hadith book logo

Kanz al-Ummal

13. امارت اور خلافت کا بیان

كنز العمال

14040
Kanz al-Ummal
14040- "مسند الصديق" عن أم هانيء أن فاطمة قالت: يا أبا بكر من يرثك إذا مت قال: ولدي وأهلي، قالت: فما شأنك ورثت رسول الله صلى الله عليه وسلم دوننا؟ قال: يا ابنة رسول الله، والله ما ورثته ذهبا ولا فضة ولا شاة ولا بعيرا ولا دارا ولا عقارا ولا غلاما ولا مالا، قالت: فسهم الله الذي جعله لنا وصافيتنا1 التي بيدك، فقال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن النبي يطعم أهله ما دام حيا، فإذا مات رفع ذلك عنهم وفي لفظ: سمعته يقول: إنما هي طعمة أطعمنيها الله، فإذا مت كانت بين المسلمين. "ابن سعد"2
14040 (مسند الصدیق (رض)) ام ربانی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : اے ابوبکر ! جب آپ مریں گے تو آپ کا وارث کون بنے گا ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : میری اولاد اور میرے گھر والے۔ حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : پھر کیا بات ہے کہ ہمارے بجائے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وارث بن گئے ہیں ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے بنت رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں آپ کا وارث نہیں ہوا سونے میں، چاندی، بکری میں، اونٹ میں، گھر میں، زمین میں، غلام میں اور نہ کسی طرح کے مال میں حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ کا وہ خالص حصہ جو اللہ نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا وہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : نبی جب تک زندہ ہوتا ہے اس کے اہل و عیال کو (اللہ کے عطا کردہ اس مال میں سے) کھلایا جاسکتا ہے اور جب نبی کا انتقال ہوجاتا ہے تو وہ رزق اس کے اہل و عیال سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : یہ (مال) تو محض کھانا ہے جو اللہ نے مجھے کھلایا ہے جب میں مرجاؤں گا تو یہ مال مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوجائے گا۔ الطقات لا بن سعد
14041
Kanz al-Ummal
14041- عن أبي سعيد الخدري قال: قال أبو بكر: ألست أحق الناس بها؟ ألست أول من أسلم؟ ألست صاحب كذا؟ ألست صاحب كذا؟ "ت3 والبزار حب وأبو نعيم في المعرفة وابن منده في غرائب شعبة ص د".
14041: ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے (خلافت کی بیعت لیتے وقت) فرمایا تھا : کیا میں اس (خلافت) کا لوگوں میں سب سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ میں سب سے پہلے اسلام لایا، کیا میں فلاں شرف کا حامل نہیں، کیا میں فلاں شرف کا حامل نہیں ؟ (الترمذی، مسند البزار، ابن حبان، ابونعیم فی المعرفۃ، ابن مندہ فی غرائب شعبۃ، السنن لسعید بن منصور، ابن ابی داود)
کلام : ۔۔۔ اخرجہ الترمذی، کتاب المناقب باب فی مناقب ابی بکر و عمر رقم 3667، وقال : غریب، امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے۔
14042
Kanz al-Ummal
14042- عن عبد الملك بن عمير عن رافع الطائي رفيق أبي بكر في غزوة ذات السلاسل قال: سألتهم عما قيل في بيعتهم، فقال وهو يحدثهم عما تكلمت به الأنصار وما كلمهم به وما كلم به عمر بن الخطاب الأنصار وما ذكرهم به من إمامتي إياهم بأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه فبايعوني لذلك، وقبلتها منهم وتخوفت أن تكون فتنة تكون بعدها ردة. "حم" قال ابن كثير: إسناده حسن، قال الحافظ ابن حجر في أطرافه: أخرجه أبو بكر الإسماعيلي في مسند عمر من تأليفه في ترجمة أبي بكر وعمر.
14042 عبدالملک بن عمیر روایت کرتے ہیں رافع الطائی سے رافع غزوۃ ذات السلاسل میں حضرت ابوبکرصدیق (رض) کے رفیق اور ساتھی تھے۔ رافع کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکر (رض) سے ان کے ہاتھ پر ہونے والی بیعت کے بارے میں سوال کیا کہ اس وقت لوگوں نے کیا کیا کہا تو آپ (رض) نے وہ ساری تفصیل سنائی جو اس وقت انصار نے کہا اور ابوبکر نے ان کو جواب دیا، انصار کی عمر بن خطاب کے ساتھ جو بات چیت ہوئی اور جس طرح عمر بن خطاب نے انصار کو میری امامت کا قائل کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض الوفات ابوبکر کو آگے کردیا تھا۔ آخر ان تمام باتوں کو سن سمجھ کر انصار نے میری بیعت کرلی اور میں نے بھی ان کی بیعت کو قبول کرلیا۔ مجھے خوف تھا کہ کہیں ایسا کوئی فتنہ رونما نہ ہو جس کے بعدارتداد (کی فضاء) ہوجائے۔ مسند احمد
امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : مذکورہ روایت کی اسناد حسن ہے۔ حافظ ابن حجر اپنی اطراف میں فرماتے ہیں : اس روایت کو ابوبکر الاسماعیل نے مسند عمر میں ابوبکر وعمر کے ترجمہ کے تحت روایت کردیا ہے۔
14043
Kanz al-Ummal
14043- عن طارق بن شهاب عن رافع بن أبي رافع قال: لما استخلف الناس أبا بكر، قلت: صاحبي الذي أمرني أن لا أتامر على رجلين، فارتحلت فانتهيت إلى المدينة فتعرضت لأبي بكر، فقلت له يا أبا بكر أتعرفني؟ قال: نعم؟ قلت: أتذكر شيئا قلته لي أن لا أتأمر على رجلين، وقد وليت أمر الأمة؟ فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض والناس حديث عهد بكفر فخفت عليهم أن يرتدوا وأن يختلفوا فدخلت فيها وأنا كاره، ولم يزل بي أصحابي، فلم يزل يعتذر حتى عذرته. "ابن راهويه والعدني والبغوي وابن خزيمة".
14043 طارق بن شہاب ، رافع بن ابی رافع سے روایت کرتے ہیں کہ جب لوگوں نے حضرت ابوبکر (رض) کو منصب خلافت کے لیے چن لیا تو رافع کہتے ہیں : میں نے کہا : یہ تو وہی شخص ہیں جنہوں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ میں کبھی دو آدمیوں پر امیر بننا بھی قبول نہ کروں گا۔ چنانچہ میں مدینہ پہنچا اور ابوبکر (رض) سے بات کی اور پوچھا : اے ابوبکر ! آپ مجھے جانتے ہیں ؟ فرمایا : اچھی طرح۔ میں نے عرض کیا : آپ کو یاد ہے آپ نے مجھے کس وقت نصیحت کی تھی کہ میں آدمیوں پر بھی امیر نہ بنوں ؟ حالانکہ اب آپ پوری امت کی امارت قبول کررہے ہیں ؟
حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوچکی ہے اور لوگوں کو زمانہ کفر سے نکلے زیادہ وقت نہیں ہوا اس لیے مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ اسلام سے منحرف نہ ہوجائیں اور باہم انتشار کا شکار نہ ہوجائیں۔ اس لیے میں ناپسندیدگی کے باوجود اس میدان میں اترا ہوں اور وہ بھی اپنے ساتھیوں کے مسلسل اصرار کے کے ساتھ۔
رافع فرماتے ہیں : آپ مجھے اس طرح اپنے اعذار گنواتے رہے حتیٰ کہ میں نے ان کا عذر قبول کرلیا۔ ابن راھویہ، العدنی، البغوی، ابن خزیمہ
14044
Kanz al-Ummal
14044- عن ابن عباس قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف أبو بكر خاصم العباس عليا في أشياء تركها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أبو بكر شيء تركه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يحركه فلا أحركه، فلما استخلف عمر رضي الله عنه اختصما إليه، فقال: شيء لم يحركه فلست أحركه، قال: فلما استخلف عثمان اختصما إليه فأسكت عثمان ونكس رأسه، قال ابن عباس: فخشيت أن يأخذه فضربت بيدي بين كتفي العباس، فقلت: يا أبت أقسمت عليك إلا سلمته لعلي قال: فسلمه له. "حم والبزار" وقال: حسن الإسناد.
14044 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور ابوبکر (رض) کو خلیفہ بنالیا گیا تو عباس (رض) اور علی (رض) کا آپس میں کچھ ایسی چیزوں (زمینوں کی زمینداری) میں جھگڑا ہوا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اہل بیت ازواج مطہرات کے لیے چھوڑ گئے تھے (دونوں حضرات چاہتے تھے کہ یہ زمین باغ وغیرہ دونوں کے درمیان تقسیم ہوجائیں اور جھگڑا رفع ہوجائے) حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : جو چیز رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح چھوڑ گئے ہیں کہ آپ نے ان کو حرکت نہیں دی تو میں بھی ان کو حرکت نہیں دے سکتا۔ پھر جب حضرت عمر (رض) خلیفہ منتخب ہوگئے یہ دونوں بزرگ پھر آپ (رض) کے پاس بھی اپنا قضیہ لے کر پیش خدمت ہوئے۔ حضرت عمر (رض) نے بھی وہی جواب دیا کہ جس چیز کو پہلے کسی نے حرکت نہیں دی میں بھی اس کو حرکت نہیں دے سکتا۔ پھر جب حضرت عثمان (رض) خلیفہ بنے یہ دونوں حضرات پھر اپنا قضیہ ان کے پاس بھی لے کر حاضر ہوئے (حضرت عثمان (رض)) خاموش ہوگئے اور اپنا سرجھکا لیا (ابن عباس (رض)) کہتے ہیں : مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں عثمان (رض) کو غصہ نہ آجائے اس لیے میں نے اپنے والد عباس کے شانے پر ہاتھ مارا اور عرض کیا : ابا جان ! آپ کی قسم ہے کہ آپ یہ معاملہ بالکلیہ حضرت علی (رض) کے سپرد کرکے خود سبکدوش ہوجائیں۔ چنانچہ اس وقت حضرت عباس (رض) نے سارا معاملہ حضرت علی (رض) کے سپرد کردیا۔ مسند احمد، مسند البزار
روایت حسن الاسناد ہے۔
فائدہ : یہ واقعہ باغ فدک وغیرہ کا ہے۔ ملحوظ رہے کہ یہ دونوں حضرات اس کی پیداوار کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرز پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات اور اہل بیت کے درمیان تقسیم فرماتے تھے۔ دونوں کا تنازعہ نگہداشت کرنے کا تھا ملکیت کا نہ تھا۔ اگر حضرت علی (رض) بعد میں تنہاذمے دار بن گئے تھے تو یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ تنہا اس کے مالک تھے بلکہ وہ اس کی دیکھ بھال کے ذمہ دار تھے ۔ اور پیداوار کو اسی سابق طرز پر تقسیم فرماتے تھے۔
14045
Kanz al-Ummal
14045- عن عاصم بن كليب قال: حدثني شيخ من قريش من بني تيم قال: حدثني فلان وفلان فعد ستة أو سبعة كلهم من قريش منهم عبد الله بن الزبير قال: بينا نحن جلوس عند عمر إذ دخل علي والعباس فارتفعت أصواتهما، فقال عمر: مه يا عباس قد علمت ما تقول تقول: ابن أخي ولي شطر المال، وقد علمت ما تقول يا علي، تقول: ابنته تحتي ولها شطر المال، وهذا ما كان في يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد رأينا كيف كان يصنع فيه فوليه أبو بكر من بعده فعمل فيه بعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم وليته من بعد أبي بكر وأحلف بالله لأجهدن أن أعمل فيه بعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمل أبي بكر، ثم قال: حدثني أبو بكر وحلف بالله إنه لصادق: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن النبي لا يورث وإنما ميراثه لفقراء المسلمين والمساكين وحدثني أبو بكر وحلف بالله إنه لصادق، قال: إن النبي لا يموت حتى يؤمه بعض أمته، وهذا ما كان في يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، قد رأينا كيف كان يصنع فيه فإن شئتما أعطيتكما لتعملا فيه بعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمل أبي بكر حتى أدفعه إليكما قال: فخلوا ثم جاءا فقال العباس: ادفعه إلى علي فإنه قد طبت نفسا به له. "حم".
14045 عاصم بن کلیب سے مروی ہے کہ مجھے بنی تیم قریش کے ایک شیخ نے بیان کیا، انھوں نے فلاں فلاں کرکے چھ یا سات قریشی شیوخ کے نام گنوائے جن میں عبداللہ بن زبیر (رض) بھی شامل تھے، فرمایا کہ ان سب حضرات نے مجھے یہ قصہ بیان کیا ہے : وہ فرماتے ہیں ہم حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر خدمت تھے کہ حضرت علی اور عباس (رض) تیز تیز بولتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ٹھہر جا اے عباس ! تم جو کہنا چاہتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے تم کہنا چاہتے ہو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی میرے گھر ہے اور نصف مال اسی کا ہے۔ یہ مال پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں میں تھا اور ہم نے اچھی طرح دیکھ لیا تھا کہ آپ اس مال کو کیسے صرف کرتے تھے۔ پھر ابوبکر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد والی بنے، انھوں نے بھی اس مال میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرز عمل کے مطابق عمل کیا۔ پھر ابوبکر (رض) کے بعد میں والی بنا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اس مال میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل اور ابوبکر (رض) کے عمل کے مطابق عمل کروں گا۔
پھر حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : مجھے ابوبکر (رض) نے بیان کیا اور انھوں نے قسم کھائی کہ وہ سچ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : نبی کسی اپنا وارث بنا کر نہیں جاتے، ان کی میراث تو فقراء اور مساکین مسلمانوں کے لیے ہوتی ہے۔ نیز مجھے ابوبکر (رض) نے بیان کیا اور انھوں نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ وہ سچ بیان کررہے ہیں کہ کوئی نبی اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کی امت میں سے کوئی اس کی امامت نہ کرلے۔ اور یہ مال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں میں ہوا کرتا تھا اور ہم نے اچھی طرح دیکھ لیا تھا کہ آپ اس میں کس طرح تصرف کرتے ہیں۔
پھر آپ (رض) نے حضرت علی وعباس (رض) کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :
اگر تم دونوں چاہتے ہو کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے تصرف کے مطابق تصرف کرتے رہو تو میں یہ مال تم کو سپرد کردیتا ہوں۔
راوی کہتے ہیں : چنانچہ یہ سن کر دونوں حضرت چلے گئے۔ پھر بعد میں دونوں آئے اور حضرت عباس (رض) نے فرمایا : یہ مال علی کو دے دو میرا دل اس سے خوش ہے۔ مسند احمد
14046
Kanz al-Ummal
14046- عن قيس بن أبي حازم قال: إني جالس عند أبي بكر الصديق بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم بشهر فذكر قصة فنودي في الناس أن الصلاة جامعة وهي أول صلاة في المسلمين نودي فيها أن الصلاة جامعة فاجتمع الناس فصعد المنبر شيئا صنع له كان يخطب عليه وهي أول خطبة خطبها في الإسلام قال فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: يا أيها الناس ولوددت أن هذا كفانيه غيري ولئن أخذتموني بسنة نبيكم صلى الله عليه وسلم ما أطيقها إن كان لمعصوما من الشيطان وإن كان لينزل عليه الوحي من السماء. "حم".
14046 قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے ایک مہینے بعد جکا ذکر ہے ، میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ آپ کو کوئی قصہ یاد آیا تو لوگوں میں منادی کرادی : الصلاۃ جامعہ خطبہ سننے کے لیے جمع ہوجاؤ۔
اور حضرت ابوبکر (رض) کا یہ پہلا خطبہ تھا جو انھوں نے مسلمانوں کے بیچ میں ارشاد فرمایا۔ جب لوگ جمع ہوگئے تو ایک منبر جو آپ کے لیے بنایا گیا تھا آپ (رض) اس پر کھڑے ہوئے اور پہلا خطبہ ارشاد فرمایا : پہلے خدا کی حمدوثناء بجا لائے پھر فرمایا :
اے لوگو ! میری تمنا ہے کہ اس خلافت پر میرے سوا کوئی اور متمکن ہوجاتا، کیونکہ تم مجھے بالکل نبی کے طریقے پر گامزن دیکھنا چاہو گے تو میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ وہ تو شیطان سے محفوظ تھے اور اس کے علاوہ وحی کے ساتھ بھی ان کی مدد کی جاتی تھی۔ مسند احمد
14047
Kanz al-Ummal
14047- عن قيس بن أبي حازم قال: دخل أبو بكر على امرأة من أحمس يقال لها: زينب فرآها لا تتكلم فقال: ما لها لا تتكلم؟ فقالوا: حجت مصمتة فقال لها: تكلمي فإن هذا لا يحل، هذا من عمل الجاهلية فتكلمت، قالت: ما بقاؤنا على هذا الأمر الصالح الذي جاء الله به بعد الجاهلية بعد النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: بقاؤكم عليه ما استقامت بكم أئمتكم، قالت: وما الأئمة؟ قال: أما كان لقومك رؤس وأشراف يأمرونهم ويطيعونهم؟ قالت: بلى، قال: فهم أمثال أولئك يكونون على الناس. "ش خ والدارمي ك ق".
14047 قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) قبیل احمس کی ایک عورت کے پاس تشریف لے گئے جس کا نام زینب تھا۔ آپ نے دیکھا کہ وہ بولتی نہیں ہے۔ آپ نے پوچھا : یہ بولتی کیوں نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اس نے (بغرض عبادت) نہ بولنے کا عزم کیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو فرمایا : بولو، ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ جاہلیت کا عمل ہے۔ چنانچہ وہ بولنے لگی۔ اس نے پوچھا : یہ دین جو جاہلیت کے بعد پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اب تک درست نہج پر ہے اس کی بقاء و دوام کا کیا راستہ ہے ؟ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : جب تک تمہارے (ائمہ) سیدھی راہ گامزن رہیں گے تم اس دین پر باقی رہو گے۔ اس نے پوچھا : ائمہ کون ہیں ؟ فرمایا : تمہاری قوم کے کچھ لوگ تم پر حکمرانی اور سرداری کرتے ہوں گے ؟ عرض کیا جی ہاں ۔ فرمایا : بس ائمہ (حکمران) انہی کے مثل ہوتے ہیں جو لوگوں پر امام ہوتے ہیں۔
مصنف ابن ابی شیبہ، البخاری، مسند الدارمی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی
14048
Kanz al-Ummal
14048- عن ابن أبي مليكة قال: قيل لأبي بكر: يا خليفة الله فقال: لست خليفة الله ولكني خليفة رسول الله، وأنا راض بذلك. "ش حم وابن سعد وابن منيع"
14048 ابن ابی ملیکہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کو کہا گیا : اے خلیفہ اللہ ! آپ (رض) نے فرمایا : میں خلیفۃ اللہ نہیں ہوں بلکہ خلیفۃ الرسول ہوں اور میں اس پر راضی ہوں۔
مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد، ابن سعد، ابن منیع
14049
Kanz al-Ummal
14049- عن خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، قال: حدثني أبي أن أعمامه خالدا وأبانا وعمرو بن سعيد بن العاص رجعوا عن أعمالهم حين بلغهم وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أبو بكر: ما أحد احق بالعمل من عمال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: لا نعمل لأحد فخرجوا إلى الشام فقتلوا عن آخرهم. "أبو نعيم كر".
14049 خالد بن سعید بن عمرو بن سعید بن العاص سے مروی ہے کہ مجھے میرے والد سعید نے بتایا کہ میرے چچاؤں خالد اور ابان اور (میرے والد) عمرو بن سعید بن العاص کو جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر پہنچی تو یہ اپنے اپنے منصوبوں کو چھوڑ کر واپس مدینہ حاضر ہوگئے حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقرر کردہ عاملوں (گورنروں) سے بڑھ کر کوئی ان کے منصوبوں کا حقدار نہیں ہے۔ لیکن انھوں نے کہا : ہم کسی اور کے واسطے منصب حکومت قبول نہیں کرسکتے، چنانچہ وہ شام چلے گئے اور سب کے سب شہادت کا جام نوش کر گئے۔
ابونعیم ، ابن عساکر