Ibn Abi Shaybah
3. نماز کا بیان
ابن أبي شيبة
2393
Ibn Abi Shaybah(۲۳۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُورُ ، وَتَحْرِیمُہَا التَّکْبِیرُ وَتَحْلِیلُہَا التَّسْلِیمُ۔(دارمی ۶۸۷)
(٢٣٩٣) حضرت ابن الحنفیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ نماز کی کنجی وضو ہے، نماز کی تحریم تکبیرِ تحریمہ ہے اور نماز کی تحلیل سلام ہے۔
2394
Ibn Abi Shaybah(۲۳۹۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللہِ: تَحْرِیمُ الصَّلاَۃِ التَّکْبِیرُ، وَتَحْلِیلُہَا التَّسْلِیمُ۔
(٢٣٩٤) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نماز کی تحریم تکبیر تحریمہ ہے اور نماز کی تحلیل سلام ہے۔
2395
Ibn Abi Shaybah(۲۳۹۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ السَّعْدِیِّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطَّہُورُ ، وَتَحْرِیمُہَا التَّکْبِیرُ ، وَتَحْلِیلُہَا التَّسْلِیمُ۔
(٢٣٩٥) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ نماز کی کنجی وضو ہے، نماز کی تحریم تکبیرِ تحریمہ ہے اور نماز کی تحلیل سلام ہے۔
2396
Ibn Abi Shaybah(۲۳۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنِ ابْنِ کُرَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطَّہُورُ ، وَتَحْرِیمُہَا التَّکْبِیرُ ، وَتَحْلِیلُہَا التَّسْلِیمُ۔
(٢٣٩٦) حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نماز کی کنجی وضو ہے، نماز کی تحریم تکبیرِ تحریمہ ہے اور نماز کی تحلیل سلام ہے۔
2397
Ibn Abi Shaybah(۲۳۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ ہَارُونَ، عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَیْلٍ ، عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ بِالتَّکْبِیرِ ، وَکَانَ یَخْتِمُ بِالتَّسْلِیمِ۔ (مسلم ۶۴۰۔ ابوداؤد ۷۷۹)
(٢٣٩٧) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کو تکبیر سے شروع فرماتے تھے اور سلام پر ختم کرتے تھے۔
2398
Ibn Abi Shaybah(۲۳۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، وَوَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : لِکُلِّ شَیْئٍ شِعَارٌ ، وَشِعَارُ الصَّلاَۃِ التَّکْبِیرُ۔
(٢٣٩٨) حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ ہر چیز کا ایک شعار ہوتا ہے اور نماز کا شعار تکبیرِ تحریمہ ہے۔
2399
Ibn Abi Shaybah(۲۳۹۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، وَطَاوُوس قَالاَ : التَّشَہُّدُ تَمَامُ الصَّلاَۃِ ، وَالتَّسْلِیمُ إذْنُ قَضَائِہَا۔
(٢٣٩٩) حضرت مجاہد اور حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ نماز تشہد پر پوری ہوجاتی ہے اور سلام اس کے پورے کرنے کی اجازت ہے۔
2400
Ibn Abi Shaybah(۲۴۰۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ وِقَائٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : لَیْسَ بَعْدَ التَّسْلِیمِ صَلاَۃٌ۔
(٢٤٠٠) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ سلام پھیرنے کے بعد نماز باقی نہیں رہتی۔
2401
Ibn Abi Shaybah(۲۴۰۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : إذَا سَلَّمَ الإِمَامُ ، فَقَدِ انصرف مَنْ خَلْفَہُ۔
(٢٤٠١) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب امام سلام پھیر دے تو پھر مقتدیوں کی بھی نماز پوری ہوگئی۔
2402
Ibn Abi Shaybah(۲۴۰۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ فَکَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَک اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، وَتَبَارَکَ اسْمُک وَتَعَالَی جَدُّک ، وَلاَ إلَہَ غَیْرُک۔
(٢٤٠٢) حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطابکو دیکھا کہ انھوں نے نماز شروع کرتے ہوئے اللہ اکبر کہا۔ پھر یہ کلمات کہے (ترجمہ) اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔