hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

35. رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان

ابن أبي شيبة

35338
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَمَّا خَلَقَ اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ بِیَدِہِ عَلَی نَفْسِہِ : إِنَّ رَحْمَتِی تَغْلِبُ غَضَبِی۔ (ترمذی ۳۵۴۳۔ احمد ۴۳۳)
(٣٥٣٣٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جب ساری مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنے ہاتھ سے اپنے لیے لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے۔
35339
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ ، عَنِ الْہَیْثَم بن حَنَشٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ کُنْتُمْ لاَ تُذْنِبُونَ ، لَجَائَ اللَّہُ بِخَلْقٍ یُذْنِبُونَ فَیَغْفِرُ لَہُمْ۔
(٣٥٣٤٠) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تم لوگ گناہ نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ دوسری مخلوق لے آئے گا جو گناہ کرے گی اللہ تعالیٰ انھیں معاف کر دے گا۔
35340
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْد ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ؛ لَوْ أَنَّہُ لَمْ یُمْس للہِ عَزَّ وَجَلَّ خَلقٌ یَعْصُون فِیْمَا مَضَی ، لَخَلَقَ خَلقاً یَعْصُونَ ، فَیَغْفِرُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
(٣٥٣٤١) حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر اللہ عزوجل کیلئے ایسی مخلوق نہ ہو جو گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ نئی مخلوق پیدا فرما دے گا جو گناہ کرے گی پھر قیامت کے دن ان کو معاف کردیا جائے گا۔
35341
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۴۲) حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ لَیْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِی صِرْمَۃَ ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَائَ اللَّہُ بِقَوْمٍ یُذْنِبُونَ ، فَیَغْفِرُ لَہُمْ۔ (مسلم ۲۱۰۵۔ ترمذی ۳۵۳۹)
(٣٥٣٤٢) حضرت ابو ایوب سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم لے آئے گا جو گناہ کرے گی پھر اللہ ان کو معاف فرمائے گا۔
35342
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : لَمَّا أُرِیَ إِبْرَاہِیمُ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، رَأَی عَبْدًا عَلَی فَاحِشَۃٍ ، فَدَعَا عَلَیْہِ ، فَہَلَکَ ، ثُمَّ رَأَی آخَرَ فَدَعَا عَلَیْہِ ، فَہَلَکَ ، ثُمَّ رَأَی آخَرَ فَدَعَا عَلَیْہِ ، فَہَلَکَ ، فَقَالَ اللَّہُ : أَنْزِلُوا عَبْدِی ، لاَ یُہْلَک عِبَادِی۔
(٣٥٣٤٣) حضرت سلمان سے مروی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کے پوشیدہ (عجائبات) راز دکھلائے گئے، تو آپ نے دیکھا کہ ایک شخص خاتون سے زنا کررہا ہے آپ نے اس کیلئے بد دعا کی تو وہ ہلاک ہوگیا پھر ایک اور کو دیکھا اس کیلئے بددعا فرمائی وہ بھی ہلاک ہوگیا پھر ایک تیسرے کو دیکھا اس کیلئے بد دعا فرمائی وہ بھی ہلاک ہوگیا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میرے بندے کو نیچے لے چلو میرے بندوں کو ہلاک نہ کیا جائے۔
35343
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ خَیْثَمَۃ ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : الْمُؤْمِنُونَ مُسْتَغْنُونَ عَنِ الشَّفَاعَۃِ ، إِنَّمَا ہِیَ لِلْمُذْنِبِینَ۔
(٣٥٣٤٤) حضرت حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ مومنین تو شفاعت سے مستغنی ہیں شفاعت تو گناہ گاروں کیلئے ہے۔
35344
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَدَا اللہِ بُسَطَانِ لِمُسِیئِ اللَّیْلِ أَنْ یَتُوبَ بِالنَّہَارِ ، وَلِمُسِیئِ النَّہَارِ أَنْ یَتُوبَ بِاللَّیْلِ ، حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا۔ (مسلم ۲۱۱۳۔ نسائی ۱۱۱۸۰)
(٣٥٣٤٥) حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا رکھے ہیں رات کے گناہ گار کیلئے کہ وہ دن میں توبہ کرے اور دن کے گناہ گار کیلئے کہ وہ رات میں توبہ کرے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔
35345
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۴۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : إِنَّ اللَّہَ یَسْتُرُ الْعَبْدَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَیَسْتُرُہُ بِیَدِہِ ، فَیَقُولُ : تَعْرِفُ مَا ہَاہُنَا ؟ فَیَقُولُ : نَعَمْ یَا رَبِ ، فَیَقُولُ : أُشْہِدُک أَنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَک۔
(٣٥٣٤٦) حضرت وائل سے مروی ہے کہ اللہ قیامت کے دن اپنے بندے کے گناہوں پر پردہ فرمائے گا پھر اس کو اپنی رحمت اور ستاری کے پردہ میں چھپا کر اس سے پوچھے گا تو جانتا ہے یہ کیا ہے ؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں اے اللہ ! اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو گواہ ہوجا کہ میں نے تجھے معاف کردیا۔
35346
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : خَلَقَ اللَّہُ مِئَۃَ رَحْمَۃٍ ، فَجَعَلَ مِنْہَا رَحْمَۃً بَیْنَ الْخَلاَئِقِ ، کُلُّ رَحْمَۃٍ أَعْظَمُ مِمَّا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ ، فَبِہَا تَعْطِفُ الْوَالِدَۃُ عَلَی وَلَدِہَا ، وَبِہَا یَشْرَبُ الطَّیْرُ وَالْوَحْشُ الْمَائَ ، فَإِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ ، قَبَضَہَا اللَّہُ مِنَ الْخَلاَئِقِ ، فَجَعَلَہَا وَالتِّسْعَ وَالتِّسْعِینَ لِلْمُتَّقِینَ ، فَذَلِکَ قَوْلُہُ : {رَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ ، فَسَأَکْتُبُہَا لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ}۔ (مسلم ۲۰۔ احمد ۴۳۹)
(٣٥٣٤٧) حضرت سلمان سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا فرمائیں پھر ان میں سے ایک رحمت کو مخلوق کے درمیان تقسیم فرما دیا، ہر رحمت زیادہ عظیم ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اس سے اسی رحمت میں سے یہ کہ والدہ کا اپنے بچے سے محبت اور رحم کرنا اور اسی کی وجہ سے پرندے اور درندے پانی پیتے ہیں، جب قیامت کا دن آئے گا اللہ تعالیٰ مخلوق سے اس رحمت کو اٹھالے گا اور اس رحمت کو اور دوسری ننانویں رحمتوں کو متقین کیلئے بنائے گا اس کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے کہ { رَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ ، فَسَأَکْتُبُہَا لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ }
35347
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّہَ خَلَقَ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ مِئَۃَ رَحْمَۃٍ ، فَجَعَلَ فِی الأَرْضِ مِنْہَا رَحْمَۃً ، فَبِہَا تَعْطِفُ الْوَالِدَۃُ عَلَی وَلَدِہَا ، وَالْبَہَائِمُ بَعْضُہَا عَلَی بَعْضٍ ، وَأَخَّرَ تِسْعًا وَتِسْعِینَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، فَإِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ أَکْمَلَہَا بِہَذِہِ الرَّحْمَۃِ مِئَۃَ رَحْمَۃٍ۔ (ابن ماجہ ۴۲۹۴۔ احمد ۵۵)
(٣٥٣٤٨) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس دن اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اس دن سو رحمتیں پیدا فرمائیں ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھ دی اسی وجہ سے والدہ اپنی اولاد پر رحم کرتی ہے اور بعض جانور بعض پر رحم کرتے ہیں جب قیامت کا دن آئے گا اللہ تعالیٰ مکمل فرما دے گا اس رحمت کے ساتھ سو رحمتوں کو۔