Ibn Abi Shaybah
31. فضائل کا بیان
ابن أبي شيبة
32295
Ibn Abi Shaybahحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمن ، حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃ ، قَالَ :
(۳۲۲۹۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیعَۃَ : أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّا نَسْمَعُ مِنْ قَوْمِکَ حَتَّی یَقُولَ الْقَائِلُ مِنْہُمْ : إنَّمَا مَثَلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلُ نَخْلَۃٍ أَنْبَتَتْ فِی کَبَائٍ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، مَنْ أَنَا ؟ قَالُوا : أَنْتَ رَسُولُ اللہِ عَلَیْکَ السَلام ، فَقَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : فَمَا سَمِعْنَاہُ انْتَمَی قَبْلَہَا قَطُّ ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ إنَّ اللَّہَ خَلَقَ خَلْقَہُ ، ثُمَّ فَرَّقَہُمْ فِرْقَتَیْنِ ، فَجَعَلَنِی مِنْ خَیْرِ الْفَرِقَیْنِ ، ثُمَّ جَعَلَہُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِی مِنْ خَیْرِہِمْ قَبِیلَۃً ، فَأَنَا خَیْرُکُمْ بَیْتًا وَخَیْرُکُمْ نَفْسًا۔
(ترمذی ۳۵۳۲۔ احمد ۱۶۶)
(٣٢٢٩٦) عبد المطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ ہم آپ کی قوم سے سنتے ہیں اور کہنے والے کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال تو اس درخت کی سی ہے جو کسی میدان میں اگ جائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو ! میں کون ہوں ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ پر سلام ہو، آپ نے فرمایا : میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں، کہتے ہیں کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے پہلے اس نسبت کو بیان کرتے نہیں سنا، پھر فرمایا خبردار ! بیشک اللہ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا اور ان کو دو جماعتوں میں تقسیم فرما دیا پھر مجھے بہترین جماعت میں کردیا، پھر ان کے قبیلے بنائے اور مجھے بہترین قبیلے میں بنایا، پس میں گھر کے اعتبار سے بھی تم سب سے بہتر ہوں اور نفس کے اعتبار سے بھی تم سے بہتر ہوں۔
32296
Ibn Abi Shaybah(۳۲۲۹۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ أُبَیٍّ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ کُنْت إمَامَ النَّاسِ وَخَطِیبَہُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِہِمْ ، وَلاَ فَخْرَ۔ (احمد ۱۳۷۔ ترمذی ۳۶۱۳)
(٣٢٢٩٧) اُبی ّ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا میں لوگوں کا امام، ان کا خطیب اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا اور مجھے کوئی فخر نہیں۔
32297
Ibn Abi Shaybah(۳۲۲۹۸) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خَرَجْت مِنْ نِکَاحٍ ، لَمْ أَخْرُجْ مِنْ سِفَاحٍ مِنْ لَدُنْ آدَمَ ، لَمْ یُصِبْنِی سِفَاحُ الْجَاہِلِیَّۃِ۔ (بیہقی ۱۹۰)
(٣٢٢٩٨) جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نکاح سے پیدا ہوا ہوں، اور بدکاری سے پیدا نہیں ہوا آدم (علیہ السلام) سے اب تک، جاہلیت کی بدکاری مجھ تک نہیں پہنچی۔
32298
Ibn Abi Shaybah(۳۲۲۹۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَیَّارٌ ، أَخْبَرَنَا یَزِیدُ الْفَقِیرُ ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُعْطِیت خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ صِرْت بِالرُّعْبِ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ، وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِی أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ فَلِیُصَلِ ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَأُعْطِیت الشَّفَاعَۃَ ، وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ إلَی قَوْمِہِ خَاصَّۃً وَبُعِثْت إلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔
(٣٢٢٩٩) جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئی ہیں جو کسی کو نہیں دی گئیں مجھے ایک مہینہ کی مسافت تک رعب کے ذریعے مدد دی گئی، اور زمین میرے لیے پاک اور نماز کی جگہ بنائی گئی، پس میری امت کے جس آدمی پر نماز کا وقت جہاں بھی آجائے پڑھ لے، اور میرے لیے غنیمتیں حلال کردی گئیں، اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئیں، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی، اور پہلے نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔
32299
Ibn Abi Shaybah(۳۲۳۰۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ وَمِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُعْطِیت خَمْسًا ، وَلاَ أَقُولُہُ فَخْرًا : بُعِثْت إلَی الأَحْمَرِ وَالأَسْوَد ، وَجُعِلَتْ لِی الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّ لِی المنغنم وَلَمْ یحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَنُصِرْت بِالرُّعْبِ ، فَہُوَ یَسِیرُ أَمَامِی مَسِیرَۃَ شَہْرٍ، وَأُعْطِیت الشَّفَاعَۃَ فَأَخَّرْتہَا لأُمَّتِی إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَہِیَ نَائِلَۃٌ إنْ شَائَ اللَّہُ مَنْ لَمْ یُشْرِکْ بِاللہِ شَیْئًا۔
(٣٢٣٠٠) ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئی ہیں، اور میں ان کو فخر سے بیان نہیں کرتا ، مجھے سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا، اور میرے لیے زمین کو پاک اور نماز کی جگہ بنایا گیا، اور میرے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا، جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا، اور میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، کہ وہ میرے آگے ایک مہینہ دور کی مسافت تک چلتا ہے، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی اور میں نے اس کو اپنی امت کے لیے قیامت کے دن تک مؤخر کردیا، اور ان شاء اللہ یہ ہر اس آدمی کو حاصل ہونے والی ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔
32300
Ibn Abi Shaybah(۳۲۳۰۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : نُصِرْت بِالرُّعْبِ ، وَأُعْطِیت جَوَامِعَ الْکَلِمِ ، وَأُحِلَّ لِی الْمَغْنَمُ ، وَبَیْنَما أَنَا نَائِمٌ أُتِیت بِمَفَاتِیحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَتُلَّتْ فِی یَدِی۔ (بخاری ۲۹۷۷۔ مسلم ۳۷۲)
(٣٢٣٠١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، اور مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ، اور میرے لیے مالِ غنیمت کو حلال کردیا گیا، اور اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھوں میں ڈال دی گئیں۔
32301
Ibn Abi Shaybah(۳۲۳۰۲) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، أَخْبَرَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوسَی ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُعْطِیت خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ نَبِیٌّ کَانَ قَبْلِی : بُعِثْت إلَی الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ ، وَنُصِرْت بِالرُّعْبِ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِی الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّتْ لِی الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِیٍّ کَانَ قَبْلِی ، وَأُعْطِیت الشَّفَاعَۃَ ، فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ إلاَّ وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَتَہُ وَإِنِّی أَخَّرْت شَفَاعَتِی : جَعَلْتہَا لِمَنْ مَاتَ لاَ یُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا۔
(٣٢٣٠٢) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں، مجھے سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ، اور میری ایک مہینہ کی مسافت تک رعب کے ذریعے مدد کی گئی، اور میرے لیے زمین کو پاک اور نماز کی جگہ بنایا گیا، اور میرے لیے مالِ غنیمت کو حلال کیا گیا، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے حلال نہیں کیا گیا تھا، اور مجھے شفاعت کی دولت عطا کی گئی، کیونکہ ہر نبی نے اپنی شفاعت مانگ لی، اور میں نے اپنی شفاعت کو مؤخر کر کے ہر اس شخص کے لیے کیا ہے جو اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو۔
32302
Ibn Abi Shaybah(۳۲۳۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی نُصِرْت بِالصَّبَا ، وَأُہْلِکَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ۔ (بخاری ۱۰۳۵۔ مسلم ۱۷)
(٣٢٣٠٣) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری بادِ صبا کے ذریعے مدد کی گئی اور قوم عاد کو مغرب کی سمت کی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔
32303
Ibn Abi Shaybah(۳۲۳۰۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ : أنَّہُ سَمِعَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُعْطِیت مَا لَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِیَائِ ، قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ! مَا ہُوَ ؟ قَالَ : نُصِرْت بِالرُّعْبِ ، وَأُعْطِیت مَفَاتِیحَ الأَرْضِ ، وَسُمِّیت أَحْمَدَ ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِی طَہُورًا ، وَجُعِلَتْ أُمَّتِی خَیْرَ الأُمَمِ۔ (احمد ۹۸۔ بزار ۶۵۶)
(٣٢٣٠٤) حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے وہ خوبیاں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ فرمایا کہ میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، اور مجھے زمین کی کنجیاں عطا کی گئیں ، اور میرا نام احمد رکھا گیا اور مٹی کو میرے لیے پاک کرنے والا بنایا دیا گیا، اور میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا گیا۔
32304
Ibn Abi Shaybah(۳۲۳۰۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ کَعْبٌ: إنَّ أَوَّلَ مَنْ یَأْخُذُ بِحَلْقَۃِ بَابِ الْجَنَّۃِ فَیُفْتَحُ لَہُ : مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَرَأَ آیَۃً مِنَ التَّوْرَاۃِ: أخرانا قداما ، الآخِرُونَ الأَوَّلُونَ۔
(٣٢٣٠٥) مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت کعب نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو شخص جنت کے دروازے کے حلقے کو پکڑے گا اور وہ کھل جائے گا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، پھر انھوں نے توراۃ کی یہ آیت تلاوت فرمائی ” أخرانا قداما ، الآخِرُونَ الأَوَّلُونَ “۔