Ibn Abi Shaybah
21. ادب کا بیان
ابن أبي شيبة
25811
Ibn Abi Shaybahحَدَّثنا أَبو بَکْر عَبْد اللہ بنُ مُحَمَّد بن أبی شَیْبۃ قَالَ :
(۲۵۸۱۲) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یُحْرَمُ الرِّفْقَ یُحْرَمُ الْخَیْرَ۔
(مسلم ۲۰۰۳۔ ابوداؤد ۴۷۷۶)
(٢٥٨١٢) حضرت جریر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص نرمی سے محروم ہے وہ ساری کی ساری بھلائی سے محروم ہے۔
25812
Ibn Abi Shaybah(۲۵۸۱۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا عَنِ الْبَِدَاوَۃِ فَقَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبْدُو إِلَی ہَذِہِ التِّلاَعِ ، وَإِنَّہُ أَرَادَ الْبَدَاوَۃَ مَرَّۃً ، فَأَرْسَلَ إلَیَّ نَاقَۃً مُحَرَّمَۃً مِنْ إبِلِ الصَّدَقَۃِ ، فَقَالَ لِی : یَا عَائِشَۃُ ، ارْفُقِی فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ یَکُنْ فِی شَیْئٍ إلاَّ زَانَہُ ، وَلاَ نُزِعَ مِنْ شَیْئٍ قَطُّ إلاَّ شَانَہُ۔ (ابوداؤد ۲۴۷۰۔ احمد ۶/۵۸)
(٢٥٨١٣) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے صحرا میں مقام ہونے سے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان ٹیلوں کی طرف جاتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ صحرا میں جانے کا ارادہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کی اونٹنیوں میں سے ایک سرکش اونٹنی میری طرف بھیجی اور مجھ سے فرمایا : اے عائشہ ! نرمی اختیار کرو ، اس لیے کہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور کسی چیز سے نرمی نہیں کھینچی جاتی مگر وہ بدصورت ہوجاتی ہے۔
25813
Ibn Abi Shaybah(۲۵۸۱۴) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الرِّفْقِ ، أُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الْخَیْرِ ، وَمَنْ مُنِعَ حَظَّہُ مِنَ الرِّفْقِ ، مُنِعَ حَظَّہُ مِنَ الْخَیْرِ۔ (بخاری ۴۶۴۔ ترمذی ۲۰۰۲)
(٢٥٨١٤) حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو نرمی میں سے حصہ دیا گیا تو اس کو بھلائی میں سے حصہ دیا گیا۔ اور جس شخص کو نرمی سے محروم رکھا گیا اس کو بھلائی سے محروم رکھا گیا۔
25814
Ibn Abi Shaybah(۲۵۸۱۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی إسْمَاعِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ جَرِیرٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ یُحْرَمُ الرِّفْقَ یُحْرَمُ الْخَیْرَ۔
(٢٥٨١٥) حضرت جریر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص بھلائی سے محروم رکھا گیا وہ بھلائی سے محروم رکھا گیا۔
25815
Ibn Abi Shaybah(۲۵۸۱۶) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی إسْمَاعِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ جَرِیرٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِہِ۔
(٢٥٨١٦) حضرت جریر سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
25816
Ibn Abi Shaybah(۲۵۸۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّہُ مَکْتُوبٌ فِی التَّوْرَاۃِ ، الرِّفْقُ رَأْسُ الْحِکْمَۃِ۔
(٢٥٨١٧) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ توراۃ میں یوں لکھا ہوا تھا : نرمی حکمت کی بنیاد ہے۔
25817
Ibn Abi Shaybah(۲۵۸۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، حدثنا ابن أبی خالد، عَنْ قَیْسٍ، قَالَ: کَانَ یُقَالُ: مَنْ یُؤْتَی الرِّفْقَ فِی الدُّنْیَا یَنْفَعْہُ فِی الآخِرَۃِ۔
(٢٥٨١٨) حضرت ابن ابی خالد فرماتے ہیں کہ حضرت قیس نے ارشاد فرمایا : یوں بیان کیا جاتا تھا۔ جس شخص کو دنیا میں نرم برتاؤ دیا گیا تو یہ آخرت میں اس کو نفع پہنچائے گا۔
25818
Ibn Abi Shaybah(۲۵۸۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ اللَّہَ رَفِیقٌ یُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَیُعْطِی عَلَیْہِ ، وَیُعِینُ عَلَیْہِ مَا لاَ یُعِینُ عَلَی الْعَنْفِ۔
(٢٥٨١٩) حضرت خالد بن معدان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ نرم برتاؤ والے ہیں، نرمی کو پسند فرماتے ہیں۔ اور اس پر اپنی عطاء سے نوازتے ہیں اور نرمی کی صورت میں مدد فرماتے ہیں جو کہ سختی کی صورت میں نہیں فرماتے ۔
25819
Ibn Abi Shaybah(۲۵۸۲۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ یُونُسَ وَحُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ اللَّہَ رَفِیقٌ یُحِبُّ الرِّفْقَ وَیَرْضَاہُ ، وَیُعْطِی عَلَیْہِ مَا لاَ یُعْطِی عَلَی الْعَنْفِ۔ (بخاری ۶۷۲۔ ابوداؤد ۴۷۷۴)
(٢٥٨٢٠) حضرت عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ نرم برتاؤ والے ہیں اور نرمی کو پسند فرماتے ہیں اور اس سے راضی ہوتے ہیں اور نرمی کی صورت میں جو انعام دیتے ہیں وہ سختی کی صورت میں نہیں عطاء فرماتے۔
25820
Ibn Abi Shaybah(۲۵۸۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ رَجُلٌ مِنْ بَلیّ ، قَالَ : دَخَلْت مَعَ أَبِی عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَانْتَجَاہُ دُونِی ، فَقُلْت لَہُ : یَا أَبَتِ ، أَیُّ شَیْئٍ قَالَ لَکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : قَالَ لِی : إذَا ہَمَمْت بِالأَمْرِ فَعَلَیْک بِالتُّؤَدَۃِ ، حَتَّی یَأْتِیَک اللَّہُ بِالْمَخْرَجِ مِنْ أَمْرِک۔
(بخاری ۸۸۸)
(٢٥٨٢١) امام زہری فرماتے ہیں کہ ایک بلوی آدمی فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے سرگوشی فرمائی۔ تو میں نے اپنے والد سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا بات کہی ؟ تو انھوں نے فرمایا : جب تم کسی کام کا ارادہ کرو تو محبت کرنے کو لازم پکڑ لو یہاں تک کہ اللہ تمہارے معاملہ کا کوئی نہ کوئی حل نکال دے گا۔