Kanz al-Ummal
35. صلح کا بیان
كنز العمال
25827
Kanz al-Ummal25827- "إذا اختلفتم في الطريق فاجعلوه سبعة أذرع". "حم م د، ت هـ عن أبي هريرة؛ حم هـ، هق عن ابن عباس".
25827 ۔۔۔ جب راستے میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو راستے کو سات ذراع مقرر کرلو ۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم وابو داؤد والترمذی وابن ماجہ ، عن ابو ہریرہ (رض) واحمد بن حنبل وابن ماجہ والبیہقی فی السنن ، عن ابن عباس (رض))
25828
Kanz al-Ummal25828- "حد الطريق سبعة أذرع". "طس عن جابر".
25828 ۔۔۔ راستے کی حد سات ذراع (ہاتھ) ہے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط عن جابر)
25829
Kanz al-Ummal25829- "قضى إذا تشاجروا في الأرض في الطريق بسبعة أذرع". "خ عن أبي هريرة".
25829 ۔۔۔ جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے زمین میں راستے پر جھگڑا کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات ذراع کا فیصلہ کیا ہے۔ (رواہ البخاری ، عن ابو ہریرہ (رض))
25830
Kanz al-Ummal25830- "إذا اختلفتم في الطريق فاجعلوا عرضه سبعة أذرع". "حم، خ، م، د، ت: حسن صحيح عن أبي هريرة، ق عن ابن عباس".
25830 ۔۔۔ جب تم راستے میں اختلاف کرو تو اس کی چوڑائی سات ذراع مقرر کرلو ۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی وقال : حسن صحیح ، عن ابو ہریرہ (رض) والبیہقی ، عن ابن عباس (رض))
25831
Kanz al-Ummal25831- "إذا اختلفتم في الطريق فاجعلوه سبعة أذرع، ومن بنى بناء فليدعمه حائط جداره". "حم ق عن ابن عباس".
25831 ۔۔۔ جب تم راستے میں اختلاف کرنے لگو تو سات ذراع راستہ مقرر کرلو اور جو شخص عمارت بنائے وہ ستون دیوار کے ساتھ رکھے ۔ (رواہ احمد بن حنبل والبیہقی ، عن ابن عباس (رض))
25832
Kanz al-Ummal25832- "إذا اختلفتم في الطريق فاذرعوه سبعة أذرع ولا تجعلوا أقل من ذلك". "طب عن ابن عباس".
25832 ۔۔۔ جب راستے میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو راستے کو سات ذراع (ہاتھ) ناپ کر مقرر کرلو اور اس سے کم مت رکھو۔ (رواہ الطبرانی عن ابن عباس (رض))
25833
Kanz al-Ummal25833- "إذا اختلفتم في الطريق فاذرعوه سبعة أذرع ثم ابنوا". "عب عن عكرمة مرسلا".
25833 ۔۔۔ جب راستے میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو راستے کو سات ذراع مقرر کرلو پھر عمارت کھڑی کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق عن عکرمۃ مرسلا)
25834
Kanz al-Ummal25834- عن أبي قلابة رضي الله تعالى عنه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطريق الميتاء فقال: "اجعلوها سبعة أذرع". "عب".
25834 ۔۔۔ ابو قلابہ روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آمد ورفت والے راستے کے متعلق دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا : ایسا راستہ سات ذراع مقرر کرلو ۔ (رواہ عبدالرزاق )
25835
Kanz al-Ummal25835- "الضيف يأتي برزقه، ويرتحل بذنوب القوم، يمحص عنهم ذنوبهم"."أبو الشيخ عن أبي الدرداء".
25835 ۔۔۔ مہمان اپنا رزق ساتھ لے کر آتا ہے ، میزبانوں کے گناہوں کو لے کر کوچ کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (رواہ ابو الشیخ عن ابی الدرداء) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے التمییز 15 و ضعیف الجامع 3604 ۔
25836
Kanz al-Ummal25836- "إذا دخل الضيف على القوم دخل برزقه، وإذا خرج خرج بمغفرة ذنوبهم"."فر عن أنس".
25836 ۔۔۔ جب مہمان کسی قوم کے پاس آتا ہے وہ اپنے رزق کے ساتھ آتا ہے اور جب واپس جاتا ہے تو میزبانوں کی گناہوں کی مغفرت کے ساتھ جاتا ہے ، (رواہ الدیلمی فی مسند الفردوس عن انس (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اسنی المطالب 117 والتمییز 15 ۔