Kanz al-Ummal
27. گواہیوں کا بیان
كنز العمال
17730
Kanz al-Ummal17730- "ألا أخبركم بخير الشهداء؟ الذي يأتي بشهادته قبل أن يسألها". "مالك حم م د ت عن زيد بن خالد الجهني".
17730 ۔۔۔ اے (لوگو ! ) کیا میں تم کو اچھے گواہ کی خبر نہ بتاؤں ؟ وہ شخص جو اپنی شہادت خود پیش کر دے قبل اس سے کہ اس سے شہادت کا مطالبہ کیا جائے ۔ (مؤطا امام مالک (رح) ، مسند احمد ، ابو داؤد مسلم ، ترمذی ، عن زید بن خالد الجھنی)
17731
Kanz al-Ummal17731- "خير الشهادة ما يشهد بها صاحبها قبل أن يسألها". "طب عن زيد بن خالد الجهني".
17731 ۔۔۔ بہترین شہادت وہ ہے جس کا مطالبہ کیا جانے سے قبل وہ شہادت (گواہی) پیش کردی جائے (الکبیر للطبرانی عن زید بن خالد الجھنی)
17732
Kanz al-Ummal17732- "خير الشهود من أدى شهادته قبل أن يسألها". "هـ عن زيد بن خالد"
17732 ۔۔۔ سب سے اچھا شاہد (گواہ) وہ شخص ہے جو اپنی شہادت خود پیش کر دے قبل اس سے کہ اس سے اس کا مطالبہ کیا جائے (ابن ماجہ عن زید بن خالد)
17733
Kanz al-Ummal17733- " أكرموا الشهود فإن الله تعالى يستخرج بهم الحقوق ويدفع بهم الظلم". "البانياسي في جزئه3 خط وابن عساكر عن ابن عباس".
17733 ۔۔۔ گواہوں کا اکرام کرو ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے ذریعے (اہل حقوق کے) حقوق ادا کرواتے ہیں اور ان کے طفیل ظلم کو دفع کرتے ہیں۔ (البانیاسی فی جزنہ ، الخطیب فی التاریخ ، ابن عساکر عن ابن عباس (رض))
کلام : ۔۔۔ علامہ مناوی (رح) فیض القدیر میں فرماتے ہیں اس روایت میں عبداللہ بن موسیٰ متفرد ہیں ، اور ان کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (فیض القدیر 3 ۔ 94)
کلام : ۔۔۔ علامہ مناوی (رح) فیض القدیر میں فرماتے ہیں اس روایت میں عبداللہ بن موسیٰ متفرد ہیں ، اور ان کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (فیض القدیر 3 ۔ 94)
17734
Kanz al-Ummal17734- "إني لا أشهد على جور". "ق ن عن النعمان بن بشير".
17734 ۔۔۔ میں ظلم پر شاہد نہیں بن سکتا ۔ (بخاری ۔ مسلم ، نسائی ، عن النعمان (رض) بن بشیر)
فائدہ : ۔۔۔ ایک صحابی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری بیوی کی خواہش ہے کہ میں اس کی اولاد کو باغ ہبہ کروں اور آپ اس پر گواہ بن جائیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے دریافت فرمایا کیا تم اپنی دوسری اولاد کو (جو دوسری بیوی سے ہے) کو بھی اس کے برابر وصیت کرنا چاہتے ہو ؟ صحابی (رض) نے عرض کیا : نہیں ، یارسول اللہ ! تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا ۔
فائدہ : ۔۔۔ ایک صحابی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری بیوی کی خواہش ہے کہ میں اس کی اولاد کو باغ ہبہ کروں اور آپ اس پر گواہ بن جائیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے دریافت فرمایا کیا تم اپنی دوسری اولاد کو (جو دوسری بیوی سے ہے) کو بھی اس کے برابر وصیت کرنا چاہتے ہو ؟ صحابی (رض) نے عرض کیا : نہیں ، یارسول اللہ ! تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا ۔
17735
Kanz al-Ummal17735- "إني عدل لا أشهد إلا على عدل". "ابن قانع عنه عن أبيه".
17735 ۔۔۔ میں انصاف پسند ہوں (اور) انصاف پر ہی گواہ بننا پسند کرتا ہوں ۔ ابن قانع عنہ عن ابیہ۔
17736
Kanz al-Ummal17736- "لا تشهدني على جور". "حب عن النعمان بن بشير".
17736 ۔۔۔ مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ ۔ (ابن حبان عن النعمال بن بشیر (رض))
17737
Kanz al-Ummal17737- "لا تشهدني إلا على عدل فإني لا أشهد على جور". "حب عنه".
17737 ۔۔۔ مجھے صرف انصاف (کی بات) پر گواہ بناؤ ۔ میں ظلم (کی بات) پر گواہ نہیں بن سکتا ۔ ابن حبان۔
17738
Kanz al-Ummal17738- "شاهد الزور لا تزول قدماه حتى يوجب الله له النار". "حل كر عن ابن عمر".
17738 ۔۔۔ جھوٹے گواہ کے قدم (قیامت کے روز) ہل نہ سکیں گے حتی کہ اللہ پاک اس کے لیے جہنم واجب کردیں ۔ (حلیۃ الاولیاء ، ابن عساکر عن ابن عمر (رض))
17739
Kanz al-Ummal17739- "شاهد الزور مع العشار في النار". "فر عن المغيرة".
17739 ۔۔۔ جھوٹا شاہدٹیکس وصول کرنے والے کے ساتھ جہنم میں جائے گا اللہ تباوک وتعالیٰ (مسند الفردوس للدیلمی عن المغیرہ)