Kanz al-Ummal
7. توبہ کا بیان
كنز العمال
10157
Kanz al-Ummal10157 إن رجلا قتل تسعة وتسعين نفسا ، ثم عرضت له التوبة ، فسأل عن أعلم أهل الارض ؟ فدل على راهب ، فأتاه فقال : إنه قتل تسعة وتسعين نفسا ، فهل له من توبة ؟ فقال : لا ، فقتله فكمل به مائة ثم سأل عن أعلم أهل الارض فدل على رجل عالم ، فقال : إنه قتل مائة نفس ، فهل له من توبة ؟ فقال : نعم ، ومن يحول بينه وبين التوبة ؟ فانطلق إلى أرض كذا وكذا ، فان بها أناسا يعبدون الله ، فا عبد الله معهم ولا ترجع إلى أرضك ، فانها أرض سوء ، فانطلق حتى إذا أنصف الطريق أتاه ملك الموت ، فاختصم فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب ، فقالت ملائكة الرحمة : جاءنا تائبا مقبلا بقلبه إلى الله تعالى ، وقالت ملائكة العذاب : إنه لم يعمل خيرا قط ، فأتاهم ملك في صورة آدمي ، فجعلوه بينهم حكما : فقال : قيسوا ما بين الارضين ، فالى أيتهما كان أدنى فهو له ، فقاسوا فوجدوه أدنى إلى الارض التى أراد فقبضته ملائكة الرحمة.(حم م ه عن أبي سعيد).
10153 ۔۔۔ ایک شخص نے نناوے قتل کئے تھے، پھر اس کو توبہ کی توفیق ہوگئی تو اس وقت دنیا کے سب سے بڑے عالم سے اس نے دریافت کیا، اس عالم نے ایک راھب کا پتہ بتادیا، وہ شخص اس راھب کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ اس نے ننانوے (99) قتل کئے ہیں کیا اس کی توبہ قبول ہوجائے گی ؟ راھب نے کہا نہیں، اس نے راھب کو بھی قتل کردیا، اس طرح اس کے سو قتل مکمل ہوگئے، پھر اس نے دنیا کے سب سے بڑے عالم سے پوچھا تو اس نے ایک اور عالم کا پتہ بتادیا، یہ شخص اس کے پاس بھی پہنچا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا : توبہ اور اس کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں، فلاں فلاں زمین کی طرف چلے جاؤ وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرو، اپنی سرزمین کی طرف واپس مت جانا کیونکہ وہ برائیوں کی سرزمین ہے چنانچہ وہ چل پڑا یہاں تک کہ آدھا راستہ طے کرلیا ، لیکن اسی وقت موت کا فرشتہ بھی آپہنچا اور اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑا کرنے لگے، چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے کہا یہ شخص توبہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر ہمارے پاس آیا ہے۔
عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی بھلائی کا کام نہیں کیا، اسی دوران ان کے پاس ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا، انھوں نے اس کو مصنف بنالیا اس نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں طرف کی زمین ناپی جائے جہاں سے زیادہ قریب ہو اسی کے حق میں فیصلہ کیا جائے، چنانچہ جب زمین ناپی گئی تو اس سرزمین کے زیادہ قریب پایا گیا جہاں وہ جارہا تھا چنانچہ اس کی روح کو رحمت کے فرشتے لے گئے “۔ (مسند احمد، مسلم، ابن ماجہ، بروایت حضرت ابوسعید (رض))
عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی بھلائی کا کام نہیں کیا، اسی دوران ان کے پاس ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا، انھوں نے اس کو مصنف بنالیا اس نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں طرف کی زمین ناپی جائے جہاں سے زیادہ قریب ہو اسی کے حق میں فیصلہ کیا جائے، چنانچہ جب زمین ناپی گئی تو اس سرزمین کے زیادہ قریب پایا گیا جہاں وہ جارہا تھا چنانچہ اس کی روح کو رحمت کے فرشتے لے گئے “۔ (مسند احمد، مسلم، ابن ماجہ، بروایت حضرت ابوسعید (رض))
10158
Kanz al-Ummal10158 كان في بني إسرائيل رجل قتل تسعة وتسعين إنسانا ، ثم خرج يسأل فأتيت راهبا ، فقال : أله توبة ؟ فقال : لا ، فقتله ، فجعل يسأل فقال له رجل : ائت قرية كذا وكذا فادركه الموت فناء بصدره نحوها ، فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب فأوحى الله تعالى إلى هذه أن تقربي وأوحى الله إلى هذه أن تباعدي ، وقالوا : قيسوا ما بينهما فوجداه إلى هذه أقرب بشبر فغفر ل.(ق عن أبي سعيد).
10154 ۔۔۔ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا تھا، پھر وہ پوچھتا پچھاتا نکلا اور ایک راھب کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا وہ توبہ کرسکتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، تو اس قاتل نے اس راھب کو بھی قتل کردیا اور اپنے سو قتل مکمل کرلئے، پھر لوگوں سے پوچھنے لگا توا سے کسی نے بتایا کہ فلاں فلاں علاقے میں جاؤ، وہ چل پڑا لیکن راستے میں اسے موت نے آلیا، اس نے مرتے مرتے اپنا سینہ اس نیکیوں کی بستی کی طرف جھکا دیا، چنانچہ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے، ادھر اللہ تعالیٰ نے نیکوں کی سرزمین کو حکم دیا کہ تو اس سے قریب ہوجا اور بری سرزمین کو حکم دیا کہ تو اس سے دور ہوجا فرشتوں نے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ دونوں طرف کی زمین کو ناپا جائے چنانچہ انھوں نے اس شخص کو بالشت بھر نیکوں کی سرزمین سے زیادہ نزدیک پایا لہٰذا اس کی مغفرت کردی گئی “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابوسعید (رض))
10159
Kanz al-Ummal10159 كيف تقولون بفرح رجل انفلتت منه راحلته تجر زمامها بأرض قفر ليس بها طعام ولا شراب ، وعليها له طعام وشراب ،فطلبها حتى شق عليه ، ثم مرت بجذل شجرة ، فتعلق زمامها فوجدها متعلقة ؟ أما والله لله أشد فرحا بتوبة عبده من الرجل براحلته.(حم م عن البراء).
10155 ۔۔۔ تمہارا اس شخص کی خوشی کے بارے میں کیا خیال ہے جس کی سواری اس سے گم ہوگئی ہو جس کی لگام یہ تنہا اور بیابان علاقے میں کھینچ رہا تھا جہاں نہ کھانا ہے اور نہ پانی، جبکہ اسی کا کھانا اور پانی اس کی سواری پر تھا، اس نے اپنی سواری کو بہت تلاش کیا اور تھک ہار کر مایوس ہو کر بیٹھ گیا، جبکہ دوسری طرف سواری ایک درخت کے نیچے سے گزری اور اس کی لگام کسی ٹہنی میں اٹک گئی اور اس شخص نے اپنی سواری کو وہیں پالیا ؟ خدا کی قسم جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ سے اس بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جس کی سواری گم ہو کر مل گئی تھی “۔ (مسند احمد، مسلم بروایت حضرت براء (رض) )
فائدہ :۔۔۔ اس روایت میں پہلے اس شخص کا واقعہ مذکور ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ اس روایت میں پہلے اس شخص کا واقعہ مذکور ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10160
Kanz al-Ummal10160 لله أشد فرحا بتوبة عبده حين يتوب إليه من أحدكم كان على راحلته بأرض فلاة ، فانفلتت منه ، وعليها طعامه وشرابه ، فأيس منها ، فأتى شجرة ، فاضطجع في ظلها ، قد أيس من راحلته ، فبينا هو كذلك إذ هو بها قائمة عنده ، فأخذ بخطامها ، ثم قال من شدة الفرح :اللهم أنت عبدي وأنا ربك ، أخطأ من شدة الفرح.(م عن أنس).
10156 ۔۔۔ جب بندہ توبہ کرتا ہے تویقیناً اللہ تعالیٰ اس سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو اپنی سواری کے ساتھ بیابانوں سے گزررہا تھا اور سواری گم ہوگئی، اس سواری پر اس کا کھانا اور پانی بھی تھا اور یہ اس سے مایوس ہوگیا چنانچہ ایک درخت کے پاس آکر اس کے سائے میں لیٹ گیا، یہ اپنی سواری کے ملنے سے مایوس ہوچکا تھا کہ یکایک اس نے دیکھا کہ اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہے اس نے اپنی سواری کی لگام پکڑی اور خوشی کی شدت سے کہنے لگا اے میرے اللہ ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں، شدت فرحت میں خطا ہوگئی “۔ (مسلم بروایت حضرت انس (رض))
10161
Kanz al-Ummal10161 لله أفرح بتوبة العبد من رحل نزل منزلا وبه مهلكة ومعه راحلته ، عليها طعامه وشرابه ، فوضع رأسه فنام نومة فاستيقظ ، وقد ذهبت راحلته ، فطلبها حتى إذا اشتد عليه الحر والعطش ، قال : أرجع إلى مكاني الذي كنت فيه ، فانام حتى أموت فرجع فنام نومة ، ثم رفع رأسه فإذا راحلته عنده ، عليها زاده وطعامه وشرابه ، فالله أشد فرحا بتوبة العبد المؤمن من هذا براحلته وزاده.(حم ق ت عن ابن مسعود).
10157 ۔۔۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو ایسی جگہ جا پہنچا جہاں ہلاکت اس کا انتظار کررہی ہے، اس کی سواری بھی ساتھ تھی جس پر اس کا کھانا اور پانی تھا، وہ ایسی جگہ سو گیا اور جب اٹھا تو اس کی سواری جاچکی تھی، اس نے سواری کو تلاش کیا اور گرمی اور پیاس کی شدت سے مایوس ہو کر واپس اسی جگہ آگیا جہاں سے سواری گم ہوئی تھی اور موت کے انتظار میں سوگیا، پھر اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ سواری موجود ہے اس پر اس کا سامان بھی کھانا بھی اور پانی بھی تو اس کو اس وقت اپنی سواری کو دیکھ کر جتنی خوشی ہوگی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے “۔ (مسند احمد، متفق علیہ، ترمذی بروایت حضرت ابن مسعود (رض))
10162
Kanz al-Ummal10162 لله أفرح بتوبة أحدكم من أحدكم بضالته إذا وجدها.(ت ه عن أبي هريرة)
10158 ۔۔۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتے ہیں جو اپنی گمشدہ سواری کو پالے “۔ (ترمذی، ابن ماجہ بروایت حضرت ابوہریرہ (رض))
10163
Kanz al-Ummal10163 لله أفرح بتوبة عبده من رجل أضل راحلته بفلاوة من الارض ، فطلبها ، فلم يقدر عليها فتسجى للموت ، فبينما هو على ذلك إذ سمع وجبة الراحلة حين بركت ، فكشف عن وجهه فإذا هو براحلته.(حم ه عن أبي سعيد).
10159 ۔۔۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتے ہیں جس کی سواری جنگل بیابان میں گم ہوگئی، اس نے تلاش کیا اور نہ ملنے پر موت کے انتظار میں لیٹ گیا، اسی دوران اس نے اپنی سواری کی آواز سنی جو واپس آگئی تھی پھر جب اس نے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو سواری موجود تھی “۔ (مسند احمد، ابن ماجہ بروایت حضرت ابو سعید (رض))
10164
Kanz al-Ummal10164 لله أشد فرحا بتوبة عبده من أحدكم إذا سقط عليه بعيره قد أضله بأرض فلاة.(ق عن أنس).
10160 ۔۔۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے کہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں بنسبت اس شخص کے جو اپنی گمشدہ سواری کو جنگل بیابان میں پالے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت انس (رض))
10165
Kanz al-Ummal10165 لله أفرح بتوبة عبده من العقيل الوالد ، ومن الضال الواجد ، ومن الظمآن الوارد.(ابن عساكر في أمواليه عن أبي هريرة).
10161 ۔۔۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص کی نسبت کہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں جو بانجھ تھا اور پھر اس کی اولاد ہوگئی، اور اس شخص کی نسبت جس نے اپنی گمشدہ چیز پالی اور اس پیاسے کی نسبت جسے پانی مل گیا “۔ (ابن عساکری فی امالیہ بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
10166
Kanz al-Ummal10166 لله أفرح بتوبة التائب من الظمآن الوارد ، ومن العقيم الوالد ، ومن الضال الواجد ، فمن تاب إلى الله توبة نصوحا أنسى الله حافظيه وجوارحه وبقاع الارض كلها خطاياه وذنوبه.(أبو العباس بن تركان الهمذاني في كتاب التائبين عن أبي الجون).مرسلا.
10162 ۔۔۔ یقیناً اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ سے اس شخص کی بنسبت کہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں جو پیاسا تھا اور اس کو پانی مل گیا، جو بانجھ تھا اور صاحب اولاد ہوگیا، اور جس نے اپنی گمشدہ چیز پالی، لہٰذا جو شخص سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اعمال لکھنے والے فرشتوں سے بھی بھلوا دیتے ہیں جن کے سامنے اس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا تھا اور زمین کے ان حصوں سے بھی جہاں اس نے گناہوں کا ارتکاب کیا تھا “۔ (ابو العباس بن وترکان الھمدانی کتاب التائبین عن ابی الجون)