hadith book logo

Kanz al-Ummal

34. شکار کا بیان

كنز العمال

25803
Kanz al-Ummal
25803- "إذا رميت بالمعراض الصيد فخزق فكله، وإن أصابه بعرضه فلا تأكله فإنه وقيذ" "م ت هـ عن عدي بن حاتم".
25803 ۔۔۔ جب تم نے بغیر پر کے تیر سے شکار کیا اور تیر نے شکار کو زخمی کردیا تم اسے کھا سکتے ہو اگر تیر چوڑائی کے بل شکار کر لگا ہے (اور شکار مرگیا ہے) اسے مت کھاؤ چونکہ وہ موقوذ کے حکم میں ہے۔ (رواہ مسلم والترمذی وابن ماجہ عن عدی بن حاتم) ۔ فائدہ : ۔۔۔ موقوذ اس جانور کو کہتے ہیں جو غیر دھار دار چیز سے مارا جائے خواہ وہ لکڑی ہو یا پتھر اور پھر اس جانور کو ذبح نہ کیا جائے ۔
25804
Kanz al-Ummal
25804- "إذا رميت بسهمك وغاب ثلاثة أيام وأدركته فكله ما لم ينتن". "حم م 5 عن أبي ثعلبة".
25804 ۔۔۔ جب تم (اللہ کا نام لے کر کسی شکار پر) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ (شکار تیر کھا کر) تمہاری نظروں سے اوجھل ہوجائے اور پھر وہ تمہارے ہاتھ لگ جائے تم اسے کھا سکتے ہو جب تک اس میں بدبو نہ پیدا ہوجائے ۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم عن ابی ثعلبۃ)
25805
Kanz al-Ummal
25805- "إذا رميت الصيد فأدركته بعد ثلاث ليال وسهمك فيه فكله ما لم ينتن". "د عنه".
25805 ۔۔۔ جب تم نے شکار کو (اللہ کا نام لے کر) تیر مارا اور پھر تم نے اسے تین راتیں گزرنے کے بعد پایا دراں حالیکہ تمہارا تیر شکار میں پیوست تھا تو شکار کھا سکتے ہو جب تک اس میں بدبو نہ پیدا ہوجائے ۔ (رواہ ابو داؤد عن ابی ثعلبۃ)
25806
Kanz al-Ummal
25806- "أما ما ذكرت من آنية أهل الكتاب فإن وجدتم غيرها فلا تأكلوا فيها، وإن لم تجدوا غيرها فاغسلوها وكلوا فيها، وما صدت بقوسك وذكرت اسم الله عليه فكل، وما صدت بكلبك المعلم وذكرت اسم الله عليه فكل، وما صدت بكلبك غير المعلم فأدركت ذكاته فكل". "حم ق هـ عن أبي ثعلبة".
25806 ۔۔۔ جہاں تک تم نے اہل کتاب کے برتنوں کا ذکر کیا ہے سو اگر تمہیں ان برتنوں کے علاوہ اور برتن مل سکیں تو پھر ان کے برتنوں میں مت کھاؤ اور اگر دوسرے (متبادل) برتن نہ مل سکیں تو پھر اس کو اچھی طرح دھو کر ان میں کھالو اور رہی شکار کی بات تو جس جانور کو تم نے اپنے تیر سے شکار کیا ہے اور اللہ کا نام لیا ہے اسے کھالو اسی طرح جس جانور کو تم نے تربیت یافتہ کتے کے ذریعے شکار کیا ہے اور اللہ کا نام لیا ہے۔ (کتا چھوڑتے وقت) تو اس کو بھی کھالو، اور جو شکار تم نے غیر تربیت یافتہ کتے سے کیا پھر تم نے اسے اس حالت میں (زندہ) پایا کہ تم ہاتھ سے اسے ذبح کرلو تو وہ شکار کھا سکتے ہو ۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم وابن ماجہ عن ابی ثعلبۃ)
25807
Kanz al-Ummal
25807- "ما أصاب بحده فكله، وما أصاب بعرضه فقتل فإنه وقيذ فلا تأكله". "ق ت عن عدي بن حاتم".
25807 ۔۔۔ جس شکار کو تیر دھار کی جانب سے لگا ہے (کہ شکار زخمی ہوگیا ہے) اسے کھالو اور جس شکار کو تیر چوڑائی کے بل لگا ہے پھر شکار مرگیا تو وہ موقوذہ کے حکم میں ہے اسے مت کھاؤ ۔ (رواہ البخاری ومسلم والترمذعن عدی بن حاتم) ۔ فائدہ : ۔۔۔ موقوذہ وہ جانور ہوتا ہے جو مہک ضرب لگنے سے مرجائے اور پھر ذبح اختیار نہ ہو سکے وہ حرام ہے۔
25808
Kanz al-Ummal
25808- "ما أمسك عليك فكل". "ت عن عدي بن حاتم".
25808 ۔۔۔ (تربیت یافتہ کتا) جو شکار تمہارے پاس پکڑ کر لائے اسے کھالو ۔ (رواہ الترمذی عن عدی بن حاتم)
25809
Kanz al-Ummal
25809- "ما علمت من كلب أو باز ثم أرسلته وذكرت اسم الله فكل مما أمسك عليك". "د عن عدي بن حاتم".
25809 ۔۔۔ تمہارے پاس جو سدھایا ہوا کتا یا باز ہے پھر تم نے اسے شکار پر چھوڑ دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا ہے تو کتا یا باز جو شکار تمہارے پاس پکڑ لائے وہ کھالو ۔ (رواہ ابو داؤد عن عدی بن حاتم)
25810
Kanz al-Ummal
25810- "يا أبا ثعلبة كل ما ردت عليك قوسك وكلبك المعلم ويدك، كل ذكيا وغير ذكي". "د عن أبي ثعلبة".
25810 ۔۔۔ اے ابو ثعلبہ ! ہر وہ شکار جو تمہارے تیر کمان یا تربیت یافتہ کتے یا تمہارے ہاتھ سے تمہاری گرفت میں آجائے خواہ اسے ذبح کیا ہو یا نہ کیا ہو اسے کھالو ، (رواہ ابو داؤد عن ابی ثعلبۃ)
25811
Kanz al-Ummal
25811- "إذا أرسلت كلبك المعلم فقتل فكل، وإذا أكل فلا تأكل، فإنما أمسك على نفسه، وإن وجدت معه كلبا آخر فلا تأكل، فإنما سميت على كلبك ولم تسم على كلب آخر". "ق عن عدي بن حاتم".
25811 ۔۔۔ جب تم نے اپنا تربیت یافتہ کتا چھوڑا اس نے شکار کو مار دیا وہ شکار کھالو اور اگر کتا شکار میں سے کھالے اسے مت کھاؤ چونکہ (درحقیقت) کتے نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے اور اگر تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کے ساتھ دوسرا کتا پاؤ تب بھی شکار مت کھاؤ چونکہ اللہ کا نام لے کر تم نے اپنا کتا چھوڑا ہے دوسرے کے کتے پر اللہ کا نام نہیں لیا ۔ (رواہ البخاری ومسلم عن عدی بن حاتم)
25812
Kanz al-Ummal
25812- "إذا أرسلت كلابك المعلمة وذكرت اسم الله أما فكل مما أمسكن عليك، وإن قتلن إلا أن يأكل الكلب فإني أخاف أن يكون إنما أمسكه على نفسه، وإن خالطها كلاب من غيرها فلا تأكل فإنك لا تدري أيها قتل وإن رميت الصيد فوجدته بعد يوم أو يومين ليس به إلا أثر سهمك فكل، وإن وقع في الماء فلا تأكل"."ق عن عدي بن حاتم"
25812 ۔۔۔ جب تم شکار پر اپنے تربیت یافتہ کتے چھوڑو اور (چھوڑتے وقت ان پر) اللہ کا نام لے لو تو جو شکار کتے پکڑ کر لائیں وہ کھالو اگرچہ کتے شکار کو جان سے مار ہی کیوں نہ ڈالیں ہاں البتہ اگر کتے نے شکار میں سے کھالیا ہے تو مجھے خوف ہے کہ کتے نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے (اس صورت میں شکار نہ کھاؤ) اگر تمہارے کتوں کے ساتھ اور کتے بھی مل گئے ہیں تب بھی شکار نہ کھاؤ چونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس کتے نے شکار مارا ہے اگر تم نے شکار کو تیر مارا اور پھر شکار ایک یا دو دونوں کے بعد تمہارے ہاتھ لگے اور اس پر تمہارے تیر کے علاوہ کوئی نشان نہ ہو تم وہ شکار کھا سکتے ہو اگر شکار (تیر لگنے) کے بعد پانی میں جا پڑے اسے مت کھاؤ ۔ (رواہ البخاری ومسلم عن عدی بن حاتم)