hadith book logo

Kanz al-Ummal

25. جادو نظر لگنا اور کہانت کا بیان

كنز العمال

17650
Kanz al-Ummal
17650- "من عقد عقدة ثم نفث فيها فقد سحر ومن سحر فقد أشرك، ومن تعلق شيئا وكل إليه". "ن عن أبي هريرة"
17650 جس نے کوئی گرہ لگائی پھر اس میں پھونک ماری اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا اس نے شرک کیا اور جو کسی چیز کے ساتھ متعلق ہوا (جادو وغیرہ کے ساتھ) تو اس کو اسی کے سپرد کردیا گیا۔ النسائی عن ابوہریرہ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف النسائی 276 ۔ ضعیف الجامع 5702 ۔ المیزان 378/2 ۔
17651
Kanz al-Ummal
17651- " يا عائشة أشعرت أن الله قد أفتاني فيما استفتيته فيه؟ جاءني رجلان فقعد أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي فقال الذي عند رأسي للذي عند رجلي أو الذي عند رجلي للذي عند رأسي ما وجع الرجل؟ قال: مطبوب، قال: من طبه؟ قال: لبيد بن الأعصم، قال: في أي شيء، قال: في مشط ومشاطة وجف طلعة ذكر، قال: فأين هو؟ قال: في بئر أروان، قالت: فأتاها رسول الله صلى الله عليه وسلم في ناس من أصحابه، ثم جاء فقال: يا عائشة والله لكأن ماءها نقاعة الحناء ولكأن نخلها رؤوس الشياطين". "حم ق ن عن عائشة"
17651 اے عائشہ ! کیا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی ؟ (ہاں) میرے پاس دو فرشتے آئے تھے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ سر والے نے پاؤں والے کو یا پاؤں والے نے سر والے کو کہا : اس آدمی کو کیا تکلیف ہے ؟ دوسرے نے کہا : اس پر جادو ہوگیا ہے۔ پوچھا : کس نے جادو کیا ہے ؟ بولا لبید بن الاصعم نے۔ پوچھا : کس چیز میں ؟ بولا : کنگھی میں، بالوں میں اور کھجور کے گابھے کے گچھے میں۔ پوچھا : یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ بولا بئراروان میں (یعنی اروان کے کنویں میں) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چند صحابہ کو لے کر اس کنویں کے پاس گئے۔ پھر واپس آئے تو فرمایا : اے عائشہ ! اللہ کی قسم ! اس کنویں کا پانی مہندی کے دھو ون جیسا تھا اور اس (کے آس پاس) کی کھجوریں گویا شیطانوں کے سر تھے۔ مسند احمد ، البخاری ، مسلم، النسائی، عن عائشۃ (رض)
17652
Kanz al-Ummal
17652- "لعن الله الزهرة فإنما هي التي فتنت الملكين هاروت وماروت". "ابن راهويه وابن مردويه عن علي".
17652 اللہ لعنت کرے زہرۃ پر، اس نے دو فرشتوں ہاروت اور ماروت کو فتنہ میں مبتلا کیا۔ ابن راوھویہ، ابن مردویہ عن علی
کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 4685، الضعیفۃ 913 ۔
17653
Kanz al-Ummal
17653- "من تعلم شيئا من السحر قليلا أو كثيرا كان آخر عهده من الله". "عب عن صفوان بن سليم، مرسلا عد عن علي".
17653 جس نے جادو کی کوئی چیز سیکھی تھوڑی یا زیادہ اس کی آخری عمر اللہ کے ہاتھ میں ہے (اور خطروں کی زد میں ہے) ۔
المصنف لعبد الرزاق عن صفوان بن سلیم مرسلاً ، الکامل لا بن عدی عن علی (رض)
17654
Kanz al-Ummal
17654- "خرج داود نبي الله ذات ليلة فقال: لا يسأل الله أحد إلا استجيب له إلا أن يكون ساحرا أو عشارا". "ك عن عثمان بن أبي العاص عن علي".
17654 اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) ایک رات کو نکلے اور فرمایا : اللہ سے کوئی سوال نہ کرے گا (اس وقت) مگر اس کی دعا قبول ہوگی سوائے جادو گر یا عشار (عشروصول کرنے والے کے) ۔
مستدرک الحاکم عن عثمان بن ابی العاص عن علی (رض)
17655
Kanz al-Ummal
17655- "من تكهن أو تقسم أو تطير طيرة ترده عن سفر لم ينظر إلى الدرجات من الجنة يوم القيامة". "هب عن أبي الدرداء".
17655 جس نے کہانت کی (غیب کی باتیں ) یا تیروں کے ساتھ قرعہ اندازی کی، یا بد فالی لی جس نے اس کو سفر سے لوٹا دیا تو قیامت کے دن وہ جنت کے بلند درجات نہ دیکھ پائے گا۔
شعب الایمان للبیہقی عن ابی الدرداء (رض)
فائدہ : بدفالی جیسا کہ بلی کے راستے کاٹنے پر سفر چھوڑ دیا یہ سب ناجائز باتیں ہیں۔
17656
Kanz al-Ummal
17656- "العين حق". "حم ق د، هـ عن أبي هريرة، هـ عن عامر بن ربيعة".
17656 نظر لگنا حق ہے۔
مسند احمد، البخاری ، مسلم، ابوداؤد ، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض) ، ابن ماجہ عن عامر بن ربیعۃ
17657
Kanz al-Ummal
17657- "العين حق تستنزل الحالق". "حم، طب، ك عن ابن عباس".
17657 نظر لگنا حق ہے جو حالق (تقدیر کے منکر قدری) کو اپنی رائے سے ہٹا دے گی۔
مسند احمدد، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض)
17658
Kanz al-Ummal
17658- "العين حق ولو كان شيء سابق القدر سبقته العين، وإذا استغسلتم فاغسلوا". "حم م عن ابن عباس".
17658 نظر لگنا حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرتی تو نظر سبقت کر جالی۔ اور جب کوئی تم سے منہ ہاتھ دلھوائے (تاکہ جس پر تمہاری نظر لگی ہے وہ پانی اس پر چھڑک دیا جائے) تو تم دھودو۔
مسند احمد ، مسلم عن ابن عباس (رض)
17659
Kanz al-Ummal
17659- "العين حق يحضرها الشيطان وحسد ابن آدم". "الكجي في سننه عن أبي هريرة".
17659 بدنظری حق ہے، جس پر شیطان حاضر ہوتے ہیں اور ابن آدم کا حسد کام کرتا ہے۔
الکجی فی سنتہ عن ابوہریرہ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 3902 ۔