Kanz al-Ummal
14. دنیا کی تخلیق کا بیان
كنز العمال
15115
Kanz al-Ummal15115- "إن أول شيء خلقه الله القلم، فأمره فكتب - كل شيء يكون". "حل هق عن ابن عباس".
15115 سب سے پہلی چیز جو اللہ نے پیدا کی وہ قلم ہے اللہ نے قلم کو حکم دیا لکھ، لہٰذا اس نے ہر چیز جو وقوع پزیر ہوگی لکھ ڈالی۔ حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی عن ابن عباس (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے المعلۃ 171 ۔
کلام : روایت ضعیف ہے المعلۃ 171 ۔
15116
Kanz al-Ummal15116- "إن أول ما خلق الله القلم فقال له: اكتب، قال: يا رب وماذا أكتب؟ قال: اكتب مقادير كل شيء حتى تقوم الساعة، يا بني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من مات على غير هذا فليس مني [خلق] ". "د عن عبادة الصامت"
15116 سب سے پہلی چیز جو اللہ نے پیدا فرمائی قلم ہے، اللہ نے اس کو فرمایا : لکھ۔ اس نے عرض کیا : اے پروردگار میں کیا لکھوں ؟ ارشاد فرمایا : ہر چیز کا حساب اور مقدار لکھ دے جب تک کہ قیامت قائم ہو۔ اے بیٹے ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو اس (عقیدہ) کے علاوہ (کسی عقیدے) پر مرا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ ابوداؤد عن عبادۃ بن الصامت
15117
Kanz al-Ummal15117- "إنَّ أوَّل ما خلق الله القلم فقال له: اكتب، قال: ما أكتب؟ فقال: اكتب القدر ما كان وما هو كائن إلى الأبد".
15117 سب سے پہلے اللہ نے جس چیز کو پیدا فرمایا وہ قلم ہے۔ اللہ نے اس کو فرمایا : لکھ قلم نے دریافت کیا : کیا لکھوں ؟ ارشاد خداوندی ہوا تقدیر لکھ ہر چیز کی جو ہو چلی اور جو ہونے والی ہے ابد تک۔ الترمذی عن عبادۃ بن الصامت
15118
Kanz al-Ummal15118- "لما خلق الله القلم قال له: اكتب فجرى بما هو كائن إلى قيام الساعة". "طب عن ابن عباس".
15118 جب اللہ پاک نے قلم کو پیدا فرمایا اس کو ارشاد فرمایا : لکھ جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے، قلم نے سب لکھ دیا۔ الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)
15119
Kanz al-Ummal15119- "كل شيء خلق من ماء". "ك عن أبي هريرة"
15119 ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے۔ مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے ، ضعیف الجامع 4262، امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں یہ خبر منکر ہے۔
کلام : روایت ضعیف ہے ، ضعیف الجامع 4262، امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں یہ خبر منکر ہے۔
15120
Kanz al-Ummal15120- "خلق الله عز وجل أول الأيام يوم الأحد وخلقت الأرض في يوم الأحد ويوم الأثنين وخلقت الجبال وشقت الأنهار وغرس في الأرض الثمار وقدر في كل أرض قوتها يوم الثلاثاء ويوم الأربعاء {ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ. فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا} في يوم الخميس ويوم الجمعة وكان آخر الخلق في آخر الساعات يوم الجمعة فلما كان يوم السبت لم يكن فيه خلق". "ك عن ابن عباس"
15120 اللہ عزوجل نے دنوں میں سب سے پہلے اتوار کا دن پیدا فرمایا، زمین اتوار اور پیر کے دن پیدا ہوئی تھی۔ پہاڑوں کی پیدائش ، نہروں کا شق ہونا، زمین، درختوں، پھلوں کا اگنا اور ہر زمین کی قوت ونشوونما منگل اور بدھ کے روز ہوئی تھی۔
ثم استوی الی السماء وھی دخان فقال لھا وللارض انتیا طوعا اوکرھا قالتا اتینا طائعین۔ فقضاھن سبع سموات فی یومین واوحی فی کل سماء امرھا، حم السجدہ 11
پھر وہ (اللہ) آسمان کی طرف متوجہ ہو اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا : دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے انھوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا۔
یہ دو دن جمعرات اور جمعے کے دن تھے آخر تخلیقات جمعہ کے دن آخری گھڑیوں میں ہوئی تھیں۔ لیکن جب ہفتہ کا دن ہوا تو اس میں کوئی تخلیق نہ ہوئی۔ مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض)
ثم استوی الی السماء وھی دخان فقال لھا وللارض انتیا طوعا اوکرھا قالتا اتینا طائعین۔ فقضاھن سبع سموات فی یومین واوحی فی کل سماء امرھا، حم السجدہ 11
پھر وہ (اللہ) آسمان کی طرف متوجہ ہو اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا : دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے انھوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا۔
یہ دو دن جمعرات اور جمعے کے دن تھے آخر تخلیقات جمعہ کے دن آخری گھڑیوں میں ہوئی تھیں۔ لیکن جب ہفتہ کا دن ہوا تو اس میں کوئی تخلیق نہ ہوئی۔ مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض)
15121
Kanz al-Ummal15121- "خلق الله عز وجل الأرض يوم الأحد والأثنين، وخلق الجبال يوم الثلاثاء وما فيهن من منافع، وخلق يوم الأربعاء الشجر والماء والمدائن والعمران والخراب، وخلق يوم الخميس السماء، وخلق يوم الجمعة النجوم والشمس والقمر والملائكة إلى ثلاث ساعات بقين منه، فخلق الله في أول ساعة من هذه الثلاث الساعات الآجال حين يموت من مات، وفي الثانية ألقى الله الإلفة على كل شيء مما ينتفع به الناس، وفي الثالثة آدم وأسكنه الجنة وأمر إبليس بالسجود له وأخرجه منها في آخر ساعة". "ك عن ابن عباس"
15121 اللہ عزوجل نے زمین کو اتوار اور پیر کے روز پیدا فرمایا پہاڑوں کو ان کے منافع سمیت منگل کے روز پیدا فرمایا، شجر (درخت) ، پانی، شہر ، آبادیاں، ویرانے بدھ کے روز پیدافرمائے، جمعرات کے دن آسمان کو پیدا فرمایا، جمعہ کے دن ستارے ، شمس وقمر اور ملائکہ کو جمعہ کی آخری تین گھڑیوں میں پیدا فرمایا۔ ان تین گھڑیوں میں شروع کی گھڑی میں آجال (عمروں) کو پیدا فرمایا کہ کون کب مرے گا۔ دوسری گھڑی میں اللہ پاک نے ہر چیز کو الفت عطا فرمائی جس سے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں اور آخری گھڑی میں آدم کو پیدا فرمایا، اس کو جنت میں سکونت بخشی ابلیس کو آدم کے لیے سجدہ کا حکم دیا اور بالکل آخری گھڑی میں آدمی کو جنت سے نکالا۔
مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض)
کلام : امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں اس میں ایک راوی ابوسعید البقال ہے جس کے متعلق امام ابن معین (رح) فرماتے ہیں اس کی حدیث لکھنے کے قابل نہیں۔ المستدرک 543-2
مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض)
کلام : امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں اس میں ایک راوی ابوسعید البقال ہے جس کے متعلق امام ابن معین (رح) فرماتے ہیں اس کی حدیث لکھنے کے قابل نہیں۔ المستدرک 543-2
15122
Kanz al-Ummal15122- "لما خلق الله آدم مسح ظهره فسقط من ظهره كل نسمة هو خالقها إلى يوم القيامة، ثم جعل بين عيني كل إنسان منهم وبيصا من نور، ثم عرضهم على آدم فقال: أي رب من هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذريتك فرأى رجلا منهم أعجبه نور ما بين عينيه فقال: أي رب من هذا؟ قال: هذا رجل من ذريتك في آخر الأمم يقال له داود فقال: أي رب كم عمره قال: ستون سنة قال: فزده من عمري أربعين سنة قال: إذن يكتب ويختم ولا يبدل، فلما انقضى عمر آدم جاءه ملك الموت قال: أو لم يبق من عمري أربعون سنة؟ قال: أو لم تعطها ابنك داود، فجحد فجحدت ذريته، ونسي آدم فنسيت ذريته، وخطيء آدم فخطئت ذريته". "ت ك عن أبي هريرة"
15122 جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا جس سے ان کی پشت سے ہر جان باہر نکل آئی جس کو قیامت تک پیدا ہونا تھا، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی پیشانی پر نور کی چمک پیدا فرمائی۔ پھر اللہ پاک نے ان کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا، حضرت آدمی (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! یہ کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا : یہ تیری اولاد ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان کے درمیان ایک دوسروں کی نسبت زیادہ حمکدار پیشانی والا شخص دیکھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! یہ کون ہے ؟ ارشاد فرمایا : آخری امتوں میں آپ کی اولاد میں سے ایک نبی ہے جس کا نام داؤد ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! اس کی کتنی عمر ہے ؟ ارشاد فرمایا : ساٹھ سال عرض کیا : اس کو میری عمر میں چالیس سال زیادہ کردے۔ پروردگار نے ارشاد فرمایا : تب اس بات کو لکھ لیا جائے اس پر مہر لگا دی جائے اور اس میں کوئی تغیر وتبدل نہ کیا جائے۔ چنانچہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر پوری ہوئی ان کے پاس موت کا فرشتہ آیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا : کیا میری عمر میں ابھی چالیس سال باقی نہیں ہیں ؟ فرشتہ نے عرض کیا : کیا آپ نے وہ سال اپنے بیٹے داؤد کو نہیں دے دیئے تھے ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کردیا۔ اسی وجہ سے ان کی اولاد بھی مکر جاتی ہے آدم (علیہ السلام) بھول گئے اور ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے آدم (علیہ السلام) سے خطاء سرزد ہوگئی اسی وجہ سے ان کی اولاد سے بھی خطاء ہوتی رہتی ہے۔ الترمذی، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
15123
Kanz al-Ummal15123- "لما خلق الله آدم ونفخ فيه الروح عطس فقال: الحمد لله فحمد الله بأذنه، فقال له ربه: يرحمك الله يا آدم اذهب إلى أولئك الملائكة إلى ملأ منهم جلوس، فقل السلام عليكم، فقال السلام عليكم قالوا: وعليك السلام ورحمة الله، ثم رجع إلى ربه، فقال: إن هذه تحيتك وتحية بنيك بينهم، قال الله له ويداه مقبوضتان: اختر أيتهما شئت، قال: اخترت يمين ربي وكلتا يدي يمين مباركة، ثم بسطها فإذا فيها آدم وذريته، فقال: أي رب من هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذريتك فإذا كل إنسان مكتوب عمره بين عينيه فإذا فيهم رجل أضوؤهم أو من أضوئهم، قال: يا رب من هذا؟ قال: هذا ابنك داود وقد كتبت له عمره أربعين سنة، قال: يا رب زده في عمره، قال: فذاك الذي كتبت له، قال: أي رب فإني قد جعلت له من عمري ستين سنة، قال: أنت وذاك. قال: ثم سكن الجنة ما شاء الله ثم أهبط منها، فكان آدم يعد لنفسه فأتاه ملك الموت، فقال له آدم: قد تعجلت، قد كتب لي ألف سنة، قال: بلى ولكنك قد جعلت لابنك داود ستين سنة، فجحد فجحدت ذريته ونسي فنسيت ذريته، قال: فمن يومئذ أمر بالكتاب والشهود". "ت ك عن أبي هريرة"
15123 جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو ان کو چھینک آئی حضرت آدم (علیہ السلام) نے الحمد للہ کہا اور یہ الحمد انھوں نے اللہ کے حکم سے کی۔ پھر پروردگار نے ان کو فرمایا : یرحمک اللہ یا آدم اے آدم ! تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، جا ان ملائکہ کے پاس ان کی جو جماعت بیٹھی ہے ان کو جاکر کہہ : السلام علیکم ۔ آدم (علیہ السلام) نے جاکر ان کو السلام علیکم کہا۔ فرشتوں نے جواب میں فرمایا : وعلیک السلام ورحمۃ اللہ۔ پھر آدم (علیہ السلام) لوٹ کر اپنے رب کے پاس آگئے پروردگار نے ارشاد فرمایا : یہ تیرا اور تیری اولاد کا تحیہ (ملتے وقت کی مبارک باد) ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کرکے پوچھا : ان میں سے جو چاہو پسند کرلو۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : میں اپنے رب کا دایاں ہاتھ لیتا ہوں اور میرے رب کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں بابرکت ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ پھیلایا اس میں آدم اور ان کی اولاد تھی۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے پوچھا : اے پروردگار ! یہ کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا : تیری اولاد ہیں۔ اس وقت ہر انسان کی عمر اس کی پیشانی پر لکھی ہوئی تھی ان میں ایک آدمی دوسروں کی بنسبت زیادہ روشن اور چمکدار تھا۔ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! یہ کون ہے ؟ ارشاد فرمایا : یہ تیرا بیٹا داؤد ہے اور میں نے اس کی عمر چالیس سال لکھی ہے، عرض کیا : اے پروردگار ! اسی کی عمر زیادہ کر دیجئے۔ ارشاد فرمایا : یہ عمر تو میں نے لکھ دی ہے۔ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! میں اپنی عمر میں سے ساٹھ سال اس کو دیتا ہوں۔ پروردگار نے ارشاد فرمایا : تو (جان) اور یہ پھر آدم (علیہ السلام) جنت میں رہے جب تک اللہ نے چاہا پھر وہاں سے اتارے گئے۔ آدم (علیہ السلام) دنیا میں اپنی زندگی کے ایام شمار کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے پاس موت کا فرشتہ آگیا۔ آدم (علیہ السلام) نے فرمایا : تم نے جلدی کی میری عمر تو ہزار سال لکھی گئی تھی۔ فرشتے نے عرض کیا : ہاں لیکن آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو ساٹھ سال دے دیئے تھے۔
پس انھوں نے انکار کیا تو ان کی اولاد نے بھی انکار کیا۔ وہ بھول گئے ان کی اولاد بھی بھول گئی فرمایا : اس دن لکھنے اور گواہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ الترمذی ، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
پس انھوں نے انکار کیا تو ان کی اولاد نے بھی انکار کیا۔ وہ بھول گئے ان کی اولاد بھی بھول گئی فرمایا : اس دن لکھنے اور گواہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ الترمذی ، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
15124
Kanz al-Ummal15124- "إن الله أخذ الميثاق من ظهر آدم بنعمان يوم عرفة وأخرج من صلبه كل ذرية ذرأها فنثرهم بين يديه كالذر، ثم كلمهم قبلا قال: {أ َلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى} ". "حم ن ك هق في الأسماء عن ابن عباس".
15124 اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت (سے نکلنے والی اولاد) سے عہد لیا وادی نعمان میں عرفہ کے روز اور ان کی پشت سے تمام اولاد نکالی اور ان کو اپنے سامنے پھیلا دیا چیونیوں کی طرح۔ پھر ان سے روبرو پوچھا :
الست بربکم قالوا بلی۔
کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں اولاد نے عرض کیا، کیوں نہیں۔
مسند احمد، النسائی، مستدرک الحاکم، البیہقی فی الاسماء عن ابن عباس (رض)
الست بربکم قالوا بلی۔
کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں اولاد نے عرض کیا، کیوں نہیں۔
مسند احمد، النسائی، مستدرک الحاکم، البیہقی فی الاسماء عن ابن عباس (رض)