Ibn Abi Shaybah
23. سزاؤں کا بیان
ابن أبي شيبة
28654
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۵۵) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لأُِسَامَۃَ : یَا أُسَامَۃُ، لاَ تَشْفَعْ فِی حَدٍّ ، وَکَانَ إِذَا شَفَعَ شَفَّعَہُ۔ (ابن سعد ۶۹)
(٢٨٦٥٥) حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اسامہ سے ارشاد فرمایا : اے اسامہ ! سزا کے بارے میں ہرگز سفارش مت کرو۔ اور آپ جب سفارش کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی سفارش قبول فرماتے ۔
28655
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَن وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَن کَعْبٍ ، قَالَ : لاَ یُشَفَّعْ فِی حَدٍّ۔
(٢٨٦٥٦) حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : حد کے بارے میں ہرگز سفارش نہیں کی جائے گی۔
28656
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنِ الْفُرَافِصَۃِ الْحَنَفِیِّ ، قَالَ : مَرُّوا عَلَی الزُّبَیْرِ بِسَارِقٍ فَتَشَفَّعَ لَہُ ، فَقَالُوا : أَتَشْفَعُ لِسَارِقٍ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، مَا لَمْ یُؤْتَ بِہِ إِلَی الإِمَامِ ، فَإِذَا أُتِیَ بِہِ إِلَی الإِمَامِ ، فَلاَ عَفَا اللَّہُ عَنْہُ إِنْ عَفَا عَنْہُ۔
(٢٨٦٥٧) حضرت فرافصہ حنفی فرماتے ہیں کہ لوگ ایک چور کو لے کر حضرت زبیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کی سفارش فرمائی اس پر لوگ کہنے لگے : کیا آپ ایک چور کی سفارش کررہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! جب تک اسے امام کے پاس نہ لے جایا گیا ہو جب اسے امام کے پاس لے گئے تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کرے گا اگر امام نے اسے معاف کردیا۔
28657
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۵۸) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنِ الْفُرَافِصَۃِ ، عَنِ الزُّبَیْرِ ، مِثْلَہُ۔
(٢٨٦٥٨) حضرت فرافصہ سے حضرت زبیر کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
28658
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۵۹) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِیُّ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ؛ أَنَّ عَلِیًّا شَفَعَ لِسَارِقٍ ، فَقِیلَ لَہُ، تَشْفَعُ لِسَارِقٍ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، إِنَّ ذَلِکَ یُفْعَلُ مَا لَمْ یُبَلَّغْ بِہِ الإِمَامُ ، فَإِذَا بُلِّغَ بِہِ الإِمَامُ فَلاَ أَعْفَاہُ اللَّہُ إِنْ أَعْفَاہُ۔
(٢٨٦٥٩) حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ایک چور کی سفارش کی تو آپ سے پوچھا گیا : کیا آپ چور کی سفارش کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! بیشک ایسا کیا جاسکتا ہے جب کہ اسے امام تک نہ پہنچا دیا گیا ہو اور جب امام کے پاس پہنچ جائے تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کریں گے اگر اس نے اسے معاف کردیا ۔
28659
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَن سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی کَبْشَۃَ ؛ أَنَّ سَارِقًا مَرَّ بِہِ عَلَی سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَعَطَائٍ فَشَفَعَا لَہُ ، فَقِیلَ لَہُمَا : وَتَرَیَانِ ذَلِکَ ؟ فَقَالاَ : نَعَمْ ، مَا لَمْ یُؤْتَ بِہِ إِلَی الإِمَامِ۔
(٢٨٦٦٠) حضرت سلیمان بن ابی کبشہ فرماتے ہیں کہ ایک چور کو حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عطائ کے پاس سے گزارا گیا تو ان دونوں نے اس کی سفارش کی ان دونوں حضرات سے پوچھا گیا : آپ دونوں کی یہ رائے ہے ؟ ان دونوں نے فرمایا : جی ہاں ! جب تک اس کو امام کے پاس نہ لے جایا گیا ہو۔
28660
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللہِ ، فَقَدْ ضَادَّ اللَّہَ فِی خَلْقِہِ۔ (ابوداؤد ۳۵۹۲۔ احمد ۷۰)
(٢٨٦٦١) حضرت عبدالوہاب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اپنی سفارش کو اللہ کی سزاؤں میں سے سزا کے لیے حائل کیا تو تحقیق اس نے اللہ کی اس کے حکم میں مخالفت کی۔
28661
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۶۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلِّمَ فِی شَیْئٍ ، فَقَالَ : لَوْ کَانَتْ فَاطِمَۃُ ابْنَۃُ مُحَمَّدٍ لأَقَمْتُ عَلَیْہَا الْحَدَّ۔ (بخاری ۳۴۷۵۔ مسلم ۱۳۱۵)
(٢٨٦٦٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی چیز کے بارے میں بات کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر وہ فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہوتی تو میں ضرور اس پر سزا جاری کرتا۔
28662
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ رُکَانَۃَ ، عَنْ أُمِّہِ عَائِشَۃَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِیہَا مَسْعُودٍ ، قَالَ : لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَۃُ تِلْکَ الْقَطِیفَۃَ مِنْ بَیْتِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْظَمْنَا ذَلِکَ ، وَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْ قُرَیْشٍ ، فَجِئْنَا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نُکَلِّمُہُ وَقُلْنَا : نَحْنُ نَفْدِیہَا بِأَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃً ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَطَّہَّرُ خَیْرٌ لَہَا ، فَلَمَّا سَمِعْنَا لِینَ قَوْلِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَتَیْنَا أُسَامَۃَ ، فَقُلْنَا : کَلِّمْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ ، قَامَ خَطِیبًا ، فَقَالَ : مَا إِکْثَارُکُمْ عَلَیَّ فِی حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللہِ ، وَقَعَ عَلَی أَمَۃٍ مِنْ إِمَائِ اللہِ ؟ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَوْ کَانَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَزَلَتْ بِالَّذِی نَزَلَتْ بِہِ ، لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ یَدَہَا۔ (احمد ۴۰۹۔ طبرانی ۷۹۲)
(٢٨٦٦٣) حضرت مسعود فرماتے ہیں کہ جب اس عورت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر سے چادر چوری کی تو ہم نے اس بات کو بہت بڑا سمجھا، اور اس عورت کا تعلق قریش سے تھا پس ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بات چیت کرنے کے لیے آئے اور ہم نے عرض کی : ہم اس عورت کا چالیس اوقیہ چاندی فدیہ دیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ پاک ہوجائے یہ اس کے لیے بہت رہے۔ جب ہم لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نرم بات سنی تو ہم حضرت اسامہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آئے اور ہم نے کہا : آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں بات کریں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اللہ کی سزاؤں میں سے ایک سزا کے بارے میں مجھ پر کیوں اپنی تعداد کو بڑھا رہے ہو جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر ثابت ہوچکی ہے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس مقام پر اترتی جس مقام پر آج یہ عورت اتری ہے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔
28663
Ibn Abi Shaybah(۲۸۶۶۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ زُییْدِ بْنِ الصَّلْتِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ ، یَقُولُ : لَوْ أَخَذْتُ شَارِبًا لأَحْبَبْتُ أَنْ یَسْتُرَہُ اللَّہُ ، وَلَوْ أَخَذْتُ سَارِقًا لأَحْبَبْتُ أَنْ یَسْتُرَہُ اللَّہُ۔
(٢٨٦٦٤) حضرت زیید بن الصلت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر کو یوں فرماتے ہوئے سنا : اگر میں کسی شرابی کو پکڑ لوں تو یہ میرے نزدیک پسندیدہ ہے کہ اللہ رب العزت اس کی پردہ پوشی کریں گے اور اگر میں کسی چور کو پکڑ لوں تو میرے نزدیک پسندیدہ ہے کہ اللہ رب العزت اس کی پردہ پوشی کریں گے۔