hadith book logo

Ibn Abi Shaybah

6. زکوۃ کا بیان

ابن أبي شيبة

9895
Ibn Abi Shaybah
(۹۸۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہِلاَلٍ الْعَبْسِیِّ ، عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَثَّنَا عَلَی الصَّدَقَۃِ ، فَأَبْطَؤُوا حَتَّی رُئِیَ فِی وَجْہِہِ الْغَضَبُ ، ثُمَّ إنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَائَ بِصُرَّۃٍ فَأَعْطَاہَا ، فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّی رُئِیَ فِی وَجْہِہِ السُّرُورُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَنَّ سُنَّۃً حَسَنَۃً کَانَ لَہُ أَجْرُہَا ، وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِہَا ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئًا ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہَا ، وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئًا۔
(٩٨٩٥) حضرت جریر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ لوگوں نے صدقہ کرنے میں تاخیر کی جس کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور پہ غصہ کے آثار دکھائی دینے لگے۔ پھر ایک انصاری شخص ایک تھیلی لے کر آیا اور وہ تھیلی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی، باقی لوگوں نے بھی اس انصاری شخص کی پیروی کی یہاں تک کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور پہ خوشی کے آثار دکھائی دینے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص اچھائی کا راستہ اور طریقہ جاری کرے گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے ان کا ثواب بھی اس کو ملے گا ان لوگوں کے اجر میں کمی کیے بغیر، اور جو شخص برائی کا طریقہ جاری کرے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہے اور جتنے لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی اسی پر ہوگا ان لوگوں کے گناہ میں کمی کیے بغیر۔
9896
Ibn Abi Shaybah
(۹۸۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ شُعْبَۃَ، قَالَ: حدَّثَنِی عَوْنُ بْنُ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِیرٍ یَذْکُرُ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَدْرَ النَّہَارِ ، قَالَ : فَجَائَہُ قَوْمٌ حُفَاۃٌ ، مُجْتَابِی النِّمَارِ ، عَلَیْہِمُ السُّیُوفُ وَالْعَمَائِمُ ، عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ ، بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ ، قَالَ : فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَغَیَّرُ تَغَیُّرًا لِمَا رَأَی بِہِمْ مِنَ الْفَاقَۃِ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی ، ثُمَّ قَالَ : {یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ} ، ثُمَّ قَرَأَ إلَی آخِرِ الآیَۃِ : {وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَائَلُونَ بِہِ وَالأَرْحَامَ} ، {اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} تَصَدَّقَ امْرُؤٌ مِنْ دِینَارِہِ وَمِنْ دِرْہَمِہِ ، وَمِنْ ثَوْبِہِ وَمِنْ صَاعِ بُرِّہِ ، یَعْنِی الْحِنْطَۃَ ، وَمِنْ صَاعِ تَمْرِہِ حَتَّی قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ، قَالَ : فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ قَدْ کَادَتْ کَفُّہُ تَعْجَزُ عَنْہَا ، بَلْ قَدْ عَجَزَتْ ، قَالَ : ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّی رَأَیْت کَوْمَیْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِیَابٍ ، قَالَ : فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَہَلَّلُ، کَأَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ ، فَقَالَ: مَنْ سَنَّ فِی الإِسْلاَمِ سُنَّۃً حَسَنَۃً ، أَوْ صَالِحَۃً فَاسْتُنَّ بِہَا بَعْدَہُ ، کَانَ لَہُ أَجْرُہَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ، لاَ یَنْتَقِصُ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئًا، وَمَنِ اسْتَنَّ فِی الإِسْلاَمِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَاسْتُنَّ بِہَا بَعْدَہُ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہ وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ، لاَ یَنْتَقِصُ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئًا۔(مسلم ۷۰۶۔ احمد ۴/۳۵۹)
(٩٨٩٦) حضرت جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں صبح کے وقت حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم حاضر ہوئی جو تنگ دست تھے سفید اور کالے لباس میں ملبوس تھے، ان پر تلواریں تھیں اور عمامے تھے، اکثر کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا بلکہ میں تو کہوں گا سب کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا، ان کی تنگ دستی کی حالت کو دیکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا، اس کے بعد لوگوں کو نماز پڑھائی، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ” اے لوگو ! ڈرو اس رب سے جس نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا “ پھر آیت کے آخر تک تلاوت فرمائی، اور اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَد۔ کی تلاوت فرمائی۔ (اور حکم دیا کہ) لوگو ! صدقہ کرو دینار میں سے، درھم میں سے، کپڑوں میں سے، گندم میں سے اور کھجور میں سے یہاں تک کہ اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔
اتنے میں ایک انصاری شخص تھیلی اٹھا کر آیا اور اس کی ہتھیلی اس کے اٹھانے سے عاجز آرہی تھی بلکہ میں تو کہوں گا کہ اس کے ہاتھ عاجز آگئے تھے، پھر باقی لوگوں نے بھی اس کی پیروی کی یہاں تک کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء کے دو ڈھیر لگ لئے۔
راوی کہتے ہیں کہ اس کو دیکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ انور سونے کی طرح چمکنے لگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
” جو شخص اسلام میں کوئی اچھا اور نیک طریقہ جاری کرے گا، اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اس کو اپنے اجر کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا اجر بھی ملے گا اور ان کے اجر میں بھی کمی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اس پر اپنے گناہ کے علاوہ ان لوگوں کا گناہ بھی ہوگا جو بعد میں اس پر عمل کریں گے ان لوگوں کے گناہوں میں کمی کئے بغیر “ ، ،
9897
Ibn Abi Shaybah
(۹۸۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَائً ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَشْہَدُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَرَأَی أَنَّہُ لَمْ یُسْمِعِ النِّسَائَ ، فَأَتَاہُنَّ ، فَذَکَّرَہُنَّ، وَوَعَظَہُنَّ ، وَأَمَرَہُنَّ بِالصَّدَقَۃِ ، وَبِلاَلٌ قَائِلٌ بِثَوْبِہِ ، قَالَ : فَجَعَلَتِ الْمَرْأَۃُ تُلْقِی الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّیْئَ۔
(٩٨٩٧) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں نماز کیلئے خطبہ سے قبل حاضر ہوا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ عورتوں نے خطبہ نہیں سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو وعظ و نصیحت فرمائی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اور حضرت بلال اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے، عورتوں نے اپنی انگوٹھیاں اور کنگن اور دوسری اشیاء صدقہ کیلئے دیں۔
9898
Ibn Abi Shaybah
(۹۸۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مُہَانَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْنَ یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ ، فَإِنَّکُنَّ أَکْثَرُ أَہْلِ جَہَنَّمَ ، فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ لَیْسَتْ مِنْ عِلْیَۃِ النِّسَائِ: مِمَّ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللہِ؟ قَالَ: لأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ اللَّعَنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ۔ (احمد ۱/۳۷۶۔ طیالسی ۳۸۴)
(٩٨٩٨) حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو، بیشک تم میں سے جہنم میں جانے والی زیادہ ہیں، ایک خاتون نے عرض کیا جو برسر آوردہ خواتین میں سے نہیں تھی ایسا کیوں اور کس وجہ سے ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیونکہ تم لعن طعن بہت زیادہ کرتی ہو اور اپنے خاوند کی نا شکری ونا فرمانی کرتی ہو۔
9899
Ibn Abi Shaybah
(۹۸۹۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ خَیْثَمَۃَ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : ذَکَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَعْرَضَ بِوَجْہِہِ وَأَشَاحَ ، ثُمَّ ذَکَرَ النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ ، حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ کَأَنَّمَا یَنْظُرُ إلَیْہَا ، ثُمَّ قَالَ : اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔ (بخاری ۶۵۴۰۔ مسلم ۶۸)
(٩٨٩٩) حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آگ (جہنم) کا تذکرہ فرمایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا چہرہ مبارک پھیرا گویا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں، پھر دوبارہ جہنم کا تذکرہ فرمایا اور اپنا چہرہ مبارک پھیرا گویا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں تک کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہنم کو دیکھ رہے ہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ اگرچہ کھجور کے ایک دانہ صدقہ کرنے سے ہو اور جو شعخص یہ بھی نہ پائے تو وہ اچھی بات کہے (بیشک اچھی بات بھی صدقہ ہے) ۔
9900
Ibn Abi Shaybah
(۹۹۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ۔ (بخاری ۱۴۱۷۔ مسلم ۷۰۳)
(٩٩٠٠) حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقہ کرنا) ہی کیوں نہ ہو۔
9901
Ibn Abi Shaybah
(۹۹۰۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِیَاضُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ یَوْمَ الْعِیدِ ، یَوْمَ الْفِطْرِ فَیُصَلِّی بِالنَّاسِ تَیْنِکَ الرَّکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ ، ثُمَّ یَقُومُ فَیَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَہُمْ جُلُوسٌ فَیَقُولُ : تَصَدَّقُوا ، تَصَدَّقُوا : فَکَانَ أَکْثَرَ مَنْ تَصَدَّقَ النِّسَائُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّیْئِ۔ (بخاری ۱۴۶۲۔ مسلم ۶۰۵)
(٩٩٠١) حضرت ابو سعید خدی سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر کے دن نکلے (عید گاہ کی طرف) اور لوگوں کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے سلام پھیرا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی طرف چہرہ کر کے کھڑے ہوگئے جب کہ لوگ سارے بیٹھے ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” صدقہ کرو، صدقہ کرو “۔ پس عورتوں نے اپنی انگوٹھیاں اور کان کی بالیاں سب سے زیادہ صدقہ کیں۔
9902
Ibn Abi Shaybah
(۹۹۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِیقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَیْنَبَ امْرَأَۃِ عَبْدِاللہِ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَۃِ ، فَقَالَ : تَصَدَّقْنَ یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ۔(بخاری ۱۴۶۶۔ ترمذی ۶۳۶)
(٩٩٠٢) حضرت عبداللہ کی زوجہ حضرت زینب فرماتی ہیں کہ ہمیں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو۔
9903
Ibn Abi Shaybah
(۹۹۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَیَّانَ ، عَنِ ابْنِ بِجَادٍ ، عَنْ جَدَّتِہِ ، قَالَتْ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، یَأْتِینِی السَّائِلُ ، لَیْسَ عِنْدِی شَیْئٌ أُعْطِیہ ، قَالَتْ : فَقَالَ : لاَ تَرُدِّی سَائِلَکِ إِلاَّ بِشَیْئٍ ، وَلَوْ بِظِلْفٍ۔ (بخاری ۸۴۵۔ طبرانی ۵۶۱)
(٩٩٠٣) حضرت ابن بجاد اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! بعض اوقات میرے پاس سائل آتا ہے لیکن میرے پاس اس کو دینے کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنے سائل کو کچھ دیئے بغیر نہ لٹایا کر اگرچہ گائے، بکری یا ہرن کا ایک کھر (پھٹا ہوا ناخن) ہی کیوں نہ ہو۔
9904
Ibn Abi Shaybah
(۹۹۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ وَہْبٍ الْخُزَاعِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقُوا ، فَإِنَّہُ یُوشِکُ أَنْ یَخْرُجَ الرَّجُلُ بِصَدَقَتِہِ فَلاَ یَجِدُ مَنْ یَقْبَلُہَا۔ (بخاری ۱۴۱۱۔ مسلم ۷۰۰)
(٩٩٠٤) حضرت حارثہ بن وھب الخزاعی سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : صدقہ کیا کرو، بیشک ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی صدقہ کرنے کیلئے نکلے گا لیکن وہ کسی کو نہ پائے گا جو اس کا صدقہ قبول کرے۔