Kanz al-Ummal
30. آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
كنز العمال
17807
Kanz al-Ummal17807- "كان فخما مفخما يتلألأ وجهه تلألأ القمر ليلة البدر أطول من المربوع وأقصر من المشذب عظيم الهامة رجل الشعر إن انفرقت عقيصته فرق، وإلا فلا يجاوز شعره شحمة أذنيه، إذا هو وفره أزهر اللون واسع الجبين أزج الحواجب سوابغ في غير قرن بينهما عرق يدره الغضب، أقنى العرنين له نور يعلوه يحسبه من لم يتأمله أشم، كث اللحية سهل الخدين ضليع الفم أشنب مفلج الأسنان دقيق المسربة كأن عنقه جيد دمية في صفاء الفضة معتدل الخلق بادنا متماسكا سواء البطن والصدر عريض الصدر بعيد ما بين المنكبين ضخم الكراديس أنور المتجرد موصول ما بين اللبة والسرة بشعر يجري كالخط عاري الثديين والبطن مما سوى ذلك أشعر الذراعين والمنكبين وأعالي الصدر طويل الزندين رحب الراحة سبط القصب شثن الكفين والقدمين سائل الأطراف خمصان الأخمصين مسيح القدمين ينبو عنهما الماء إذا زال زال تقلعا ويخطو تكفئا، ويمشي هونا ذريع المشية إذا مشى كأنما ينحط من صبب وإذا التفت التفت جميعا، خافض الطرف نظره إلى الأرض أطول من نظره إلى السماء جل نظره الملاحظة يسوق أصحابه ويبدأ من لقيه بالسلام."ت في الشمائل طب هب عن هند بن أبي هالة).
17807 ۔۔۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ذات میں شاندار اور لوگوں کے نزدیک بھی شاندار اور عظیم ترین انسان تھے ۔ آپ کا رخ زیبا چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا ، میانہ قد سے قدرے طویل قامت تھے اور لانبے قد والے کی طرح نہ تھے ، سر اقدس بڑا اور مناسب تھا ۔ سر کے بال گھنے اور قدرے گھنگھریالے تھے ۔ اگر سر کے بالوں میں از خود بسہولت مانگ نکل آئے تو نکال لیتے ورنہ جب کنگھی میسر ہوتی تو اس وقت نکالتے ۔ آپ کے سر اقدس کے بال زیادہ سے زیادہ کانوں کی لو سے متجاوز تھے ۔ آپ کا رنگ نہایت چمکدار تھا ، کشادہ پیشانی کے مالک تھے ۔
آپ کی ابروئیں باریک لمبی ، بالوں سے بھری ہوئیں اور ایک دوسرے سے جدا تھیں ۔ دونوں ابروؤں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت پھڑکتی تھی ۔ آپ کی ناک بلندی مائل تھی ۔ اس سے ایک نور اور (روشنی) بلند ہوتی تھی ۔ (اور حقیقت وہ روشنی ناک کی اپنی چمک دمک تھی ) جس کی وجہ سے ناک بلند محسوس ہوتی تھی آپ کی ریش مبارک گھنی تھی ۔ آپ کے رخسار مبارک نرم تھے گوشت لٹکے ہوئے نہ تھے آپ کا دہن مناسب کشادہ تھا آپ کے سامنے کے دندان مبارک باریک آبدار اور قدرے کھلے کھلے تھے سینے سے ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر تھی ۔ آپ کی گردن مبارک خوبصورتی میں خالص چاندی کی جیسی گردن تھی ۔ آپ کے تمام اعضاء مناسب پر گوشت اور گٹھے ہوئے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شکم مبارک سینے کے برابر تھا اور آپ کا سینہ چوڑا اور برابر تھا اور آپ کا سینہ چوڑا اور کاندھے مبارک بڑے اور فراخ تھے آپ کے جوڑ پر گوشت مضبوط بالوں سے عاری اور خوبصورت تھے ۔ لبہ (سینے پر ہارپڑنے کی جگہ) سے ناف تک بالوں کا ایک باریک خط تھا اس کے علاوہ پستان اور شکم مبارک بالوں سے صاف تھا ۔ بازو اور شانے مبارک پر بال تھے ۔ اونچا سینا تھا کلائیاں دارز تھیں کشادہ ہتھلیاں تھیں ۔ دونوں ہاتھ اور پاؤں پر گوشات تھے انگلیاں مناسب لمبی تھیں۔ پاؤں کے پنجوں اور ایڑیوں کے درمیان کی جگہ شگاف تھا چلتے وقت زمین پر یہ حصہ نہ پڑتا تھا ۔ یعنی تلوے گہرے تھے ۔ دونوں پاؤں یوں ہموار اور صاف شفاف تھے کہ پانی ان پر ٹھہرتا نہیں تھا جب آپ چلتے تو قدم مبارک قوت سے اکھاڑتے تھے اور گویا جھکتے ہوئے قدم مبارک اٹھاتے تھے آہستہ اور نرمی کے ساتھ چلتے تھے ۔ کشادہ کشادہ قدم اٹھاتے تھے جب آپ چلتے تو گویا بلندی سے پستی کی طرف اتر رہے ہیں جب آپ کسی طرف متوجہ ہوتے تو کن انکھیوں سے نہیں بلکہ پورے سراپا کے ساتھ متوجہ ہوتے تھے آپ کی نظریں پست رہتی تھیں آسمان سے زیادہ زمین کی طرف نظریں زیادہ مرکوز رہتی تھیں ۔ آپ کا زیادہ دیکھنا صرف ملاحظہ فرمانا ہوتا تھا۔ (یعنی گھور کر مسلسل نہ دیکھتے تھے) آپ صحابہ کرام (رض) کے آگے ن چلتے تھے اور جو آپ کو ملتا آپ سلام میں پہل کرتے تھے ۔ (ترمذی فی الشمائل الکبیر للطبرانی شعب الایمان للبیھقی عن ھند بن ابی ھالہ)
آپ کی ابروئیں باریک لمبی ، بالوں سے بھری ہوئیں اور ایک دوسرے سے جدا تھیں ۔ دونوں ابروؤں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت پھڑکتی تھی ۔ آپ کی ناک بلندی مائل تھی ۔ اس سے ایک نور اور (روشنی) بلند ہوتی تھی ۔ (اور حقیقت وہ روشنی ناک کی اپنی چمک دمک تھی ) جس کی وجہ سے ناک بلند محسوس ہوتی تھی آپ کی ریش مبارک گھنی تھی ۔ آپ کے رخسار مبارک نرم تھے گوشت لٹکے ہوئے نہ تھے آپ کا دہن مناسب کشادہ تھا آپ کے سامنے کے دندان مبارک باریک آبدار اور قدرے کھلے کھلے تھے سینے سے ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر تھی ۔ آپ کی گردن مبارک خوبصورتی میں خالص چاندی کی جیسی گردن تھی ۔ آپ کے تمام اعضاء مناسب پر گوشت اور گٹھے ہوئے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شکم مبارک سینے کے برابر تھا اور آپ کا سینہ چوڑا اور برابر تھا اور آپ کا سینہ چوڑا اور کاندھے مبارک بڑے اور فراخ تھے آپ کے جوڑ پر گوشت مضبوط بالوں سے عاری اور خوبصورت تھے ۔ لبہ (سینے پر ہارپڑنے کی جگہ) سے ناف تک بالوں کا ایک باریک خط تھا اس کے علاوہ پستان اور شکم مبارک بالوں سے صاف تھا ۔ بازو اور شانے مبارک پر بال تھے ۔ اونچا سینا تھا کلائیاں دارز تھیں کشادہ ہتھلیاں تھیں ۔ دونوں ہاتھ اور پاؤں پر گوشات تھے انگلیاں مناسب لمبی تھیں۔ پاؤں کے پنجوں اور ایڑیوں کے درمیان کی جگہ شگاف تھا چلتے وقت زمین پر یہ حصہ نہ پڑتا تھا ۔ یعنی تلوے گہرے تھے ۔ دونوں پاؤں یوں ہموار اور صاف شفاف تھے کہ پانی ان پر ٹھہرتا نہیں تھا جب آپ چلتے تو قدم مبارک قوت سے اکھاڑتے تھے اور گویا جھکتے ہوئے قدم مبارک اٹھاتے تھے آہستہ اور نرمی کے ساتھ چلتے تھے ۔ کشادہ کشادہ قدم اٹھاتے تھے جب آپ چلتے تو گویا بلندی سے پستی کی طرف اتر رہے ہیں جب آپ کسی طرف متوجہ ہوتے تو کن انکھیوں سے نہیں بلکہ پورے سراپا کے ساتھ متوجہ ہوتے تھے آپ کی نظریں پست رہتی تھیں آسمان سے زیادہ زمین کی طرف نظریں زیادہ مرکوز رہتی تھیں ۔ آپ کا زیادہ دیکھنا صرف ملاحظہ فرمانا ہوتا تھا۔ (یعنی گھور کر مسلسل نہ دیکھتے تھے) آپ صحابہ کرام (رض) کے آگے ن چلتے تھے اور جو آپ کو ملتا آپ سلام میں پہل کرتے تھے ۔ (ترمذی فی الشمائل الکبیر للطبرانی شعب الایمان للبیھقی عن ھند بن ابی ھالہ)
17808
Kanz al-Ummal17808- "كان أبيض كأنما صيغ من فضة رجل الشعر". "ت فيها عن أبي هريرة".
17808 ۔۔۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گوری رنگت کے مالک تھے گویا چاندی سے ڈھالے گئے ہیں اور بال مبارک آپ کے گھنگریالے تھے۔ (ترمذی فی الشمائل عن ابوہریرہ (رض))
17809
Kanz al-Ummal17809- "كان أبيض مشربا بياضه بحمرة وكان أسود الحدقة أهدب الأشفار". "البيهقي في الدلائل عن علي"
17809 ۔۔۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مائل بہ سرخی گوری رنگت والے تھے ، آپ کی آنکھوں کی پتلی انتہائی سیاہ اور دراز پلکیں تھیں ۔ (البیھقی فی الدلائل عن علی (رض))
17810
Kanz al-Ummal17810- "كان أبيض مشربا بحمرة ضخم الهامة أغر أبلج أهدب الأشفار". "البيهقي عن علي"
17810 ۔۔۔ آپ صاف شفاف گوری رنگ مائل بہ سرخی والے تھے ۔ آپ کا سر اقدس بڑا اور خوبصورت تھا ، چمکدار پیشانی اور ابروؤں کے درمیانی کشادگی اور دراز پلکوں کے ساتھ حسین چہرے کے مالک تھے (البیھقی فی الدلائل عن علی (رض))
17811
Kanz al-Ummal17811- "كان أحسن الناس وجها وأحسنهم خلقا ليس بالطويل البائن ولا بالقصير". "ق عن البراء"
17811 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ حسین اور خوبصورت اور سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک تھے ، نہ بہت زیادہ لمبے اور نہ پست قد تھے ۔ (بلکہ لوگوں کے درمیان چلتے ہوئے معجزانہ طور پر سب سے زیادہ وجیہہ اور قد آور معلوم ہوتے تھے) ۔ (بخاری ، مسلم عن البراء (رض))
17812
Kanz al-Ummal17812- "كان أحسن البشر قدما". "ابن سعد عن عبد الله بن بريدة، مرسلا".
17812 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فداہ ابی وامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے اچھے چال ڈھال والے تھے ۔ (ابن سعد عن عبداللہ بن بریدہ مرسلا)
17813
Kanz al-Ummal17813- "كان أحسن الناس خلقا"."م د عن أنس"
17813 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انسانوں میں سب سے زیادہ عمدہ اخلاق کے مالک تھے ۔ (مسلم ، ابو داؤد عن انس (رض))
17814
Kanz al-Ummal17814- "كان أحسن الناس وأجود الناس وأشجع الناس". "ق ت هـ عن أنس"
17814 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ حسین ، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے ۔ (بخاری ، مسلم ، ترمذی ، ابن ماجہ عن انس (رض))
17815
Kanz al-Ummal17815- "كان أحسن الناس صفة وأجملها، كان ربعة إلى الطول ما هو بعيد ما بين المنكبين أسيل الخدين، شديد سواد الشعر أكحل العينين أهدب إذا وطيء بقدمه وطيء بكلها ليس له أخمص، إذا وضع رداءه عن منكبه فكأنه سبيكة فضة، وإذا ضحك يتلألأ". "البيهقي عن أبي هريرة".
17815 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ اچھی صفات والے اور سب سے زیادہ حسن و جمال والے تھے ، مائل بہ درازی میانہ قد والے تھے ۔ دونوں شانوں کے درمیان کشادگی والے اور نرم و خوبصورت رخساروں والے تھے ۔ آپ کے بال مبارک انتہائی سیاہ اور آنکھیں سرمگیں اور دراز پلکوں والی تھیں ۔ جب آپ چلتے تو پورے قدموں کے ساتھ چلتے اور جلدی کی وجہ سے آدھا پاؤں نہ ٹیکتے تھے ، جب شانہ مبارک سے چادر اتارتے تو لگتا گویا چاندی کا مجسمہ کھل گیا ہو ، جب آپ ہنستے تو دندان مبارک چمکتے تھے ۔ (البیھقی فی الدلائل عن ابوہریرہ (رض))
17816
Kanz al-Ummal17816- "كان أزهر اللون كأن عرقه اللؤلؤ إذا مشى تكفأ". "م عن أنس".
17816 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فداہ ابی وامی ودنیای چمکدار صاف شفاف رنگت کے مالک تھے ، آپ کا پسینہ موتیوں کی مانند چمکتا تھا ، جب آپ چلتے گویا قدرے جھکتے ہوئے نیچے کو اتر رہے ہیں۔ (مسلم عن انس (رض))