَلَبِنَۃٌ مِنْ ذَہَبٍ ، مِلاَطُہَا مِسْکٌ ، وَحَصْبَاؤُہَا اللُّؤْلُؤُ وَالْیَاقُوتُ ، وَتُرَابُہَا الزَّعْفَرَانُ۔
(مسلم ۲۱۸۱۔ احمد ۳۶۹)
(٣٥٠٨٧) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنت کے متعلق دریافت کیا گیا کہ وہ کیسی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص جنت میں داخل ہوگا، وہ ہمیشہ زندہ رہے گا اس کو موت نہ آئے گی، اس کو جو نعمتیں ملیں گی وہ ختم نہ ہوں گی نہ کپڑے خراب ہوں گے نہ جوانی ختم (بوسیدہ) ہوگی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا اس کی تعمیر کیسی ہوگی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کی اینٹیں سونے اور چاندی کی ہیں اس کا گارا مشک کا ہے، اس کی شاخیں موتی اور جواہرات اور اس کی مٹی زعفران کی ہے۔
35087
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّ ابْنَ صَیَّادٍ سَأَلَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَۃِ الْجَنَّۃِ ؟ فَقَالَ : دَرْمَکَۃٌ بَیْضَائُ مِسْکٌ خَالِصٌ۔
(مسلم ۲۲۴۳۔ احمد ۴)
(٣٥٠٨٨) ابن صیاد نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنت کی مٹی کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سفید آٹا اور خالص مشک کی ہے۔
35088
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَمْ یَمَسَّ بِیَدِہِ مَنْ خَلَقَہُ غَیْرَ ثَلاَثَۃِ أَشْیَائَ ؛ غَرَسَ الْجَنَّۃَ بِیَدِہِ ، ثُمَّ جَعَلَ تُرَابَہَا الْوَرْسَ وَالزَّعْفَرَانَ ، وَجِبَالَہَا الْمِسْکَ ، وَخَلَقَ آدَمَ بِیَدِہِ ، وَکَتَبَ التَّوْرَاۃَ لِمُوسَی۔
(٣٥٠٨٩) حضرت حکیم بن جابر (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف تین چیزوں کو اپنے ہاتھ سے چھوا ہے جنت کے درخت اپنے ہاتھ سے لگائے اس کی مٹی ورس اور زعفران کی اور اس کے پہاڑ مشک کے بنائے حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کیلئے توراۃ ہاتھ سے لکھی ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کیلئے توراۃ ہاتھ سے لکھی ۔
35089
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أَنْہَارُ الْجَنَّۃُ تَفَجَّرُ مِنْ جَبَلٍ مِنْ مِسْکٍ۔ (ابو نعیم ۳۰۶)
(٣٥٠٩٠) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جنت کی نہریں مشک کے پہاڑ سے جاری ہوتی ہیں۔
35090
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : أَنْہَارُ الْجَنَّۃِ تَجْرِی فِی غَیْرِ أُخْدُودٍ ، وَثَمَرُہَا کَالْقِلاَلِ ، کُلَّمَا نُزِعَتْ ثَمَرَۃٌ عَادَتْ أُخْرَی ، وَالْعَنْقُودُ اثْنَا عَشَرَ ذِرَاعًا۔
(٣٥٠٩١) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ جنت کی نہریں بغیر کنویں (گڑھے) کے جاری ہیں، اور اس کے پھل ٹوکریوں کی طرح ہیں جب بھی کوئی پھل توڑا جائے اس کی جگہ دوسرا پھل آجاتا ہے اس کے انگور کا خوشہ بارہ زراع کا ہے۔
35091
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ : الْعَنْقُودُ أَبْعَدُ مِنْ صَنْعَائَ۔ (ابن حبان ۷۴۱۶۔ طبرانی ۳۱۲)
(٣٥٠٩٢) حضرت عبداللہ بن عمرو ارشاد فرماتے ہیں کہ انگور صنعاء سے زیادہ دور نکلے ہوئے ہیں۔
35092
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَعَفُ الْجَنَّۃِ مِنْہُ کِسْوَتُہُمْ وَمُقَطَّعَاتُہُمْ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَثَمرُہَا لَیْسَ لَہُ عَجَمٌ۔ (حاکم ۴۷۵)
(٣٥٠٩٣) حضرت ابن عباس (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت کی کھجور اس سے ان کے کپڑے اور چھوٹا لباس ہوگا، فرمایا جنت کے پھل کی گٹھلی نہ ہوگی۔
35093
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ ، عَنْ ہُزَیلِ بْنِ شُرَحْبِیلَ ، عَنْ عَبْدِاللہِ؛ فِی قَوْلِہِ: {سِدْرَۃِ الْمُنْتَہَی}، قَالَ: صَبْرُ الْجَنَّۃِ، یَعْنِی وَسَطَہَا، عَلَیْہَا فُضُولُ السُّنْدُسِ وَالإِسْتَبْرَقِ۔
(٣٥٠٩٤) حضرت عبداللہ (رض) سدرۃ المنتہیٰ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ جنت کا درمیان ہے اس پر باریک اور موٹی ریشم کا لباس ہے۔
35094
Ibn Abi Shaybah(۳۵۰۹۵) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْیَزَنِیِّ ، عَنْ تُبَیْعِ ابْنِ امْرَأَۃِ کَعْبٍ ، قَالَ : تُزْلَفُ الْجَنَّۃُ ، ثُمَّ تُزَخْرَفُ ، ثُمَّ یَنْظُرُ إِلَیْہَا مِنْ خَلْقِ اللہِ مِنْ مُسْلِمٍ ، أَوْ یَہُودِیٍّ ، أَوْ نَصْرَانِیٍّ إِلاَّ رَجُلاَنِ ؛ رَجُلٌ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ، أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ مُعَاہَِدًا مُتَعَمِّدًا۔
(٣٥٠٩٥) حضرت تبیع ابن امراۃ کعب سے مروی ہے کہ جنت کو قریب کیا جائے گا پھر اس کو سجایا جائے گا، اللہ کی تمام مخلوق خواہ وہ مسلمان ہو، یہودی ہو یا عیسائی جنت کو دیکھیں گے، سوائے دو بدنصیبوں کے ایک وہ شخص جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے، دوسرا وہ شخص جو کسی معاہد کو (جس سے معاہدہ ہے) جان بوجھ کر قتل کر دے۔