hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

16. طب کا بیان

ابن أبي شيبة

23879
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۰) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ قَالَ : جُرِحَ رَجُلٌ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اُدْعُوا لَہُ الطَّبِیبَ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ یُغْنِی عَنْہُ الطَّبِیبُ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَمْ یُنْزِلْ دَائً ، إِلاَّ أَنْزَلَ مَعَہُ شِفَائً۔ (احمد ۵/۳۷۱)
(٢٣٨٨٠) حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک آدمی زخمی ہوگیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” اس کے لیے طبیب کو بلاؤ “ صحابہ نے عرض کیا۔ کیا طبیب اس کو فائدہ دے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں “ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کی شفاء بھی اتاری ہے۔ “
23880
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۱) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَیْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ الْعَمِّیَّ ، یَقُولُ : سَمِعْتُ أَنَسًا رضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّہَ حَیْثُ خَلَقَ الدَّائَ خَلَقَ الدَّوَائَ ، فَتَدَاوَوْا۔ (احمد ۳/۱۵۶)
(٢٣٨٨١) حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” یقیناً اللہ تعالیٰ نے جہاں بیماری پیدا کی ہے۔ دوائی بھی پیدا کی ہے۔ پس تم دواء استعمال کرو۔ “
23881
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَطَائٌ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنْ دَائٍ إِلاَّ أَنْزَلَ لَہُ شِفَائً۔ (بخاری ۵۶۷۸۔ ابن ماجہ ۳۴۳۹)
(٢٣٨٨٢) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نازل نہیں کی مگر یہ کہ اس کے لیے شفاء بھی پیدا کی ہے۔ “
23882
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ شَرِیکٍ ، قَالَ : شَہِدْتُ الأَعْرَابَ یَسْأَلُونَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَدَاوَوْا عِبَادَ اللہِ ، فَإِنَّ اللَّہَ لَمْ یَضَعْ دَائً إِلاَّ وَضَعَ مَعَہُ شِفَائً ، إِلاَّ الْہِرَمَ۔ (ابوداؤد ۳۸۵۱۔ ترمذی ۲۰۳۸)
(٢٣٨٨٣) حضرت اسامہ بن شریک سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ دیہاتیوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” اے اللہ کے بندو ! دوائی ، استعمال کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے کے سوا کوئی بھی بیماری نہیں اتاری مگر یہ کہ اس کے ساتھ شفاء بھی نازل کی ہے۔ “
23883
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۴) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَبِیبُ بْنُ شَیْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّہَ لَمْ یُنْزِلْ دَائً ، أَوْ لَمْ یَخْلُقْ دَائً إِلاَّ وَقَدْ أَنْزَلَ ، أَوْ خَلَقَ لَہُ دَوَائً ، عَلِمَہُ مَنْ عَلِمَہُ ، وَجَہِلَہُ مَنْ جَہِلَہُ ، إِلاَّ السَّامَ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَمَا السَّامُ ؟ قَالَ : الْمَوْتُ۔ (طبرانی ۹۲)
(٢٣٨٨٤) حضرت ابو سعید خدری ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نازل نہیں فرمائی یا کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر یہ کہ اس کے لیے دوائی نازل کی ہے یا پیدا کی ہے۔ جس نے اس کو جان لیا سو جان لیا اور جو اس سے جاہل رہا وہ جاہل رہا سوائے سام کے ۔ “ صحابہ نے پوچھا ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! سام کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” موت “۔
23884
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لَمْ یُنْزِلِ اللَّہُ دَائً، أَوْ لَمْ یَخْلُقْ دَائً إِلاَّ وَقَدْ أَنْزَلَ مَعَہُ شِفَائً، جَہِلَہُ مَنْ جَہِلَہُ ، وَعَلِمَہُ مَنْ عَلِمَہُ۔ (احمد ۱/۴۱۳)
(٢٣٨٨٥) حضرت ابو عبد الرحمن سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری یا بیماری نہیں پیدا کی مگر یہ کہ اس کے ساتھ شفاء بھی اتاری ہے۔ جو اس سے جاہل رہا وہ جاہل رہا اور جس نے اس کو جان لیا، اس نے جان لیا۔
23885
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ؛ أَنَّ رَجُلاً أَصَابَہُ جُرْحٌ ، فَاحْتَقَنَ الدَّمُ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَعَا لَہُ رَجُلَیْنِ مِنْ بَنِی أَنْمَارٍ فَقَالَ : أیَّکُمَا أَطَبَّ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَوَفِی الطِّبِّ خَیْرٌ ؟ فَقَالَ : إِنَّ الَّذِی أَنْزَلَ الدَّائَ أَنْزَلَ الدَّوَائَ۔ (مالک ۹۴۳)
(٢٣٨٨٦) حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو زخم لگ گیا پس خون منجمد ہوگیا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے بنو انمار کے دو آدمیوں کو بلایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” تم میں سے کون بڑا طبیب ہے ؟ “ ایک آدمی نے پوچھا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا طب میں بھی کوئی خیر ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” یقیناً جس ذات نے بیماری اتاری ہے اس نے دوائی بھی اتاری ہے۔ “
23886
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۷) حدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ شَبِیبٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ؛ (وَقِیلَ مَنْ رَاقٍ) ، قَالَ : مَنْ طَبِیبٌ۔
(٢٣٨٨٧) حضرت ابو قلابہ سے ” وقیل من راقٍ “ کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں۔ اس سے مراد طبیب ہے۔
23887
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۸) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنِ ابْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : إِنَّ اللَّہَ یَقُولُ : أَنَا الَّذِی أُصِحَّ وَأُدَاوِی۔
(٢٣٨٨٨) حضرت کعب سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حق جل شانہ ٔ کا فرمان ہے۔ میں ہی وہ ذات ہوں جو صحت دیتا ہوں اور علاج کرتا ہوں۔
23888
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۸۸۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ إِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ ، عَنْ أَبِی رِمْثَۃَ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِی وَأَنَا غُلاَمٌ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ أَبِی : إِنِّی رَجُلٌ طَبِیبٌ ، فَأَرِنِی ہَذِہِ السِّلْعَۃَ الَّتِی بِظَہْرِکَ ، قَالَ : مَا تَصْنَعُ بِہَا ؟ قَالَ : أَقْطَعُہَا ، قَالَ : لَسْتَ بِطَبِیبٍ وَلَکِنَّک رَفِیقٌ ، طَبِیبُہَا الَّذِی وَضَعَہَا ، وَقَالَ غَیْرُہُ : الَّذِی خَلَقَہَا۔ (ابوداؤد ۴۲۰۴۔ ترمذی ۲۸۱۲)
(٢٣٨٨٩) حضرت ابو رمثہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا اور اپنے والد کے ہمراہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابو رمثہ کہتے ہیں۔ میرے والد نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ میں حکیم آدمی ہوں لہٰذا آپ کی پشت پر جو ابھرا ہوا گوشت ہے۔ وہ آپ مجھے دکھائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ’ ’ تم اس کو کیا کرو گے ؟ “ میرے والد نے جواب دیا، میں اس کو کاٹ دوں گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” تم طبیب نہیں ہو، ہاں مگر تم دوست ہو۔ اس کا طبیب وہی ہے جس نے اس کو بنایا ہے۔ یا فرمایا۔ جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔