Kanz al-Ummal
11. پرورش کا بیان
كنز العمال
14007
Kanz al-Ummal14007- ادفعوها إلى خالتها فإن الخالة أم. "ك عن علي".
14007 اس (بچی ) کو اس کی خالہ کے سپرد کرو۔ بیشک خالہ بھی ماں کی جگہ ہے۔
مستدرک الحاکم عن علی (رض)
مستدرک الحاکم عن علی (رض)
14008
Kanz al-Ummal14008- الخالة بمنزلة الأم. "ق ت عن البراء" "د عن علي"
14008 خالہ ماں کی جگہ ہے۔ السنن للبیہقی، الترمذی عن البراء ابوداؤد عن علی (رض)
کلام : الاتقان 689 ۔
کلام : الاتقان 689 ۔
14009
Kanz al-Ummal14009- يا غلام هذا أبوك، وهذه أمك، فخذ بيد أيهما شئت. "ن هـ ك عن أبي هريرة".
14009 اے لڑکے : یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں۔ اب جس کا چاہے تو ہاتھ تھام لے۔
النسائی، ابن ماجہ، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
النسائی، ابن ماجہ، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
14010
Kanz al-Ummal14010- ادفعوها إلى خالتها، إن الخالة أم. "ك عن علي".
14010 اس کو اس کی خالہ کے سپرد کردو بیشک خالہ ماں ہے۔ مستدرک الحاکم عن علی (رض)
14011
Kanz al-Ummal14011- المرأة أحق بولدها ما لم تزوج. "قط عن ابن عمرو".
14011 عورت اپنے بچے کی زیادہ حقدار ہے جب تک وہ (دوسری) شادی نہ کرے۔
الدار قطنی فی السنن عن ابن عمرو
الدار قطنی فی السنن عن ابن عمرو
14020
Kanz al-Ummal14020- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن عكرمة قال: خاصمت امرأة عمر عمر إلى أبي بكر وكان طلقها فقال أبو بكر: هي أعطف وألطف وأرحم وأحن وأرأف، وهي أحق بولدها ما لم تتزوج أو يكبر فيختار لنفسه. "عب".
14020 (مسند صدیق (رض)) عکرمہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کی بیوی نے (اپنے سابق شوہر) عمر کی حضرت ابوبکرصدیق (رض) کی بارگاہ خلافت میں شکایت کی (حضرت عمر (رض)) اپنی اس بیوی کو طلاق دے چکے تھے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے عمر کو فرمایا : یہ (عورت) زیادہ نرم، مہربان، شفیق اور محبت گسار ہے اور یہ اپنی اولاد کی زیادہ حقدار ہے جب تک شادی نہ کرے یا وہ بچہ بڑا نہ ہوجائے پھر وہ خود اپنے لیے تم میں سے کسی ایک کو پسند کرے گا۔ مصنف عبدالرزاق
14021
Kanz al-Ummal14021- عن ابن عباس قال: طلق عمر بن الخطاب امرأته الأنصارية أم ابنه عاصم فلقيها تحمله وقد فطم ومشى، فأخذ بيده لينزعه منها، وقال: أنا أحق بابني منك، فاختصما إلى أبي بكر فقضى لها به، وقال: ريحها وحرها وفراشها خير له منك حتى يشب ويختار لنفسه. "عب".
14021 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے بیٹے عاصم کی ماں اپنی انصاری بیوی کو طلاق دیدی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ان سے ملاقات کی تو وہ اپنے بیٹے کو اٹھائے ہوئے تھیں اور بیٹے کا دودھ چھڑا چکی تھیں اور وہ چلنے پھرنے بھی لگا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے بچہ کو ماں سے چھیننا چاہا اور بولے : میں اپنے بیٹے کا زیادہ حقدار ہوں۔ آخر دونوں اپنا فیصلہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس لے گئے۔ حضرت ابوبکر (رض) بچے کا فیصلہ ماں کے حق میں کردیا اور فرمایا : ماں کی خوشبو، اس کی گرمی اور اس کا بستر بچے کے لیے تم سے زیادہ بہتر ہے۔ جب تک کہ وہ جوان نہ ہوجائے اور اپنے لیے تم میں سے کسی کو پسند نہ کرلے۔ الجامع لعبد الرزاق
14022
Kanz al-Ummal14022- عن القاسم بن محمد قال: بصر عمر عاصما ابنه مع جدته أم أمه فكأنه جاذبها إياه فلما رآه أبو بكر مقبلا قال أبو بكر: مه مه هي أحق به، فما راجعه عمر الكلام. "مالك عب وابن سعد ش ق".
14022 قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے بیٹے عاصم کو اس کی نانی کے ساتھ دیکھا (حضرت عمر (رض)) اس کو چھیننے کے لیے لپکے تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو ایسا کرتے دیکھ لیا اور فرمایا : رک جاؤ، رک جاؤ، یہ تم سے زیادہ اس کی حقدار ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) (پیچھے ہٹ گئے اور انہوں) نے پلٹ کر کوئی جواب نہ دیا۔
موطا امام مالک، مصنف عبدالرزاق، ابن سعد، مصنف ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
موطا امام مالک، مصنف عبدالرزاق، ابن سعد، مصنف ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
14023
Kanz al-Ummal14023- عن زيد بن إسحاق عن حارثة الأنصاري أن عمر بن الخطاب خاصم إلى أبي بكر في ابنه فقضى به أبو بكر لأمه ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا توله والدة عن ولدها. "ق".
14023 زیدبن اسحاق سے مروی ہے، وہ حارثہ الانصاری سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے بیٹے عاصم کا قضیہ حضرت ابوبکر (رض) کے سامنے پیش کیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے بیٹے کا فیصلہ اس کی ماں کے حق میں دیدیا اور پھر ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : کوئی عورت اپنی اولاد سے جدائی (کے غم) میں ن ڈالی جائے۔
السنن للبیہقی
السنن للبیہقی
14024
Kanz al-Ummal14024- عن أبي الزناد عن الفقهاء الذين ينتهى إلى قولهم من أهل المدينة أنهم كانوا يقولون: قضى أبو بكر الصديق على عمر بن الخطاب لجدة ابنه عاصم بحضانته، وأم عاصم يومئذ حية متزوجة. "ق".
14024 ابوال زنا سے مروی ہے اور وہ ان فقہاء سے روایت کرتے ہیں جو اہل مدینہ کے لیے حرف آخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ فقہا کرام فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عمر بن خطاب کے بیٹے عاصم کی پرورش کے مسئلہ میں بچے کے باپ کے بجائے بچے کی نانی کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ اس وقت بچے کی ماں زندہ تھیں لیکن وہ (دوسری) شادی شدہ تھیں۔ السنن للبیہقی