hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

25. فضائل قرآن

ابن أبي شيبة

30531
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَن أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ وَالْتَمِسُوا غَرَائِبَہُ۔ (ابویعلی ۶۵۲۹۔ احمد ۴۴۵)
(٣٠٥٣٢) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو اور اس کے اسرار وغرائب تلاش کرو۔
30532
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۳۳) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَن لَیْثٍ، عَن طَلْحَۃَ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ، عَن عَلْقَمَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ، قَالَ: أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ۔
(٣٠٥٣٣) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا : قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔
30533
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۳۴) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَن ثَوْرٍ ، عَنْ عُمَر بْنِ زَیْدٍ قَالَ: کَتَبَ عُمَرُ إِلَی أَبِی مُوسَی: أَمَّا بَعْدُ فَتَفَقَّہُوا فِی السُّنَّۃِ ،وَتَفَقَّہُوا فِی الْعَرَبِیَّۃِ ،وَأَعْرِبُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّہُ عَرَبِیٌّ ،وَتَمَعْدَدُوا فَإِنَّکُمْ مَعْدِیُّونَ۔
(٣٠٥٣٤) حضرت عمر بن زید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی طرف خط لکھا اور فرمایا : حمد وصلوۃ کے بعد۔ پس تم لوگ سنت میں سمجھ بوجھ پیدا کرو ، اور عربی زبان میں سمجھ بوجھ پیدا کرو، اور قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔ اس لیے کہ وہ عربی زبان میں ہے، اور تم قبیلہ معد کی طرف خود کو منسوب کرو اس لیے کہ تم قبیلہ معد والے ہو۔
30534
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۳۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ ، عَن یَحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ، عَن یَحْیَی بْنِ یَعْمَُرَ ، عَن أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ: تَعَلَّمُوا الْعَرَبِیَّۃَ کَمَا تَعَلَّمُونَ حِفْظَ الْقُرْآنِ۔
(٣٠٥٣٥) حضرت یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب نے ارشاد فرمایا : تم لوگ عربی زبان کو ایسے سیکھو جیسے قرآن کو زبانی یاد کرتے ہو۔
30535
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۳۶) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَن لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ۔
(٣٠٥٣٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا؛ قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔
30536
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن عُقْبَۃَ الأَسَدِیِّ ، عَنْ أَبِی الْعَلائِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّہُ عَرَبِیٌّ۔
(٣٠٥٣٧) حضرت ابو العلائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا : کہ قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔ اس لیے کہ وہ عربی زبان میں ہے۔
30537
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۳۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَن یُوسُفَ بْنِ صُہَیْبٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَن رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لأَنْ أَقْرَأَ الآیَۃَ بِإِعْرَابٍ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَقْرَأَ کَذَا وَکَذَا آیَۃً بِغَیْرِ إعْرَابٍ۔
(٣٠٥٣٨) حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک شخص نے ارشاد فرمایا : میرے لیے قرآن کی ایک آیت کو اعراب کی وضاحت کے ساتھ پڑھنا قرآن کی اتنی اور اتنی آیات کو اعراب کی وضاحت کے بغیر پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
30538
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ ، عَن نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ کَانَ یَضْرِبُ وَلَدَہُ عَلَی اللَّحْنِ۔
(٣٠٥٣٩) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر اپنے بیٹے کو غلطی پر مارا کرتے تھے۔
30539
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۴۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْحَسَنِ: یَا أَبَا سَعِیدٍ ، وَاللہ مَا أَرَاک تَلْحَنُ ، فَقَالَ: یَا ابْنَ أَخِی ، إنِّی سَبَقْت اللَّحْنَ۔
(٣٠٥٤٠) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت حسن سے کہا : اے ابو سعید ! اللہ کی قسم میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ غلطی کرتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا ! اے میرے بھتیجے ! سبقت لسانی کی وجہ سے غلطی کرجاتا ہوں۔
30540
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۵۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن عُمَرَ بْنِ حَمْزَۃَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی سَالِمٌ ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ اسْتَشَارَ عُمَرَ فِی جَمْعِ الْقُرْآنِ فَأَبِیَ عَلَیْہِ فَقَالَ: أَنْتُمْ قَوْمٌ تَلْحَنُونَ ، وَاسْتَشَارَ عُثْمَانَ فَأَذِنَ لَہُ۔
(٣٠٥٤١) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت نے حضرت عمر سے قرآن جمع کرنے کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ پس آپ نے انکار فرما دیا : اور فرمایا : تم تو ایسے لوگ ہو جو غلطیاں کرتے ہو اور انھوں نے حضرت عثمان سے مشورہ مانگا۔ تو انھوں نے اجازت مرحمت فرما دی۔