Kanz al-Ummal
10. حدود کا بیان
كنز العمال
12951
Kanz al-Ummal12951- أقيموا حدود الله في القريب والبعيد، ولا تأخذكم في الله لومة لائم. "هـ عن عبادة بن الصامت".
12951 رشتے دار اور غیر رشتہ دار (ہر ایک میں) اللہ کی حدود کا نفاذ کرو۔ اور اللہ کے (حکم کو نافذ کرنے کے) بارے میں کسی کو ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ ہونی چاہیے۔
ابن ماجہ عن عبادۃ بن الصامت
ابن ماجہ عن عبادۃ بن الصامت
12952
Kanz al-Ummal12952- إنما هلك الذين من قبلكم أنهم إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد. "حم ق عن عائشة"
12952 تم سے پہلے لوگ اس لیے قہر ہلاکت میں پڑے کیونکہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی غریب آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کردیتے۔ مسند احمد ، البخاری ، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی، ابن ماجہ عن عائشہ (رض)
12953
Kanz al-Ummal12953- أقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم. "هق عن علي".
12953 اپنے مملوکوں پر بھی حدود جاری کرو۔ السنن للبیہقی عن علی (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے : حسن الاثر 454، ضعیف الجامع 184 ۔
کلام : روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے : حسن الاثر 454، ضعیف الجامع 184 ۔
12954
Kanz al-Ummal12954- الصبي إذا بلغ خمسة عشر أقيمت عليه الحدود. "هق في الخلافيات عن أنس".
12954 بچہ جب پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اس پر حدود جاری کرو۔
السنن للبیہقی فی الخلاقیات عن انس (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 3538 ۔
السنن للبیہقی فی الخلاقیات عن انس (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 3538 ۔
12955
Kanz al-Ummal12955- لا يجلد فوق عشرة أسواط إلا في حد من حدود الله. "حم ق عن أبي بردة بن نيار الأنصاري".
12955 دس سے زائد کوڑے صرف حدود اللہ میں سے کسی حد میں ہی مارے جاسکتے ہیں۔
مسند احمد ، البخاری مسلم عن ابی بردۃ بن نیار الانصاری
مسند احمد ، البخاری مسلم عن ابی بردۃ بن نیار الانصاری
12956
Kanz al-Ummal12956- لا عقوبة فوق عشر ضربات إلا في حد من حدود الله. "خ عن رجل"
12956 دس ضربوں سے زیادہ سزا صرف حدود الل میں سے کسی حد میں جاری کی جاسکتی ہے۔
البخاری عن رجل
البخاری عن رجل
12957
Kanz al-Ummal12957- ادرؤا الحدود بالشبهات. "أبو مسلم الكجي عن عمر بن عبد العزيز" مرسلا
12957 شبہات کی وجہ سے حدود ساقط کردو۔ ابومسلم الکجی عن عمر بن عبدالعزیز، مرسلاً
کلام : یہ ایک لمبی روایت کا حصہ ہے اور یہ روایت ضعیف ہے۔ اسنی المطالب 87، التمییز 12 ۔ نیز حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی سند میں غیر معروف راوی ہے دیکھئے : کشف الخفاء 166 ۔
کلام : یہ ایک لمبی روایت کا حصہ ہے اور یہ روایت ضعیف ہے۔ اسنی المطالب 87، التمییز 12 ۔ نیز حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی سند میں غیر معروف راوی ہے دیکھئے : کشف الخفاء 166 ۔
12958
Kanz al-Ummal12958- خذوا له عثكالا3 فيه مائة شمراخ فاضربوه ضربة واحدة وخذوا سبيله. "حم طب عن سعيد بن سعد بن عبادة".
12958 اس کو مارنے کے لیے کھجور کا سوتنکوں والا گچھا اٹھاؤ اور ایک دفعہ اس کے ساتھ اس کو مار کر اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ مسند احمد ، الکبیر للطبرانی عن سعید بن سعد بن عبادۃ
12959
Kanz al-Ummal12959- إذا غشى الرجل جارية امرأته، فإن استكرهها فهي حرة ولها عليه مثلها، وإن طاوعته فهي أمة ولها عليه مثلها. "حم سمويه عن ميمونة عن سلمة بن المحبق".
12959 آدمی جب اپنی بیوی کی باندی کے ساتھ جماع کر بیٹھے، اگر آدمی نے اس کے ساتھ زبردستی کی ہو تو وہ باندی آزاد ہوجائے گی اور آدمی پر باندی کی قیمت اپنی بیوی کو ادا کرنا واجب ہوگی۔ اور اگر باندی نے بخوشی آمادگی ظاہر کی ہو تو وہ آدمی کی مملوکہ باندی بن جائے گی اور تب بھی اس باندی کی قیمت اپنی بیوی کو ادا کرنا واجب الذمہ ہوگی۔
مسند احمد، سمویہ عن میمونۃ عن مسلمۃ بن المحیق
مسند احمد، سمویہ عن میمونۃ عن مسلمۃ بن المحیق
12960
Kanz al-Ummal12960- وما يمنعني لا تكونوا أعوانا للشيطان على أخيكم؛ إنه لا ينبغي للإمام إذا انتهى إليه حد إلا أن يقيمه، إن الله عفو يحب العفو، وليعفوا وليصفحوا، ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم. "عبد الرزاق حم وابن أبي الدنيا في ذم الغضب طب والخرائطي في مكارم الأخلاق ك ق عن ابن مسعود"
12960 مجھے (حد جاری کرنے میں) کیا مانع ہوتا ۔ تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مددگار نہ بنو۔ کسی امام (حاکم) کے لیے جائز نہیں ہے کہ جب اس کے پاس حد کا کوئی کیس آئے تو اس کو جاری نہ کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس لوگوں کو بھی معاف اور درگزر سے کام لینا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ پاک تمہاری مغفرت کرے۔ بیشک اللہ مغفرت کرنے والا مہربان ہے۔
عبدالرزاق ، مسند احمد، ابن ابی الدنیا فی ذم الفضب، الکبیر للطبرانی، الخرائطی فی مکارم الاخلاق، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی عن ابن مسعود (رض) ، قال الحاکم صحیح الاسناد۔
عبدالرزاق ، مسند احمد، ابن ابی الدنیا فی ذم الفضب، الکبیر للطبرانی، الخرائطی فی مکارم الاخلاق، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی عن ابن مسعود (رض) ، قال الحاکم صحیح الاسناد۔