Ibn Abi Shaybah
30. فرائض کا بیان
ابن أبي شيبة
31678
Ibn Abi Shaybahحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ :
(۳۱۶۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَلْیَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ ، وَلاَ یَکُنْ کَرَجُلٍ لَقِیَہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ لَہُ : أَمُہَاجِرٌ أَنْتَ یَا عَبْدَ اللہِ ، فَیَقُولُ : نَعَمْ ، فَیَقُولُ : إنَّ بَعْضَ أَہْلِی مَاتَ وَتَرَکَ کَذَا وَکَذَا ، فَإِنْ ہُوَ عَلِمَہُ فَعِلْمٌ آتَاہُ اللَّہُ إِیَّاہُ ، وَإِنْ کَانَ لاَ یُحْسِنُ فَیَقُولُ : فَبِمَ تَفْضُلُونَا یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ؟۔ (بیہقی ۲۰۹)
(٣١٦٧٩) ابو الأحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے قرآن کی تعلیم حاصل کی اس کو چاہیے کہ علم الفرائض کی تعلیم بھی حاصل کرلے اور اس آدمی کی طرح نہ ہوجائے جس کو ایک دیہاتی ملا اور اس سے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! کیا آپ مہاجر ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پوچھا : میری اہلیہ فوت ہوگئی ہے اور اتنا اتنا مال چھوڑ گئی ہے، سو اگر اس کو معلوم ہوا تب تو وہ اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا علم ہے، اور اگر اس معلوم نہ ہوا تو وہ دیہاتی کہنے لگا کہ اے مہاجرین کی جماعت ! تمہیں ہم پر کس بات میں برتری حاصل ہے ؟
31679
Ibn Abi Shaybah(۳۱۶۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، بِنَحْوِہِ۔
(٣١٦٨٠) حضرت عبداللہ (رض) سے ایک دوسری سند سے بھی یہی بات منقول ہے۔
31680
Ibn Abi Shaybah(۳۱۶۸۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَوَکِیعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ فَإِنَّہَا مِنْ دِینِکُمْ۔
(٣١٦٨١) ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : علم میراث کو حاصل کرو کیونکہ میراث تمہارے دین کا حصّہ ہے۔
31681
Ibn Abi Shaybah(۳۱۶۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زِیَاد بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : مَثَلُ الَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، وَلاَ یُحْسِنُ الْفَرَائِضَ کَالْیَدَیْنِ بِلاَ رَأْسٍ۔
(٣١٦٨٢) صالح ابو الخلیل سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا : اس آدمی کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور میراث کے علم کو نہیں جانتا ایسے ہے جیسے کسی کے دو ہاتھ ہوں لیکن سر نہ ہو۔
31682
Ibn Abi Shaybah(۳۱۶۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَنْ قَرَأَ سُورَۃَ النِّسَائِ ، فَعَلِمَ مَا یَحْجُبُ مِمَّا لاَ یَحْجُبُ عَلِمَ الْفَرَائِضَ۔
(٣١٦٨٣) عبداللہ بن قیس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جس آدمی نے سورة نساء پڑھی اور اس کو معلوم ہوجائے کہ کون سی چیزیں میراث میں رکاوٹ بنتی ہیں اور کون سی چیزیں رکاوٹ نہیں بنتیں تو اس شخص کو میراث کا علم حاصل ہوگیا۔
31683
Ibn Abi Shaybah(۳۱۶۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ : أَنَّہُ قِیلَ لَہُ : ہَلْ کَانَتْ عَائِشَۃُ تُحْسِنُ الْفَرَائِضَ ، فَقَالَ : إی وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَقَدْ رَأَیْت مَشْیَخَۃَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الأَکَابِرَ یَسْأَلُونَہَا ، عَنِ الْفَرَائِضِ ؟
(٣١٦٨٤) مسلم سے روایت ہے کہ حضرت مسروق سے پوچھا گیا کہ کیا حضرت عائشہ (رض) میراث کا علم جانتی تھیں ؟ فرمانے لگے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے بڑے مشائخِ صحابہ کو دیکھا ہے کہ ان سے میراث کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے۔
31684
Ibn Abi Shaybah(۳۱۶۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَا رَأَیْت أَحَدًا أَعْلَمَ بِفَرِیضَۃٍ ، وَلاَ أَعْلَمَ بِفِقْہٍ وَلاَ بِشِعْرٍ : مِنْ عَائِشَۃَ۔
(٣١٦٨٥) ہشام سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے کسی کو حضرت عائشہ (رض) سے زیادہ میراث ، فقہ اور شعر کا علم رکھنے والا نہیں پایا۔
31685
Ibn Abi Shaybah(۳۱۶۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِیَۃِ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ عَنِ الْقُرْآنِ فَلِیَأْتِ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ عَنِ الْفَرَائِضِ فَلِیَأْتِ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ۔
(٣١٦٨٦) علی بن رباح سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو مقام جابیہ میں خطبہ دیا ، حمدوثنا کے بعد ارشاد فرمایا : جو قرآن کے بارے میں سوال کرنا چاہے وہ ابی بن کعب کے پاس آئے ، اور جو علم الفرائض ( علم المیراث) کے بارے میں سوال کرنا چاہے وہ زید بن ثابت کے پاس آئے۔
31686
Ibn Abi Shaybah(۳۱۶۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَالْفَرَائِضَ ، فَإِنَّہُ یُوشِکُ أَنْ یَفْتَقِرَ الرَّجُلُ إلَی عِلْمٍ کَانَ یَعْلَمُہُ ، أَوْ یَبْقَی فِی قَوْمٍ لاَ یَعْلَمُونَ۔
(٣١٦٨٧) قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا : قرآن اور میراث کا علم کو حاصل کرو، کیونکہ وہ وقت قریب ہے کہ آدمی اس علم کا محتاج ہوجائے گا جس کو وہ جانتا تھا، یا ایسی قوم میں رہ جائے گا جو اس کو نہیں جانتے۔
31687
Ibn Abi Shaybah(۳۱۶۸۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْعُقَیْلِیُّ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ الْحِمْصِیِّ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَبْطَلَ مِیرَاثًا فَرَضَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ أَبْطَلَ اللَّہُ مِیرَاثَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ۔ (سعید بن منصور ۲۸۵)
(٣١٦٨٨) حضرت سلیمان بن موسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اس میراث کی خلاف ورزی کی جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرض فرمایا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ جنت میں اس کی وراثت کو ختم فرما دیں گے۔