Ibn Abi Shaybah
38. کتاب الاوائل
ابن أبي شيبة
36882
Ibn Abi Shaybahقرَأْت عَلَی مَسْلَمَۃَ بْنِ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَکُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجَہْمِ ، الْمَعْرُوفِ بِابْنِ الْوَرَّاقِ الْمَالِکِیِّ بِبَغْدَادَ ، فِی رَبِیعٍ الأَوَّلِ ، مِنْ سَنَۃِ أَرْبَعٍ وَعِشْرِینَ وَثَلاَثُ مِئَۃٍ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَی أَبِی أَحْمَد مُحَمَّد بْن عَُبدوس بْن کَامِل السَّرَّاج ، وَأَنَا أَسْمَعُ مِنْہُ ، سَنَۃَ تِسْعِینَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ الْکُوفِیُّ ، قَالَ :
(۳۶۸۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَبِیہِ وَمَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : کَانَ أَوَّلُ مَنْ قَضَی بِالْکُوفَۃِ ہَاہُنَا سلمان بْنُ رَبِیعَۃَ الْبَاہِلِی ، جَلَسَ أَرْبَعِینَ یَوْمًا لاَ یَأْتِیہ خَصْمٌ۔
(٣٦٨٨٣) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ کوفہ میں سب سے پہلے قضاء کا عہدہ سنبھالنے والے سلمان بن ربیعہ باہلی ہیں۔ وہ چالیس دن تک یوں ہی بیٹھے رہے کہ ان کے پاس کوئی مقدمہ ہی نہ آیا۔
36883
Ibn Abi Shaybah(۳۶۸۸۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَخْرَجَ الْمِنْبَرَ فِی الْعِیدَیْنِ بِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ ، وَأَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ فِی الْعِیدَیْنِ زِیَادٌ۔
(٣٦٨٨٤) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے عیدین کے لیے منبر بشر بن مروان نے نکالا اور سب سے پہلے عیدین کے لیے اذان زیاد نے دلوائی۔
36884
Ibn Abi Shaybah(۳۶۸۸۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ أَوَّلُ مَنْ خَطَبَ جَالِسًا مُعَاوِیَۃُ حِینَ کَبِرَ وَکَثُرَ شَحْمُہُ وَعَظُمَ بَطْنُہُ۔
(٣٦٨٨٥) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے بیٹھ کر خطبہ حضرت معاویہ نے ارشاد فرمایا۔ لیکن یہ اس وقت ہوا جب وہ بوڑھے ہوگئے تھے، جسم فربہ اور پیٹ بڑھ گیا تھا۔
36885
Ibn Abi Shaybah(۳۶۸۸۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ تَمِیمِ بْنِ حَذْلَم ، قَالَ : أَوَّلُ مَا سَلَّمَ عَلَی أَمِیرٍ بِالْکُوفَۃِ بِالإِمْرَۃِ ، قَالَ : خَرَجَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ مِنَ الْقَصْرِ فَعَرَضَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ بِالإِمْرَۃِ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ؟ مَا أَنَا إلاَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ ، فَتُرِکَتْ زَمَانًا ، ثُمَّ أَقَرَّہَا بَعْدُ۔
(٣٦٨٨٦) حضرت تمیم بن حذلم فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے کوفہ کے امیر کو امارت کا سلام کیا گیا۔ ہوا یوں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ محل سے باہر آئے تو قبیلہ کندہ کے ایک آدمی نے انھیں امار ت کا سلام کیا۔ انھوں نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا اور فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ میں تو تم ہی میں سے ایک آدمی ہوں۔ پھر اس طرح کا سلام چھوڑ دیا گیا لیکن بعد کے ادوار میں پھر جاری ہوگیا۔
36886
Ibn Abi Shaybah(۳۶۸۸۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عُثْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِیہِ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ خَطَبَ عَلَی الْمَنَابِرِ إبْرَاہِیمُ خَلِیلُ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ۔
(٣٦٨٨٧) حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے منبر پر خطبہ دینے والے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ہیں۔
36887
Ibn Abi Shaybah(۳۶۸۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أنَّ إبْرَاہِیمَ أَوَّلُ النَّاسِ أَضَافَ الضَّیْفَ ، وَأَوَّلُ النَّاسِ اخْتُتِنَ ، وَأَوَّلُ النَّاسِ قَلَّمَ أَظْفَارَہُ وَجَزَّ شَارِبَہُ وَاسْتَحَدَّ۔
(٣٦٨٨٨) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سب سے پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مہمانوں کی ضیافت کی، سب سے پہلے ان کے ختنے ہوئے، سب سے پہلے انھوں نے ناخن کاٹے، سب سے پہلے انھوں نے مونچھیں تراشیں اور سب سے پہلے انھوں نے زیر ناف بال صاف کئے۔
36888
Ibn Abi Shaybah(۳۶۸۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ ، أَنَّ إبْرَاہِیمَ أَوَّلُ مَنْ رَأَی الشَّیْبَ ، فَقَالَ : یَا رَبِ ، مَا ہَذَا ، قَالَ : الْوَقَارُ ، قَالَ : اللَّہُمَّ زِدْنِی وَقَارًا۔
(٣٦٨٨٩) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ بالوں کی سفیدی سب سے پہلے حضرت ابراہیم نے دیکھی۔ جب ان کے بال سفید ہوئے تو انھوں نے عرض کیا اے میرے رب ! یہ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ وقار ہے۔ انھوں نے عرض کیا اے اللہ ! میرے وقار میں اضافہ فرما۔
36889
Ibn Abi Shaybah(۳۶۸۹۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَرَأَیْتُ فِیہَا عَمْرَو بْنَ لُحَیِّ بْنِ قَمْعَۃَ بْنِ خِنْدِفَ یَجُرُّ قَصَبَہُ فِی النَّارِ وَہُوَ أَوَّلُ مَنْ غَیَّرَ عَہْدَ إبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَسَیَّبَ السَّوَائِبَ۔ (ابو یعلی ۶۰۹۵۔ ابن حبان ۷۴۹۰)
(٣٦٨٩٠) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جہنم میرے سامنے لائی گئی، میں نے اس میں عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف کو دیکھا۔ اسے جہنم میں گھسیٹا جارہا تھا۔ وہ پہلا آدمی تھا جس نے ابراہیم کی شریعت میں تحریف کی اور بت رکھے۔
36890
Ibn Abi Shaybah(۳۶۸۹۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أحْدَثَ التَّسْلِیمَ بِمَکَّۃَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَی۔
(٣٦٨٩١) حضرت حسن بن مسلم فرماتے ہیں کہ مکہ میں سب سے پہلے سلام عبد الرحمن بن ابزی نے کیا۔
36891
Ibn Abi Shaybah(۳۶۸۹۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ نَقَصَ التَّکْبِیرَ زِیَادٌ۔
(٣٦٨٩٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ تکبیر میں سب سے پہلے کمی کرنے والا زیاد ہے۔