hadith book logo

Kanz al-Ummal

1. ایمان کا بیان

كنز العمال

1
Kanz al-Ummal
1- الإيمان: "أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله وتؤمن بالجنة والنار والميزان وتؤمن بالبعث بعد الموت وتؤمن بالقدر خيره وشره". (هب (1) عن عمر)
١۔۔۔ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل ، اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، ، جنت ، جہنم، اور میزان پر ایمان لاؤ، اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر اور اچھی تقدیر پر ایمان لاؤ، شعب الایمان للبیہقی بروایت عمر (رض)۔
2
Kanz al-Ummal
2- الإيمان " معرفة بالقلب وقول باللسان وعمل بالأركان ". (طب عن علي) .
٢۔ ایمان یہ ہے کہ دل میں معرفت رکھو ، زبان سے اقرار کرو، اور اعضا سے عمل بجالاؤ۔ طبرانی بروایت علی (رض)۔
کلام۔۔۔ روایت ہے۔ دیکھئے۔۔۔ التعقبات ٢، التنزیہ ١۔ ١٥١۔ التنکبیت والافادہ ١٥، الجامع المصنف ٢٩ ، جنہ المرتاب ٢٥۔
3
Kanz al-Ummal
3- الإيمان بالله: "الإقرار باللسان وتصديق بالقلب وعمل بالأركان" (الشيرازي في الألقاب عن عائشة) .
٣۔ اللہ عزوجل پر ایمان لانازبان سے اقرار کرنے ، دل سے یقین رکھنے اور اعضاء سے عمل بجالانے کا نام ہے۔ الالقاب للشیرازی، بروایت عائشہ (رض)۔
4
Kanz al-Ummal
4 – "الإيمان بالقلب واللسان والهجرة بالنفس والمال" (عبد الخالق بن زاهر الشحابي (1) في الأربعين.
٤۔۔۔ دل اور زبان سے ایمان حاصل ہوتا ہے اور جان ومال سے ہجرت۔ الاربعین لعبد الخالق بن زاھر الشحابی بروایت عمر (رض)۔
تشریح۔۔ یعنی ایمان دل کی تصدیق اور زبان کے ساتھ شہادتیں کے اقرار سے حاصل ہوتا ہے اور دیار کفر سے دریار اسلام کی طرف ہجرت جان ومال کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔
5
Kanz al-Ummal
5 - الإيمان: " أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه وبلقائه وبرسله وتؤمن بالبعث" (حم ق هـ عن أبي هريرة) .
٥۔۔ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل، اس کے ملائکہ اس کی کتابوں اس سے ملاقات پر، اس کے رسولوں پر اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان لاؤ۔ بخاری، ومسلم، ابن ماجہ، مسنداحمد، بروایت ابوھریرہ (رض) ۔
6
Kanz al-Ummal
6 – "آمركم بأربع، وأنهاكم عن أربع، آمركم بالإيمان بالله وحده أتدرون ما الإيمان بالله؟ شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وأن تؤدوا خمس ماغنمتم، وأنهاكم عن الدباء والنقير والحنتم والمزفت احفظوهن وأخبروا بهن من وراءكم" (ق 3 عن ابن عباس)
٦۔۔۔ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتاہوں اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں میں تمہیں حکم کرتا ہوں اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کا۔ کیا تمہیں معلوم ہے اللہ عزوجل پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے ؟ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب ہے ، لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دینا اور تمہیں حکم کرتا ہوں نماز قائم کرنے کا، اور زکوۃ دینے کا رمضان کے روزے رکھنے کا اور جہاد میں حاصل کردہ مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے کا اور تمہیں منع کرتا ہوں شراب کے لیے بنائے گئے ان چار برتنوں کو استعمال کرنے سے کدو کے برتن سے کھجور کی جڑ کے بنائے ہوئے برتن سے سبز رنگ کے گھڑے سے، تارکول کے ساتھ ملمع کیے ہوئے برتن سے اور ان باتوں کو ذہن نشین کرلو اور اپنے آس پاس لوگوں کو بھی خبردار کردو۔ بخاری ، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، بروایت ابن عباس (رض)۔
فائدہ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار امور کے متعلق حکم کا وعدہ فرمایا تھا لیکن پھر پانچ شمار کروائے اس کے جواب میں شارح بخاری علامہ ابن بطال (رح) فرماتے ہیں چونکہ مخاطبین ، وفد عبدالقیس تھے جن کی کفار مضر سے جنگ چھڑی رہتی تھی ، جس کی وجہ سے آپ نے بطور زائدہ فائدہ کے اداء خمس کا حکم بھی فرمادیا، اور ان کی آمد کب ہوئی ، اس کے متعلق قاضی عیاض (رح) فرماتے ہیں ، وفد عبدالقسی فتح مکہ کے سال آپ کے مکہ کی طرف کوچ فرمانے سے قبل آپ کی خدمت میں بغرض تعلیم اسلام حاضر ہوا تھا،اور ان کی تعداد کل چودہ تھی، جن کے اسماء گرامی کے لیے رجوع کیجئے۔ الدیاج العبدالرحمن السیوطی ج ١ ص ٢٤۔
الدبائ۔۔۔ عرب خشک کدو کو اندر سے کھوکھلا کرکے اس میں شراب بناتے تھے جس سے شراب اچھی بنتی تھی اسی کا نام حدیث میں الدباء استعمال کیا گیا ہے۔
النقیر۔۔۔ اور کھجور کے تنے کی جڑ کو کھوکھلا کرکے اس میں بھی شراب سازی کرتے تھے۔ اس کا نام حدیث میں النقیر استعمال کیا گیا ہے ، اور بقیہ دوقسم کے برتنوں پر سبز یاسرض رنگ یاتارکول کی ملمع سازی کرکے ان میں شراب سازی کرتے تھے ، اور درحقیقت یہ حکم شراب سے انتہائی درجہ احتیاط سے برتنے کے لیے دیا تھا، کیونکہ حرمت شراب کا حکم تازہ تازہ نازل ہوا تھا،کہ کہیں ان برتنوں سے دوبارہ شراب کی طرف دھیان نہ جائے، اسی وجہ سے جب عام مسلمانوں کے دلوں میں شراب کی نفرت اچھی طرح جاگزیں ہوگئی تو آپ نے ان برتنوں کے استعمال کی عام اجازت مرحمت فرمادی، اب جمہور علماء ان برتنوں کی ممانعت کی تنسیخ کے قائل ہیں۔
7
Kanz al-Ummal
7 – "آمركم بأربع وأنهاكم عن أربع اعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وصوموا رمضان وأعطوا الخمس من الغنائم، وأنهاكم عن أربع عن الدباء (2) والخنتم والمزفت والنقير". (حم م عن أبي سعيد) .
٧۔۔۔ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتاہوں اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں اللہ عزوجل کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھراؤ، نماز قائم کروزکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اور اموال غنیمت سے پانچواح حصہ اداکرو۔ اور تمہیں منع کرتا ہوں شراب کے لیے بنائے گئے ان چاربرتنوں کو استعمال کرنے سے کدو کے برتن سے ، سبز رنگ کے گھڑے سے ، تارکول کے ساتھ ملمع سازی کیے ہوئے برتن سے، کھجور کی جڑ کے بنائے ہوئے برتن سے ۔ مسند احمد، مسلم، بروایت ابوسعید۔
8
Kanz al-Ummal
8- "بحسب امرئ من الإيمان أن يقول رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد صلى الله عليه وسلم رسولا" (طس عن ابن عباس) .
٨۔۔ آدمی کے ایمان کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ یہ کہے میں اللہ عزوجل کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد کے رسول ہونے پر راضی ہوں۔ الکبیر للطبرانی، (رح) ، بروایت ابن عباس (رض)۔
9
Kanz al-Ummal
9 – "ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا" (حم م ت عن العباس بن عبد المطلب) .
٩۔۔ جو شخص اللہ عزوجل کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے محمد کے رسول ہونے پر راضی ہوا یقیناً اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیا۔ مسند احمد ، مسلم، ترمذی، بروایت عباس (رض) بن عبدالمطلب۔
10
Kanz al-Ummal
10 – "ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده وأنه لاإله إلا الله وأعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه رافدة عليه كل عام ولايعطي الهرمة ولا الرديئة (1) ولا المريضة ولا الشرط اللئيمة (2) ولكن من أوسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيره ولا (3) يأمركم بشره وزكى نفسه" (د عن عبد الله بن معاوية العامري (4)
١٠۔۔۔ جس شخص نے تین کام انجام دے لیے یقیناً اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیا محض ایک اللہ کی عبادت کی، لاالہ الا اللہ کا اقرار کیا، دل کی خوشی کے ساتھ ہر سال اپنے مال کی زکوۃ ادا کی۔ بوڑھاجانور دیا، نہ بےوقت۔ مریضہ نہ بےمصرف۔ بلکہ اپنے اوسط درجہ کا مال دیا بیشک اللہ تعالیٰ تم سے بہترین مال کا سوال کرتا اور نہ ردی مال کا حکم کرتا۔ اور نہ تمہیں اپنے نفسوں کی بڑائی جتانے کی حکم کرتا ہے۔ ابوداؤد بروایت عبداللہ بن معاویہ ، الغامری۔
الھرمہ۔۔۔ ایسی بوڑھی اونٹنی کو کہتے ہیں جس کے دانت گرچکے ہوں اور اس کالعاب منہ میں نہ ٹھہرتا ہو۔
الدرنہ۔۔۔ گھٹیامال کو کہتے ہیں اصل لفظ الدرئنہ، ہی ہے معاجم احادیث کی کتب میں اسی طرح مذکور ہے جبکہ بعض کتب میں الردینہ لفظ ہے الشرط اللتیمہ، ایسے بےکارو بےمصرف جانور کو کہتے ہیں جو بہت زیادہ چھوٹا ہو یا بہت بڑا بکری کے انتہائی کمسن بچوں کو بھی کہتے ہیں۔