Ibn Abi Shaybah
28. امارت اور خلافت کا بیان
ابن أبي شيبة
31173
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۷۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ : دَخَلَ شَقِیقٌ عَلَی الْحَجَّاجِ فَقَالَ : مَا اسْمُک ؟ قَالَ : مَا بَعَثَ إلَیَّ الأَمِیرُ حَتَّی عَلِمَ اسْمِی ، قَالَ : أُرِیدُ أَنْ أَسْتَعِینَ بِکَ عَلَی بَعْضِ عَمَلِی ، قَالَ : فَقَالَ : أَمَا إنِّی أَخَافُ عَلَیْکَ نَفْسِی ، فَاسْتَعْفَاہُ فَأَعْفَاہُ ، قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ قَامَ وَہُوَ یَقُولُ : ہَکَذَا یَتَعَاشی ، قَالَ : فَقَالَ الْحَجَّاجُ : سَدِّدُوا الشَّیْخَ ، سَدِّدُوا الشَّیْخَ۔
(٣١١٧٤) حضرت حسین بن علی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبد الملک نے فرمایا کہ شقیق (رض) حجاج کے پاس تشریف لائے ، حجاج نے کہا آپ کا نام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ امیر نے میرا نام جاننے سے پہلے مجھے نہیں بلایا، حجاج نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ سے اپنے بعض کاموں میں مدد لوں، راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ مجھے تیرے پاس اپنی جان کا خوف ہے، چنانچہ انھوں نے اس کے کام سے معذرت چاہی اور حجاج نے ان کی معذرت قبول کرلی، راوی فرماتے ہیں کہ جب وہ اس کے پاس سے نکلے تو کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ یہ اسی طرح بتکلف اندھا بنتا رہے گا، راوی کہتے ہیں کہ حجاج نے کہا : شیخ کو سیدھا کرو، شیخ کو سیدھا کرو۔
31174
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۷۵) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ ، قَالَ : بَعَثَ ابْنُ أَوْسَطَ بِالشَّعْبِیِّ إلَی الْحَجَّاجِ وَکَانَ عَامِلاً عَلَی الرَّیِّ ، قَالَ : فَأُدْخِلَ عَلَی ابْنِ أَبِی مُسْلِمٍ وَکَانَ الَّذِی بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ لَطِیفًا ، قَالَ : فَعَذَلَہُ ابْنُ أَبِی مُسْلِمٍ ، وَقَالَ : إنِّی مُدْخِلُک عَلَی الأَمِیرِ فَإِنْ ضَحِکَ فِی وَجْہِکَ فَلاَ تَضْحَکَنَّ ، قَالَ : فَأُدْخِلَ عَلَیْہِ۔
(٣١١٧٥) حضرت ابن ابجر (رض) سے روایت ہے کہ ابن اوسط نے شعبی (رض) کو حجاج کے پاس بھیجا جبکہ وہ ریّ کا گورنر تھا راوی فرماتے ہیں کہ ان کو ابن ابی مسلم کے پاس پہنچا یا گیا ، ان دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات تھے، ابن ابی مسلم نے ان کو ملامت کی اور کہا کہ میں آپ کو امیر کے پاس پہنچاتا ہوں اگر امیر تیرے سامنے ہنسے تو تم مت ہنسنا، راوی کہتے ہیں اس کے بعد ان کو حجاج کے پاس پہنچایا گیا۔
31175
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۷۶) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ شَیْخٍ مِنَ النَّخَعِ ، عَنْ جَدَّتِہ ، قَالَتْ : کَانَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ مُسْتَخْفٍ عِنْدَ أَبِیک زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَأَخْرَجَہُ أَبُوک فِی صُنْدُوقٍ إلَی مَکَّۃَ۔
(٣١١٧٦) قبیلہ نخع کے ایک بزرگ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے ان سے فرمایا کہ حجاج کے زمانے میں سعید بن جبیر (رض) تیرے باپ کے پاس روپوش تھے، آپ کے والد ان کو ایک صندوق میں ڈال کر مکہ مکرمہ لے گئے۔
31176
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ الْوَلِیدُ بْنُ عُقْبَۃَ وَہُوَ یَخْطُبُ : یَا أَہْلَ الْکُوفَۃِ ، أَعْزِمُ عَلَی مَنْ سَمَّانِی أَشْعَرَ بَرَکاً لَمَا قَامَ ، فَتَحَرَّجَ عَدِیٌّ مِنْ عَزْمَتِہِ ، فَقَامَ ، فَقَالَ لَہُ : إِنَّہُ لَذُو نَدبَۃ الَّذِی یَقُومُ فَیَقُولُ : أَنَا الَّذِی سَمَّیْتُک ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَکَانَ ہُوَ الَّذِی سَمَّاہُ۔
(٣١١٧٧) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے خطبے کے دوران کہا اے اہل کوفہ ! میں لازم کرتا ہوں اس شخص پر جس نے مجھے ” سینے کے گھنے بالوں والا “ کا نام دیا ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے، چنانچہ اس کے اس لازم کرنے سے پریشان ہوگئے، اور اس کو کہا کہ جو آدمی کھڑا ہو کر یہ اقرار کرے گا کہ میں نے آپ کو یہ نام دیا ہے وہ قتل کردیا جائے گا، ابن عون فرماتے ہیں کہ عدی نے ہی اس کو یہ نام دیا تھا۔
31177
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۷۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ ، قَالَ : کَانُوا یَتَکَلَّمُونَ ، قَالَ : فَخَرَجَ عَلِیٌّ مَرَّۃً وَمَعَہُ عَقِیلٌ ، قَالَ : وَمَعَ عَقِیلٍ کَبْشٌ ، قَالَ : فَقَالَ عَلِیٌّ : عضَّ أَحَدُنَا بِذِکْرِہِ ، قَالَ : فَقَالَ عَقِیلٌ : أَمَّا أَنَا وَکَبْشِی فَلاَ۔
(٣١١٧٨) عبد الملک بن ابجر (رض) سے روایت ہے کہ لوگ باتیں کر رہے تھے کہ اس دوران حضرت علی (رض) نکلے، ان کے ساتھ عقیل تھے اور عقیل کے ساتھ دنبہ تھا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ ہم میں سے کسی کی برائی کی جا رہی ہے، حضرت عقیل نے فرمایا کہ میری اور میرے دنبہ کی تو بہرحال نہیں کی جا رہی۔
31178
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۷۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ مُجَمِّعٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی عَلَی الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ لِجُلَسَائِہِ : إذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْظُرُوا إلَی رَجُلٍ یَسُبُّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانَ فَہَذَا عِنْدَکُمْ ، - یَعْنِی : عَبْدَ الرَّحْمَن - ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَعَاذَ اللہِ أَیُّہَا الأَمِیرُ أَنْ أَکُونَ أَسُبُّ عُثْمَانَ ، أَنَّہُ لَیَحْجُزنِی عَنْ ذَلِکَ ثَلاث آیَاتٌ فِی کِتَابِ اللہِ ، قَالَ اللَّہُ : {لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَئِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ} قَالَ : فَکَانَ عُثْمَان مِنْہُمْ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : {وَالَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ} ، فَکَانَ أَبِی مِنْہُمْ : {وَالَّذِینَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلاِِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ} فَکُنْت مِنْہُمْ ، قَالَ : صَدَقْت۔
(٣١١٧٩) حضرت مجمع (رض) سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن ابی لیلی (رض) حجّاج کے پاس تشریف لائے تو حجاج نے اپنے ہم نشینوں سے کہا کہ اگر تم چاہو کہ اس آدمی کو دیکھ لو جو حضرت امیر المؤمنین عثمان (رض) کو گالی دیتا ہے تو یہ عبد الرحمن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو، حضرت عبد الرحمن (رض) نے فرمایا کہ اے امیر ! میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں حضرت عثمان (رض) کو برا بھلا کہوں، مجھے اس بات سے کتاب اللہ کی تین آیتیں روکتی ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَئِکَ ہُمَ الصَّادِقُونَ } (ان ہجرت کرنے والے فقراء کے لیے جن کو ان کے شہروں اور اموال سے بےدخل کردیا گیا، وہ تلاش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضاء ، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، وہی لوگ سچے ہیں) حضرت عثمان (رض) بھی ان لوگوں میں سے تھے، پھر آپ نے پڑھا { وَالَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ( اور وہ لوگ جنہوں نے ان سے پہلے جگہ پکڑی گھر میں اور ایمان میں) میرے والد ان لوگوں میں سے تھے۔ { وَالَّذِینَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلاِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ } (اور ان لوگوں کے لیے جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری بخشش فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان لائے) میں ان لوگوں میں سے ہوں، حجاج نے کہا : آپ نے سچ فرمایا۔
31179
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۸۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ أَبِی وَہْبٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : قَالَ لِی أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ: مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مِنْ قَوْمٍ یُبْغِضُہُمُ النَّاسُ : مِنْ ثَقِیفٍ۔
(٣١١٨٠) عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو جعفر محمد بن علی نے پوچھا کہ تم کن لوگوں میں سے ہو ؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : ان لوگوں میں سے جن سے لوگ نفرت کرتے ہیں، یعنی ثقیف سے ۔
31180
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۸۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : قَالَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ لِعَلِیٍّ : اکْتُبْ إلَی ہَذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ بِعَہْدِہِمَا إلَی الْکُوفَۃِ وَالْبَصْرَۃِ ، یَعْنِی الزُّبَیْرَ وَطَلْحَۃَ ، وَاکْتُبْ إلَی مُعَاوِیَۃَ بِعَہْدِہِ إلَی الشَّامِ فَإِنَّہُ سَیَرْضَی مِنْک بِذَلِکَ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : لَمْ أَکُنْ لأُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِی ، قَالَ : فَلَمَّا کَانَ بَعْدُ لَقِیَ الْمُغِیرَۃُ مُعَاوِیَۃَ ، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ : أَنْتَ صَاحِبُ الْکَلِمَۃِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَ وَاللہِ مَا وَقَی شَرَّہَا إلاَّ اللَّہُ۔
(٣١١٨١) حضرت ابو موسیٰ (رض) روایت کرتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ (رض) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ ان دو آدمیوں یعنی زبیر (رض) اور طلحہ (رض) کو کوفہ اور بصرہ کی ولایت لکھ دو اور حضرت معاویہ (رض) کو شام کی ولایت لکھ دو ، اس طرح وہ آپ سے راضی ہوجائیں گے، حضرت علی (رض) نے فرمایا میں اپنے دین میں گھٹیا کام کرنے والا نہیں ہوں، راوی کہتے ہیں کہ بعد میں حضرت مغیرہ (رض) حضرت معاویہ (رض) سے ملے تو حضرت معاویہ (رض) نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بات کہنے والے آپ ہیں ؟ انھوں نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا بخدا اس بات کے شر سے اللہ کے سوا کوئی نہیں بچا سکا۔
31181
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۸۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : کَتَبَ زِیَادٌ إلَی عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ : مِنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ رَجَائَ أَنْ تَکْتُبَ إلَیْہِ : ابْنِ أَبِی سُفْیَانَ ، قَالَ فَکَتَبَت إلَیْہ : مِنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ إلَی زِیَادٍ ابْنِہَا۔
(٣١١٨٢) حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ زیاد نے حضرت ام المؤمنین عائشہ (رض) کی طرف اس طرح خط لکھا : ” زیاد بن ابی سفیان کی طرف سے ۔۔۔“ ، اس امید پر کہ وہ بھی اس کو ” ابن ابی سفیان “ لکھیں گے، راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے جواب میں لکھا، ” ام المؤمنین عائشہ کی طرف سے اس کے بیٹے زیاد کی طرف “
31182
Ibn Abi Shaybah(۳۱۱۸۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَلِیٍّ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : مَا جَالَسْت فِی أَہْلِ بَیْتِہِ مِثْلَہُ : یَعْنِی : عَلِی بْن حُسَیْن۔
(٣١١٨٣) حضرت ابن اسلم سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت میں علی بن حسین جیسے کسی شخص کے پاس نہیں بیٹھا۔