Ibn Abi Shaybah
15. خرید و فروخت کے مسائل و احکام
ابن أبي شيبة
20326
Ibn Abi Shaybahحدثنا أبو عبد الرحمن قال حدثنا أبو بکر ، عبد اللہ بن محمد بن أبی شیبۃ ، قَالَ :
(۲۰۳۲۷) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن إبْرَاہِیمَ ، وَعَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، وَالشَّعْبِیِّ ؛ فِی الشَّرِیکَیْنِ ، قَالاَ : الشَّرِکَۃُ عَلَی مَا اصْطَلَحَا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی الْمَالِ۔
(٢٠٣٢٧) حضرت ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کسی چیز کے دو شریکوں کو نفع ان کی طے کردہ مقدار کے بقدر ملے گا اور نقصان راس المال میں سے پورا کیا جائے گا۔
20327
Ibn Abi Shaybah(۲۰۳۲۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : إذَا اشْتَرَی الرَّجُلُ الْمَتَاعَ وَأَشْرَکَ فِیہِ أَحَدًا فَالرِّبْحُ عَلَی مَا اشْتَرَطَا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی الْمَالِ۔
(٢٠٣٢٨) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کوئی چیز خریدی پھر اس میں کسی دوسرے کو شریک بنایا تو نفع طے کردہ مقدار کے برابر ہوگا اور نقصان مال میں سے پورا کیا جائے گا۔
20328
Ibn Abi Shaybah(۲۰۳۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سفیان ، عن عَاصِمٍ الأحْوَلِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، وَعَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ أَبِی کُلَیْبٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی الشَّرِیکَیْنِ یُخْرِجُ ہَذَا مِئَۃ وَہَذَا مِئَتَیْنِ ، قَالاَ : الرِّبْحُ عَلَی مَا اصْطَلَحَا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی الْمَالِ۔
(٢٠٣٢٩) حضرت جابر بن زید اور حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر دو شریک ایسے ہوں جن میں سے ایک نے سو اور دوسرے نے دو سو لگائے ہوں تو نفع طے کردہ شرط کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے نکالا جائے گا۔
20329
Ibn Abi Shaybah(۲۰۳۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ ، قَالاَ : الرِّبْحُ عَلَی مَا اشْتَرَطَا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی الْمَالِ
(٢٠٣٣٠) حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ نفع طے شدہ شرط کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے نکالا جائے گا۔
20330
Ibn Abi Shaybah(۲۰۳۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : الرِّبْحُ عَلَی مَا اشْتَرَطَا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی رَأْسِ الْمَالِ۔
(٢٠٣٣١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نفع طے شدہ مقدار کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے نکالا جائے گا۔
20331
Ibn Abi Shaybah(۲۰۳۳۲) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ مِثْلَ ذَلِکَ۔
(٢٠٣٣٢) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
20332
Ibn Abi Shaybah(۲۰۳۳۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: الرِّبْحُ عَلَی مَا اشْتَرَطَا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی رَأْسِ الْمَالِ۔
(٢٠٣٣٣) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ نفع طے شدہ مقدار کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے نکالا جائے گا۔
20333
Ibn Abi Shaybah(۲۰۳۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، وَحَمَّادًا وَقَتَادَۃَ ، عَنْ رَجُلَیْنِ اشْتَرَکَا ، فَجَائَ أَحَدُہُمَا بِأَلْفَیْنِ ، وَجَائَ الآخَرُ بِأَلْفٍ فَاشْتَرَکَا وَاشْتَرَطَا ، أَنَّ الْوَضِیعَۃَ بَیْنَہُمَا وَالرِّبْحَ نِصْفَینِ ، فَقَالَ : الرِّبْحُ عَلَی مَا اشْتَرَطَا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی الْمَالِ۔
(٢٠٣٣٤) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم، حضرت حماد اور حضرت قتادہ سے سوال کیا کہ اگر دو آدمیوں نے باہم شراکت پر کام کیا، ایک دو ہزار اور دوسرا ایک ہزار لایا۔ انھوں نے یہ شرط لگائی کہ نقصان دونوں کے درمیان ہوگا اور نفع بھی دونوں کو آدھا آدھا ملے گا۔ اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نفع طے کردہ شرط کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے پورا کیا جائے گا۔
20334
Ibn Abi Shaybah(۲۰۳۳۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ قَالَ : إذَا وَلاَہُ الرَّجُلُ بِصَفْقَۃٍ بِنَسِیئَۃٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ فِیہَا رَجُلٌ آخَرَ فَالضَّمَانُ عَلَی صَاحِبِ الصَّفْقَۃِ وَلَیْسَ عَلَی شَرِیکِہِ شَیْئٌ مَا لَمْ یَکُنْ نَقْدٌ ، فَإِنْ کَانَ نَقْدٌ فَالْوَضِیعَۃُ عَلَی صَاحِبِ النَّقْدِ ، وَالرِّبْحُ عَلَی مَا اصْطَلَحَا عَلَیْہِ۔
(٢٠٣٣٥) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے ادھار پر کوئی معاملہ کیا، پھر اس میں کسی دوسرے آدمی کو شریک کرلیا تو ضمان معاملہ کرنے والے پر ہوگا اگر دوسرے کی طرف سے کوئی نقدی نہ ہو تو اس پر کچھ لازم نہ ہوگا اور اگر نقدی ہو تو نقصان نقدی والے کو ہوگا اور نفع طے شدہ حصہ کے بقدر تقسیم ہوگا۔
20335
Ibn Abi Shaybah(۲۰۳۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ عَلِیٍّ فِی الْمُضَارَب ، أَوِ الشَّرِیکَیْنِ ، قَالَ سُفْیَانُ : لاَ أَدْرِی أَیَّہُمَا قَالَ ، الرِّبْحُ عَلَی مَا اصْطَلَحَا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی الْمَالِ۔
(٢٠٣٣٦) حضرت علی (رض) مضاربت اور شراکت کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نفع طے شدہ حصے کے بقدر اور نقصان اصل مال میں سے ہوگا۔