hadith book logo

Kanz al-Ummal

56. موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان

كنز العمال

42107
Kanz al-Ummal
42094- أكثر ذكر الموت يسلك عما سواه. ابن أبي الدنيا في ذكر الموت - عن سفيان عن شيخ مرسلا".
٤٢٠٩٤۔۔۔ موت کا ذکر کثرت سے کیا کر اس کےعلاوہ ساری چیزوں کا راستہ بند ہوجائے گا۔ ابن ابی الدنیا فی ذکر الموت عن سفیان عن شیخ مرسلاکلام۔۔۔ ضعیف الجامع : ١٠٩٩۔
42108
Kanz al-Ummal
42095- أكثروا ذكر هاذم اللذات الموت."ت " ن، هـ, حب ك، هب - عن أبي هريرة، طس، هب، حل - عن أنس؛ حل - عن عمر".
٤٢٠٩٥۔۔۔ لذتوں کو توڑنے والی چیز موت کا ذکر بکثرت کرو۔ ترمذی، نسائی، ابن ماجۃ، ابن حبان، حاکم، بیہقی، عن ابوہریرہ ، طبرانی فی الاوسط، بیہقی فی الشعب حلیۃ الاولیاء ، عن انس، حلیۃ الاولیاء عن عمر
42109
Kanz al-Ummal
42096- أكثروا ذكر هاذم اللذات، فإنه لا يكون في كثير إلا قلله، ولا في قليل إلا أجزاه."هب - عن عمر".
٤٢٠٩٦۔۔۔ لذتوں کو ختم کرنے والی کا ذکر کثرت سے کرو کیونکہ وہ جس کثرت میں ہوگا اسے کم کردے گا اور جس تھوڑی چیز میں ہوگا اس کے لیے کافی ہوگا۔ بیہقی فی الشعب عن عمرو، کلامـ۔۔۔ ضعفیا لجامع ١١١٢۔
42110
Kanz al-Ummal
42097- أكثروا ذكر هاذم اللذات، فإنه لم يذكره أحد في ضيق من العيش إلا وسعه عليه، ولا ذكره في سعة إلا ضيقها عليه."هب، حب - عن أبي هريرة؛ البزار - عن أنس".
٤٢٠٩٧۔۔۔ لذت شکن کا ذکر بکثرت کرو کیونکہ جس نے بھی اسے زندگی کی تنگی میں یاد کیا تو وہ اس کے لیے وسیع ہوگئی اور جس نے وسعت میں یاد کیا تو اس پر تنگی کردے گی۔ بیہقی فی الشعب ، ابن حبان، عن ابوہریرہ ، البزار عن انس۔
42111
Kanz al-Ummal
42098- أكثروا ذكر الموت، فإنه يمحص الذنوب ويزهد في الدنيا، فإن ذكرتموه عند الغنى هدمه، وإن ذكرتموه عند الفقر أرضاكم بعيشكم."ابن أبي الدنيا - عن أنس".
٤٢٠٩٨۔۔۔ موت کا ذکر زیادہ کیا کرو اس لیے کہ یہ گناہ گھناتی ہے دنیا سے بےرغبت کرتی ہے اگر تم نے اسے مالداری کے وقت یاد کیا اسے گرادے گی اور فقر کی گھڑی میں یاد کیا تو تمہیں تمہاری زندگی سے خوش کردے گی۔ ابن ابی الدنیا عن انس، کلام۔۔۔ ضعیف الجامع : ١١١٠، الکشف الالٰہی ٦٣۔
42112
Kanz al-Ummal
42099- أتتكم المنية رابية لازمة إما بشقاوة وإما بسعادة.قال "ابن أبي الدنيا في ذكر الموت، هب - عن زيد المسلمي مرسلا"
٤٢٠٩٩۔۔۔ موت تمہارے پاس لازمی طورپر سختی سے آئی یا سعادت کی یا بدبختی کی۔ ابن ابی الدنیا فی ذکرالموت، بیہقی فی الشعب عن زید المسلمی مرسلا، کلام۔۔۔ ضعیف الجامع ٨٥۔
42113
Kanz al-Ummal
42100- أتتكم الموتة رابية لازمة، جاء الموت بما جاء به جاء بالروح والراحة والكرة المباركة لأولياء الرحمن من أهل دار الخلود الذين كان سعيهم ورغبتهم فيها لها، ألا! إن لكل ساع غاية وغاية كل ساع الموت، سابق ومسبوق.قال في القاموس: أخْذَةً رابِيَةً: شديدةً زائدةً. "هب - عن الوضين ابن عطاء مرسلا".
٤٢١٠٠۔۔۔ موت تمہارے پاس لازمی اور سختی سے آگئی موت آئی سوجیسی آئے فرحت و راحت اور رحمن کے دوستوں کے لیے مبارک حرکت ہے جو دارالخلو د والے ہیں جس کے لیے ان کی رغبت و کوشش تھی آگاہ رہو ہر کوشش کرنے والے کی ایک غرض ہوتی ہے اور ہر کوشش کرنے والے کی حد موت ہے آگے نکلنے والا یا اس سے آگے نکل جائے۔ بیہقی فی الشعب عن الوضین ابن عطاء مرسلا، کلام :۔۔۔ ضعف الجامع : ٨٦۔
42114
Kanz al-Ummal
42101- إخواني! لمثل هذا اليوم فأعدوا."خط - عن البراء".
٤٢١٠١۔۔۔ میرے بھائیو ! اس جیسے دن کی تیاری کرو۔ خطب عن البراء
42115
Kanz al-Ummal
42102- يا إخواني! لمثل هذا اليوم فأعدوا."هـ, هق - عن البراء".
٤٢١٠٢۔۔۔ اے میرے بھائیو ! اس جیسے دن کی تیاری کرو۔ ابن ماجہ، بیہقی فی السنن عن البراء
42116
Kanz al-Ummal
42103- أي إخواني! لمثل هذا اليوم فأعدوا."حم، هـ - عن البراء".
٤٢١٠٣۔۔۔ اے میرے بھائیو ! اس جیسے دن کی تیاری کرو۔ مسنداحمد، ابن ماجۃ عن البراء