hadith book logo

Kanz al-Ummal

45. غزوات کا بیان

كنز العمال

29867
Kanz al-Ummal
29867- "ما أنتم بأسمع لما أقول منهم غير أنهم لا يستطيعون أن يردوا علي شيئا". "حم، ق، ن" عن أنس "
29867 ۔۔۔ میری بات کو تم ان لوگوں سے زیادہ نہیں سننے والے ہاں البتہ اتنی بات ہے کہ یہ میری بات کا جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم والنسائی عن انس (رض))
29868
Kanz al-Ummal
29868- "من لكعب بن الأشرف فإنه قد آذى الله ورسوله". "خ" عن جابر
29868 ۔۔۔ کون کعب بن اشرف کی خبر لے گا چونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے۔ (رواہ البخاری عن جابر)
29869
Kanz al-Ummal
29869- "إني لست بأغنى من الأجر منكما ولا أنتما بأقوى على المشي مني". "ك" عن ابن مسعود.
29869 ۔۔۔ میں تم سے زیادہ اجر وثواب کا محتاج ہوں اور تم مجھ سے زیادہ چلنے کی قوت نہیں رکھتے ۔ (رواہ الحاکم عن ابن مسعود (رض))
29870
Kanz al-Ummal
29870- "ما على وجه الأرض قوم يعرفون الله غيركم، فأين الزاهدون في الدنيا الراغبون في الآخرة؟ ". ابن عساكر - عن ابن مسعود قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر من قبة حمراء فقال - فذكره.
29870 ۔۔۔ سطح زمین پر تمہارے سوا کوئی قوم نہیں جو اللہ تعالیٰ کو پہچانتی ہو کہاں ہیں دنیا سے بےرغبتی کرنے والے اور آخرت کی طرف رغبت کرنے والے ۔ (رواہ ابن عساکر عن ابن مسعود (رض)) کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے دن سرخ خیمے سے باہر تشریف لائے یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔
29871
Kanz al-Ummal
29871- "إن الله قتل أبا جهل الحمد لله الذي صدق وعده ونصر دينه". "عق" عن ابن مسعود.
29871 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ابوجہل کو قتل کیا ہے تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور اپنے دین کی مدد کی ۔ (رواہ العقیلی عن ابن مسعود (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 1621 ۔
29872
Kanz al-Ummal
29872- "الحمد لله الذي أخذاك يا عدو الله هذا كان فرعون هذه الأمة - يعني أبا جهل". "حم" عن ابن مسعود.
29872 ۔۔۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا اے اللہ کے دشمن یہ (ابوجہل) اس امت کا فرعون ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل عن ابن مسعود (رض))
29873
Kanz al-Ummal
29873- " جزاكم الله عني من عصابة شرا، لقد خونتموني أمينا، وكذبتموني صادقا ثم التفت إلى أبي جهل فقال: إن هذا أعتى على الله من فرعون، إن فرعون لما أيقن بالهلكة وحد الله وأن هذا لما أيقن بالموت دعا باللات والعزى". "طب" والخطيب وابن عساكر قال: وقف النبي صلى الله عليه وسلم على قتلى بدر قال - فذكره.
29873 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ میری طرف سے اس جماعت کو برا بدلہ دے تم نے مجھے خائن سمجھا حالانکہ میں امانتدار ہوں تم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ میں سچا ہوں پھر ابوجہل کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اس نے فرعون سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی چونکہ فرعون کو جب ہلاکت کا یقین ہوا اس نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرلیا تھا جبکہ اس (ملعون) کو جب موت کو یقین ہوا اس وقت بھی اس نے لات اور عزی کو پکارا ۔ (رواہ الطبرانی والخطیب وابن عساکر) کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے مقتولین پر کھڑے ہو کر یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔
29874
Kanz al-Ummal
29874- "يا أبا جهل يا عتبة يا شيبة يا أمية هل وجدتم ما وعد ربكم حقا، فإني قد وجدت ما وعدني ربي حقا فقال عمر: يا رسول الله ما تكلم من أجساد لا أرواح فيها؟ فقال: والذي نفسي بيده ما أنتم بأسمع لما أقول منهم غير أنهم لا يستطيعون جوابا". "حم، م" عن أنس.
29874 ۔۔۔ اے ابو جہل ! اے عتبہ ! اے شیبہ ! اے امیہ ! کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا ؟ میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بےروح جسموں سے کلام کیوں کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میری بات کو ان (مردوں) سے زیادہ نہیں سنتے (بلکہ وہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں) البتہ اتنی بات ہے کہ وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم عن انس (رض))
29875
Kanz al-Ummal
29875- "يا أهل القليب هل وجدتم ما وعد ربكم حقا؟ قالوا: يا رسول الله وهل يسمعون؟ قال: يسمعون كما تسمعون ولكن لا يجيبون". "طب" عن عبد الله بن سيدان عن أبيه.
29875 ۔۔۔ اے اہل قلیب کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا ! کیا یہ سن سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ اسی طرح سنتے ہیں جس طرح تم سنتے ہو ۔ لیکن یہ جواب نہیں دیتے ۔ (وراہ الطبرانی عن عبداللہ بن سیدان عن ابیہ)
29876
Kanz al-Ummal
29876- " يا أهل القليب هل وجدتم ما وعد ربكم حقا فإني قد وجدت ما وعدني ربي حقا، قالوا: يا رسول الله هل يسمعون؟ قال: ما أنتم بأسمع لما أقول منهم ولكن اليوم لا يجيبون". "طب" عن عبد الله بن سيدان عن أبيه.
29876 ۔۔۔ اے اہل قلیب کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا ہے میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ سنتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم ان سے زیادہ نہیں سنتے (بلکہ وہ تم سے زیادہ سنتے ہیں) البتہ وہ جواب نہیں دے پاتے ۔ (رواہ الطبرانی عن عبداللہ بن سیدان عن ابیہ)